نیوم منصوبہ، توقعات اور خدشات - عبدالصبور شاکر

24اکتوبر 2017ء کو سعودی شہزادے محمد بن سلیمان نے ایک بہت بڑے منصوبے ’’نیوم‘‘ کا افتتاح کیا۔ اس منصوبے میں تین ممالک یعنی سعودی عرب، مصر اور اردن کے سنگم پر ایک مشترکہ شہر بسانا شامل ہے۔ یہ شہر 26ہزار 500 مربع کلومیٹر کے رقبہ پر تعمیر کیا جائے گا۔جس پر 500ارب ڈالر کا خرچ آئے گا۔ یاد رہے کہ وطن عزیز کے سب سے بڑے شہر کراچی کا رقبہ 3527مربع کلومیٹر ہے۔ اس منصوبے کو دیوار چین سے بڑا منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے، کیوں کہ یہ ایسا شہر ہوگا جسے دنیا کا محفوظ ترین شہر کہا جا سکے گا۔ یہ دو براعظموں یعنی ایشیا اور افریقہ کو ایک پُل کے ذریعے ملانے کا کام بھی سرانجام دے گا۔

جغرافیائی لحاظ سے یہ سعودی عرب کے شہر تبوک کے قریب ہوگا جو ملک کے شمال مغرب میں واقع ہے۔ ادھر جزیرہ تیران اور جزیرہ سرافیل کے سمندر کی لہریں اِسے چھوا کریں گی۔ جبکہ دوسری طرف بحر احمر اور خلیج عقبہ کے ساحل اس کی قدم بوسی کریں گے۔ یہ ایسا شہر ہوگا جو بیک وقت پہاڑوں، سمندر، اور صحرا کے درمیان واقع ہوگا۔ جس کا موسم انتہائی خوش گوار اور فضا آلودگی سے پاک اور صاف ستھری ہوگی۔ یہ شہر مکمل ڈیجیٹل ہوگا جہاں انسانوں کی جگہ روبوٹ کام کیا کریں گے۔ یہاں 9 چیزوں کو مدنظر رکھا جائے گا: توانائی، ٹرانسپورٹ، ٹیکنالوجی، سائنس، ڈیجیٹل، میڈیا، تفریح، معیشت اور صنعتیں۔ یہاں بجلی، روایتی طریقوں کی بجائے شمسی پینل کے ذریعے حاصل کی جائے گی۔ اور یہ بجلی نہ صرف ملکی ضروریات پوری کرے گی بلکہ بیرونی دنیا کو مہیا کی جا سکے گی۔ بجلی کے اس منصوبے کا نام ’’ضیاء الخضراء‘‘ رکھا گیا ہے۔ منصوبے کا پہلا حصہ 2025ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔

’’نیوم‘‘ انگریزی کے لفظ New اور عربی کے حرف ’’م‘‘ کا مجموعہ ہے۔ جس کا معنی بنتا ہے ’’نیا مستقبل‘‘۔ اور واقعی یہ شہر ایک نئے مستقبل کی جانب اشارہ کر رہا ہے، کیوں کہ دنیا کی دس فی صد تجارت اس شہر کے ذریعے ہوا کرے گی۔جس سے سعودی عرب کو ستر ارب ڈالر کاسالانہ منافع ہوا کرے گا۔ یہ وہ شہر ہوگا جس میں عام، روایتی، مذہبی اور سعودی ریاستی قوانین کی بجائے اسی فی صد عالمی قوانین لاگو ہوں گے۔ یہ ایک سپیشل علاقہ ہوگا جو کہ کسٹمز، انکم ٹیکسز، قوانینِ محنت اور تجارتی پابندیوں سے آزاد ہوگا۔ جس سے فی کس شرح آمدنی تمام دنیا سے زیادہ ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   سعودی ولی عہد، اتاترک یا طیب اردوان؟ حافظ یوسف سراج

لیکن ان سب فوائد کے ساتھ ساتھ بعض لوگ اس منصوبے پر کچھ اعتراضات بھی اٹھا رہے ہیں مثلا کچھ لوگ اس منصوبے کو دبئی کے لیے ’’زہرِ قاتل‘‘ کا نام دے رہے ہیں۔ کہ اس سے دبئی کی معیشت گِر جائے گی۔ اگر یہ شہر کامیاب ہوا تو بعض بڑے بڑے ساحلوں کی رونقیں ماند پڑ جائیں گی۔ یہی سوال جب شہزادہ محمد سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’’نیوم کو اس زاویے سے نہ دیکھا جائے۔ اس سے تمام فریق فائدہ اٹھائیں گے۔ یہ مقابلہ جاتی کھیل نہیں ہے۔ نیوم نئے گاہک پیدا کرے گا، ہمسائے بھی اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ہانگ کانگ کے قیام سے سنگاپور کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ اسی طرح سنگا پور نے ہانگ کانگ کو کسی نقصان سے دوچار نہیں کیا ہے۔ دونوں کا اپنا اپنا میدان ہے۔ یہی اصول دبئی اور ’’نیوم‘‘ پر بھی لاگو ہوگا۔‘‘

دوسرا سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اس شہر میں سعودی عرب کی روایتی اسلام اور مذہب پسندی دم توڑ جائے گی؟ تو شہزادہ محمد کے مطابق ’’اس شہر میں بیس فی صد قوانین سعودی ہی ہوں گے۔ جن میں شراب نوشی اور نشہ بازی کے متعلق قوانین شامل ہیں۔‘‘لیکن یہ بات بہر حال ایک سوالیہ نشان کی صورت موجود ہے کہ کیا اس شہر میں آ کر سعودی شہریوں کو وہ سب کچھ کرنے کی آزادی ہوگی جن سے روکنا سعودی عرب کی مذہب پسندی کی پہچان ہے؟ نیز کیا سعودی شہری ’’نیوم‘‘ میں آکر خود کو سعودی عرب سے باہر محسوس کریں گے؟یا شاہی نظام کی محافظ پابندیاں یہاں بھی ان کا پیچھا کریں گی؟ کیا اس سے وہ شہری جو ’’نیوم‘‘ نہیں آ سکیں گے، اپنے اپنے علاقوں میں ان آزادانہ قوانین کو نافذ کرنے کا مطالبہ تو نہیں کریں گے؟ اگر ایسا ہوا تو شاہی خاندان کی حکومت کو خطرات بھی لاحق ہو سکتے ہیں۔گویا جدت پسندی کے شوق میں ’’روایت پرستی‘‘ کہیں پیچھے ہی نہ رہ جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   سعودی مفتی اعظم نے حماس کو دہشت گرد قرار دے دیا

تیسرا اعتراض سعودی عرب کے اس دعوc پر ہے کہ ’’ہم اپنے آئندہ تیس سالوں کو انتہا پسندی کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے نہیں گزاریں گے یا محدود تر اور چھوٹے چھوٹے معاملات میں الجھ کر ہی نہیں گزاریں گے۔‘‘ سوال یہ ہے کہ کیا سعودی عرب مختلف ممالک کے ساتھ جاری چپقلش کو بند کر دے گا؟ بظاہر ایسی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ شہزادہ محمد ہی کا بیان ہے کہ ’’یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہمیں یقین نہ آ جائے کہ ہماری سرحد کے قریب کوئی حزب اللہ نہیں ہے۔‘‘ان دونوں بیانات کو ملانے سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ سعودی عرب امن چاہتا ہے لیکن اس کے حصول کے لیے راستہ جنگ کا چُنتا ہے۔ حالاں کہ یہ بدیہی بات ہے کہ امن، جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ کانٹوں کے سوداگروں سے پھولوں کی توقع رکھنا عبث ہوتا ہے۔ سعودی عرب اگر امن چاہتا ہے تو اسے قطر اور ایران سے اپنے معاملات اور تعلقات پر مثبت نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔ یمن میں جاری آگ اور خون کے کھیل کو روکنا ہوگا۔ اور اس مقصد کے لیے عالی دماغ انسانوں کو بٹھا کر معاملہ بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔

آخری بات یہ ہے کہ سعودی عرب کو اس منصوبے کی کامیابی کے لیے ’’سی پیک منصوبے‘‘ کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ اگر وہ اپنے منصوبے کو سی پیک کے ساتھ جوڑ دے تو اس کی کامیابی میں انتہائی تیز رفتار اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ پوری دنیا کا آنے والا کل چین و پاکستان کے مضبوط معاشی کوریڈور کے ساتھ منسلک ہے اور سعودی عرب کو اس سے لاتعلق رہنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔