آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا - امجد طفیل بھٹی

کہنے کو تو یہ ایک شعر کا مصرع ہے لیکن پاکستان کے حالات کا مکمل احاطہ کرتا ہے۔ پاکستان میں ہر روز کوئی نہ کوئی نئی تبدیلی رونما ہوتی ہے اور ہمیشہ کچھ نہ کچھ ایسا ہوتا ہے جس کے بارے میں عام عوام نے سوچا تک نہیں ہوتا۔ اب سب سے پہلے ایم کیو ایم کے عروج و زوال کی بات ہی کر لیتے ہیں جس کے اندر اس قدر ردو بدل ہوئی کہ سمجھ سے بالاتر ہے/ قائد کا آؤٹ ہونا، ایم کیو ایم پاکستان کا بننا، پاک سرزمین پارٹی کا بننا اور اب فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کا ایک دوسرے کو دوبارہ سے “ بھائی “ بنانا، اور تو اور سب سے بڑھ کر پرویز مشرف کی ممکنہ انٹری یہ سب بدلتے سیاسی تناظر کی تازہ مثالیں ہیں۔ لیکن کہتے ہیں سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا، ایک ایک لمحہ حالات کی تبدیلی کے سلسلے میں انتہائی اہم ثابت ہوتا ہے۔ ذرا فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کے یک روزہ اتحاد، پھر فاروق ستار کی سیاست سے علیحدگی اور پھر لوگوں کے “ پُرزور اصرار “ پر واپسی کو “ بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے ؟“ نہ کہیں تو اور کیا کہیں؟

اگر باقی سیاسی پارٹیوں کی بات کی جائے تو ن لیگ کی کشتی میں بھی چھید نظر آنے لگے ہیں اور جونہی اگلے انتخابات کے دن قریب آتے جائیں گے ن لیگ کی مشکلات میں اضافہ نظر آ رہا ہے، جبکہ پیپلز پارٹی تو پہلے ہی کافی حد تک سُکڑ چکی ہے اور ابھی نہ جانے کتنی اور سُکڑے گی؟ ان سب پارٹیوں کے مقابلے میں تحریکِ انصاف کی پانچوں گھی میں ہیں کیونکہ تمام پارٹیوں کے ناراض اراکین کے لیے یہ بہترین پناہ گاہ بن کے سامنے آئی ہے۔

پھر بھی الیکشن کے دنوں میں نہ جانے کیا ہوتا ہے، کسے خبر ؟ آجکل تو عام عوام تحریکِ انصاف کو ہی فیورٹ قرار دے رہی ہے اور اس کی وجہ صرف ایک ہی ہے کہ اب عوام کو باقی بڑی سیاسی پارٹیوں جیسا کہ ن لیگ، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، جمعیت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی کی اچھی طرح سمجھ آنے لگی ہے کہ یہ لوگ کیسے اقتدار لینے کے ماہر ہیں۔ کبھی سندھ کارڈ، کبھی پنجابی، پٹھان اور بلوچ کے نام پہ عام عوام کو بے وقوف بنایا گیا تو کبھی مذہب کے نام پر سیاست کی گئی۔ کچھ دن سے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری صاحب اور چیئرمین بلاول بھٹو کے چال چلن بھی بدلے بدلے لگ رہے ہیں، کبھی وہ ن لیگ سے ہاتھ تک نہ ملانے کی بات کرتے ہیں تو کبھی کرپشن کے خلاف لیکچر دے رہے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   حُسنِ تعبیر - مفتی منیب الرحمٰن

اس وقت پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر ایک طرف تو کافی ہلچل ہے تو دوسری طرف ایک پراسرار خاموشی بھی ہے۔ ہلچل تو سبھی لوگوں کو نظر آ رہی ہے کہ آئے روز عدالتوں کے فیصلے، خبریں، جواب در جواب، اور پیشیاں، وغیرہ تو چل ہی رہی ہیں مگر ایک گہرا سناٹا بھی چھایا ہوا ہے کیونکہ کچھ سیاسی لیڈر اس قدر خاموش ہیں کہ ان کا پتہ بھی نہیں چل رہا کہ وہ کس پارٹی کی طرف سے سیاست کر رہے ہیں۔ جبکہ کچھ سیاستدان تھوڑا بہت اپنی ناراضگی کا اظہاد وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں اور یہی سیاستدان اپنی لیڈرشپ کے لیے نقصان دہ نہیں ہیں جبکہ “ خاموش “ سیاستدان اپنی اپنی پارٹیوں کے لیے خطرہ بنتے جارہے ہیں اور کبھی بھی کسی بھی وقت “ داغِ مفارقت “ دے سکتے ہیں۔ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ جونہی الیکشن کے دن نزدیک آتے جاتے ہیں تمام سیاستدانوں کے تیور بدلے بدلے نظر آنے لگتے ہیں مثلاً وہ عوام الناس کی باتیں کرنے لگتے ہیں، وہ اصولی سیاست کی بات کرتے ہیں، وہ نظریاتی نظریاتی لگنے لگتے ہیں، اور وہ اپنی وفاداریوں کی مثالیں پیش کرنے لگتے ہیں۔

اب جوڑ توڑ کی سیاست اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور ہر پارٹی نے دوسری پارٹیوں کے ناراض اراکین سے روابط بڑھانے شروع کر دیے ہیں اور اپنی پارٹی کے اہم ممبران کو اسپیشل ٹاسک دے دیے گئے ہیں کہ اپنے چاروں جانب نظر رکھیں۔ کسی بھی پارٹی سے منحرف رُکن کو سب سے پہلے گھیرنے کی تدابیر کرنی ہیں اور اسے اپنے ساتھ ملانے کی ہر ممکن کوشش کرنی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ پرانے اور گھِسے پِٹے چہرے بھی اپنی سیاست کو زندہ کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں اور مسلسل “ ہلچل “ مچانے والی باتیں کرتے پھِر رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال جاوید ہاشمی ہیں جو کہ کبھی تو ن لیگ کے حق میں بیان دیتے ہیں تو کبھی مخالفت میں، اور تو اور اب تو ملک میں ایک اور مارشل لاء کی پیشن گوئی بھی کر ڈالی ہے۔ لیکن شاید ایسے لوگ عوامی لیڈر ہونے کے باوجود بھی عوام کام مزاج نہیں سمجھ سکے؟ ؟ کیونکہ عوام اب ان کی باتوں کو سنجیدہ ہی نہیں لیتے۔

یہ بھی پڑھیں:   اندر کی خبر - یاسر الیاس

جیسا کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرنے والی ہے اور نئے الیکشن کی بھی چند مہینوں میں متوقع آمد ہے تو سارے کے سارے سیاستدان (چاہے وہ اپوزیشن کے ہوں یا گورنمنٹ کے) سب ہی عوامی رابطہ مہم کے لیے نکل کھڑے ہوئے ہیں اور تحریکِ انصاف اس معاملے میں سب پر بازی لے گئی ہے جن کا تقریباً ہر دوسرے روز کہیں نہ کہیں عوامی اجتماع ہوتا ہے اور حکومت کی ناقص پالیسیوں اور کارگردگی کو عوام کے سامنے لانے کی کوشش جاری ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی بھی اپنے ووٹروں کو یہ باور کرانے کی کوشش میں مصروف ہیں انہوں نے موجودہ حکومت سے بہتر کیے تھے اور وہ بھی موجودہ حکومت کی کمزوریوں کو کافی اچھال رہے ہیں۔ جب کہ دوسری جانب مسلم لیگ ن فی الحال اپنے آپ کو عدالتی کاروائیوں سے نکالنے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔

یہ تو ابھی تبدیلی کی شروعات ہیں، یہاں تو الیکشن کے دن تک وفاداریاں بدلتی ہیں اور خوب جوڑ توڑ چلتا ہے، کبھی پیسے کا زور چلتا ہے تو ذات پات اور برادری ازم کی جیت ہوتی ہے۔ نِت نئی نئی کہانیاں اور تبصرے میڈیا پر گردش کر رہے ہیں، ہر تجزیہ کار اور ہر تبصرہ نگار اپنے اپنے اندازے کے مطابق پارٹیوں کی اور شخصیات کی طاقت کو ماپ رہا ہے۔ اور اس نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کی جارہی ہے آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے۔

Comments

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں