مجبوری و بے بسی اور سیلف ریسپیکٹ کا درس - شاہد مشتاق

گاڑی سگنل پر رکتے ہی ایک مفلوک الحال شخص نے ہاتھ پھیلا دیا۔ انہوں نے بغیر سوچے سمجھے جیب سے کچھ پیسے نکالے اور اس کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ میں نے فوراً اپنی "دانش" جھاڑی "کم از کم تحقیق تو کرلیا کریں، مانگنے والا ضرورت مند ہے بھی کہ نہیں؟"

انہوں نے مسکرا کر میری طرف دیکھااور کہنے لگے"میں بطور اسٹیل فکسر کام کیا کرتاتھا، ایک شخص کی طرف کچھ پیسے رہتے تھے۔ میں سائیکل پر اس سے پیسے وصول کرنے کے لیے گھر سے نکلا۔ میں راستے میں تھا کہ ایک آدمی فٹ پاتھ پر اپنا بچہ لٹائے، راہگیروں سے بچے کے علاج اور ٹیکسی کے لیے بھیک مانگ رہاتھا۔ مگر کوئی مسافر بھی اس پر توجہ دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس پریشان حال شخص نے میرا سائیکل کا ہینڈل مضبوطی سے تھام کر مجھے رکنے پر مجبور کردیا۔ اڑی اڑی رنگت، بکھرے بال، بے نور آنکھیں، پچکے ہوئےگال مجھے پہلی نظر میں ہی وہ کوئی منشیات کا عادی دکھائی دیا۔ مجھے لگا وہ میری سائیکل چھین کر فرار ہونا چاہتاہے۔ اس نے مجھ سے کچھ پیسوں کا مطالبہ کیا کہ وہ اپنا بیٹا ہسپتال لے کر جا نا چاہتا ہے۔ میں نے اسے منع کردیا، وہ مایوس ہوکر دوسروں کی طرف پلٹا، مگر ہر کوئی اسے دھتکار رہاتھا۔ کچھ مولوی صاحبان قسم کے لوگ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کررہے تھے کہ "محنت کرنے والا اللہ کا دوست ہوتاہے" تو کچھ بابو قسم کے لوگ اسے سیلف ریسپیکٹ (self respect)کا لیکچر سنا رہے تھے۔ میں نے اپنا سر جھٹکا، پاؤں پر زور بڑھایا اور آگے نکل گیا۔ دو تین گھنٹوں بعد جب میں اپنے کام سے واپس لوٹا تو اسے اسی جگہ موجود پایا۔ اب وہ اپنے بیٹے کے کفن دفن کے لیے بھیک مانگ رہاتھا(گویا ہماری بے حسی نے ایک باپ کو اپنے بیٹے سے ہمیشہ کے لیے محروم کردیاتھا)۔ بیٹے کی لاش تھامے مجھے وہ پہلے سے زیادہ کمزور دکھائی دیا۔ اچانک مجھے شرمندگی کے شدیدترین احساس نے گھیر لیا۔ مجھے لگا میرا دل قابو سے باہر ہورہا ہے۔ مجھے اپنی سانس رکتی ہوئی اور سر چکرا تا ہوا محسوس ہوا۔ مجھے لگا میں اس شہر کا سب سے برا اور ظالم انسان ہوں۔ اب میں انتہائی نادم تھا۔ میں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا، سارے پیسے نکال کر بچے کی لاش پر پھینکے اور ایک جھٹکے سے سائیکل بڑھا لےگیا۔ میں طوفانی انداز میں سائیکل چلاتا گھر پہنچا۔ کئی دن بخارمیں پھنکتارہا، اب تک ندامت اور تاسف کے گہرے تاثرمیں ہوں۔ آج مجھے لگتا ہے اپنی ساری دولت لٹاکر بھی اگر میں اس معصوم بچے کی زندگی بچا لیتا تو یہ سودا بہت سستا تھا"۔

یہ بھی پڑھیں:   خط غربت سے نیچے دبے لوگ - اصغر عباس

وہ کچھ دیر کو رکے اپنی نم آنکھیں نفیس ٹشو پیپر سے صاف کیں اور بولے

"ہم روز لٹتے ہیں، روز ہمیں بیوقوف بنایا جاتا ہے۔ کبھی ہمیں مذہبی رسومات کے نام پر مولوی لوٹتاہے۔

"کبھی مسیحائی کے زعم میں مبتلا ڈاکٹر ہماری کھال کھینچتے ہیں۔

"کبھی منافع کے نام پر تاجر ہمارا بھرکس نکالتے ہیں۔

"کبھی تحفظ کے نام پر قانون کے رکھوالے بیچ سڑک پر ڈاکے ڈالتے ہیں۔

"عدالتوں میں معزز جج صاحبان تو اسکولوں میں قابل قدراساتذہ کرام ہماری جیبیں ہلکی کرتے ہیں۔

"ٹیکسز اور گیس، پانی، وبجلی کے بلز کی مدمیں حکومت الگ ہمیں لوٹنے کے ہتھکنڈے اپناتی ہے۔

"ہم خوشی غمی کی تقریبات میں صرف دوسروں پر اپنا رعب جمانے کے لیے بے دھڑک لاکھوں خرچ کردیتےہیں اور ان سب ضروریات کے لیے ہمیں یہ مال و دولت سب اللہ دیتا ہے اور اسی اللہ کے نام پر اگر ہم سے کوئی دس بیس روپے یا کسی مدد کا سوال کردے تو ہمیں تاؤ آ جاتا ہے، ناک بھوں چڑھانا شروع کردیتے ہیں۔ ہمیں احادیث کے حوالے یاد آجاتے ہیں۔ یہ حوالے سناتے ہوئے ہمیں یہ کیوں یاد نہیں آتا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خودکئی کئی دن بھوکے رہ کر بھی دوسروں کو کھلانے کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ ہرممکن ہرکسی کی مدد کو ہمیشہ تیار رہتے تھے ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم۔

"اور ہاں اگر کبھی تمہیں اللہ کے نام پر کسی کی مدد کرتے ہوئے، مال کی محبت روکے تو تھوڑی دیر کو کہیں تنہا بیٹھ کر یہ ضرور سوچنا کہ اگر اس ضرورت مند کی جگہ تم ہوتے تو کیسا محسوس کرتے ؟

"اور یہ بھی سوچنا کہ کل کو اگر اللہ تمہیں ایسی حالت سے دوچار نہ کرے تو کیوں نہ کرے؟ آخر تمہارے پاس ایسی کونسی ضمانت ہے کہ کل تم اس جیسی حالت سے دوچار نہیں ہوگے؟"