اللہ کیسا ہے؟ - پروفیسر جمیل چودھری

وحدانیت دین اسلام کا بنیادی اور پہلا عقیدہ ہے۔ بات شروع ہی لاالہ الا اللہ سے ہوتی ہے۔ اسی تصور کو دنیا میں پھیلانے اور لوگوں کے دلوں میں بٹھانے کے لیے پیغمبروں اور انبیاء کو دنیا میں بھیجا گیا۔ تورات، زبور، انجیل اور قرآن کی پہلی اور بنیادی تعلیم یہی تھی۔ جونہی کسی نبی کے بعد کچھ عرصہ گزرتا، انسان اپنے اردگرد نظر آنے والی اشیاء سے لولگا لیتا، اسی سے امیدیں وابستہ کرلیتا اور اسی سے حاجات طلب کرنے لگ جاتا۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسانوں کے بنائے ہوئے خداؤں سے دنیا بھری پڑی ہے۔ تعداد بعض علاقوں میں لاکھوں تک پہنچ جاتی ہے۔ بے چارہ انسان اپنی کم عقلی کی وجہ سے اپنی ہر خواہش کے لیے علیحدہ خدا تخلیق کرتا رہا۔ نظر آنے والی اشیاء سے لے کر غائب اشیاء تک کو خدا کی شکل دی جاتی رہی۔ مختلف موسموں کا خدا بھی علیحدہ علیحدہ رہا ہے۔ نیکی اور برائی کے خدا بھی مختلف تھے۔

دور جدید میں اس پر بہت کچھ لکھا گیا۔ "خد اکی تاریخ"کیرن آرمسٹرانگ کی کتاب بھی کافی معروف ہوئی۔ عکسی مفتی کی"تلاش:اللہ ماورا کا تعین" کو بھی لوگ کافی پڑھتے رہتے ہیں۔ لیکن اللہ واحدہ کا جو تصور عبقری اسلام ابو حامد غزالی نے اپنے الفاظ سے سمجھایا ہے، وہ بات ہی مختلف ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کائنات کا مالک اللہ ہر پہلو سے واضح ہوگیا ہے۔ ہئیت کا کوئی پہلو اوجھل نہیں رہا۔

آئیں توحید کے تصور کی وضاحت کے لیے ہم انہی کے الفاظ کا سہارالیتے ہیں۔ "وحدانیت کے معنی ہیں کہ اللہ اپنی ذات میں اکیلا ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں، یکتا ہے کوئی اس جیسا نہیں، بے نیاز ہے۔ کوئی اس کا حریف نہیں، نرالا ہے کوئی اس کی نظیر نہیں، ایک ہے، قدیم اور ازلی ہے، کوئی اس کی ابتداء نہیں، ہمیشہ رہنے والا ہے کوئی اس کی انتہا نہیں، قیوم ہے، اس کا انقطاع نہیں، دائم ہے جس کو کوئی فناء نہیں، عظمت اور جلال کے اوصاف سے متصف ہے، اور متصف رہے گا، زمانوں کے گزرنے اور ماہ وسال کے ختم ہونے سے کبھی وہ ختم نہیں ہوگا، وہی اول ہے وہی آخر ہے، وہی ظاہر وہی باطن ہے۔ اللہ تعالیٰ نہ صورت والا جسم رکھتا ہے نہ وہ محدود ذی مقدار جوہر ہے، نہ وہ عرض ہے نہ اس میں کوئی عرض محلول کئے ہوئے ہیں۔ نہ وہ کسی موجود کے مشابہ ہے اور نہ کوئی موجود اس کے مشابہ ہے، نہ وہ کسی جیسا ہے اور نہ کوئی اس جیسا ہے، نہ وہ کسی مقدار میں محدود ہے نہ جہتیں اسے گھیرے ہوئے ہیں۔ نہ آسمان وزمین اس کو محیط ہے، وہ عرش پر اس طرح ہے جس طرح اس نے کہا یا جس طرح اس نے ارادہ کیا، یعنی وہ عرش کو چھونے اس پر جمنے یا اس میں حلول کرنے سے پاک ہے۔ عرش اس کو نہیں اٹھاتا بلکہ عرش اور حاملین عرش سب کو اس کی قدرت نے اٹھا رکھا ہے۔ اور سب کے سب اس کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ وہ آسمان سے زمین سے ہرچیز سے اوپر ہے، اس کی فوقیت اس کی طرح کی ہے کہ وہ نہ عرش اور آسمان کے قریب ہے اور زمین سے دور بلکہ وہ عرش اور آسمان سے بلند ترہے، اسی طرح وہ زمین سے بلند تر ہے لیکن اس کے باوجود وہ ہرموجودچیز سے قریب ہے، اور بندہ کی شہ رگ سے بھی قریب ترہے، موجود کے پاس اس کی قربت اجسام کی قربت سے مشابہ نہیں ہے۔ جس طرح کے اس کی ذات اجسام کی ذات سے مشابہ نہیں، نہ وہ کسی چیز میں حلول کرتا ہے نہ کوئی چیز اس میں حلول کرتی ہے، وہ اس سے بلند تر ہے کہ کوئی مکان اس کا محیط ہو، اسی طرح وہ اس سے پاک ہے کہ کوئی اس کا احاطہ کرسکے، وہ زمان ومکان کی تخلیق سے پہلے موجود تھا۔ اور اب بھی ایسا ہی ہے، جیسا پہلے تھا، وہ اپنی صفات میں مخلوق سے جدا ہے، نہ اس کی ذات میں اس کے سوا کوئی دوسرا ہے، اور نہ کسی دوسرے میں اسکی ذات ہے، وہ تبدیلی وتغیر سے پاک ہے، نہ حوادث اس پر نازل ہوتے ہیں۔ اور نہ عوارض طاری ہوتے ہیں، بلکہ ہمیشہ ہمیشہ وہ زوال و فنا سے پاک رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   عقل کی فضیلت و اہمیت امام غزالیؒ کی نظر میں - پروفیسر جمیل چودھری

اپنی صفات کمال میں اس کو کسی اضافے کی ضرورت نہیں جس سے اسکا کمال پورا ہو اس کا وجود عقلوں کے ذریعے معلوم ہے، جنت میں نیک لوگوں پر اس کا انعام ہوگا۔ کہ وہ انہیں اپنے دیدار کے شرف سے نوازے گا، اللہ تعالیٰ زندہ ہے، قادر ہے، جباروقہار ہے، نہ اس پر عجز طاری ہوتا ہے۔ اور نہ اس سے کوتاہی واقع ہوتی ہے۔ نہ اسے نیند آتی ہے اور نہ اونگھ نہ اس کے لیے فناء ہے اورنہ اسے موت واقع ہوتی ہے۔ وہ ملک اور ملکوت والا ہے۔ (فرشتے اور فرشتوں کاعالم) وہ صاحب عزت وجبروت ہے، اسی کے لیے سلطنت، اقتدار، خلق اور امر ہیں، آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہیں۔ اور تمام مخلوقات اس کی مٹھی میں ہیں، تخلیق میں وہ منفرد ہے، ایجاد وابداع میں اس کا کوئی ثانی نہیں، اس نے مخلوق کو پیدا کیا، ان کے اعمال کی تخلیق کی، ان کے رزق متعین کئے، اور موت کاوقت مقرر فرمایا، کوئی چیز اس کے دست قدرت سے باہر نہیں، نہ اس کی قدرت کے تغیرات باہر ہیں، نہ اس کی زیر قدرت چیزوں کا شمار ممکن ہے، اور نہ اس کی معلومات کی انتہا معلوم ہے، اللہ تمام معلومات کا علم رکھتا ہے، زمین کی تہوں سے لیکر آسمان کے اوپر تک جو کچھ ہے اس کا علم سب کو محیط ہے، آسمان وزمین میں کوئی زرہ بھی اس کے دائرہ علم سے باہر نہیں، بلکہ وہ سیاہ رات میں سخت پتھر پر رینگنے والی سیاہ چیونٹی کے رینگنے اور ہوا کے درمیان زرہ کے اڑنے کا بھی علم رکھتا ہے۔ ہرپوشیدہ اور ظاہر بات اس کے علم میں ہے، دلوں کے خیالات اور باطن کے مخفی اسرار جانتا ہے۔ اس کا علم قدیم ہے، ازلی ہے۔ وہ ہمیشہ سے اس علم کے ساتھ متصف رہا ہے۔ ایسا نہیں کہ یہ علم اس کی ذات میں حلول وانتقال سے نیا پیدا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق اپنے ارادہ سے کی ہے۔ اور تمام پیدا شدہ چیزوں کا انتظام وہی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عقل کی فضیلت و اہمیت امام غزالیؒ کی نظر میں - پروفیسر جمیل چودھری

ملک اور ملکوت میں جوکچھ ہے، تھوڑا ہے یا بہت چھوٹا ہے یا بڑا۔ خیر ہے یاشر، نفع ہے یا نقصان، ایمان ہے یا کفر، معرفت ہے یاجہالت، کامیابی ہے یا محرومی، طاعت ہے یا معصیت، سب اسی کے حکم، تقدیر، حکمت اور خواہش سے ہیں، اس نے جس چیز کو چاہا وہ ہوتی اور جس کونہ چاہا وہ نہ ہوئی، پلک جھپکنا، دل میں کسی خیال کا پیدا ہونا اس کی خواہش سے باہر نہیں، بلکہ وہی شروع کرنے والا وہی لوٹا نے والاہے، جوچاہتا ہے وہ کرتا ہے، کوئی اس کا حکم ردکرنے والا نہیں، اورنہ کوئی اس کے فیصلے کو منسوخ کرنے والا ہے، گناہوں سے بچنا اس کی مدد اور توفیق کے بغیر ممکن نہیں، اور نہ اسکی اطاعت اس کی خواہش اور اس کے ارادے کے بغیر ممکن ہے، اگردنیا بھر کے لوگ، جن، فرشتے، اور شیطان متفقہ طورپر کسی زرہ کو حرکت دینا چاہیں تو یہ خارج ازامکان ہے۔ اس کا ارادہ اس کی تمام دوسری صفتوں کے ساتھ اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے اور وہ ہمیشہ سے ان اوصاف کے ساتھ متصف رہا ہے۔ اور ہمیشہ رہے گا۔ اس نے ازل ہی میں اشیاء کے وجود کا ارادہ کیا اور ان کا وقت مقرر فرمایا۔ چنانچہ اس کے ارادے کے مطابق اپنے اپنے وقت پر کسی تقدیم و تاخیر کے بغیر ہی چیز وجود میں آئی۔ اس نے امور عالم کا وہ نظم کیا کہ نہ اس میں افکارومقدمات کی ترتیب کی ضرورت پیش آئی نہ کچھ دیر انتظار کرنا پڑا۔ اسے ایک حالت دوسری حالت سے غافل نہیں کرتی، یہ اعتقاد رکھنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ سنتا اور دیکھتا ہے، نہ دوری اس کے سننے کی راہ میں رکاوٹ ہے نہ تاریکی دیکھنے میں مانع ہے۔ وہ دیکھتا ہے مگر چشم وابرو سے پاک ہے۔ سنتا ہے مگر کانوں سے منزہ ہے، جیسے علم میں دل سے پکڑنے میں آلہ سے پاک ہے۔ یہ عقیدہ رکھنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کلام کرنے والا ہے اور اپنے ازلی، قدیم کلاس سے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے حکم دیتا ہے، منع کرتا ہے، وعدہ کرتا ہے اور ڈراتا ہے۔ اس کا کلام مخلوق کے کلام کے طرح نہیں کہ ہوا کے ذریعے اجرام کے ٹکراؤ سے، زبان کی تحریک اور ہونٹوں کے آپس سے آپس میں ملنے سے آواز پیدا ہوئی ہو۔ بلکہ ان سب سے جداگانہ ہے۔ قرآن، زبور، انجیل، تورات اس کی کتابیں ہیں جو اس کے پیغمبروں پر نازل ہوئیں۔ قرآن کریم کی تلاوت زبانوں سے ہوتی ہے۔ اوراق پر لکھا جاتا ہے دلوں میں محفوظ کیاجاتا ہے۔ اس کے باوجود وہ قدیم ہے۔ آخر میں یہ اللہ تعالیٰ اپنے افعال میں حکیم اور اپنے احکام میں عادل ہے"تصور وحدانیت کو جیسے ابوحامد غزالیؒ نے ہر ہر پہلو سے اپنے خوبصورت انداز سے بیان کیا ہے۔ کسی اور دینی سکالر کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوا۔