ربیع الاول کی آمد ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ - گل محمد

صفر کا مہینہ اپنی تکميل کے مراحل میں ہے۔یہ مہینہ اولیاء اللہ کی اکثریت میں اتفاقاً وفات کا مہینہ ہے۔اسی تناسب سے اولیاء کے معتقدین، متوسلین اور مریدین بڑے تزک و احتشام کے عرس کا انعقاد کرتے ہیں۔اس کے بعد ربیع الاول کا مہینہ آنے والا ہے،یہ مہینہ بڑی شان والا ہے اور انسانیت کے لیے حقیقت میں بہار ہے۔حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی اس دنیا پر آمد انسانیت کے لیے زندگی کا پیغام لےکر آئی۔ عرب کے جاہل قبائل جو صدیوں تک آپس میں الجھے رہتے تھے باہم شیر وشکر ہو گئے اور وہی عرب اسلام کا جھنڈا لے رہتی دنیا سے کفروشرک کے اندھیرے مٹانے کے لیے نکلے اور بہت قلیل عرصے میں اسلام کا پیغام امن وآشتی شرق تا غرب پھیل گیا۔

صدیاں گزرنے کے بعد آہستہ آہستہ فکری تبدیلیاں واقع ہونے لگیں اپنوں اور غیروں کی سازشوں کی وجہ سے دین اسلام میں کچھ چیزیں فکری لحاظ سے متنازع بنتی گئیں اور اسی وجہ سے افراد گروہ درگروہ تقسیم ہو گئے اور اپنے مکاتب فکر لے کر مختلف مسالک میں بٹ گئے۔ہر فرقہ اپنے آپ عین اسلام کی فکر قرار دیتا ہے اور دیگر مسالک کو گمراہ گردانتا ہے اور بعض تو شدت کی حدود کو پار کرکے کفر وارتداد کے فتاویٰ بھی دینے میں قطعی عار محسوس نہیں کرتے اور لاؤڈ سپیکر پر مخالف مسلک کو کافر قرار دیتے ہیں۔

نزاعی موضوعات میں ایک موضوع ماہ ربیع الاول میں جشن عید میلادالنبی منانا ہے۔سنّی مسلک، جس کو برصغیر میں بریلوی مسلک کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے، اس موقع پر خوب خوشیاں مناتا ہے،جلوس منعقد کیے جاتے ہیں محافل اور کانفرسز منعقد کی جاتی ہیں۔اس موقع پر مسالک مخالف ان اقدامات کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں۔سوشل میڈیا پر خوب بحث ہوتی ہے خوب گرمی سردی ہوتی ہے سپیکرز پر بھی مخالفین ایک دوسرے پر تیر اندازی کرتے ہیں اور ربیع الاول کے خاتمے کے ساتھ لڑائی بھی ختم ہو جاتی ہے اور باقی سال کے مہینے پیار اور برداشت اور رواداری سے گزرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   آمد بہار عالم صلی الله علیہ وسلم - نزہت وسیم

کیا ربیع الاول کی اتنی سی اہمیت رہ گئی ہے کہ ملت کے کچھ افراد کچھ دن جشن مناکر، کھا پی کر باقی سال آرام سے سو جائیں اور دیگر مسالک صرف اس کام کو بدعت گردان کر دفاعی پوزیشن میں یہ مہینہ گزار کر اپنے آپ کو مجاہدین اسلام سمجھ کر سارا سال چپ رہیں؟

نہیں نہیں! ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا امت مسلمہ نے اس نادر موقع سے بہت کچھ فیض لینا ہے،امت کے لیے یہ موقع اس بھلائے ہوئے سبق کی یاد دہانی ہے جس کو مسلمان بھلا کر آج دنیا میں ذلیل و خوار ہے۔ربیع الاول کا مہینہ پوری امّت کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا مہینہ ہے، حالانکہ سارے مہینے ہمارے آقا علیہ السلام کے ہیں مگر یہ مہینہ آپ علیہ السلام کی ولادت کے ساتھ مخصوص ہے اس لیے امت کو چاہیے وہ اس نادر موقع کو اپنے لڑائی جھگڑوں میں ضائع نہ کرے بلکہ امن اور محبت کے ساتھ اس مہینے کو منائے۔

اس مہینے کی مناسبت سے تمام امت کو چاہیے کہ وہ اپنے آقا علیہ السلام کی سیرت مبارکہ کا مطالعہ کرے، اس سلسلے میں مساجد، مدارس، سکولز، کالجز اور یونیورسٹیز میں سیرت پاک کے لیے روزانہ کی بنیاد پر سلسلہ دروس منعقد کیے جائیں۔آج امت کو ہٹلر، سٹالن،مارکس اور لینن کی بائیوگرافی تو حرف بہ حرف یاد ہے مگر اپنے محبوب آقا علیہ السلام کی زندگی کے متعلق کچھ علم نہیں۔وہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ و سلم جن کی ذات پوری انسانیت کے لیے کامل نمونہ ہے آج امت نے ان کی زندگی کو بھلا دیا ہے اور اپنے مسائل کا حل ناقص العقل دانشوروں کے ہاتھوں تلاش کرتی ہے۔

ربیع الاول کے مہینے میں ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ سیرت رسول صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کے حوالے سے کوئی کتاب لازمی ختم کرے، چاہے وہ مختصر ہو یامفصل۔آج انٹرنیٹ کے دور میں کتب تک رسائی انتہائی آسان ہو گئی ہے۔اب سارا علم انگوٹھے کے نیچے آگیا ہے۔ہر پڑھے لکھے شخص کو چاہیے کہ وہ اس موقع پر فضول بحث میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کے بجائے سیرت رسول صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کا خود بھی مطالعہ کرے اور دیگر دوستوں کو بھی یہ پیغام پہنچائے۔اللہ تعالی ہمیں سیرت رسول صلی اللہ علیہ السلام سلم کو سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین!