دلہن کیا کرے - نیر تاباں

شادیوں کا سیزن ہے۔ دو تین بہنیں ہماری کانٹیکٹ لسٹ میں بھی ہیں جو بیاہنے والی ہیں۔ ما شاء اللہ! ان سبھی کا میسج آیا کہ شادی ہونے والی ہے، کچھ ٹپس بتائیے۔ یوں تو فرداً فرداً رپلائے کر دیا تھا لیکن خیال آیا کہ کیوں نہ ایک الگ پوسٹ اسی موضوع پر لکھ دی جائے۔

شوہر کے لیے سج بن کر رہیں۔ پرفیوم، ماؤتھ واش وغیرہ کا استعمال روٹین میں کریں۔ نیل پالش ریموور بھی پاس رکھیں تا کہ نماز سے پہلے نیل پالش اتار کر وضو کیا جا سکے۔ شادی کی گہما گہمی میں اپنی نمازوں کو نہ بھولیں۔ کچھ Halal intimacy کے بارے میں بھی پڑھ لیجیے۔

عورتوں کو پسند نہیں آتا کہ شوہر اپنی ماں پر، یا بہنوں، یا بھانجوں بھتیجوں پر خرچ کرے۔ اس بات کو کبھی ایشو مت بنائیں۔ اگر وہ آپ کی تمام بنیادی ضروریات اچھے سے پوری کر رہا ہے تو اس کی فیملی پر اسے خرچ کرنے سے منع نہ کریں۔ منع وہ ہو گا بھی نہیں، لیکن آپ اپنی عزت ضرور گنوا بیٹھیں گی اس کی نظر میں بھی اور سسرال کی نظر میں بھی۔

ماضی میں کبھی کسی کے لیے لطیف جذبات رکھتی ہوں، یا کسی نے آپ سے اظہارِ محبت کیا ہو، یا پروپوز کرنا چاہا ہو، ان سب باتوں کے بارے میں تفصیلات شوہر کو بتانے کی ضرورت نہیں۔ وہ آپ کا ماضی تھا، ختم ہوا۔ اس کو اپنے حال اور مستقبل میں ساتھ گھسیٹنے کی ضرورت نہیں۔ اب آپ اپنے شوہر سے وفادار ہیں، اتنا کافی ہے۔

چوبیس گھنٹے شوہر کے سر پر سوار رہنے کی ضرورت نہیں۔ اس کو سپیس دیں۔ اس کو یہ نہ لگے کہ شادی کر کے قید ہو گیا ہے۔

اپنے شوہر اور سسرال کے سامنے اپنے میکے کا بھرم رکھیں۔ اگر میکے میں اپنی بھابیوں سے کچھ ان بن ہو، یا کسی اور کے ساتھ مسئلے مسائل ہوں، تو بھی شوہر کو ان سلسلوں میں مت ڈالیں۔ بالکل اسی طرح، میکے کے سامنے سسرال کا بھرم رکھیں۔ میکہ ہی نہیں، دوستوں کے ساتھ بھی سسرال کو ٹاپک بنا کر غیبت میٹنگ کو عادت نہ بنائیں۔ کچھ بتانا ضروری ہو جائے تو کسی ایسے کو بتائیں جو آپ کا خیرخواہ ہے اور آپ کو بہترین مشورہ دے سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   شادی ۔ رفاقت حیات

روز اماں کو فون کر کے ابھی ابھی توے سے اتری تازہ تازہ گرما گرم رپورٹ دینے سے میں نے گھروں میں بہت مسائل کو جنم لیتے دیکھا ہے۔ اس لیے بلاناغہ بات کرنی ضروری نہیں اور اداسی یا پریشانی والے موڈ میں تو بالکل بات نہ کریں۔ نارمل ہو جانے کے بعد بات کریں۔

چھوٹی موٹی بات کو اگنور کر دیں، ہر بات پر محاذ کھڑا نہیں کرنا ہوتا اور جو بات واقعی برداشت نہ کر سکیں، اسے پہلے دن بھی برداشت نہ کریں، اور تہذیب کے دائرے میں رہ کر اور حکمت کے ساتھ، یعنی صحیح وقت پر، موقع محل دیکھ کر، کہہ دیجیے۔

اور آخر میں سب سے اہم چیز دعا! اللہ تو اپنے ہیں، ان سے بات کہنے میں کیا شرمانا اور کیا گھبرانا؟! تو کہہ دیجیے کہ اللہ آپ کے شوہر کو آپ کی روح کا ساتھی بنائیں۔ یہ رشتہ اپنے ساتھ برکت لے کر آئے۔ آپ کا شوہر، آپ کی سسرال والے آپ سے محبت کرنے والے ہوں، عزت کرنے والے ہوں، آپ کی قدر کرنے والے ہوں اور یہ کہ آپ کو بھی ایسا بنا دیں کہ محدب شیشہ لگا کر سسرال والوں کی خامیاں نہ ڈھونڈنے والی بنیں، بلکہ ان کی چھوٹی چھوٹی خوبیاں بھی نوٹ کریں اور کھلے دل سے اس کی تعریف کرنے والی ہوں۔

آپ سب کو نئی زندگی کی خوشیاں مبارک ہوں۔ اللہ آپ دونوں کو ایک دوسرے کے لیے بابرکت بنائیں اور دلوں میں مؤدت اور رحمت پیدا کریں۔

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.