فرق تلاش کیجیے - ام شافعہ

فرق تلاش کیجیے

خبر نمبر 1: امریکی ریاست ٹیکساس میں چرچ پر حملہ، 27 افراد ہلاک، حملہ آور بھی مارا گیا۔ چرچ پر حملے میں ملزم کی دادی بھی ہلاک ہو ئیں

خبر نمبر 2: مسجد پر دہشت گردوں کا حملہ، دھماکے میں 28 افراد ہلاک اور 34 زخمی، تمام دہشت گرد بھی مارے گئے

اگر آپ نے فرق تلاش کر کیا تو مبارک باد قبول کیجیے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ پردے کے پیچھے چھپی حقیقت سے آپ تھوڑا واقفیت رکھتے ہیں اور اگر فرق تلاش نہیں کر پائے ہیں تو بھی فکر کی بات نہیں اس میں فرق صرف ایک لفظ کا ہے اور وہ ہے " حملہ آور" اور " دہشت گرد" ۔

آخر کیا وجہ ہے کہ جب عزت مآب امریکہ اور اس کے حواری ملکوں میں کوئی ایسی کارروائی کرے تو اسے نفسیاتی مریض قرار دے کر معاملہ دبا دیا جاتا ہے؟ اس کو دہشت گردی کا "تمغہ" دیا جاتا ہے اور نہ ہی اس پوری قوم کو ہیبت ناک دیا جاتا ہے، جس سے وہ تعلق رکھتا ہے؟ جبکہ کسی بھی اسلامی ملک میں یا کہیں بھی کسی مسلمان کی طرف سے کوئی کارروائی ہو جائے تو فوراً دہشت گردی کا لیبل چپساں کیا جاتا ہے۔ نہ ہی محرکات کو جانا جاتا ہے اور نہ ہی جاننے میں کوئی دلچسپی ظاہر کی جاتی ہے۔ اس کے پیچھے مسلمان ہیں تو یقیناً یہ ایک دہشت گردی کی کارروائی ہے۔ یہ نظریہ پوری دنیا میں رائج ہو چکا ہے۔

ہماری سائیکالوجی کی کلاس میں ایک لیکچر کے دوران ٹیچر نے ایک مثال دی تھی کہ دو لڑکیاں بہترین سہیلیاں ہیں اور کالج میں آپ کو ہر وقت ساتھ نظر آتی ہیں۔ ساتھ ہی کھاتی پیتی ہیں اور ساتھ ہی ہر جگہ اٹھتی بیٹھتی ہیں تو جب آپ کے سامنے ان لڑکیوں میں سے کسی ایک کا نام لیا جائے گا تو دوسری لڑکی خود بخود آپ کے ذہن میں آ جائے گی۔ یہی تعلق آج کل مسلمان اور دہشت گردی کا بنا دیا گیا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا، پر ان دو لفظوں کو ایک ساتھ اتنا گھسیٹا گیا ہے کہ ایک عام انسان کے ذہن میں لفظ مسلمان آئے تو ساتھ ہی دہشت گرد کا لفظ سامنے آ جاتا ہے اور اسی طرح دہشت گرد کا ذکر آئے پر پائنچے اوپر کیے، داڑھی رکھے، ہاتھ میں کلاشنکوف پکڑے انسان کا تصور ابھرتا ہے۔ یہ کیا ہے؟

یہ اوچھا وار ہے، مسلمانوں کے تشخص، اقدار اور اخلاقیات پر۔ آج ہمارے دین کی پہچان کو داغدار کیا جا رہا ہے۔ ان چیزوں کو بنیاد بنا کر لوگوں کو اسلام سے متنفر کرنے اور اس سے دور کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔

کیا وجہ ہے کہ جب کسی کنسرٹ پر حملہ ہو اور 60 سے اوپر لوگ مارے جائیں یا پھر کسی چرچ پر حملے میں 26 جانیں چلی جائیں تو مہذب دنیا اسے نفسیاتی مسائل کے کھاتے میں ہی ڈالتی ہے؟ مسلمان کافر کو مارے، یہ دہشت گردی ہے، کافر مسلمان کو مارے،تو خیر ہے اور اس وجہ سے کسی اور کے کان پر جوں بھی رینگتی ہے تو پھر وہ بھی دہشت گرد ہے، کافر کافر کو مارے، تو یہ نفسیات کی گڑبڑ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سیکولر دہشت گرد - تصور حسین چوہدری

کچھ اس طریقے سے یہ سارا منظرنامہ تیار کیا گیا ہے کہ عام انسان سمجھ ہی نہیں پاتا تصورات کی اس "دیانت داری" کو۔

یہ لفظی اور تصوراتی ہیر پھیر کوئی عام سی بات نہیں جس پر صرف نظر کر کے گزر جایا جائے۔ اس چال کو دشمن نہایت آہستگی کے ساتھ لیکن بہت کامیابی کے ساتھ ہمارے اذہان میں پرو رہا ہے۔

چلیں کچھ مثالوں کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس بات سے قطع نظر کے آپ نقاب کرتی ہیں یا آپ نقاب کی بابت پسندیدگی کا رجحان رکھتی ہیں، پہلی بات جو لفظ نقاب کی بابت آپ کے ذہن میں آئے گی وہ ہے "حبس، گھٹن"

لفظ مدرسہ سن کر ذہن میں کیا آتا ہے جنسی بے راہ روی، ہم جنس پرستی، زیادتی، بارود بنانے والی فیکٹریاں

مسجد= فرقہ پرستی، خودکش بم دھماکے

داڑھی= کلاشنکوف، تنگ نظری

جہاد= قتل و غارت، شر پسندی، دہشت گردی

کیا ایسا ہی کچھ نہیں؟ کیا ان لفظوں کو سن کر یا پڑھ کر آپ کے دماغ میں یہ خیالات نہیں ابھرتے؟

اب دوسری طرف آتے ہیں۔ یہاں اصلاحات کی ہیرا پھیری دیکھیے

بے حیائی= خود اعتمادی

کلین شیو= امن پسند

سود= اسلامی بینکاری

شرابی= مہذب

الحاد پرستی= روشن خیالی

بے شرمی= لبرل ازم

یہ صرف کچھ مثالیں ہیں...یہاں لفظوں کی ہیرا پھیری کر کے انہیں حلال بنانے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں جگہ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سوچیے کیا معاشرے کا یہی چال چلن نہیں بنتا جا رہا۔ حرام چیزوں کے بارے میں قابل قبول وژن بنایا جا رہا ہے خوبصورت اصطلاحات کے ساتھ جوڑ کر تا کہ وہ حلال لگنے لگیں اور معاشرہ آہستہ آہستہ ان کو قبول کر کے عادی ہوتا چلا جائے۔

گو کہ ابھی کچھ فیصد لوگوں میں شعور ہے اس چیز کا، لیکن لاشعوری طور پر ہماری نسلیں اس کا شکار ہوں گی۔ کیوں کہ یہ زہر آہستہ آہستہ دیا جا رہا ہے اور پتا بھی چلتا۔ اس کے اثرات دیر پا ہوں گے۔ پاکستان کو ایک سیکیولر سٹیٹ بنانے کی پوری تیاری کی جا رہی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر چینلز اس مہم کا اہم ہتھیار ہیں، چاہے وہ نیوز چینلز ہوں یا انٹرٹینمنٹ چینلز۔ مدرسہ و مسجد سے متعلق کوئی منفی خبر ہاتھ لگ جائے چہ جائیکہ وہ سچی بھی ہوتی ہے یا نہیں۔ پورا پورا ہفتہ نیوز بلیٹن اور ٹاک شوز میں اچھالا جاتا ہے جبکہ مغربی تہذیب کے عکاس یونیورسٹیوں یا اسکولوں میں کوئی واقعہ ہو جائے تو محض ایک ہیڈلائن یا زیادہ سے زیادہ 2 منٹ کی ایک خبر۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلمان ہی مورد ِ الزام کیوں؟ - قادر خان یوسف زئیؔ

پرنٹ اور سوشل میڈیا پر سیکولرز اسلام دشمن قوتوں کے ساتھ مل کر پوری تندہی کے ساتھ تصوراتی ہیرپھیر کر رہے ہیں۔ اس ساری منصوبہ بندی کے ذریعے اس وقت کی مکمل تیاری کی جا رہی ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث اپنے اصلی معنوں کے ساتھ مکمل طور پر ثابت ہو جائے گی جس کا مفہوم یہ ہے کہ " لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اپنے دین پر قائم رہنے والا ہاتھ میں انگارہ پکڑنے والے کی طرح تکلیف میں مبتلا ہوگا۔ کافر تو دور کی بات خود مسلمانوں کے بیچ میں رہ کر ایک باعمل مسلمان کو بے انتہا تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا اور لوگ تکالیف کا سامنا کر بھی رہے ہیں کیونکہ نظریاتی طور پر ہمیں اس حد تک متنفر کر دیا گیا ہے کہ اسلام ہمارے درمیان موجود ہو کر بھی اجنبی ہے۔

ایک دوسری اہم بات جس سے دلی رنج ہوتا ہے وہ آئی ایس پی آر کی جانب سے ریلیز کیے جانے والے گانے ہوتے ہیں، جن میں پاکستانی فوجیوں کو شلوار قمیض اور سر پر ٹوپی پہنے، ڈاڑھی رکھے، لوگوں سے لڑتے دکھایا جاتا ہے۔ وہ وڈیوز جن میں پاک فوج کو انڈین فوجیوں اور کافروں سے لڑتے دکھایا جانا چاہیے تھا جو ہمارے بہت بڑے نظریاتی اور جانی دشمن ہیں، ان کی جگہ کیا دکھایا جا رہا ہے۔ بے شک پاکستان کے اندرونی مسائل ہیں تو کیا اس کا مطلب ہے کہ اپنا پیٹ ہم خود ننگا کر دیں اور دنیا جہاں میں ڈھنڈورا پیٹتے پھریں؟ ہمیں ماننا ہو گا کہ یہاں بھی ہمارے نظریات بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو کل کو میری اور آپ کی نسلوں کے نزدیک کون دشمن ہو گا اور کون دوست؟ جواب بہت آسان ہے۔ تلاش کر لیجیے۔

ہمارا دشمن بہت چالاک اور عیار ہے۔ وہ جانتا ہے، ایک گولی سے ایک مسلمان ہی مرے گا جبکہ نظریات میں تخریب کاری کر کے وہ نسل در نسل تباہی پھیلا سکتا ہے اور دنیا بھر میں وہ یہ دونوں طریقے استعمال کرنے سے چوکا نہیں ہے۔ ہماری عزت اسلام سے وابستہ ہے اور ہزار چالوں اور منصوبوں کے بعد بھی اسلام ایک بار 1400 سال پہلے کی طرح غالب آئے گا۔ البتہ ہمیں فکر کرنی ہو گی کہ آج نہیں تو کچھ سالوں بعد کہیں ہمیں خود اود ہماری نسلوں کو بھی داڑھی اور برقع دیکھ کر ملالہ کی طرح پتھروں کا دور تو یاد نہیں آئے گا اور یہ کہ اس غلبے میں ہمارا اپنا کردار کیا ہوگا؟ آیا ہم ایمان والوں کے خیمے میں کھڑے ہوں گے، یا پھر منافقوں اور کافروں کے؟