مولانا طارق جمیل کا المیہ - اسماعیل احمد

یہ کہانی بہت پرانی ہے، شاید چودہ سو سال پرانی۔ اس کہانی کا پہلا کردا ر حضرت امام حسین ؑ تھے۔ آپ نواسہ رسولؐ اور حضرت علی کے لخت ِ جگر تھے۔ اسلامی خلافت کا دفاع کرنے اور ملوکیت کو آئینہ دکھانے والے اس پیکرِ استقلال کو 10 محرم 61 ہجری کو بھوک و پیاس کے عالم اور لواحقین کی لاشوں کے جھرمٹ میں شہید کر دیا گیا۔ ستم ظریفی یہ کہ مارنے والے آپ کے نانا کے امتی، اسلام کے نام لیوا تھے۔

اس کہانی کا اگلا کردار امام ابو حنیفہ تھے۔ آپ ایک تابعی، مسلمان عالمِ دین،مجتہد، فقیہہ اوراسلامی قانون کی اولین تدوین کرنے والوں میں شامل تھے۔ آپ کے اجتہادی مسائل تقریباً بارہ سو سال سے تمام اسلامی ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس لیے بڑی بڑی عظیم اسلامی سلطنتوں میں آپ ہی کے مسائل، قانون سلطنت تھے اور آج بھی اسلامی دنیا کا بیشتر حصہ آپ ہی کے فقہی مذہب کا پیرو کار ہے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے حضرت امام ابو حنیفہ کو ملک کے قاضی ہونے کا مشورہ دیا لیکن آپ نے معذرت چاہی تو وہ اپنے مشورہ پر اصرار کرنے لگا چنانچہ آپ نے صراحتاً انکار کر دیا اور قسم کھالی کہ وہ یہ عہدہ قبول نہیں کر سکتے۔ جس کی وجہ سے 146 ہجری میں آپ کو قید کر دیا گیا۔ امام ابو حنیفہ کی علمی شہرت کی وجہ سے قید خانہ میں بھی تعلیمی سلسلہ جاری رہا اور امام محمد جیسے محدث و فقیہ نے جیل میں ہی امام ابو حنیفہ سے تعلیم حاصل کی۔ امام ابو حنیفہ کی مقبولیت سے خوفزدہ خلیفہ وقت نے امام ابو حنیفہ کو زہر دلوا دیا۔ جب امام ابو حنیفہ کو زہر کا اثر محسوس ہوا تو سجدہ کیا اور اسی حالت میں وفات پا گئے۔

اس سلسلے کی اگلی کڑی امام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ الله عليه اسلام کے ان مایہ ناز فرزندوں میں سے ہیں جن کا نام نامی اسلام اور قرآن کے ساتھ ساتھ دنیا میں زندہ رہے گا۔ احادیث رسول صلی الله عليه وسلم کی جانچ پڑتال، پھر ان کی جمع و ترتیب پر آپ کی مساعی جمیلہ کو آنے والی تمام مسلمان نسلیں خراج تحسین پیش کرتی رہیں گی۔ شومئی قسمت آپ کی عمر کے آخری ایام میں حاکم بخاراخالد بن ذہلی آپ سے محض اس بنا پر کہ آپ نے درس حدیث کے لیے شاہی دربار میں جانے اور اس کے صاحبزادوں کے لیے وقت مخصوص کرنے سے انکار فرما دیا تھا، مخالفت پر آمادہ ہو گیا اور چاہتا تھا کہ کسی بہانہ سے سیدنا امام کو شہر بخارا سے نکال دیا جائے۔ جس میں وہ اس زمانہ کے"علما"کے تعاون سے کامیاب ہو گیا۔ انہوں نے سیدنا امام پر عقائد کے بارے میں الزام لگایا اور پھر حفظ امن کے بہانے سے سیدنا امام کو بخارا سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ اسی غریب الوطنی کے عالم میں سمر قند کے ایک مضافاتی گاوں خرتنک میں آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا۔

یہ ان علما کی کہانی ہے جو ہمارے لیے روشنی کے مینار ہیں مگر جو دورانِ زندگی طعن و تشنیع، قید و بند کی صعوبتوں کا نشانہ بنے رہے۔ مسلمانوں کے ہاں غیر روایتی کام کرنے کی ہمیشہ سے ممانعت رہی۔ اس لیے اسلام کی تبلیغ اور ترویج کے سلسلہ میں جس بزرگ نےاپنے پیش رووں سے ہٹ کر کچھ کرنے کی کوشش کی، معتوب ٹھہرا، یہ کہانی اپنے کرداروں کے ساتھ پیش آنے والے دردناک ردِعمل کی صورت آج بھی جاری و ساری ہے۔ ماضی قریب میں اس کا نشانہ مولانا مودودی، مولانا شاہ احمد رضا خان، مولانا امین احسن اصلاحی بنے تھے۔ آج کل اس کا نشانہ مولانا طارق جمیل، جاوید احمد غامدی اور بھارت سے ڈاکٹر ذاکر نائیک ہیں۔ اس بار بھی انگلیاں غیروں کی بجائے اپنے ہی اٹھا رہے ہیں۔

مولانا طارق جمیل نے اپنے شاندار قوت بیان سے جس طرح جدید ذہنوں میں اسلامی فکر کو سمویا یقیناً یہ ایک ایسا "گناہِ عظیم" ہے جس کی پاداش میں انہیں اپنے قبیلے کی جانب سے بھی موردِ الزام ٹھہرایا جائے۔ ایک دینی عالم نے یوٹیوب پر موجودویڈیو میں مولانا طارق جمیل پر یوں تنقید کی کہ طارق جمیل کی تقریر کیا ہے؟ وہ غاروں میں رویا، یاروں میں رویا، مزاروں میں رویا۔ الامان الحفیظ!

حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایااللہ کی قسم اگر تم اس چیز کو جان لو جس کو میں جانتا ہوں تو یقیناً تم بہت کم ہنسو اور زیادہ رونے لگو اور بستروں پر اپنی عورتوں سے لذت حاصل کرنا چھوڑ دو اور یقیناً تم اللہ سے نالہ وفریاد کرتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل جاؤ جیسا کہ رنج اٹھانے والوں اور غموں سے تنگ آ جانے والوں کا شیوہ ہوتا ہے کہ وہ گھروں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں اور صحرا صحرا جنگل جنگل گھومتے پھرتے ہیں تاکہ زمین کا بوجھ کم ہو اور دل کچھ ٹھکانے لگے۔ حضرت ابوذر نے یہ حدیث بیان کر کے ارادہ حسرت ودردناکی کہا کہ کاش میں درخت ہوتا جس کو کاٹا جاتا۔(احمد، ترمذی، ابن ماجہ)

مولانا طارق جمیل وینا ملک، عامر خان، ذاکر نائیک، طاہر القادری، اہل تشیع اور نواز شریف ان سب سے اپنی ملاقاتوں کے حوالے سے بھی خاصے "بدنام" ہوئے ہیں۔ لیکن اسلام کے عظیم علما کے المیہ افسانے کے دردناک انجام کے لیے ضروری ہے کہ مولانا طارق جمیل کے ساتھ ایسا ہی "سلوک" کیا جائے۔ احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا نا

عمر بھر طعنہ زنی کرتے رہے اہلِ وطن

یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */