مرد جو ہے - کامران رفیع

" ارے تری شکل سےہی لگ رہا ہے تو نے ناشتہ نہیں کیا " آفس پہنچتے ہی دوست نے پو چھا

"نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں، بس لیٹ ہو رہا تھا تو جلدی میں چند لقمے لگا لیے۔ میری بیوی تو آوازیں ہی دیتی رہی کہ بیٹھ کر کرلیں۔ تجھے تو پتا ہے لیٹ ہو جاؤں تو سیلری کٹ جاتی ہے "

مرد جو ہے، کیسے بتائے اور کسے بتائے کہ ناشتہ تو دُور کی بات، رات گھر پہنچا تھا تو بیوی نے پانی بھی نہیں پوچھا تھا۔ آنتیں بھوک سے قل ھواللہ ہی پڑھ رہی ہیں اور ابھی تھوڑی دیر میں آفس بوائے کی منتیں کرے گا کہ یار چائے کے ساتھ ایک پیکٹ بسکٹ ہی لا دینا۔


"اقرار صاحب آپ چھٹی کے بعد بھی تھکے تھکے اور بیمار بیمار دِکھ رہے ہیں؟"

" سر شکریہ آپ کا چھٹی دینے کا۔ سوچا تھا کہ تھوڑا آرام کر لوں گا تو طبعیت بہتر ہو جائے گی"

"تو؟"

"بس وہ بیگم کی گاڑی خراب ہو گئی تھی، سارا دن اسی کے کام میں گزر گیا-"

مرد ہے نا، صحت جائے بھاڑ میں۔ بیوی کی گاڑی بیچاری کا کون خیال کرے گا؟ خود تو روزانہ موٹر سا ئیکل پر آتا ہے آفس، مگر بیوی کو تو گاڑی پر ہی جانا ہے۔ صنف نازک جو ٹھہری!


"کیا؟ فاروق کی علیحدگی ہوگئی اپنی بیوی سے، مگر ابھی تو والدین نے اسے الگ کیا تھا اس کی بیوی کی ڈیمانڈ پر!"

اس نے اپنی ماں سے پو چھا

"بس بیٹا عجیب سی کہانی ہے "مردوں کے اس معاشرے" میں کون مانے گا کہ اس کی بیوی اس سے سارے پیسے بھی لے لیتی اور تشدد بھی کرتی اپنی ماں سے مل کر؟ اب تو فاروق بیچارہ ذہنی مریض بن چکا ہے۔"

"مگر فاروق کچھ تو کرتا اس زیادتی پر؟ خاندان والے محلے والے کوئی دوست، کسی کو تو بتاتا"

کیسے بتاتا؟ مرد ہے نا!


یہ واقعات کوئی افسانے نہیں حقیقت ہیں، تاہم اخلاقی ذمہ داری کے طور پر نام تبدیل کیے گئے ہیں ۔ کچھ تو میرا براہ راست مشاہدہ ہیں اور کچھ ایسے کیسز ہیں جو میرے والدین کے پاس سلجھاؤ یا ثالثی کے لیے آتے رہے۔ بہت کچھ ایسا اس معاشرے میں مردوں کے ساتھ ہو رہا ہے جسے ابھی تک قلم بند نہیں کیا گیا اور قلم بند تو کیا زبان پر بھی نہیں لایا گیا ، کیونکہ مرد جو ہے!