بریگزٹ اور کاتالونیہ، یورپ ٹوٹنے کو ہے - محمد طیب سکھیرا

قوموں پر عروج و زوال آنا ازل سے طے ہے۔ جنگ عظیم اول میں یورپ کے دشمن ہٹلر یعنی نازی جرمن تھے۔ جرمنی کی شکست کے بعد ہٹلر کی باقیات کو صفحہ ہستی سے مٹادیا گیا۔ " نازیوں " کو پوری دنیا میں ظلم و نفرت کا نشان بنادیا گیا۔ یورپی یونین بنائی گئی تو یورپی ناخداؤں نے عیسائی ہونے کے ناطے جرمنوں سے تمام دشمنیاں بھلادیں۔ جرمنوں کو گلے سے لگا کر یورپی یونین کا حصہ بنالیا گیا۔ اصل بدلہ تو جرمنی کے " اتحادی مسلمانوں" سے لیا گیا۔ بہترین یورپی عیسائی دماغ سر جوڑ کر بیٹھے اور اپنے شکست خوردہ دشمن کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ یہی موقع تھا کہ مسلمانوں سے عیسائیت کی 1300 سال کی شکستوں کا بدلہ لیا جائے کہ حطین و قسطنطنیہ کے زخم ابھی تک تازہ اور رِس رہے تھے۔ ان شکستوں کا بدلہ لینے کا اس سے نادر موقع تاریخ میں پہلے کب ہاتھ آیا تھا؟

پھر مسلمانوں کی تاریخی کمزوریوں سے سبق لیا گیا کہ جب جب انہیں چھوٹی چھوٹی مملکتوں کا لالچ دیا گیا، یہ شکاری کے جال میں آتے گئے۔ اس بار بھی یہی حربہ آزمایا گیا۔ مسلمانوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا۔ رنگ و نسل اور قومیت کے بدبو دار نعرے لگوائے گئے۔ جس قومیت، رنگ و نسل کے بت کو ہم عرفات کے میدان میں پاش پاش کر آئے تھے، ان بتوں کو ہمیں پھر سے تھمادیا گیا۔ زیر نگیں رکھنے کے لیے ہر طرح کے معاہدات کیے گئے۔ مقبوضہ خطے اپنے وفادار اور غلام مسلمان بادشاہتوں کے حوالے کردیے گئے اور ہم اسی غلامی پر شاداں و فرحاں رہے۔

آقاؤں کی سوچ تو دیکھیے، وہ ایک صدی گزرنے کے بعد بھی ہمیں اپنا غلام ہی سمجھتے ہیں۔ لبنان کی اس ہفتے کی تازہ مثال دیکھیے لبنان " آزادی " سے قبل ایک عرصہ فرانسیسی کالونی رہا۔ حالیہ سعودی-لبنان قضیہ میں لبنانی وزیراعظم سعد حریری استعفے کے بعد تاحال ریاض میں مقیم ہیں۔ دو روز پہلے فرانسیسی صدر غیر اعلانیہ دورے پر ریاض جاپہنچے اور " اپنے " لبنانی وزیر اعظم بارے " وضاحت " طلب کی کہ وہ ریاض میں کیوں مقیم ہیں؟ اور لبنان کے قضیے کے حل کے لیے مدد کی پیشکش کرتے ہیں۔ کتنے دردمند ہیں فرانسیسی صدر! ان کے دل میں فرانس میں بڑھتی مذہبی عدم برداشت اور بیروزگاری کا اتنا درد نہیں ہے جتنا " لبنان " کا ہے۔ یہی وہ مسلسل "شفقت " ہے جو ایک صدی سے جاری ہے۔ یہ یورپ کا مسلمانوں سے بدلہ نہیں تھا، یہ تو " سلو پوائزن " تھا جو ہماری " وحدت امت " کو دیمک کی طرح چاٹ گیا،

اب ایک صدی گزرگئی ہے اور مسلمان " امت " کے معنی سے ہی ناآشنا ہیں۔ اسلام کا نام لینا مسلمان ملکوں میں ناقابل معافی جرم بنادیا گیا ہے۔ اس دوران نسل نو کو " امت " کے معنی اور اہمیت بتانے والے اسلام پسند تاریک کوٹھریوں کی زینت بنتے رہے، پھندوں پر جھولتے رہے۔ حسن البناء، سید قطب شہید، عدنان میندریس، نجم الدین اربکان جیسے ہزاروں رجال کار اپنے اپنے حصے کا پودا لگاتے اور اپنے خون سے ان کی آبیاری کرتے گئے۔ اب یہ پودے تناور درخت بن چکے ہیں آج کا مسلم نوجوان " امت " اور " قومیت " کے معنی جان چکا ہے، تاریخ کا دھارا بدل رہا ہے۔

ایک صدی قبل قومیت اور رنگ و نسل کا جو بت یورپ نے مسلمانوں کو دیا تھا، وہی اب یورپ کے بت کدے میں بڑی آن سے انگڑائی لے رہا ہے۔ بریگزٹ اور کاتالونیہ جیسے معاملات میں یورپ کی واضح بے بسی شکست و ریخت کا کھلا اعتراف ہے۔ یورپی ممالک ٹوٹ رہے ہیں، جو نہیں ٹوٹ رہے وہ یورپی اتحاد سے نکل رہے ہیں جن کو عیسائیت کے " مقدس مشن " کی تکمیل کے لیے اکٹھا کیا گیا تھا، وہ اب رنگ و نسل اور قومیت کی بنیاد پر نئی سرحدوں کے مطالبات کرنے لگے ہیں کہ مکافات عمل تو اٹل حقیقت ہے۔

سب سے پہلے یورپ کو درپیش حالیہ خطرات پر ایک نظر ڈالتے ہیں :

1۔ " بریگزٹ " کا لفظ یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کو کہا جاتا ہے۔ یورپی یونین کے قانون میں جس طرح رکنیت کی شرائط ہیں، وہیں اس سے نکلنے کے لیے بھی باقاعدہ طریقہ کار ہے۔ کتنا عجیب ہے نا کہ سیکولر یورپ اپنی تاسیس کی گولڈن جوبلی " مقدس ویٹی کن سٹی " میں " پوپ " کے ہمراہ منا کر ابھی فارغ بھی نہ ہوا تھا کہ اسی سال ٹوٹ پھوٹ شروع ہوگئی۔ اس طریقے کا استعمال یورپ کی تاریخ میں پہلی بار حال ہی میں برطانیہ نے کیا ہے۔ برطانیہ میں قوم پرستی کی صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے لندن میں فرنچ، جرمن اور دیگر یورپی اقوام کے لیے نفرت اپنی آخری حدوں کو چھورہی ہے۔ نائن الیون کے بعد جس رویے کا مسلمانوں کو سامنا تھا، اب لندن میں اسی " طوفان بدتمیزی" کا سامنا یورپی اقوام کررہی ہیں۔ " یورپیو! برطانیہ چھوڑ دو!" کی آوازیں اتنی بلند ہوگئیں کہ مجبوراً برطانیہ کو اس مسئلے کے حل کے لیے ریفرنڈم کروانا پڑا۔ ریفرنڈم میں برطانوی لوگوں کی اکثریت نے یورپ چھوڑنے کے حق میں فیصلہ دیا۔ یوں برطانیہ نے ریفرنڈم کے ذریعے یورپ کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہ دیا۔ دیگر یورپی اقوام بھی " بریگزٹ " کے نقش قدم پر پر تول رہی ہیں۔ یونان کے " معاشی دیوالیے " اور اب " قوم پرستی " کی لہر نے "یورپی اتحاد " کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ یورپ بھر میں " قوم پرست " اقتدار میں آرہے ہیں۔ ہٹلر، جسے یورپ میں نفرت و ظلم کا استعارہ سمجھا جاتا ہے، اس کی " قوم پرست نازی پارٹی " پہلی بار جرمن ایوانوں میں پہنچ چکی ہے۔ لازماً وہ یورپ سے اپنے اوپر ڈھائے گئے " مظالم " کا بدلہ لینا چاہے گی، ہالینڈ میں دائیں بازو کے " قوم پرست " اقتدار کے لیے فیورٹ سمجھے جارہے ہیں۔ فرانس کی صورتحال یہ ہے کہ حالیہ صدارتی انتخابی مہم کا بنیادی مطالبہ یورپی یونین سے اخراج تھا۔ دوسرے نمبر پر آنے والی سوشلسٹ فرانسیسی صدارتی امیدوار نے اقتدار ملنے پر اس پر ریفرنڈم کا وعدہ بھی کیا تھا۔ " بریگزٹ " کی آوازیں یورپ کے چہار جانب سے بلند ہورہی ہیں۔ اس سے آپ یورپی اقوام کی بے چینی کا اندازہ کرسکتے ہیں۔ یورپ لرزاں ہے، اسے یہ سمجھ نہیں آرہی کہ عیسائی ممالک یہ اتحاد کیوں چھوڑنا چاہتے ہیں؟ کوئی یورپ کے ان ناخداؤں کو جاکر بتائے کہ ایک صدی قبل قومیت و رنگ و نسل کے جس بدبودار جن کو تم مشرق وسطیٰ چھوڑ کر آئے تھے، اب وہ اپنے گھر یعنی یورپ واپس آ رہا ہے ولندیزی، فرانسیسی، پرتگالی، یونانی تو تم تھے، " قومیت " تو یورپ کا اثاثہ تھی، مسلمان تو ہمیشہ سے ایک امت تھے اور یہ حقیقت ہے کہ جلد یا بدیر ہر چیز اپنی اصل کی طرف لوٹتی ہے۔

2۔ جن ممالک سے " بریگزٹ " کی آوازیں بلند نہیں ہوئیں، وہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہے ہیں۔ کاتالونیہ سپین کا ایک خودمختار اور خوشحال صوبہ ہے۔ ان کا یہ مطالبہ ہے کہ ہم ہسپانوی نہیں ہیں ہم تو " کاتالونی " ہیں، ہماری اپنی زبان، اپنا جھنڈا اور اپنی قوم ہے۔ ہم اپنے بیش بہا وسائل سپین کو کیوں دیں؟ اس لیے ہم سپین سے الگ ہونا چاہتے ہیں۔ کاتالونیہ کا مقامی الیکشن سپین سے علیحدگی کے نعرے پر ہوا اور سپین سے علیحدگی کے حامی اقتدار میں آگئے۔ انہوں نے سپین سے علیحدگی پر ریفرنڈم کروایا اور کاتالونیہ کے 90 فیصد ووٹرز نے سپین سے علیحدگی اور کاتالونیہ کی آزادی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ اب سپین میں ایک طوفان برپا ہے کہ کاتالونیہ کو کسی طرح علیحدہ ہونے سے روکا جائے۔

3۔ یہی معاملہ سکاٹ لینڈ کا ہے۔ سکاٹ لینڈ برطانیہ کا ایک بڑا حصہ ہے جہاں برطانیہ کی کئی اہم ایٹمی و دفاعی تنصیبات ہیں لیکن سکاٹ لینڈ کو کسی حد تک خودمختاری حاصل ہے اور وہ ریفرنڈم کے ذریعے برطانیہ سے الگ ہونے کا قانونی حق بھی رکھتا ہے۔ سکاٹ لینڈ نے اب کھل کر کہ دیا ہے کہ برطانیہ کی یورپ سے علیحدگی کے فیصلے پر سکاٹ لینڈ اس سے الگ ہوجائے گا۔ اگر سکاٹ لینڈ نے برطانیہ سے الگ ہونے کا فیصلہ کرلیا تو یہ فیصلہ برطانیہ کی معاشی و دفاعی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گا ۔

4۔ یورپ کی اصل طاقت " نیٹو اتحاد " ہے جسے سوویت یونین کے خطرے سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ یورپ کو درپیش سوویت عسکری خطرات سے فوری نمٹا جائے اور دنیا بھر میں جہاں بھی مغربی مفادات کو خطرہ ہو، یہ اتحاد حرکت میں آئے لیکن اب یہ اتحاد بھی اندرونی خلفشار کا شکار ہوچکا ہے۔ امریکہ جو اس اتحاد کو سب سے زیادہ سرمایہ فراہم کرتا ہے، ہاتھ کھینچ رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کا بنیادی نعرہ یہی تھا کہ " نیٹو اتحاد" ناکام ہوچکا، امریکہ اس کے لیے مزید سرمایہ نہیں لگاسکتا۔ اگر یورپ اسے برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اس کے لیے سرمایہ بھی یورپ دے۔ کساد بازاری یورپی ممالک میں مزید خلفشار کا باعث بن رہی ہے اور وہ اپنے سنگین معاشی مسائل کی وجہ سے نیٹو اتحاد کو سرمایہ دینے کے لیے کسی طور رضامند نہیں۔

یہ وہ منظرنامہ ھے جو یورپی ناخداؤں کے لیے درد سر بنا ہوا ہے۔ یورپ میں شکست و ریخت و بے بسی کی عجب داستان رقم ہورہی ہے۔ یورپ سکتے میں ہے، ایسا لگتا ھے اسے سانپ سونگھ گیا ہے۔ اب انہیں ترکی یاد آرہا ہے جس نے پچھلے 90 سال میں یورپ کا حصہ بننے کی ہر ممکن کوشش کی، یورپ کے ہر رنگ میں ڈھلتا چلا گیا اور اب جبکہ یورپ کے مسلسل غرور و انکار پر ترکی اس کوشش کو ترک کرچکا ہے اور واضح کہ چکا ہے کہ ہم اب " متعصب یورپ " کا حصہ نہیں بننا چاہتے تو یورپ کو ترکی کی یاد ستانے لگی ہے۔

پچھلے ہفتے یورپی یونین کے اہم عہدیدار کا بیان سامنے آیا کہ " ہم نے ترکی کو خود سے دور کرکے اچھا نہیں کیا ۔" ابھی تو اعترافات کا سلسلہ شروع ہوا ھے، ایک لمبی فہرست اعترافات کی آنا باقی ہے کہ یورپ نے پچھلی ایک صدی مسلمانوں کے ساتھ ملوکیت اور جمہوریت کی آڑ میں کیا کھیل کھیلا؟ یورپ کا ایک حسن ہے کہ وہ ہر چیز کا دستاویزی ثبوت رکھتا ہے۔ یہ دستاویزی ثبوت یورپ پر فرد جرم میں یقیناً بہت معاون ہوں گے۔ اکیسویں صدی مسلمانوں کے عروج کی صدی ہے۔ مسلمان اپنا بدترین اور یورپ اپنا بہترین وقت گزارچکے ہیں، دونوں اپنے اپنے ماضی کی جانب واپس پلٹ رہے ہیں اور کسے نہیں معلوم کہ واپسی کا سفر تیز اور اعترافات سے بھرپور ہوا کرتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com