’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج - حامد کمال الدین

سوال:

ایک مسئلہ جس میں افراط و تفریط کافی ہو رہی ہے اور علماء کی جانب سے تھیوری ہی دی جا رہی ہے پریکٹیکل اپروچ نہیں۔ ایک عدد گروپ _____ نام سے جسے بندہ اور _______ بھائی اور ایک دو بہنیں چلا رہے ہیں، نیز اپنے _______ صاحب بھی ساتھ ہیں۔ تدبیر یہاں یہ ہے کہ عمومی سا ماحول قائم رکھا جائے اور اسی میں ہم معاشرتی حوالے سے خیر کی بات کر لیتے ہیں اور لوگ سن بھی لیتے ہیں بالکل نئے لوگ۔ کچھ نہ کچھ ہلکی پھلکی گپ شپ بھی چلتی ہے جس میں ظاہر ہے ایسے اوپن گروپ میں حضرات و خواتین سبھی ہوتے ہیں، بسا اوقات کچھ مسکراہٹیں بھی بکھر جاتی ہیں کیونکہ موضوع شادی ہو،اور اکثریت نوجوانوں کی ہو تو یہ چیز تو موجود رہے گی۔ اس سارے پس منظر میں یہ یہاں کچھ صاحبان نے شور ڈالا ہے کہ ہم زیادتی کر رہے ہیں امت کے بچوں کو دین کے نام پر اپنی ذاتی تسکین پر لگا رہے ہیں، یہ گپ شپ پوسٹوں پر لڑکے سمائیلیز لگاتے ہیں لڑکیوں کے کمنٹس پر اور لڑکیاں یہی کام لڑکوں کے کمنٹس پر کرتی ہیں وغیرہ۔ اس پر ایک دو دن سے کچھ پوسٹنگ چل رہی ہے تاکہ لوگوں کے ذہن اس حوالے سے کچھ پریکٹیکل ہوں، ہم ایڈمنز اسی ہلکی پھلکی چیز کو چلنے دینے کے حامی ہیں۔ معترضین اس کو فتنے کا دروازہ کھولنا بتلاتے ہیں۔ اس حوالے سے، نمونے کی کچھ پوسٹیں آپ کےلیے ارسال ہیں جنہیں دیکھنے کی گزارش ہے اور بعد ازاں کچھ رہنمائی کی۔

جواب:

ایسے مسائل کو، ایک دی گئی صورتحال میں، دو حیثیتوں سے دیکھنا ہوتا ہے: اصولی اور واقعاتی۔

جہاں تک مسئلے کی اصولی حیثیت ہے، تو معلوم ہونا چاہیے کہ صنفین کے معاملے کو شریعت نے کچھ ضوابط کا پابند رکھا ہے۔ انہی میں سے ایک: وہ شعوری ’باڑ‘ جو مرد و زن کے میل جول میں حائل رہنا تقاضائے دین ہے۔ مثلاً عورت کو قرآن کی یہ ہدایت: فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِيْ فِيْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا یعنی ’’ملائمت سے بات نہ کرو مبادا ایک دل کا روگی لالچ کر جائے؛ بس قاعدے کے مطابق بات کرو‘‘۔یعنی ایک پابند شریعت عورت کا ملائم لہجے سے، جوکہ عورت میں قدرتی رکھا گیا ہے، یہاں قصداً احتراز کرنا؛ کیونکہ دل کا ایک روگی عورت کی جانب مائل ہونے میں صرف اسی ایک بات سے شہہ پا سکتا ہے۔ یہ ہوئی لہجے کی بات۔ اور جہاں تک مضمون کی بات ہے تو اسے چاہیے کہ مرد کے ساتھ بڑی ہی ’ٹو دی پوائنٹ‘ بات کرے (وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا)۔ شاید آپ اس سے اتفاق کریں کہ ’سمائلی‘ لگانے کی بعض صورتیں کسی قدر ’چٹکی‘ لینے کے مترادف ہوتی ہیں۔ ایک جوان لڑکی ایک بیگانے آدمی کے ساتھ اس انداز کا انٹریکشن رکھے، یا وہ آدمی اس لڑکی کے ساتھ، اس کی نہ شریعت میں گنجائش نظر آتی ہے اور نہ ہماری عمومی مشرقی تہذیب میں۔ (واضح رہے ہم نے کہا، سمائلی کی بعض صورتیں)۔ آیت کا سیاق پرائے مردوں کے ساتھ معاملہ کرنے سے متعلق ہے جن میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور ایک بڑی تعداد اَن دیکھے اَن جانے لوگوں کی، جن کے رویوں اور خصلتوں کی بابت عورت یا اس کے اہل خانہ کو کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ اس سطح پر عورتوں مردوں کے مابین مذاق یا ’چھیڑ چھاڑ‘ کی گنجائش نہیں ہو سکتی۔ ہاں ایک دوسری سطح پر، جہاں عورت اگرچہ شرعاً آپ کےلیے نامحرم ہی ہے، لیکن دونوں کے مابین خانگی قربت یا اعتماد اس درجہ میں موجود ہے کہ عورت کے بھائی، والد یا شوہر وغیرہ ایک جانے پہچانے آدمی کے ساتھ اپنی بہن، بیٹی یا بیوی کے ایک درجہ بےتکلفانہ انٹریکشن پر عدم اطمینان محسوس نہیں کرتے۔مثلاً خاندانوں میں آپ کی بھابیاں، سالیاں، کزنز (چچا، ماموں، پھوپھی، خالہ کی بیٹیاں)، چچیاں، ممانیاں وغیرہ نیز قریبی تعلقات رکھنے والوں کی خواتین اگرچہ آپ کےلیے نامحرم ہی ہوتی ہیں لیکن ان کے ساتھ بات چیت میں ایک درجہ بےتکلفی آ جاتی ہے اور گلے شکوے، ڈانٹ ڈپٹ اور ہنسی مذاق وغیرہ ایسے امور کسی قدر پیش آ ہی جاتے ہیں، جوکہ (قولًا معروفًا) سے باہر نہیں ہے۔ امام مالک سے پوچھا گیا کہ کیا عورت ایک نامحرم آدمی کے ساتھ اکٹھے کھانا کھا سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں اگر وہ ایسی صورت میں ہو کہ اس قسم کے آدمی کے ساتھ عورت کا بیٹھ کر کھانا وہاں معروف ہو (موطأ امام مالك)۔ غرض گھروں میں اور تعلق داریوں کے اندر نامحرموں کے ساتھ بھی ایک درجہ کی بےتکلفی (قولًا معروفًا ’’قاعدہ کے مطابق بات‘‘) میں آتی تو ہے۔ لیکن وہ مرد جن کو عورت اور اس کے گھر والے جانتے تک نہیں، اور جن کےلیے ہماری تہذیب میں ’’پرائے مرد‘‘ کا لفظ مستعمل ہے، جیسے دروازے پر آیا شخص، یا راہ چلتا آدمی، جس کا کچھ پتہ نہیں کون اور کیسا شخص ہے، تو اس کے ساتھ بےتکلفی معیوب ہی مانی جائے گی۔ یہاں؛ صرف ضرورت کی بات کی جائے گی۔ (علم، ثقافت، ادب، تاریخ، معاشرت وغیرہ کی بابت تبادلۂ آراء یقیناً ’’ضرورت‘‘ میں آ سکتا ہے جب وہ کچھ مختص فورَمز کی صورت میں ہو)۔ جبکہ لہجے میں بھی وہی ’’عدم ملائمت‘‘ قصداً و عمداً رکھوائی جائے گی۔ اس لحاظ سے، چیٹ گروپس میں چلنے والی وہ ‘بےتکلفی‘ اور وہ ’چھیڑ چھاڑ‘ جو پرائے مردوں اور عورتوں کے مابین بہت بار میرے دیکھنے میں آتی ہے، کسی صورت شریعت سے ہم آہنگ نظر نہیں آتی۔ ہمارے پابندِ شریعت مردوں اور بیبیوں کو چاہیے، ان فورمز پر اپنی حد تک ان قیود کی پابندی ہی کریں اور ایسے ہی ایک ’ریزرو‘ (reserve ) رویّے کو رواج دینے کی بھی ممکنہ حد تک کوشش کریں۔ یاد رکھنا چاہیے، عفت کے اعلیٰ معیار ہمارے دین اور ملت کا خاص الخاص امتیاز ہیں۔

یہ ہوئی مسئلے کی اصولی حیثیت۔ ظاہر ہے یہ بات ہمارے ان بھائیوں اور بہنوں کےلیے ہی ہو سکتی ہے جو اللہ کی توفیق سے شریعت کی مکمل پابندی پر آمادہ ہیں۔

اب آئیے مسئلے کی واقعاتی حیثیت پر۔ آپ جانتے ہیں دو سو سال سے ہمارے معاشرے کی اٹھان ایک خاص تہذیب پر کروائی جا رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں، آپ کے نہ چاہتے ہوئے بھی، ایک کثیر خلقت ایسی ہے جو اپنے عادات و معاملات میں شرعی معیاروں سے کسی قدر نا بلد ہے۔ دشمن کی کوشش تو یہ ہے کہ اب اس کو وہ اسلامی عقیدہ سے بھی برگشتہ کروا دے۔ تاہم یہ وہ خلقت ہے جس کے ہاں خدا اور رسول کی تعظیم تو اللہ کا شکر ہے برابر قائم ہے (اسلامی عقیدہ ایک قابل لحاظ حد تک اس کے ہاں سلامت ہے) البتہ رہن سہن میں اس کا معاملہ ایک دو سو سالہ عمل کے نتیجے میں دگرگوں ہو چکا۔ آج اگر اسلامی تحریک میدان میں آتی ہے تو اسے ان لوگوں کو (جن کے ہاں اللہ و رسول سے وابستگی تو قائم ہے لیکن ان کے تہذیبی حالات اسلامی معیاروں سے کسی قدر دور جا چکے) اپنے ساتھ چلانے کےلیے ایک خاص دانائی درکار ہو گی۔ یہاں، لگتا ہے مجھے ایک ایسے مسئلے کو اٹھانا ہے جو ہمارے بہت سے لوگوں کےلیے شاید ناقابل قبول ہو، لیکن وہ خلافِ شریعت ان شاء اللہ ہرگز نہیں ہے، بلکہ ایک ’’دی گئی صورتحال‘‘ میں شریعت کا اپنا تقاضا ہو گا۔ اس کےلیے، کسی قدر واضح مثالیں دینا ضروری ہے:

وقت آچکا کہ اپنا فوکس ’’عقیدہ‘‘ پر رکھتے ہوئے ’’اعمال‘‘ میں نرمی اور تدریج کا منہج اپنا کر اِس ’’بھٹکے ہوئے آہو‘‘ کو جو بڑی دیر سے ’’دَیر‘‘ کے آس پاس پھر رہا ہے اور کوئی معجزہ ہی تاحال اسے ’’اندر‘‘ جانے سے روکے ہوئے ہے، ’’پھر سوئے حرم‘‘ لے چلنے کی ایک حکیمانہ تدبیر کی جائے۔

امریکہ کے اسلامک سینٹروں میں، ہم اس بات کو از حد قیمتی جانتے رہے تھے کہ کوئی بھی ابن آدم یا بنتِ حوا ہمارے سنٹر میں آئے اور ہم اس کےلیے جس قدر ممکن ہو، ہدایت کا ذریعہ بنیں۔ یہاں، غیر مسلم تو طرح طرح کے آتے ہی تھے، مسلمان بھی جس جس قسم کے آتے وہ کچھ کم عجیب نہیں تھا، لیکن پھر بھی وہ ہمارے لیے غنیمت ہی ہوتے اور ہم ان کےلیے چشم براہ۔ بےشک اپنے گھر کی خواتین کو ہم یہاں اسلامی ڈریس کوڈ کا پابند رکھتے، لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ یہاں تمام آنے والی عورتوں کو، لباس کے شرعی تقاضوں کا پابند کیا جائے؟ اور اگر ایسی پابندی رکھیں تو اس کا قطعی مطلب یہی تو ہو گا کہ ایک خلقت یہاں آنے سے منع کر دی جائے۔ یا کم از کم بھی، یہاں آنے سے اس کی حوصلہ شکنی ہو۔ کیا داعی اس بات کا متحمل ہے؟ وہ یہاں آئے گی نہیں یا آپ اس کے پاس جائیں گے نہیں تو ’’ہدایت یافتگان‘‘ کے ساتھ اس کا انٹریکشن ہو گا کیسے؟ یہاں لامحالہ آپ اس پر پیشگی شرطیں نہیں رکھ سکتے۔ ہاں یہ کوشش کر سکتے ہیں کہ وہ رفتہ رفتہ یہاں آپ کے رنگ میں رنگتی چلی جائے، جس کےلیے ڈھیروں وقت اور صبر چاہیے۔ اس سے بڑھ کر آپ کے بس میں کچھ ہے ہی نہیں۔ سوائے اس بات کے کہ آپ اس (غیر پابندِ شریعت) خلقت سے دور رہیں اور وہ آپ سے۔ اس صورت میں ’کوڈز‘ (ضابطوں) وغیرہ ایسی شرطوں میں تو آپ ’تقویٰ‘ کے بہت اونچے معیاروں پر فائز رہ سکتے ہیں لیکن معاشرے سے آپ کا عزلت نشین (isolated ) ہو رہنا یقینی ہے۔ صرف اتنا نہیں، بلکہ وہ فاصلے جو آپ ’’متقین‘‘ اور اس ’’غیر متقی‘‘ خلقت کے مابین اِس وقت آ چکے وہ اور سے اور بڑھیں اور طرفین میں پائی جانے والی ’’وحشت‘‘ (wilderness ) روز افزوں ترقی کرے۔ آپ تو اللہ کرے جنت میں چلے جائیں، لیکن یہ خلقت جتنا آپ سے دور ہو گی اتنا ہی یہ ان طبقوں کے قریب اور ان کے تہذیبی چنگل میں گرفتار ہو گی جو اس کو جہنم میں لے جانے کا ایک منظم ایجنڈا رکھتے ہیں اور معاشرے میں اس کے ڈھیروں انتظامات اور ایک گہری منصوبہ بندی۔

یہ بھی پڑھیں:   بنتِ حوا کے نام - حنا صدف

پہلے بھی میں اپنی بعض تحریروں میں اس جانب اشارات کر چکا ہوں، اس پیچیدہ صورتحال کے ساتھ پورا اترنے کےلیے دینی طبقوں کو ایک نیا انداز لانا ہو گا۔ وہ انداز جو ایسے معاشرے کو انگلی پکڑ کر چلانے کےلیے درکار ہے جو دو سو سال تک استشراق کے ترتیب دیے ہوئے نظام میں تعلیم اور تربیت پا چکا لیکن اللہ و رسولؐ سے ایک عقائدی وابستگی پر، اللہ کا شکر، ابھی باقی ہے (اور جوکہ اپنی ذات میں ایک معجزہ ہے، اس کی جتنی قدر کی جائے کم ہے)۔ اس معاشرے کو یہیں پر انگلی سے پکڑ لیا جائے تو شاید اس کا عقیدہ بچانے میں کسی قدر کامیابی پا لی جائے، اور اس میں پھونکی جانے والی اس عقائدی حمیت کے بل پر، فرعون کے کچھ برج بھی الٹ دیے جائیں۔ البتہ اپنی تہذیبی تعمیرات کی امید اسے کچھ بڑی سماجی تبدیلیوں سے گزار لینے، خصوصاً اس کے نظامِ تعلیم کو اپنے ہاتھ میں لینے، کے بعد ہی رکھی جائے۔ یوں فی الوقت اِس محبِ اسلام خلقت کی اسلام سے ایک عقائدی و تاریخی وابستگی کو ہی ایک ’’لانگ ٹرم انوسٹمنٹ‘‘ (long-term investment) میں ’’سِیڈ منی‘‘ (seed money) کے طور پر لیا جائے اور اس کے سوا کسی چیز کی جلدی نہ کی جائے۔

سوال میں پوچھے گئے مسئلہ سے قطع نظر بھی، میں پوچھتا ہوں یہاں کی وہ بی بی جو استشراق کی دو سو سالہ تہذیبی وسماجی محنت کے نتیجے میں، اپنے سر کے دوپٹے سے تو محروم ہو چکی، لیکن اپنے ’’اللہ و رسولؐ سے محبت و وابستگی‘‘ کے عقیدے سے دستبردار ہونے پر تاحال آمادہ نہیں (لیکن ہمارے اس کو چھوڑ رکھنے کے نتیجے میں، وہ خدانخواستہ اس سے دستبردار ہو ضرور سکتی ہے)... میں پوچھتا ہوں، ایسی ایک بی بی کو اُس کی اِس حالت میں ہی، اسلامی ایجنڈا کے ساتھ جس قدر ممکن ہو منسلک رکھنے اور دین دشمنوں کے ساتھ حالیہ جنگ میں اُس کو کچھ قابلِ عمل سرگرمی دے رکھنے کےلیے، کیا ہمارے پاس کوئی فورَم ہے؟ اگر نہیں تو کیوں نہیں؟ (واضح رہے، یہاں میرا سوال خاص سوشل میڈیا کی حد تک نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی سے متعلق ہے)۔ اس اتنی بڑی خلقت کو ہم نے کن شیاطین کے قابو آنے کےلیے چھوڑ رکھا ہے؟ یعنی یہ بی بی جب تک ہمارے وعظوں سے متاثر ہو کر پردہ نہیں کر لیتی اُس وقت تک یہ اپنے دین اور اپنے نبیؐ کے دشمنوں کے خلاف جنگ میں ہمارے ساتھ کھڑی نہیں ہو سکتی؟ البتہ اِس حالت میں جس میں وہ ہے، اور جس سے اِس کے نکل آنے کی کوئی صورت بھی فی الحال میسر نہیں ہے، اِس خدا کی بندی کو اپنے ساتھ چلانے کےلیے ہمارے پاس کوئی فورَم نہیں؟ بس فی الحال ہمیں اِس کو ’’ٹھیک‘‘ ہی کرنے پر زور رکھنا ہے اور جب تک یہ ’’ٹھیک‘‘ نہیں ہو لیتی، دشمن ہمارے ساتھ اور خود اِس کے ساتھ جو کرتا ہے کر لے! کوئی ایسی اسکیم لانے میں آخر کیا حرج ہے کہ یہ خلقت بھی اللہ کے دشمنوں کے خلاف کچھ نہ کچھ ہتھیار بہرحال اٹھا لے اور ملّتوں کی اِس جنگ میں عضوِ معطل نہ ہو رہے؟ کجا یہ کہ ہمارے اس کو اپنا طرفدار نہ بنا سکنے کے نتیجے میں، ہمارا گھاگ دشمن اس کو اپنا طرفدار بنانے میں کامیابی پاتا چلا جائے (جو کہ ہم بچشمِ سر ملاحظہ کرتے آ رہے ہیں) اور تب وہ ہم پر ایسی ضرب لگائے جو ہمیں ’حجروں‘ تک کا نہ رہنے دے؟ (یہ کوئی غیر علمی مسئلہ نہیں: جب تک یہ خاتون اللہ و رسولؐ سے محبت رکھتی ہے اِس کو اپنے کیمپ کا جاننا اور اِس کو اپنے خدا اور نبیؐ کے دشمنوں کے خلاف ایک سماجی جہاد کے اجر سے محروم نہ ہونے دینا خود ہمارے دین کا تقاضا ہے۔ اس سلسلہ میں ملاحظہ فرمائیے ہمارے کتابچہ ’’شرح تعامل اہلِ قبلہ‘‘ کی فصول: ’’امتِ محمدیہ کے خطاکار اہل سنت کے یہاں کیونکر دیکھے جاتے ہیں‘‘ اور ’’عوامِ امت پر کڑی شرطیں اہل سنت کا منہج نہیں‘‘)۔ مَردوں کی وہ اتنی بڑی تعداد، جو دو سو سال سے تشکیل ہوتے آ رہے ایک خاص قسم کے معاشرے میں اسلام کے بہت سے تہذیبی تقاضوں سے بلاشبہ پیچھے جا چکی، اور جو کہ بلحاظ تعداد اس وقت کی مین سٹریم ہو گی، اس کے آگے فی الوقت کوئی بہت بڑا اور مشکل تقاضا رکھے بغیر، اسے اسلام کی ایک کم ترین سطح سے وابستہ رکھنے کےلیے، نیز اسلام دشمنوں کے خلاف جنگ میں اسے اپنے ساتھ چلانے کےلیے، ہمارے پاس کیا تدبیر اور کیا فورَم ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   اللہ قدر دان ہے - ام حبیبہ

یہ ایک بہت بڑا خلا ہے جو ہم دینداروں نے یہاں کے ’’عام مسلمان‘‘ کی زندگی میں باقاعدہ چھوڑ رکھا ہے جو اپنے اوپر مسلط ایک غیر شرعی تعلیمی و سماجی عمل کی بھاری قیمت دیتا چلا آ رہا ہے۔ یعنی کفر سے بھی یہی مار کھائے (کیونکہ ’’معاشرے‘‘ میں یہ ہے ہم نہیں) اور ہم ’’دینداروں‘‘ کے ہاں بھی اپنی اِس ’بےدین‘ حالت میں قبول نہ ہو! وہ بھی اِسے ’’ٹھیک‘‘ کرنے کی فکر میں اور ہم بھی اِسے ’’ٹھیک‘‘ کیے بغیر ساتھ لینے کے نہیں! دو سو سال سے چلی آتی ہماری اِس شرط نے کہ پہلے یہ ہمیں ’’ٹھیک‘‘ ہو کر دے، ہم ’’دینداروں‘‘ کو اِس پورے کھیل سے ہی باہر کر دیا جبکہ اس بیچارے ’’عام مسلمان‘‘ کو کفر کے کنارے لے جا پہنچایا۔ نہایت حیرت انگیز ہے کہ اِس ’’غیر پابندِ شریعت‘‘ مسلمان کے چندوں کے سوا آج ہمیں اس کی کوئی شے قبول نہیں! تاوقتیکہ یہ ہم جیسا ’’پابندِ شریعت‘‘ نہیں ہو جاتا، جس کےلیے ہم اس کو مسلسل وعظ کر سکتے ہیں، یا پھر ڈانٹ ڈپٹ اور ’فتوے‘، ہمارے پاس اِسے دینے کےلیے یہاں کوئی کام نہیں!

یہ ہے مسئلے کی واقعاتی حیثیت۔ اس پہلو سے ضروری ہے کہ ہم اہل دین معاشرے کو ادب، ثقافت، سیاست، صحافت، کھیل، روزگار اور دیگر سماجی سرگرمی کے ایسے فورَم دیں جہاں بہت سے ایسے طبقے جو ایک دو سو سالہ تہذیبی عمل کے نتیجے میں اسلام کی ’’مطلوبہ سطح‘‘ پر نہیں، اور نہ کسی ایسی بڑی تبدیلی کا ان کی زندگی میں کوئی فی الفور امکان ہے، اور اس لحاظ سے اُن کے ساتھ ہمیں صبر ہی کرنا ہے، ہمارے قریب رہنے کا ایک موقع پائیں۔ محض قریب رہنے کا، جو ہمارے اور معاشرے کے مابین اِس وقت ناگزیر ہو چکا۔ خواہ بیس ہزار غلطیوں کے ساتھ سہی، ’’زندگی‘‘ کا جس قدر حصہ ممکن ہو یہ ہماری ہی سرکردگی میں چلیں۔ ہمارے ہاتھوں فراہم کرائے جانے والے اِن سماجی فورَمز پر وہ آئیں تو خاص اپنی دلچسپیوں کےلیے، اور ہاں اپنی دلچسپی کی ایک اچھی اور معیاری تسکین بھی وہ یہاں پائیں، البتہ اپنے دین اور تہذیب کی کچھ ہلکی پھلکی غذا بھی (زیادہ تر غیر محسوس طور پر) وہ ہم سے لے لیا کریں اور اپنے عقیدے سے وابستگی میں بھی یہاں ایک گونہ مہمیز پائیں۔ اس سے ہم معاشرے تک پہنچیں اور معاشرہ ہم تک۔ ایسی کوئی فریکوئینسی (frequency) آپ کو لازماً لانا ہو گی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ایسے فورَمز کےلیے کوئی کوڈز آف کنڈکٹ (codes of conduct ) نہ ہوں البتہ یہ شرط آپ یہاں نہیں رکھ سکیں گے کہ ہر وہ چیز جو شریعت کا تقاضا ہے یہ سب لوگ اسے لازماً اور فوراً پورا کریں، ورنہ ان فورَمز سے باہر ہو جائیں۔ (کیونکہ ایسی کوئی ’’شرط‘‘ لگانے کےلیے آپ کو جو پوزیشن درکار تھی وہ آپ دو سو سال پہلے گنوا چکے۔ البتہ اپنی اِس ضد سے جو اِس وقت آپ فرما رہے ہیں، آپ وہ پوزیشن بھی کھو دینے والے ہیں جو آج آپ کو حاصل ہے)۔ پہلے ہی سمجھ لیجیے، یہ فورَمز اُن لوگوں کےلیے وجود میں نہیں لائے گئے جو دینی جماعتوں اور مذہبی حلقوں کے دیرینہ تربیت یافتہ اعضاء و ارکان ہیں، اور جوکہ معاشرے کا ایک فیصد بھی مشکل سے ہیں۔ (ان کےلیے آپ کچھ مختص فورَمز رکھنا چاہیں تو رکھ لیں)۔ یہ البتہ معاشرے کے ان طبقوں کےلیے ہیں جو ایک مناسب شرعی راہنمائی سے دو سو سال سے محروم چلے آتے ہیں۔ اب جا کر اللہ کے فضل سے کچھ ایسے لوگ اٹھے ہیں جو ان طبقوں اور ان کی ضرورت کو کسی قدر سمجھتے ہیں۔ ان کی الجھنوں اور مسئلوں کو جانتے ہیں اور لادینیت کے خلاف اپنی جنگ میں انہیں اپنے ساتھ چلانے کے تقاضوں سے کسی قدر آگاہ۔ یہ بڑی دانشمندی کے ساتھ ان سے کچھ اسلامی امور کی پابندی کروائیں گے تو کچھ امور میں ان کی کمزوریوں کا اعتبار کرتے ہوئے ان سے صرفِ نظر بھی کریں گے؛ البتہ ان کو کھونے کے کسی صورت روادار نہ ہوں گے۔ کیونکہ ان کو کھو دینے کا مطلب فی الوقت معاشرے سے ہاتھ دھو بیٹھنا ہے۔ پھر نہ بانس اور بانسری۔ لہٰذا یہ ایک خاص ’’دی گئی صورتحال‘‘ سے معاملہ کرنا ہے جو نصوصِ شریعت سے نظری استدلال کی نسبت ایک پیچیدہ تر چیز ہے۔ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں (مفہوم): ایک مجرد انداز میں خیر اور شر کو جاننا اصل فقہ نہیں؛ یہ تو سب کر لیتے ہیں۔ اصل فقہ یہ ہے کہ دو پیش آمدہ خیروں میں سے کس چیز کو خیر کہیں اور دو پیش آمدہ شروں میں سے کس چیز کو شر۔ (ایک الجھی صورتحال میں شریعت کے مقصود کو پہچاننا)۔ اِسی کےلیے بعض معاصر اہل علم نے ’’فقه الموازنات‘‘ کی اصطلاح چلائی ہے۔ یہی مبحث ابن تیمیہ کے ہاں ’’فصل جامع في تعارضِ الحسناتِ أو السيئاتِ أو هما جميعًا‘‘ کے تحت بیان ہوا ہے۔ (مجموع فتاوىٰ ابن تیمیہ سے اس فصل کا لنک۔ اس کے کچھ اجزاء اردو ترجمہ کے ساتھ ہمارے اس مضمون سے مل سکتے ہیں: ’’واقعۂ یوسفؑ کے حوالے سے ابن تیمیہؒ کی تقریر‘‘)۔ سچ پوچھیں تو دین سے محبت رکھنے مگر موجودہ تہذیبی صورتحال کے اثرات قبول کر بیٹھنے والے اپنے پڑھےلکھے طبقے کے ساتھ معاملہ کرنے میں ہمارا مسئلہ اِسی پوائنٹ پر بڑی دیر سے الجھا ہوا ہے اور معاشرہ تیزی کے ساتھ ہمارے ہاتھ سے نکل رہا ہے، جبکہ ہمارا پیکیج اِس کےلیے آج بھی وہی جو اُس وقت بھی مشکل سے اِس کے اختیار کرنے کا تھا جب اِس بیچارے نے استشراقی اداروں کی شکل تک نہ دیکھی تھی۔

وقت آچکا کہ اپنا فوکس ’’عقیدہ‘‘ پر رکھتے ہوئے ’’اعمال‘‘ میں نرمی اور تدریج کا منہج اپنا کر اِس ’’بھٹکے ہوئے آہو‘‘ کو جو بڑی دیر سے ’’دَیر‘‘ کے آس پاس پھر رہا ہے اور کوئی معجزہ ہی تاحال اسے ’’اندر‘‘ جانے سے روکے ہوئے ہے، ’’پھر سوئے حرم‘‘ لے چلنے کی ایک حکیمانہ تدبیر کی جائے۔


نوٹ: یہ تحریر اُس سلسلۂ مضامین کا حصہ ہے جس میں مدرسۂ ابن تیمیہ کا وہ ایک اصیل مبحث مختلف زاویوں سے واضح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو ’’نظریاتی‘‘ محاذ پر ایک ٹھیٹ پیراڈائم برقرار رکھنے کو ’’عمل‘‘ میں مطلوب لچک کے منافی نہیں رکھتا؛ بلکہ دونوں کے مابین ایک زبردست وحدت اور توازن لاتا ہے۔ ادھر دو ہی مذہبی اپروچ اس وقت ہمارے ہاں مقبول چلے آتے ہیں: (1) یا تو ایک سماجی صورتحال کے ساتھ پورا اترنے کےلیے اپنے دین کے پیچ ڈھیلے کرو (2) یا پابندِ دین رہنے کا تقاضا یہ سمجھو کہ معاشرے سے تقریباً ہاتھ جھاڑ لو۔ یعنی یا ’’دین‘‘ سے فارغ اور یا ’’معاشرے‘‘ سے؛ اور دونوں کے مابین ایک ناقابلِ عبور خلیج! علمائے اہل سنت کا بیان کردہ یہ اصیل منہج دراصل اِسی دہری مشکل (dilemma) کا ایک شافی حل آپ کو دیتا ہے۔

واللہ الموفِق والھادی