کیا ہم اسلام آباد سے ہجرت کر جائیں؟ آصف محمود

تو کیا وہ وقت آگیا ہے اسلام آباد کے شہری بوریا بستر لپیٹیں اور اپنے دیہاتوں اور قصبوں کو لوٹ جائیں ؟کیا ’تجربہ کار‘ حکومت نے آخری فیصلہ کر لیا ہے کہ اس شہر کو رہنے کے قابل نہیں چھوڑنا؟یہ ملک کا دارالحکومت ہے یا اہلِ اقتدار کا راجواڑہ؟

کتابوں میں پڑھتے تھے فلاں لشکر آیا ،اس نے شہر کا محاصرہ کر لیا اور لوگ شہر پناہ میں محصور ہو کر رہ گئے ۔حکمرانوں کی بے نیازی کو داد دیجیے کہ اس نے تاریخ کا پہیہ الٹی طرف موڑ دیا۔اب اس عہد جدید میں اسلام آباد محاصرے میں ہے، سڑکیں بند ہیں اور خلق خدا چوراہوں پر ان حکمرانوں کی ’’ بلندی درجات‘‘ کی دعائیں مانگ رہی ہے۔ روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا، اسلام آباد سلگ رہا ہے تو حکمران دہی کے ساتھ کلچہ کھا رہے ہیں۔

احتجاج کرنے والوں کا اسلوب احتجاج بھی سوالیہ نشان ہے۔اس سے بڑا سوال مگر یہ ہے کہ حکومت کیا کر رہی ہے۔دو عشروں سے زیادہ عرصہ ہو گیا میں اس شہر کا مکین ہوں ، آپ میری شہادت پر اعتبار کرسکیں تو اسلام آباد کے محاصرے میں احتجاج کرنے والوں سے زیادہ کردار حکومت کا اپناہے۔آپ کو بادی النظر میں یہ بات عجیب سی لگے گی لیکن حقیقت یہی ہے کہ حکومت نے جان بوجھ کر لوگوں کو ایک عذاب میں ڈالا ہے۔

مولانا خادم حسین رضوی اس وقت فیض آباد پر بیٹھے ہیں ۔حکومت چاہتی تو ان کے وہاں بیٹھے رہنے کے باوجود ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جا سکتا تھا لیکن حکومت نے جان بوجھ کر ٹریفک کی روانی کو مزید متاثر کیا ۔پہلے یہ جان لیجیے کہ جان بوجھ کر کیسے کیا، پھر اس پر بات کرلیں گے کہ کیوں کیا؟

فیض آباد پر احتجاج ہو رہا ہے، اسے بند کرنے کا جواز سمجھ میں آتا ہے۔لیکن حکومت نے یہاں ایک اور واردات ڈالی ہے۔ اسلام آباد ائیر پورٹ سے نکل کر آپ مرکزی شاہراہ پر اسلام آباد کی جانب بڑھتے ہیں، فیض آباد کے مقام پرفلائی اوور کے نیچے سے ایک راستہ اسلام آباد کلب کی طرف مڑتا ہے اور ایک کلومیٹر کے بعد راول ڈیم کا راول چوک آتا ہے، اس کے بعد کشمیر چوک آتا ہے جہاں سے ایک راستہ مری کو نکل جاتا ہے اور ایک راستہ اسلام آباد میں داخل ہو جاتا ہے۔ فیض آباد سے راول چوک تک ایک کلومیٹر کو حکومت نے بلاضرورت بند کیا ہوا ہے۔ لوگوں سے کہا جاتا ہے وہ آئی ایٹ فلائی اوور کی طرف بڑھیں، وہاں سے واپس آئیں، کھنہ پل پہنچیں، وہاں سے ترامڑی کی طرف نکلیں، چک شہزاد آئیں، اور وہاں سے راول چوک پہنچیں۔ یہ ایک کلومیٹر کا سفر جو عام حالات میں دو منٹ میں طے ہو جاتا ہے، اب تین گھنٹوں میں طے ہوتا ہے کیونکہ کھنہ پل پر فلائی اوور کا تعمیراتی کام جاری ہے اور وہاں بھاری گاڑیاں پھنس جاتی ہیں۔ تین گھنٹے ذلیل ہو کر لوگ پھر اسی سڑک پر اسی راول چوک پر پہنچ اسی سڑک سے اسی راستے سے کشمیر چوک کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ جب راول چوک سے آگے پھر اسی راستے سے جانا ہے تو فیض آباد سے دو منٹ میں سیدھا راول چوک کیوں نہیں جانے دیا جاتا؟ لوگوں کو تین گھنٹے طویل چکر کی اذیت کیوں دی جا رہی ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان کا مستقبل، احتجاج و دھرنا سیاست؟ - وقاص احمد

تو جناب اس کی وجہ مظاہرین ہیں نہ سیکیورٹی کے تقاضے بلکہ اس کی وجہ وی آئی پی اشرافیہ ہے۔ یہ اشرافیہ ائیر پورٹ سے آ رہی ہو یا ڈی ایچ اے وغیرہ سے تشریف لا رہی ہو ، وہ یہاں پہنچتی ہے، پولیس اسے سیلیوٹ مار کر راستہ کھول دیتی ہے اور وہ دو منٹ میں اسلام آباد پہنچ جاتی ہے۔ا سی لیے یہاں کنٹینر بھی نہیں ہے بلکہ رسہ لگایا گیا ہے تا کہ حسب ضرورت اٹھا کر راستہ دیا جا سکے۔ وی آئی پی حضرات کو سہولت دینے کے لیے عوام کو بیس کلو میٹر کا چکر کٹوایا جاتا ہے اور ان کے تین گھنٹے ضائع کرائے جاتے ہیں۔آپ یہ راستہ آج کھول دیں ٹریفک کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔صورت حال یہ ہے مظاہریں نے ایک راستہ بند کر رکھا ہے حکومت نے تیرہ راستے بند کر رکھے ہیں ۔ایک کالم میں یہ ساری تفصیل لکھنا ممکن نہیں مگر سچ یہ ہے ان تیرہ میں سے تین کے سوا کسی راستے کو بند کرنے کا جواز نہیں تھا۔

حکمران مزے میں ہیں۔ان کی شان و شوکت کا عالم یہ ہے کہ بطور ملزم عدالت میں پیش ہونے جائیں تو ان کے اعزاز میں راستے بند کر دیے جاتے ہیں اور خلق خدا کو ذلیل کیا جاتا ہے۔ان کے صاحبزادوں کی جے آئی ٹی میں پیشی کے وقت ایک تصویر سامنے آ جائے تو اہل دربار چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں لیکن کسی کا معصوم بچہ راستے بند ہونے کی وجہ سے ایمبولینس میں مر جائے اور ہسپتال نہ پہنچ سکے کسی کو پرواہ نہیں۔ درست کہ مولانا خادم حسین رضوی کے خلاف بچے کے قتل کا مقدمہ قائم کر دیا گیا ہے، سوال مگر یہ ہے کہ جو بچہ اس وقت ان کی گاڑی نے روند دیا تھا جب یہ نا اہل ہو کر شور مچاتے لاہور جا رہے تھے کہ مجھے کیوں نکالا اس کی ایف آئی آر ان کے خلاف کب درج ہوگی؟کیا اس بچے کا خون ان موروں سے بھی سستا تھا جن کے مرنے پر رائے ونڈ محلات میں تعینات پولیس اہلکارغفلت کے مرتکب قرار دے کرمعطل کر دیے گئے تھے؟

دارالحکومت ایک عذاب سے گزر رہا ہے۔آپ گھر سے نکلتے ہیں تو اچانک راستہ بند کر دیا جاتا ہے ،معلوم ہوتا ہے کوئی وی آئی صاحب گزرنے والے ہیں ان کے لیے روٹ لگا دیا ہے۔ایک بیریئر کے تنازعے پر ماڈل ٹاؤن میں درجنوں لوگ شہید کر دیے گئے لیکن مری روڈ پر اسلام آباد کلب نے جس دیدہ دلیری سے سڑک کے ایک حصے پرسیکیورٹی کلیئرنس کے نام پر قبضہ کر رکھا ہوتا ہے اس پر قانون لاگو ہونے سے ڈرتا ہے۔آپ سکون سے ڈرائیو کر رہے ہوتے ہیں کہ اچانک سیاہ گاڑیوں کا ایک قافلہ نمودار ہوتا ہے اور آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ راستے سے ہٹ جاؤ یہ سڑک ان کے ابا حضور کی جاگیر ہے۔ وزرائے کرام کے طنطنے تو اپنی جگہ اب تو پراپرٹی ڈیلر بھی پورا لشکر لے کر نکلتے ہیں۔ایک ٹھیکیدار جب سے نا معلوم خدمات کی بنیاد پر میئر بنا ہے اور قانون کو پامال کرتے ہوئے اسے چیئر مین سی ڈی اے بھی بنا دیا گیا ہے تب سے یوں سمجھیے شہر کا ستیا ناس ہوتا جا رہا ہے۔کسی پارک کے ٹوائلٹس قابل استعمال نہیں رہے۔ایف نائن پارک اب بھوت بنگلہ دکھائی دیتا ہے، گھاس تک کوئی نہیں کاٹتا،مارگلہ کے پہاڑ وں پر جا بجا کوڑا پڑا ہے ، ترکی نے راول ڈیم کے پہلو میں انقرہ پارک تو بنوا دیا ان کام چوروں سے وہاں آج تک روشنی کا انتظام نہیں ہو سکا۔

یہ بھی پڑھیں:   کنکریٹ کا جنگل - فیصل ندیم

اسلام آباد محاصرے میں ہیں۔ لوگوں کے اعصاب چٹخ چکے۔ کیا اس دن کا انتظار ہے جب تنگ آ کر یہ تصادم پر اتر آئیں؟ احسن اقبال ویسے تو اس تکبر سے بات کرتے ہیں کہ لگتا ہے آدھی دنیا فتح کر کے ابھی پاکستان پہنچے ہیں اور میڈیا ٹاک کے بعد باقی کی آدھی دنیا فتح کرنے کو نکلنے والے ہیں، لیکن کیا انہیں معلوم نہیں جب لوگ احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر آ جائیں تو حکومت کا کام کیا ہوتا ہے؟ کچھ بتائیے تو سہی کہ معاملہ کیا ہے؟ آپ نے ختم نبوت سے متعلق انتخابی قانون میں ترمیم کی، احتجاج ہوا تو آپ نے پھر ایک ترمیم کر دی، آپ نے اس وقت یہ وعدہ بھی کیا کہ اس کے ذمہ دار کو سامنے لایا جائے گا، اس کے لیے ایک کمیٹی بھی بنائی گئی۔ سوال یہ ہے کہ اب آپ قوم کو بتا کیوں نہیں رہے اس کا ذمہ دار کون تھا؟ معاملہ کیا ہے جس کی پردہ داری مقصود ہے؟ جسٹس باقر نجفی کمیشن رپورٹ ہو یا یہ معاملہ ہو، آپ ہر چیز خفیہ کیوں رکھتے ہیں؟ وزیر قانون اتنا ناگزیر کیوں؟ اس کے پاس ایسا کون سا سرخاب کا پر ہے کہ وہ مشرف کا بھی وزیر قانون تھا آپ کا بھی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ اکڑ گیا ہو کہ میں استعفی نہیں دیتا اور ساتھ دھمکی بھی دے دی ہو کہ اگر مجھے قربانی کا بکرا بنانے کا سوچو گے تو میں اس شخصیت کا نام لے دوں گا جس کے حکم پر میں نے یہ شرمناک ترمیم انتخابی قانون میں شامل کی تھی؟ وہ شخصیت کون ہے جس کا پردہ رکھنے کے لیے اسلام آباد کو محاصرے کے عذاب سے گزارنا بھی گوارا ہے؟
دیکھیے اب استاد ذوق یاد آ گئے:
’’دیکھ گر دیکھنا ہے ذوق کہ وہ پردہ نشیں
دیدہِ روزنِ دل سے ہے دکھائی دیتا‘‘

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں