[نظم کہانی] کس قیامت کی یہ فرمائش - محمد عثمان جامعی

دستک پر دروازہ کھولا

سامنے تھا اک زرد سا چہرہ

عورت، جسم کے نام پہ ڈھانچا

بولی، ”صاحب! تم شاعر ہو

لفظوں کے تم جادوگر ہو

جادو بھرے میٹھے لفظوں کی

میرے لیے اک لکھ دو لوری

نیند جو لادے، بھوک مٹادے

میرے بھوکے بچے سُلا دے“