وہ عالم دین اور بے باک سیاسی لیڈر - رضوان اللہ پشاوری

لاڑکانہ ایک ایسی جگہ ہے کہ جس نے خوشی کے ساتھ ساتھ بہت سے غم سہے ہیں۔ ان غموں میں جہاں ذوالفقار علی بھٹواور بینظیر بھٹو کا تذکرہ ہوتا ہے، وہیں پر ڈاکٹر خالد محمود سومروؒ کاذکر نہ کرنا زیادتی نہیں تو اور کیا ہے؟ لاڑکانہ کی سرزمین نے سیاست کے کئی شہسواروں کو اپنے دامن میں جگہ دی ہے۔

7مئی 1959ء مولانا علی محمد حقانی کے گھر میں اس شہسوار نے آنکھ کھولی۔ والد نے ان کا نام خالد رکھا،بعد میں علامہ ڈاکٹر خالدمحمود سومرو کے نام سے جانے پہچانے لگے۔ مولانا حقانی ایک جید عالم دین اور معروف سیاسی رہنماء تھے۔ خالد محمود سومرو ستّر کی دہائی شروع ہونے سے ایک سال قبل اپنے گاؤں سے پرائمری پاس کرچکے تھے۔ مزید تعلیم کے لیے شہر کا رخ کیا اور 1984 میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرکے ڈاکٹر بن گئے۔ ڈاکٹرؒ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے فاضل، میڈیکل ڈاکٹریٹ کے ساتھ ساتھ جامعہ الازہر قاہرہ مصر سے بھی ڈگری یافتہ تھے جبکہ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد سے تقابل ادیان اور سندھ جام شوریونیورسٹی سے اسلامک کلچر کی ڈگری بھی حاصل کی تھی۔اس کے بعد آخری دن تک درس وتدریس کے میدان میں مصروف تھے۔

آپ ’’جامعہ اسلامیہ لاڑکانہ‘‘کے بے مثال مدرس تھے مگر عاجزی وانکساری کو دیکھے کہ خود ثانویہ عامہ،ثانویہ خاصہ میں اسباق پڑھایا کرتے تھے اور ساتھ دورہ حدیث کے اسباق بھی ہوا کرتے تھے۔ان سب کے باوجود ڈاکٹرؒ بیک وقت مصنف بھی تھے اور شاعر بھی۔ان کی ادبی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ یوں ان کی تصانیف تو بہت ساری ہیں مگر ایک تصنیف جو کہ ادھوری ہی رہ گئی تھی’’ احکم الحاکمین‘‘ کے کلام پاک کی تفسیر ہے۔ یہ تفسیر حضرت نے سندھی زبان میں لکھی ہے، مقدمہ،سورۃفاتحہ اور سورۃ البقرہ کو ڈاکٹر ؒنے اپنی حیات میں مکمل کردیا تھا جو کہ طبع ہو چکا ہے۔ اس ایڈیشن کی تین ہزرا کاپیاں فی سبیل اللہ تقسیم کی گئی ہیں۔ باقی تفسیر پر ان کے فرزند ارجمند،جانشین سومرو مولانا ارشد سومرو حفظہ اللہ نے کام شروع کیا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کی شخصیت میں دین وشریعت کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔ وہ جہد مسلسل اور عمل پیہم کے نام تھے۔ دن کے اوقات میں اصلاح و تربیت، عقائد وافکار کی درستگی کے لیے شہروں ا ور دیہاتوں کے چکر لگاتے۔ رات کی تنہائیوں میں رب العالمین سے زار و نیاز اور آہ وزار ی کا معمول تھا۔ تزکیہ و تربیت کا خوب اہتما م فرماتے اور اپنی تنظیم کی بنیادی چیزوں میں اس کو بھی شامل کیا۔ نفس کی اصلاح اور تقویٰ سے روح کی آراستگی کی بہت فکر تھی۔ سادگی و تواضع کے حسین پیکر تھے۔ تکلفات سے پاک اور ظاہری شان و شوکت کی تمام اداؤں سے بے نیاز تھے۔ اپنی محنت پر پورا یقین رکھنے والے اور اس کے نتائج خیر سے مطمئن رہنے والے تھے۔ خطیبانہ شان بھی اللہ تعالی نے عطا کی تھی۔ دل کی گہرائیوں سے درد دل پیش کرتے کہ سامعین عموماً تڑپ کر اشکبار بھی ہوجاتے اور کبھی بے قراریوں میں مچلنے لگتے۔ ایمانی فراست، حسن تدبیر،معاملہ فہمی، دقت نظری، اصابت رائے، خوش خلقی، نفس کی پاکیزگی، انسانیت کی ہمدردی، غرض یہ کہ میر کارواں کی تما م تر صفات اللہ تعالیٰ نے آپ میں جمع کر رکھی تھی، اور ایک کامیاب قائد و رہبر ثابت ہوئے۔

ڈاکٹر خالد محمود سومروؒ نے اپنی سیاست کی ابتداء دوران طالبعلمی جمعیت طلبہ اسلام کے پلیٹ فارم سے کی اور اپنی مسلسل محنت و قابلیت کی بنیاد پر مقبولیت کے لحاظ سے جمعیت علماء اسلام کے شہسواروں میں شامل ہوگئے۔ 1988میں پہلی دفعہ جمعیت علماء اسلام سندھ کے جنرل سیکرٹری بنے اور تاحیات اس اہم عہدے پر فائز رہے۔ قائد سندھ شہیدؒ نے تقریباً 31 سال جنرل سیکرٹری کے عہدے کو رونق بخشی۔ وہ مسلسل آٹھ بار صوبائی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے کئی دفعہ جمعیت طلبہ اسلام کی جانب سے صوبہ سندھ کے صدر رہے ہیں۔

فراغت کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنا شروع کیا۔ یہ وہ علاقہ ہے کہ جہاں پر پاکستان پیپلز پارٹی کا دوردوہ تھا۔ حضرت ڈاکٹر صاحب نے بینظیر بھٹوکے خلاف الیکشن لڑا،ڈاکٹر خالد سومرو نے تین مرتبہ پیپلز پارٹی کو اس کی آبائی نشست پر چیلنج کیا۔ 2006 میں جمعیت نے انہیں سینیٹ کا ممبر منتخب کرایا۔ 6سال سنیٹر رہے ہیں،اس کے علاوہ ڈاکٹر ؒ کو3اعزازات بھی حاصل ہوئے ہیں یہ صرف ڈاکٹرؒ کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کا اعزاز ہے کہ انہوں نے وطن عزیز کا نام روشن کیا۔ ان اعزازت میں سے ایک اعزاز 2010 میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں پاکستان کی جانب سے شریک رہے اور شرکت کے ساتھ ساتھ ان کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر خطاب کا اعزاز بھی حاصل رہا۔ دوسری اعزاز ہے کہ W.T.Oکے طور پراقوام متحدہ کے اجلاس میں بھی شرکت کا موقع ملا جبکہ تیسرا اعزاز یہ ہے اقوام متحدہ ہر سال ایک کتاب شائع کرتی ہے جس کا نام’’مسلم دنیا کے پانچ سو بااثر اور مضبوط لیڈر ‘‘ہے، اس میں بھی ڈاکٹرؒ کا نام مذکور ہے۔

حضرت ڈاکٹر ؒ خطابت کے میدان میں کے ایک عظیم،مایہ ناز شہسوار تھے، جو فن خطابت کے ہر طرح کے گُر جانتے تھے۔ تقریباً21ممالک تشریف لے گئے ہیں وہی پر بھی لاتعدادغیر مسلموں کو اپنی خطابت سے مشرف بہ اسلام کیا۔ ان کے بارے میں کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ "جسم نہیں روح کاخطیب تھا، بڑا نہیں بلکہ بہت بڑا ہمدرد تھا، صرف کسی ایک کا نہیں بلکہ ہر ایک کا تھا آواز ان کی سحر انگیز تھی،انداز درد انگیز اور خطاب فکر انگیز تقریر میں ان کا اپنا اک مخصوص سٹائل تھا جو ان کی پہچان بن گیا تھا۔ بلاشبہ وہ ایک جذباتی مقرر تھے، وہ شعلہ بیاں ضرور تھے مگر آتش مزاج بالکل بھی نہیں،ان کا انداز بھی منفرد، آواز بھی منفرد، حیات بھی منفرد، خدمات بھی منفرد، سیاست بھی منفرد، شہادت بھی منفرد، گویا وہ ہر لحاظ سے ایک منفرد انسان تھے لیکن پھر بھی تفردات سے کوسوں دور"

ان کی شعلہ بیانی میں نے خود پہلی مرتبہ اس وقت سُنی جبکہ پشاور میں تقریب دستار بندی کے ایک موقع پر حضرت پشاور تشریف لائے تھے۔ جمعیت علمائے اسلام پشاور دفتر کے سامنے ایک گراؤنڈ میں پنڈال سجھی تھی۔ ایک طرف بارش تو دوسری طرف حضرت کی شعلہ بیانی،حتی کہ بارش غالب آئی،رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ پھر سٹیج سے اعلان ہوا کہ مجمع یہاں سے سامنے جمعیت سیکریٹریٹ میں منتقل ہو جائے، مجمع وہی پر منتقل ہوا۔ وہاں بھی بیان ہوا،قائد محترم نے بخاری شریف کے آخری حدیث کا درس دیا اور یوں ہی یہ ایمان افروز مجلس رات گئے اختتام پذیر ہوئی۔

مجھے 29 نومبر 2014کی وہ صبح آج بھی یاد ہے جب سجدے میں پڑے اس عظیم لیڈر کو گولیوں سے چھلنے کر دیا گیا اور یہ عظیم قائد اسی وقت اپنے خالق حقیقی سے جا ملے، رب کریم شہادت کو قبول و منظور فرمائے۔