مردانگی یا حیوانگی - ڈاکٹر شفق حرا

علامہ اقبال نے کہا تھا کہ
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

اقبال کو تو کائنات کے تمام رنگ وجود زن سے نظر آئے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کے کرتا دھرتاؤں کو عورت کا وجود ہی اول روز سے کھٹکتا رہا۔ ہم ایک ایسے معاشرے کی پیداوار ہیں، جس میں مردانگی کو مذہب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ پاکستان کی طرح بھارتی معاشرہ بھی ایسے ہی رسوم و رواج کا شکار ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خطے میں مذہب اور مذہبی تعلیمات نے صدیوں سے موجود رسوم و رواج کو شاید کم تو کیا لیکن ختم نہیں کیا جاسکا۔

مردانگی زدہ ہمارے معاشرے میں عورت کو کبھی وہ مقام حاصل نہ ہوسکا جو اس کا استحقاق تھا۔ کبھی عورت کو پاؤں‌کی جوتی جیسے القاب دیئے گئے تو کبھی "آدھی عقل رکھنے والی" کا طعنہ سننا پڑا۔ اگر کوئی کسر رہ گئی تو غیرت کے نام پر قتل اور ونی جیسی رسومات سے اس مقام و مرتبے کو مجروح کیا گیا۔ بنت حوا کی تذلیل کرنے والے مردانگی کے علمبرداروں کوشاید کبھی احساس ہو کہ ان کا وجود اسی بنت حوا کی مرہون منت ہے جس کی تذلیل کو وہ آج اپنی مردانگی کی علامت سمجھتے ہیں۔

میری یہ گریہ وزاری اور نوحہ قبل از مسیح کے حالات اور واقعات کے لیے نہیں بلکہ آج ہی کے حالات و واقعاتپر میں آنسو بہارہی ہوں۔ کچھ دن قبل ڈیرہ اسماعیل خان میں حوا کی بیٹی کے ساتھ ایک ایسا انسانیت سوز واقعہ پیش آیا کہ جس نے ہم سب کے سر شرم سے جھکا دیئے ہیں۔ مردانگی کے کچھ علمبرداروں نے حوا کی ایک بیٹی کو اسلحہ کے زور پر اس وقت برہنہ کرکے پورے گائوں میں گھمایا جب وہ اپنی کچھ سہیلیوں کے ساتھ تالاب سے پانی بھر کر گھر لارہی تھی۔ بااثر مجرموں نے لڑکی کو پکڑ کر قینچی سے اس کے کپڑے کاٹے اور پھر اس کو زبردستی پورے گائوں میں گھمایا۔ متاثرہ لڑکی نے جب ایک گھر میں پناہ کی کوشش کی تو مجرموں نے اس کو کھینچ کر باہر نکالا اور اس کو پناہ دینے کی کوشش کرنے والے شخص کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیں:   شادہ شدہ لڑکی جاب کیوں نہ کرے؟ ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

مجرموں کے اس عناد کی وجہ لڑکی کے بھائی کا مجرموں میں سے کسی ایک کی بہن کے ساتھ ٹیلی فون پر رابطہ ہونا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ متاثرہ لڑکی کے بھائی نے اپنی محبوبہ کو ٹیلی فون لے کر دیا تھا جوکہ بعد میں پکڑا گیا اور اس سارے معاملے کو پنچائت میں لایا گیا۔ پنچائت نے اس جرم پر متاثرہ لڑکی کے بھائی کو تین لاکھ جرمانے کی سزا سنائی اور مجرم اس جرم کی بناء پر کچھ عرصہ قبل پنچائت میں لڑکی کے بھائی سے تین لاکھ روپے وصول کرکے اپنی غیرت ٹھنڈی کرچکے تھے لیکن شائد رقم ختم ہوتے ہی ان کی سوئی ہوئی غیرت ایک بار پھر جاگ اٹھی اور انہوں نے یہ نیچ حرکت کرڈالی۔ یہ مقام حیرت ہے کہ موبائل پر بات کرنے کے جرم کی اتنی بڑی سزا دیتے وقت ان مجرموں کو یہ احساس کیوں نہ ہوا کہ ان کی بھی بہن بیٹی موجود ہے اور وہ انتقام کی جو چنگاری سلگا رہے ہیں۔ یہی چنگاری کل کو ان کے محل کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

افسوسناک پہلو یہ تھا کہ اس واقعہ میں تحریک انصاف کے "شہد" کی بوتلیں رکھنے کے لیے  مشہور رہنما علی امین گنڈا پور کے ملوث ہونے کا الزام ہے لیکن "صاف چلی شفاف چلی" والی تحریک انصاف نے ابھی تک ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا۔ شاید مردانگی کے علمبردار اس معاشرے میں اس طرح کے واقعات میں ملوث بااثر مردوں کو بچا کر نچلے طبقے کے کچھ مردوں کو سزا دلوانے کا دستور اب اتنا پرانا ہوگیا ہے کہ قانون نے بھی اس دستور کے سامنے ہتھیار ڈالنے میں ہی عافیت جانی ہے۔

قانون بھی کیا کرے آخر اس قانون کو اسی مردوں کے معاشرے کے سامنے ہی تو جوابدہ ہونا ہے۔ شاید اس معاشرے کا المیہ یہ بھی ہو کہ سارا ظلم سہنے والی حوا کی بیٹی کو بھی یہ طعنہ مل رہا ہو کہ جب تمہیں علم تھا کہ تمہارے بھائی کی وجہ سے علاقے میں دشمنی چل رہی ہے تو تنہا باہر نکلنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ شاید عورت پر ظلم کے بعد عورت کو ہی مورد الزام ٹھہرانا اب پرانا وطیرہ بن چکا ہے اس لیے پولیس نے بھی کچھ ملزمان کو گرفتار کرکے متاثرین کی اشک شوئی کی ناکام کوشش کی تاکہ واقعہ کے اصل مجرموں کو بچایا جاسکے۔ ستم تو یہ ہے کہ واقعہ کو پندرہ روز گزرنے کے باوجود مرکزی ملزم سجاول پولیس کی گرفت سے آزاد ہے اور خیبرپختونخواہ کی "مثالی" پولیس متاثرین کو صرف طفل تسلیاں دے کر وقت گزاری میں مشغول ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ڈیرہ اسماعیل خان واقعہ کا ذمہ دار کون؟ مولانا محمد جہان یعقوب

یہ تو سنا کرتے تھے کہ قانون اندھا ہوتا ہے لیکن اگر حکمران بھی اندھے ہوجائیں تو پھر انصاف کہا سے مل سکتا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت متاثرہ خاندان کی مدد کے بجائے واضح طور پر مجرموں کی حمایت کرتی نظر آرہی ہے جبکہ پولیس کے کچھ لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے نظر آئے کہ لڑکی کو برہنہ نہیں کیا گیا بلکہ صرف اس کی قمیض کا ایک بازو قینچی سے کاٹا گیا تھا۔ حکومت اور تو کچھ نہ کرسکی لیکن علی امین گنڈا پور کو گائوں میں بھیج کر متاثرہ لڑکی کی مکمل کفالت کے اعلان کے ذریعے شاید متاثرین اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ضرور کی گئی۔

مردانگی کی آڑ میں حیوانگی کے علمبردار افراد صرف ڈیرہ اسماعیل خان میں موجود نہیں ہیں۔ ایسے لوگ ہر علاقے اور مکتب فکر میں دندناتے پھر رہے ہیں لیکن افسوس ان کو روکنے کےبجائے معاشرہ مجرمانہ خاموشی کے ساتھ ایسے واقعات کی حوصلہ افزائی کررہا ہے۔ حوصلہ افزائی اسے کیوں نہ کہا جائے کہ اتنی بڑی قیامت ٹوٹی اور بہت سے اس لیے خاموش ہیں کہ ان کی پارٹی اور ان کا پرچم زد میں آتا ہے۔ کیا ہی افسوسناک تعصب اور کیا ہی دردناک ہماری یہ بے حسی ہے۔یا پھر شاید ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے اس بھول میں ہیں کہ بلی ہمیں نہیں کھائے گی۔

Comments

ڈاکٹر شفق حرا

ڈاکٹر شفق حرا

ڈاکٹر شفق حرا دس سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ پی ٹی وی نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام کیپیٹل ویو کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیتی ہیں، اور اپنے منفرد انداز کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں