مجلس عمل کی کامیابیاں اور جماعت اسلامی کی ناکامی - راجا کاشف علی خان

متحدہ مجلس عمل کا قیام 2002ء میں حزب اختلاف کے طور پر ہوا جس کا مقصد پرویز مشرف کی امریکا نواز پالیسی کی مخالفت تھا۔ دینی جماعتوں کے اس اتحاد میں جمعیت علمائے اسلام، تحریک جعفریہ پاکستان، جمعیت اہل حدیث اور جماعت اسلامی پاکستان شامل تھے۔

نائن الیون اور اس کے بعد افغانستان پر امریکی حملے نے ایسا ماحول بنا دیا کہ متحدہ مجلس عمل نے خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کی تین نشستوں کے سوا صوبے کی تمام نشستیں جیت لیں اور حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ یہی نہیں، سندھ میں پانچ، پنجاب میں تین اور بلوچستان سے قومی اسمبلی کی چھ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ یوں قومی اسمبلی کی 342 میں سے 63 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی اور سینیٹ میں بھی چھ نشستیں ملیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کبھی دینی جماعتوں کو انتخابات میں اتنی بڑی کامیابی نصیب نہیں ہوئی تھی۔ ملک کے عوام پاکستان میں اسلامی نظام کے حامی ہیں، ان کے نزدیک دینی جماعتوں کا اتحاد میں امید تھی کہ اب اسلام پسند قوتیں انتخابی سیاست میں کامیابی کے تسلسل کو برقرار رکھیں گی اور روایتی سیاسی جماعتوں سے اس ملک کی جان چھوٹ جائے گی لیکن متحدہ مجلس عمل سے وابستہ امیدیں پوری نہ ہو سکیں۔

مشرف دور میں کئی اہم معاملات پر متحدہ مجلسِ عمل ميں تذبذب کا شکار دکھائی دی۔ سب سے اہم مرحلہ اُس وقت پیش آیا جب 2003ء میں مسلم لیگ ق اور مجلس عمل کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، جس کی رُو سے جنرل پرویز مشرف کومدت صدارت مکمل کرنے دی جائے گی اور بدلے میں پرویز مشرف 31 دسمبر 2003 کو چیف آف آرمی اسٹاف کا عہدہ چھوڑ دیں گے۔ جب وقت آیا تو پرویز مشرف مجلس عمل سے کیے گئے وعدے سے صاف مکر گئے۔

تب جماعت اسلامی نے اپنی غلطی تسلیم کی اور پوری قوم سے معافی مانگی۔ امیر جماعت اسلامی اور مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے جو الفاظ ادا کیے، وہ کچھ یوں تھے۔ "ہم نے جو قدم اٹھایا پوری ایمان داری سے اٹھایا۔ پرویز مشرف نے پوری قوم کے سامنے ٹیلی وژن پر یہ وعدہ کیا کہ وہ دو عہدوں میں سے ایک سے دستبردار ہو جائیں گے۔ ہم نہیں سمجھتے تھے کہ وہ وعدہ خلافی کریں گے لیکن اس نے ہمارے خیال کو غلط ثابت کیا، اس لیے ہم معذرت خواہ ہیں کہ ہم نے اس پر اعتماد کیا۔ اس پر ہم پوری پاکستانی قوم سے معافی مانگتے ہیں۔"

یہ بھی پڑھیں:   متحدہ مجلس عمل بننا کیوں ضروری ہے؟ - احسن سرفراز

شاید 2003 کے اجتماع ارکان میں قاضی صاحب سے سوال کیا تھا کہ ایم ایم اے کب تک چلے گی؟ تو انہوں نے فرمایا تھا "جب تک آپ قربانیاں دیتے رہیں گے۔"

قاضی حسین احمد مرحوم کی خواہش و کاوشوں سے ایم ایم اے کا اتحاد وجود میں آیا، نیک دلی اور اتحاد بین المسلمین کے جذبہ کے بدولت اتحاد نے انتخابات میں خاطر خواہ کامیابی بھی حاصل کی لیکن کئی اہم واقعات نے مجلس عمل کے مقاصد کو پس پشت ڈال دیا ۔ پرویز مشرف کو باوردی صدر قبول کرنا، قاضی صاحب کے مشورے کے باوجود خیبر پختونخواہ اسمبلی کو نہ توڑنا اور ایک بار پھر مشرف صدر منتخب کرنے سے مجلس عمل پر کئی سوالات اُٹھے۔جہاں جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں پر تنقید کی جاتی ہے، وہیں اس دور میں مجلس عمل پر بھی طنز و تنقید کے نشتر برسائے جاتے ہیں۔ مشرف کے کئی سیاہ کارناموں میں مجلس عمل کو قصور دار سمجھا جاتا ہے۔ آئین میں من چاہی تبدیلیاں، امریکی جنگ کا ہراول دستہ بن جانا، حدود آرڈینیس میں ترمیم، جامعہ حفصہ اور لال مسجد پر فوجی آپریشن،قومی مفاہمتی آرڈینینس المعروف این آر او،بلوچستان آپریشن، اکبر بگٹی کا قتل،ڈاکٹر عبد القدیر خان کی بے توقیری اور طویل نظر بندی،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا اغوا اور امریکہ کو حوالگی،اسرائیل سے درپردہ روابط، اعتماد سازی کے نام پر بھارت سے دوستی اور ثقافتی روابط۔

جماعت اسلامی نے اپنی ذاتی حیثیت میں آمرانہ طرزِ حکومت کی مخالفت بھی کی لیکن مجلس عمل مشرف کی امریکہ نواز پالیسی اور داخلی معاملات میں مکمل ناکام رہی۔ اگر مجلس اپنے منشور کے مطابق رتّی برابر بھی کامیاب ہوتی تو آئندہ عام انتخابات کا نتیجہ بائیکاٹ کی صورت میں نہ نکلتا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مجلس عمل کے اس اتحاد نے جماعت اسلامی کی ساکھ سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ 2013ء کے عام انتخابات میں جماعت اسلامی اپنی ساکھ بحال کرنے میں ضرور کامیاب ہوئی لیکن تحریک انصاف کے ساتھ صوبے میں اتحاد اور کئی حلقوں میں مسلم لیگ ن کے اتحاد نے پھر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

یہ آسان ہے کہ ماضی کی ناکام مجلس عمل کا الزام کسی کی اکثریت پر تھوپ دیا جائے لیکن سوال یہ ہے کہ اس میں جماعت اسلامی کے حصے میں کیا آیا؟ جماعت اسلامی سے بغض و عناد رکھنے والے بھی مانتے ہیں کہ اِس جیسی خود احتسابی اور اندرونی جمہوریت رکھنے والی سیاسی جماعت پاکستان میں نہیں تو اکابرین جماعت! جماعت اسلامی کے کریڈٹ پر ہے کہ ایک عام کارکن امیر جماعت اسلامی بن سکتا ہے۔ جماعت اسلامی کے پاس خالصتاً اللہ کی رضائے کے لیے اللہ کی زمین پر اقامت دین کے لیے مخلص کارکن موجود ہیں ۔ دین کیا؟ ریاست کیا؟ سیاست کیا؟ معیشت کیا؟ قانون کیا؟ تعلیم کیا؟ ماہرین کی ایک بہترین ٹیم موجود ہے، تو پھر ان اتحادوں کی ضرورت کیوں؟

یہ بھی پڑھیں:   جماعت اسلامی کا سیاسی مستقبل اور ایم ایم اے - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

آپ جماعت اسلامی میں کسی بھی سطح پر سفارش، رشوت یا کرپشن کلچر برداشت کر سکتے ہیں؟ یا کبھی یہ کسی نے کہا ہو یا سنا ہو کہ کسی صوبے کی امارت کے لیے ووٹ خریدے گئے ہوں؟ دستور جماعت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی مرکزی قائد نے اپنے حق میں لابنگ کی ہو؟ ایک طرف "کرپشن فری پاکستان" کی مہم چلائی جاتی ہو تو دوسری طرف کسی کرپٹ سیاسی جماعت کے ساتھ کسی بھی سطح پر اتحاد کیوں کیا جائے؟ یہ مت کہا جائے کہ فلاں نے فلاں سے اتحاد کیا تھا ، دو ٹوک اعلان کردیا جائے کہ ہم چور ہیں، نہ چوروں کے ساتھی ، ہم کسی کرپٹ اور چور کے ساتھ کسی بھی سطح پر کسی بھی قسم کا اتحاد نہیں کریں گے۔ صاف، شفاف اور واضح پالیسی اور پھر نتائج کو اللہ پر چھوڑ دیا جائے!

اگر 77 سالوں کی جدوجہد کے نتیجے میں جماعت اسلامی پاکستان ملک میں اپنی حکومت قائم کرنے میں ناکام رہی ہے تو خامی اس پروگرام اور ایجنڈے میں نہیں ، خامی اس وجہ سے ہے کہ جو توانائی دوسروں کی راہ دیکھنے میں صَرف ہوئی، اُسی میں اپنے دست و بازو پر بھروسہ کیا جاتا تو شاید نتائج مختلف ہوتے۔

متحدہ مجلس عمل کی کسی تخیّلاتی کامیابیوں کی آس میں، موجودہ پالیسوں پر تنقید کرنے والوں پر سیخ پا ہونے کے بجائے جماعت اسلامی کے ہمدردوں کی رائے پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اس غور کے نتیجے میں سراج الحق کی راہ میں کوئی رکاوٹ بھی کھڑی نہیں ہوگی۔