’’درست حکمت عملی‘‘ - رعایت اللہ فاروقی

کراچی کی سیاست ایک بالکل مختلف سیاست ہے۔ جس عینک سے ملک کے باقی حصوں بالخصوص بڑے شہروں کی سیاست کا جائزہ لیا جاتا ہے وہ کراچی کے لیے کار آمد نہیں۔ اس شہر کی سب سے بڑی سیاسی اکائی ان لوگوں پر مشتمل ہے جو ہجرت کی صعوبت سے گزر کر پاکستان آئے تھے۔ پاکستان سے گہری وابستگی ہر پاکستانی کی ہے لیکن ان لوگوں کی وابستگی ممتاز تر ہے جنہوں نے تحریک پاکستان کے دوران الگ وطن کے لیے جد و جہد کی تھی مگر یہ وہ بھی نہیں جانتے تھے کہ اگر ان کی جد و جہد کامیاب ہوئی اور الگ وطن قائم ہوا تو اس کا جغرافیہ کیا ہوگا؟ ان کا صوبہ، ضلع، محلہ اور مکان اس جغرافیے کے اندر ہوگا یا باہر؟ پھر ایک دن یہ جد و جہد کامیاب ہوئی اور دو الگ ریاستوں کا جغرافیہ ابھرا تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے مکان، کار و بار، کھیت، باغات اور خاندانی تاریخ پاکستان کے جغرافیے سے باہر رہ گئے ہیں۔ تب ان کے پاس یہ آپشن تھی کہ وہ اپنے مذکورہ ذاتی مفادات کی خاطر ہندوستان ہی میں رہ جاتے اور پاکستان سے باہر رہ جانا قدرت کا لکھا مان لیتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ اپنے سارے مفادات چھوڑ چھاڑ کر پاکستان کی طرف جانے والی اس شاہراہ پر چل پڑے جس کے اطراف موجود لاشوں کا انبار صاف بتا رہا تھا کہ اس سفر کی کامیابی کا انحصار موت کو شکست دینے پر ہے۔ ایک بہت بڑی تعداد اپنے وطن کی راہ میں شہید ہوئی اور ایک بڑی تعداد پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئی۔

انسانی فطرت ہے کہ ترکے میں ملنے والی بیش قیمت شال سے اس جوتے کی دھول صاف کی جاتی ہے جو خود اپنے خون پسینے کی کمائی سے خریدا گیا ہو۔ ہر اس چیز کی قدر زیادہ ہوتی ہے جو اپنی جیب سے خریدی گئی ہو اور کسی بھی چیز کی قدر اتنی ہی بڑھ جاتی ہے جتنی وہ مشقت سے حاصل ہوئی ہو۔ پاکستان کے لیے جد و جہد سب نے کی تھی لیکن جو اس کے لیے اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نکل آئے تھے اور دوران سفر اپنوں ہی کی بے گور و کفن لاشیں چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے ان کی مشقت اور تکلیف کا مقابلہ کون کر سکتا ہے؟ جب آپ اپنا سب کچھ لٹا کر حتیٰ کہ جگر کے ٹکڑے قربان کروا کر وطن پہنچیں تو اس کا ایک ہی مطلب ہو سکتا ہے کہ آپ کو یقین ہے کہ جس وطن سے آپ خود کو اس حد تک وابستہ کر چکے ہیں اسے آپ آزادی اور حقوق کی جنت سمجھ چکے۔ ایسے میں جب آپ اپنی اسی جنت میں اجنبی ہو کر رہ جائیں، آپ کی آواز صحراؤں میں گم ہونے لگے اور آپ اجتماعی شناختوں میں بے شناخت رہ جائیں تو پھر تلخی تو آتی ہے اور کراچی ایک تلخ شہر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اقامتِ دین کے لیے احتجاجی مطالباتی تحریک کا راستہ - وقاص احمد

تلخی اور بے اعتمادی اس شہر کے باسیوں کی وہ قدر مشترک ہے جس سے آج اس شہر کی ہر سیاسی اکائی متاثر ہے۔ معمولی سی بات پر آواز اونچی ہونے لگتی ہے، آنکھوں میں شعلوں کی مقدار سب سے زیادہ اسی شہر میں پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹریفک حادثہ ہوتے ہی تصادم کا شکار ہونے والی دونوں گاڑیوں میں بڑی گاڑی کو نذر آتش کردیا جاتا ہے پھر قصور خواہ چھوٹی کا ہی کیوں نہ ہو۔ کوئی شخصیت قتل ہوجائے تو درجنوں گاڑیاں اور دکانیں انہی شعلوں کی لپیٹ میں آجاتی ہیں جو آنکھوں میں پائے جاتے ہیں۔ سیاسی قتل تو ملک کے دوسرے شہروں میں بھی ہوتے ہیں لیکن ان شہروں کے لوگ سانحے کے ردعمل میں سانحہ برپا نہیں کرتے۔ حماقت کی حد کو پہنچا ہوا یہ غصہ صرف کراچی میں ہی پایا جاتا ہے اور وجہ اس کی معقول ہے۔

ستّر سال کی کہانیاں کیا دہرانا؟ آپ آج کا ہی منظر دیکھ لیجیے کہ کراچی شہر کچرے کا ایک بہت بڑا ڈھیر بن چکا۔ دیہی سندھ سے حکمرانی کرنے والی پیپلز پارٹی کراچی کے بلدیاتی اداروں کو بے دست و پا کرچکی تو ساتھ ہی یہ تہیہ بھی کر بیٹھی ہے کہ وہ سندھ کے اس سب سے بڑے شہر کو غلاظت کا ڈھیر بنا کر اس کے باسیوں کو کسی اور کو ووٹ دینے کی سزا دے کر رہے گی۔ اگر شہر کا کچرا اٹھانے کا اختیار بلدیاتی اداروں کے پاس نہیں تو پھر یہ سندھ حکومت کی ہی ذمہ داری ہے کہ اپنے صوبائی دارالحکومت کو صاف رکھے لیکن یہ کچرا اتنا بڑھ چکا کہ آج یہ اس آصف علی زرداری سے بھی زیادہ بھاری ہوچکا جن کے متعلق پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ سب پر بھاری ہیں۔ جب غیر مقامی صوبائی حکومت اس شہر کا کچرا تک اٹھانے کو تیار نہیں تو اس شہر یا اس کے باسیوں کو کچھ دینا تو بہت بعد کی بات ہے۔

اس تلخ شہر کی سیاست میں دہشت کا عنصر محرومی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اسی غصے کے سبب آیا۔ نواز شریف نے اپنے دو ادوار میں اس دہشت کو لگام دی تو جنرل مشرف نے ایک بار پھر اس کا احیاء کیا۔ جب جنرل مشرف یہ سب کر رہے تھے تو وہ ملک کے چیف آف آرمی سٹاف بھی تھے۔ زرداری دور کے آنے تک دہشت کا یہ عنصر ایک بار پھر قدم جما چکا تھا۔ کراچی کے لوگ جئیں یا مریں، اس سے پیپلز پارٹی ہمیشہ لاتعلق نظر آئی ہے۔ زرداری دور میں بھی یہی ہوا۔ کراچی میں خون کی ندیاں بہتی رہیں اور زرداری صاحب الطاف حسین کے سہولت کار کا کردار ادا کرتے رہے۔ نواز شریف کے تیسرے دور میں ایک بار پھر آپریشن ہوا اور یہ پچھلے آپریشنز سے مختلف ثابت ہوا۔ اس کے نتیجے میں شہر خوف و ہراس کا شکار ہوا اور نہ ہی شہر بند ہونے کی نوبت آئی۔ ہونا یہی چاہیے تھا کہ شہر کی سیاست کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کیا جاتا۔ سیاسی جماعتوں میں موجود ہر سطح کے ایسے شخص کو سیاست سے جدا کردیا جاتا جو سیاست کی آڑ میں آگ و خون کا کھیل کھیلتا رہا ہے۔ ایسے افراد پر مقدمات چلا کر انہیں کڑی سزائیں دلوائی جاتیں اور انہیں سیاست کے لیے تاحیات نااہل کردیا جاتا۔ المیہ یہی ہے کہ ہم تنظیموں پر تو پابندیاں لگاتے ہیں لیکن افراد پر نہیں۔ نتیجہ یہ کہ وہی افراد دوسری تنظیم کھڑی کر لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   نئی بوتل میں پرانا محلول اور کراچی والے! - فراز الحسن

کراچی میں تو نہ ملک کی سب سے بڑی دہشت گرد جماعت پر پابندی لگائی گئی اور نہ ہی اس کے جرائم پیشہ افراد پر۔ 'مائنس الطاف فارمولا' ہی رو بہ عمل نظر آیا۔ کیا الطاف حسین کی مافیا میں جرائم صرف الطاف حسین ہی کیا کرتا تھا؟ مناسب حکمت عملی یہی ہوتی کہ ایم کیو ایم کے جرائم پیشہ عناصر کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جاتا، تنظیم اور ان افراد پر پابندی لگادی جاتی جو سنگین جرائم میں ملوث تھے اور باقی ذیلی قیادت کو اس وارننگ کے ساتھ اس کے حال پر چھوڑ دیا جاتا کہ یہ طے کرنا آپ کا کام ہے کہ آپ کوئی نئی پرامن جماعت بنا کر سیاست کرتے ہیں یا پہلے سے موجود دیگر سیاسی جماعتوں کا حصہ بنتے ہیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ ہم آپ کو الطاف حسین بننے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ایسی صورت میں کراچی کی متبادل سیاسی قوت فطرت کے اصولوں کے مطابق خود اٹھتی جو مثبت بھی ہوتی اور مستحکم بھی۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا کہ اداروں پر سیاست میں مداخلت کا الزام بھی نہ آتا۔ اب بھی کچھ نہیں بگڑا، جرائم پیشہ عناصر کو بلیک میل کرکے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے بجائے انہیں ان کیسز میں سزائیں دلوائی جائیں اور انہیں سیاست کے لیے تاحیات نا اہل کروایا جائے جبکہ جو صاف شفاف ہیں انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ ایم کیو ایم شہری سندھ کے ڈیڑھ کروڑ سے زائد لوگوں کی نمائندہ جماعت ہے اور اس جماعت کے ووٹر کسی اور سیاسی جماعت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں لھذا عوام کی اس کثیر تعداد کے لیے ریموٹ کنٹرول سے چلنے والی جماعت کا تجربہ ایسے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے جن سے الطاف حسین اور اس کے حقیقی ہمدرد بھرپور فائدہ اٹھا کر آپریشن کے ثمرات کو برباد کر سکتے ہیں۔ کراچی کی سیاست کو اس کے حال پر چھوڑ کر جرم و سزا پر توجہ مرکوز رکھنا واحد درست حکمت عملی ہے!

Comments

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی سوشل میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں۔ 1990ء سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نصف درجن روزناموں میں کالم لکھے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام "حسبِ حال" سے بطور ریسرچر بھی وابستہ رہے۔ سیاست اور دفاعی امور پر ان کے تجزیے دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں