کیا اسٹیبلشمنٹ ملک کی دشمن ہے؟ - صابر بخاری

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سے بڑی غلطیاں ہوئیں، اسی نے ملکی سیاست کا ستیاناس کیا۔ ماضی پر بھی نظر دوڑائیں توبنتے بگڑتے اتحاد اور بریک اپس کا مہرہ اسٹیبلشمنٹ ہی رہی ہے۔ یہ اسی کے کارنامے ہیں کہ نواز شریف، آصف زرداری اور الطاف حسین جیسے لوگوں کو سیاست میں ڈالا گیا اورعاقبت نا اندیشی سے ان جغادریوں کو اس قدر چھوٹ دی گئی کہ وہ ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن بیٹھے۔ جب طاقت کے تمام مہرے جیب میں ہوں اور بظاہر پوچھ گچھ کا دور دور تک کوئی امکان بھی نہ ہو توپھر ایسے لوگ ایسے ہی گل کھلاتے ہیں، ان کا آوے کا آوا ہی سیاست میں آگھستا ہے اور انہیں وزارتوں اور دوسرے عہدوں سے مستفید کیا جاتا ہے۔ ملکی خزانے کی یہ ایسی ”رکھوالی“کرتے کہ رائیونڈ محل اور سرے محل تیار ہوجاتے ہیں۔ 'ہینگ لگے نہ پھٹکری'اور ان کے اثاثے بن جاتے ہیں اور کوئی ان کا حساب مانگے تو جواب ندارد۔ پھر جب ملکی خزانے لوٹنے، ملک وقوم کے ساتھ بددیانتی پر انہیں نکالا جائے توہمیں ”کیوں نکالا “ کا ورد کرنے لگتے ہیں۔ دیکھا جائے تو ملک کے ان” رکھوالوں“ کو سیاست میں لانے کا سہرا بھی اسٹیبلشمنٹ کے سر جاتا ہے۔ اشرافیہ کو پنجے گاڑنے کا ہنر بھی اسٹیبلشمنٹ نے سکھایا اور انہیں این آر او جیسا کھلونا بھی اسی نے دیا۔ ممکن ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے یہ اُمور نیک نیتی اور ملکی بہتری کے لیے انجام دیے ہوں، مگر اس سے حقیقتاً ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔

حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے اور وقت کا دھارا پوری آب وتاب کے ساتھ رواں رہتا ہے۔ موجودہ حالات وواقعات کی یہ آشفتہ سری گزشتہ ایک عشرہ سے دیکھنے کو مل رہی ہے اس سے بخوبی اس بیانیے کو تقویت ملتی ہے کہ شاید بالآخر اسٹیبلشمنٹ کو ملک وقوم پر رحم آہی گیا ہے اور اب وہ اپنی غلطیاں سدھارنے کے موڈ میں ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں وقوع پذیر ہونے والے معاملات اس کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ ان بد ساعتوں کو میں بھلاکیسے فراموش کرسکتا ہوں جب دہشت گرد ہمارے گلی محلوں میں خون کی ہولی کھیل رہے تھے اور ہمارے سیاستدان اورحکمران اپنے گھروں میں لمبی تان کے سوتے تھے؟ یہ لوگ دہشت گردوں کے خلاف ایک بیان دینے سے بھی کتراتے، خوف کے پسینے سے نہا جاتے(صرف ایک وزیرشجاع خانزادہ شہید نے حقیقی معنوں میں دہشت گردوں کوللکارا)، تب یہ اسٹیبلشمنٹ ہی تھی جس نے بہادری سے اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایسے جھٹکے لگائے کہ یا تو وہ انجام کو پہنچ گئے یاسرحد پاراپنے آقاؤں کی گود میں جا بیٹھے۔

الحمدللہ! آج ملک سے دہشت گردی کا عفریت قصہ پارینہ بننے والا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ یہ جان چکی ہے کہ قوم و ملک کی بقاءکے لیے کرپشن اور کرپٹ عناصر کا خاتمہ ضروری ہے۔ یہ سوچ اب جڑ پکڑ رہی ہے کہ قوم، فوج اور دوسرے سکیورٹی ادارے تو اس دھرتی کے لیے قیمتی جانوں کا نذرانے دیں اور سیاستدان یہاں سے تجوریاں بھر کر باہر لے جائیں، اثاثے بنائیں، ملک کو دیمک کی طرح چاٹ کھائیں، مشکل وقت میں ملک سے بھاگ جائیں اور بیرون ملک عیاشیاں کریں، اب مستقبل شاید سیاستدانوں کو کھل کھیلنے نہیں دے گا۔ یہ اب کسی کو منظور نہیں کہ ملکی قرضے بڑھتے رہیں اور غریب کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل سے مشکل تر ہوتا جائے، اس ڈگر کا خاتمہ اب ضروری ہوچکاہے اور نہ اس کو اب برداشت کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   اقامتِ دین کے لیے احتجاجی مطالباتی تحریک کا راستہ - وقاص احمد

شریف خاندان نے ملک کو ایسے لوٹا الامان الحفیظ! اب جبکہ ان کاکچا چٹھاسامنے آہی چکا اور میاں صاحب اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں، قوی امید ہے کہ اب ملک میں کرپشن کے خلاف بند باندھا جا رہا ہے اور باقی کرپٹ عناصر کے گرد بھی گھیرا تنگ ہونے جا رہا ہے۔ اگر ملک کو واقعی کرپٹ عناصر سے پاک کرنے کا منصوبہ ہے تو پھر قومی حکومت بنانے میں بھی مضائقہ نہیں سمجھا جانا چاہیے اور پوری قوم اس بیانیے پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑی نظر آرہی ہے۔ شرط یہی کہ صاف شفاف اور بے رحم احتساب کیا جائے۔

یہ ہماری اسٹیبلشمنٹ ہی ہے جو بھارت، اسرائیل افغانستان اور امریکہ کی پراکسی وار کو کاؤنٹر کررہی ہے اور ان ممالک کے اتحاد کو ناکوں چنے چبوا دیے ہیں۔ دوسری طرف جمہوری حکمرانوں کا حال یہ کہ اپنے گھروں میں بلا کر بھارتی حکمرانوں کو پروٹوکول دیتے رہے۔ یہ اسٹیبلشمنٹ ہی تھی جس نے امریکہ سے کہا" بس بھئی بس زیادہ بات نہیں صاحب! اب آپ ڈومور کریں۔ " یہ بھی اسٹیبلشمنٹ ہی ہے جس نے خطے میں پیراڈائم شفٹ کرتے ہوئے روس اور چین سے تعلقات کو فروغ دیا اور امریکہ پر انحصار کم کیا اور تو اور ہمارے حکمران جس سی پیک کا کریڈٹ لیتے نہیں تھکتے یہ بھی اسٹیبلشمنٹ کی بدولت پایہ تکمیل کو پہنچ رہا ہے۔

وہ وقت بھی یاد کر لینا چاہیے جب کراچی کے حالات اس قدر خراب ہو چکے تھے کہ روزانہ درجنوں لاشیں اٹھا اٹھا کر شہریوں کے حوصلے جواب دے چکے تھے، اکثر ان میں سے شہر سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے تھے اور حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔ تب اسٹیبلشمنٹ ہی تھی جس نے معاملات اپنے ہاتھ میں لیے اور شہر کی صورتحال کو بہتر کیا۔ الطاف حسین جس کے خلاف بات کرتے آزاد میڈیا کی زبانیں گنگ ہو جاتی تھیں، نہ اس کے کے خلاف کوئی لکھتا تھا، نہ چھاپتا تھا، نہ نشر کرتا تھا۔ اگر بھولے سے کوئی خبر شائع یا نشر بھی ہوجاتی تو وہ میڈیا دفاتر پر حملہ آور ہو جاتے۔ حکومت اس کے سامنے بے بس ہوجاتی تھی۔ آج وہی کراچی ہے جہاں الطاف حسین کا نام و نشان نہیں۔ کیا یہ سب امن و امان کسی جمہوری حکمران کا مرہون منت ہے ؟

یہ بھی پڑھیں:   آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا - امجد طفیل بھٹی

آج کی اسٹیبلشمنٹ ماضی جیسی نہیں، اس کی اپنی پالیسیاں ہیں جن کا مقصد صرف قومی مفاد ہی ہے، ہاں اگر کسی کی آنکھوں پر لالچ اورمفاد پرستی پٹی بندھی ہوتو پھر اسے اندھیرا ہی نظر آئے گا۔ فرض کریں اسٹیبلشمنٹ نے پاک سرزمین پارٹی بنائی یا فاروق ستار کو سپورٹ کیا تو کیا برا کیا ؟کیا یہ وقت کا تقاضا نہیں تھا ؟مسائل ومعاملات پر قابو پانے کے لیے عوامی سپورٹ کی بھی ضرورت ہوتی ہے، سب کام ”ڈنڈے“ سے نہیں کیے جاتے۔ کراچی کے حالات کا تقاضا یہی ہے جو آج کیا جا رہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی کامیاب پالیسیوں کی بدولت ہی آج کراچی میں رونقیں بحال ہو رہی ہیں۔ اس کامیابی پرکریڈٹ دینے کی بجائے ہر کوئی اسے ہدف تنقید بنا رہا ہے۔ پی ایس پی اور ایم کیو ایم پاکستان کا الحاق ملک و قوم خاص طور پر کراچی کے مفاد میں تھا اورہے اس پر تنقید بلاجواز ہے۔ صرف پاکستان ہی کیا پوری دنیا میں اسٹیبلشمنٹ کا اپنا ایک کردار ہوتا ہے، حکمران چلے جاتے ہیں، اسٹیبلشمنٹ نے ہی پالیسی کے تسلسل کو برقرار رکھنا اور ملکی مفاد میں اس میں تبدیلی بھی لانا ہوتی ہے۔ ملک کی بہتری کے لیے ان کی کمٹمنٹ ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستانی سیاستدانوں اور حکمرانوں کی لوٹ مار کرنے کی بے رحم خواہش کے آگے بھی اسٹیبلشمنٹ ہی حائل رہی ہے، اس لیے تو پانامہ میں پکڑے جانے والے سیاستدان اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

راقم پوری غیر جانبداری سے یہ عرض کرنا چاہتا ہے کہ ملکی تاریخ میں یہ غالباً پہلا موقع ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سیاسی اور جمہوری تسلسل کے لیے سرگرم عمل ہے۔ وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو اسٹیبلشمنٹ کے خوشحال اور کرپشن سے پاک ملک کا بیانیہ ہی ہماری بھلائی ہے۔ یہ وقت اسٹیبلشمنٹ کو ہدف تنقید کا نشانہ بنانے کا نہیں۔ اشرافیہ ضرور اس کی راہ میں روڑے اٹکائے گا لیکن یہ عام پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن و امان کے قیام اور ملک کو کرپٹ عناصر سے پاک کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ غیرملکی سطح پر بھارت، اسرائیل، افغانستان، امریکہ اور ملکی سطح پرنواز شریف، الطاف حسین، آصف زرداری، فضل الرحمان، محمود اچکزئی وغیرہ پاکستان کو فائدہ پہنچانے والی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں تو یہ آپ کا حق کہ آپ اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کے نشتر برسائیں لیکن اگر انہی عناصر کی وجہ سے ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے تو پھر اسٹیبلشمنٹ کے بیانیے کو سپورٹ کرنے میں ہمیں کونسا امر مانع ہے۔