اسحاق ڈارکے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت، حسن اورحسین نوازکواشتہاری قراردینے کا فیصلہ بھی متوقع

اسلام آباد: وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈارکے خلاف احتساب عدالت میں آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ریفرنس سمیت سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیٹوں حسن نواز اورحسین نوازکو اشتہاری قرار دینے اور اثاثوں کی ضبطی سے متعلق بھی آج سماعت ہوگی۔

وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈارکے خلاف احتساب عدالت میں آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ریفرنس سمیت سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیٹوں حسن نواز اورحسین نوازکو اشتہاری قراردینے اوراثاثوں کی ضبطی سے متعلق بھی آج سماعت ہوگی۔ وزیرخزانہ کے وکیل آج ان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کریں گے جس میں ڈارکی جگہ نمائندہ مقررکرنے کی اجازت مانگی جائے گی۔خواجہ حارث عدالت میں درخواست دیں گے کہ ان کے موکل کی جگہ فیصل مفتی ایڈووکیٹ ان کی نمائندگی کریںگے۔فاضل جج محمد بشیر نے 8 نومبرکو اسحق ڈارکے ضامن کو وارننگ دی تھی کہ اگر وہ انہیں عدالت میں پیش کرنے میں ناکام ہوگئے تو 50لاکھ روپے کے مچلکے ضبط کرلیے جائیں گے۔

احتساب عدالت کے حکم نامے کے مطابق اگر حسن نواز اور حسین نواز مسلسل غیر حاضر رہے تو ان کی جائیدادیں ضبط کرلی جائیںگی۔اشتہارکے مطابق 30 دن میں پیش نہ ہوئے تومفرورملزمان کواشتہاری قراردیاجائیگا۔

واضح رہے کہ نیب نے گزشتہ ماہ 12 اکتوبرکو اسلام آباد کی احتساب عدالت سے ملنے والی ہدایت کے بعد فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس کے باہرحسن نواز اورحسین نوازکی پیشی کیلئے حکم نامہ آویزاں کیا تھا۔حکم نامے میں حسن نواز اور حسین نوازکوگرفتاری دینے اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ، العزیزیہ اسٹیل ملز اور ایون فیلڈ جائیدادوں کے ریفرنسز میں عدالتی کارروائی کا حصہ بننے کا کہا گیا تھا۔احتساب عدالت نے عدم پیشی پر دونوں ملزمان کا کیس شریف خاندان کے کیس سے الگ کررکھا ہے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اورجنرل سیکریٹری جہانگیر ترین کی نااہلی کے مقدمات کی سماعت بھی آج ہوگی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل تین رکنی بینچ مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کرے گا۔ یاد رہے کہ ان مقدمات کی سماعت حمتی مراحل میں داخل ہوچکی ہے۔ امکان ہے کہ ایک یا دوروزکی سماعت کے دوران سماعت مکمل کرکے عدالت فیصلہ محفوظ کرلے گی۔

یاد رہے کہ عمران خان اور جہانگیر ترین نا اہلی درخواستیں 2 نومبر 2016 کو دائر ہوئی تھیں اور ایک سال سے زائدعرصے سے زیر سماعت ہیں جب کہ گزشتہ سماعت پراٹارنی جنرل کاموقف لینے کے بعد عدالت نے عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کوحتمی جواب الجواب دلائل دینے کے لیے آج تک مہلت دی تھی۔