ترکوں کے دیس میں (11) – احسان کوہاٹی

جنگ اپنے ساتھ تباہی بربادی، المیے اورسانحات لاتی ہے۔ شام میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ علماء کرام احادیث کی روشنی میں شام میں ہونے والی قتل و غارت گری کو قرب قیامت کی نشانیاں قرار دیتے ہیں۔ یقیناً قیامت اُن کے لیے قریب ہوگی جو امان سے ہیں مگر جن کا گھر بار، بیوی، بچے، ماں، باپ جنگ کا ایندھن بن گئے اُن کے لیے قیامت تو اُسی روز ہی بپا ہو گئی تھی۔ دارلجراح کے مسؤل کا کہنا ہے کہ زخمی اس حال میں آتے ہیں کہ ہمارے لیے ان کے زخم دیکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ہم انہیں حوصلہ دینے کے لیے الفاظ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں اور وہ الٹا ہمیں تسلی دینے لگتے ہیں، یہ لوگ صبر واستقامت کے پہاڑ ہیں۔ ابو موسٰی یہ کہہ رہا تھا اور اس کی تصدیق سیلانی کے حافظے میں محفوظ وہ وڈیو کلپ دے رہا تھا، جس میں خون میں لتھڑاایک شدید زخمی بچہ اس حال میں کسی نہ کسی طرح اسپتال پہنچتا ہے کہ وہاں ڈاکٹر کے پاس بچے کو بیہوش کرنے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔ بچے کی جان بچانے کے لیے سرجری ضروری ہوتی ہے۔ ڈاکٹر طبی ہدایات اور اصولوں کو ایک طرف رکھتا ہے اور بچے سے قرآن کریم کی تلاوت کرنے کے لیے کہتے ہوئے نشتراٹھالیتاہے۔ زخم سے کراہتا ہوا بچہ قل ھواللہ ہو احد پڑھتا ہے اور ڈاکٹر ساتھ ساتھ تلاوت کرتے ہوئے اس کا کھلے ہوئے زخم صاف کرکے منہ بند کرنے کے لیے ٹانکے لگانے لگتا ہے۔

اسپتا ل میں زخمیوں کو دیکھ کر سب ہی ساتھی دل گرفتہ ہوگئے۔ برادر انظر شاہ کا اداس چہرہ بھی ان کی دلی کیفیات کاپتہ دے رہا تھا۔ وہ افسردہ لہجے میں کہنے لگے ’’سیلانی بھائی ! کیا ظلم ہے یار ؟ ہر بستر پر ایک کہانی ہے۔ اندر ایک حلب کا زخمی بوڑھا شاعر بھی ہے۔ اس کا پاؤں ایڑی سے کٹا ہوا ہے۔ اس نے کیا ہی پرسوز اندازمیں شعر پڑھے۔ ہمیں تو رلا دیا۔ پہلے اس نے شام سے متعلق کچھ اشعار پڑھے، جو کچھ وہاں ہو رہا ہے اسے اشعار میں بیان کیا اورپھر اس نے فی البدیہہ شعر ایسے سوز میں کہے کہہ کلیجہ منہ کوآنے لگا۔ اس نے کہا کہ اے میرے پاکستانی بھائیو! جب تم روضہ رسول ﷺ پر حاضری کے لیے جاؤ توعرض کرنا کہ یہاں ترکی میں شام کا ایک دل جلا آپ کو سلام بھیجتا ہے اور آپ کے پاس آنے کے لیے تڑپ رہا ہے ‘‘۔

شامی بزرگ سے ملاقات کا احوال جان کر سیلانی کے منہ سے بے ساختہ ٹھنڈی سانس نکل گئی۔ اس نے سر جھکا لیا۔ کاش اس کے بس میں ہوتا تو شامی بھائیوں ہی کے کیا؟ ہر زخمی سے اس کا زخم چھین لیتا۔ زخمیوں سے ملنے کے بعدساتھی واپسی کے لیے اسپتال سے باہر نکلنے لگے۔ سیلانی نے چلتے چلتے دارلجراح کے مسؤل سے پوچھا کہ انہیں علاج معالجے میں کس قسم کی مشکلات کا سامنا تو نہیں ؟ جواب میں ابو موسٰی نے کہا ہمارے پاس ڈاکٹروں کی شدیدکمی ہے، خاص کر شعبہ حادثات میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کی بہت ضروت ہے۔ یہ کہہ کر ابو موسٰی نے امید بھری نظروں سے کہا پاکستان کے ڈاکٹر دنیا بھر میں ممتاز ہیں، اگر پاکستانی ڈاکٹروں سرجنوں کی کوئی ٹیم یہاں آتی ہے تو ہم انہیں مرحبا کہیں گے۔ ان کی رہائش اور طعام سب کا انتظام ہمارے ذمے ہوگاہم جو خدمت کر سکے، کریں گے۔ ابو موسیٰ نہایت درمندی سے یہ اپیل کر رہے تھے اور مفتی ابولبابہ صاحب اپنے سیل فون کے کیمرا ان کی جانب کیے ہو ئے کھڑے تھے۔ مفتی ابو لبابہ شاہ منصورکبھی کیمرے کے سامنے نہیں آتے لیکن ان کے کیمرے کا رخ سب کی جانب رہتا ہے۔ انہوں نے اپنے سیل فون سے و ہ کام لیا ہے کہ جو کسی کی سوچ ہو۔ وہ ہر قابل ذکر لمحے کو سیل فون اور اس کے کیمرے کے ذریعے اپنے وسیع حلقہ احباب تک پہنچاکر انہیں تحریک دیتے ہیں کہ اٹھو! کچھ کرو! یہی وقت ہے کچھ کرنے کا۔ انہوں نے شامی بھائیوں کی مدد کے لیے اپنے اس سیل فون اور خبیب فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر تحریک ایثارچلا رکھی ہے۔ ان کی کوششوں سے مخیر پاکستانیوں نے بلامبالغہ کروڑوں روپے اس کارخیر میں لگائے ہیں اور سیلانی یہ بات بلامبالغہ کہہ رہا ہے۔ مفتی صاحب اپنے سیل فون سے ابوموسیٰٰ کی پکار اہل پاکستان تک پہنچاچکے ہیں اور اب سیلانی اپنے قلم کے ذریعے اللہ کی رضا کے لیے پاکستانی سرجنوں اور ڈاکٹروں کو متوجہ کر رہا ہے۔ وہ دس دن کی رخصت لے کر انبیاء کی سرزمین سے آنے والوں کے زخم دھونے کی سعادت حاصل کر سکتے ہیں۔ کیا عجب کہ روز حشر کو شام کی سرزمین کی مقدس ہستیاں رب العالمین کے سامنے یہ کہتی پائی جائیں کہ یہ تو وہی طبیب ہے جس نے ہماری اولاد کے زخم دھوئے تھے جو ان کی پکار پربے قرار ہو کر پہنچا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکی میں حیرت کے پانچ سال - عالم خان
حتائی شہر کا صاف ستھرا ایئرپورٹ

دارلجراح سے واپسی پراستنبول روانگی کا پروگرام تھا۔ ایک مقامی ایئرلائن میں ساتھیوں کی نشستیں مخصوص تھیں۔ سب دوست وقت سے پہلے ہی حتائی ایئرپورٹ پہنچ گئے۔ ساتھیوں کے پاس اچھا خاصا سامان تھا جس کا بڑا حصہ زیتون کے تیل اور انجیر پر مشتمل تھا اور اس بڑے حصے میں سب سے بڑا حصہ مکتبہ بشریٰ کے برادر یوسف صاحب کا تھا۔ ان کے چودہ لیٹرتیل سے پورا بیگ بھر چکاتھا۔ حتائی کوئی بہت بڑا شہر نہیں مگر اسکا ایئرپورٹ اچھا خاصا بڑا ہے۔ ترکی کے تمام قابل ذکر شہروں میں ہوائی اڈے موجود ہیں اور جہاں ہوائی اڈے نہیں وہاں ہموار سڑکیں بچھی ہوئی ہیں۔ یہ سڑکیں ایسی ہیں کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں کسی بھی طیارے کے لیے رن وے کا کام دے سکتی ہیں۔ یہاں ہوائی اڈوں پر تلاشی کا کام خاصا کڑا ہے، مسافروں کو جوتے اوربیلٹ اتارکر دھات کی نشاندہی کرنے والے دروازے سے گزرنا پڑتا ہے اور اس میں ملکی اور غیرملکی کی کوئی تخصیص نہیں ہوتی۔ سیلانی نے قمیض شلوار پہن رکھی تھی اس لیے وہ بیلٹ اتارنے کی زحمت سے بچ گیا۔ ازار بند کے بہت سے فائدوں میں آج ایک نئی افادیت کا پتہ چلا تھا۔ دھات کی نشاندہی کرنے والے دروازے سے گزر کر سیلانی آگے بڑھا اور سیاہ وردی میں ملبوس سنہری بالوں والی ترک خاتون کے سامنے پہنچ گیا۔ یہ احساس ہی کچھ عجیب سا تھا کہ ایک خاتون جامہ تلاشی کے فریضے پر مامور ہیں۔ خیر سیلانی اس ترک خاتون کے سامنے پہنچا اس نے سپاٹ چہرے سے سیلانی کوہینڈزاپ ہونے کے لیے کہا سیلانی نے سعادت مند طالب علم کی طرح ہاتھ اٹھا دیے۔ خاتون اہلکار نے پیشہ وارانہ انداز میں سیلانی کی بغلوں اور پسلیوں پر ہاتھ پھیرا اس کی جیب تھپتھپائی اور مطمئن ہو کرآگے جانے کی اجازت دے دی۔ سارے ساتھی اسی طرح تلاشی کے مرحلے سے گزر کراندر آگئے۔ اب کچھ کچھ بھوک لگ رہی تھی۔ انظرشاہ صاحب سامنے کینٹین سے تل والے بن میں کھیرا اور پنیر بھرا برگرلے آئے۔ یہاں بھی ایئر پورٹ پر مہنگائی کا راج ہے جو چیز باہر پانچ لیرا کی ملتی ہے وہ یہاں پندرہ لیرا سے کم کی نہیں۔

نمازمغرب ائیرپورٹ پر ہی ادا کی گئی۔ علماء کی صحبت کا ایک فائدہ یہ ہورہا تھا کہ نمازیں ہر حال میں پوری ادا ہو رہی تھیں اور زیادہ ترباجماعت ہی ادا ہوتیں۔ امامت کا کوئی مسئلہ ہی نہ تھا، جہاں نماز کا وقت ہوتا وضو کرکے جماعت کر لی جاتی۔ نماز کے بعد طیارے میں جانے کے لیے کہا گیا۔ پاکستانی کاردشوں نے دیر نہیں کی اورطیارے میں پہنچ گئے۔ طیارے میں مقررہ وقت پر حرکت ہوئی ایئر ہوسٹس نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی کچھ تدابیر بتائیں جو خالصتاً ترکی میں تھیں۔ جس کے بعد اس دیوہیکل پرندے نے رن وے پر دوڑ لگائی اور زقند بھر کر فضا میں پہنچ گیا۔ طیارے کی کھڑکی سے حتائی شہر کی روشنیاں جھلملاتے نقطے سے لگ رہی تھیں۔ کچھ دیر میں یہ نقطے بھی کہیں پیچھے رہ گئے۔ حتائی سے استنبول کی پرواز گھنٹہ سوا گھنٹہ کی ہے۔ یہاں ترکش ایئر لائن کے ساتھ سستی ایئرلائن کے طیارے بھی چڑھتے اترتے رہتے ہیں۔ ان سستی ایئر لائنوں میں مسافروں کی مہمان نوازی فضائی میزبانوں کی مہمان نوازی سے کی جاتی ہے۔ اس پیشہ وارانہ مسکراہٹ کے علاوہ پانی کو گھونٹ بھی نہیں دیا جاتا۔ پرواز کے دوران ایک بی بی ایک ٹرالی میں کھانے پینے کی چیزیں لیے مسافروں کے درمیان سے پھیرا لگاتی ہے، جس نے جو لینا ہوتا ہے وہ ادائیگی کرکے خرید سکتا ہے۔ سیلانی کے خیال میں کم خرچ میں سیر وسیاحت کے لیے یہ پھیرے والی ایئر لائینیں بہتر رہتی ہیں۔ بندہ فضا میں چکن قورمے اور بریانی حلوے کھانے کے لیے تو نہیں نکلتا اگر ایک ڈیڑھ گھنٹہ کے لیے ایئرہوسٹس کی مسکراہٹ پر ہی اکتفا کر لے تو پیسے بچ سکتے ہیں۔ لیکن خیال رہے یہ مصنوعی مسکراہٹ حجام کی دکان کا وہ تولیہ ہوتی ہے جو ہر شیو کرنے والے کے سینے پر رکھاہوتا ہے جسے کوئی گھر بھی نہیں لے جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   انقرہ میں جناح ینگ رائٹرز ایوارڈ - ڈاکٹر فرقان حمید
استنبول کا صبیحہ گوکچن ایئرپورٹ مصروف ترین ہوائی اڈوں میں سے ہے

گھنٹہ بھر کی آرام دہ پرواز کے بعدپائلٹ نے اعلان کیا کہ استنبول آنے والا ہے۔ ایئر ہوسٹس نے مسافروں کو سیٹ بیلٹ باندھنے کی ہدایت کی۔ سب نے سیٹ بیلٹ باندھ لیے طیارے نے استنبول کے صبیحہ گوکچن ایئر پورٹ پر ایک چکر لگایا اور پھر اس شہر کی زمین پر چومنے لگا جس کے فاتح کو رسول اللہ ﷺ نے جنت کی بشارت دی تھی۔ استنبول میں دو ایئر پورٹس ہیں، تیسرا زیر تعمیر ہے جو دنیا کا سب سے بڑا ایئرپورٹ ہوگا۔ طیارے سے اتر کر سیلانی ساتھیوں کے ہمراہ سامان کے حصول کے لیے پہنچ گیا۔ انہیں اپنے سامان کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا۔ اس عرصے میں سیلانی نے لیپ ٹاپ کھولا اوراپنا کالم روزنامہ امت کے ادارتی صفحے کے انچارج برادر ضیاء چترالی کو ای میل کر دیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ دنیا سمٹ کر گاؤں بن گئی ہے لیکن سیلانی کہتا ہے کہ دنیا اب محلہ بن چکی ہے۔ رابطوں کے میدان میں ترقی نے اسے واقعی اندورن لاہور کا کوئی چھوٹا سا محلہ بنا دیا ہے۔ جتنی دیر جمعرات کی شام پڑوس میں نیاز کی جلیبی دینے میں لگتی ہے اس سے نصف وقت بندہ ایک ملک سے دوسرے ملک خط پہنچا دیتا ہے۔

صبیحہ گوکچن ایئر پورٹ سے ان کی منزل فاتح کے علاقہ میں رشیدیہ ہوٹل تھا۔ مفتی ابولبابہ صاحب ترکی آ تے جاتے رہتے ہیں اور یہ سارے علاقے ان کے دیکھے بھالے ہیں۔ ایئر پورٹ سے باہرنکلتے ہی استنبول کی خنک فضا نے استقبال کرکے سرگوشی کی کہ سیلانی صاحب کوئی سوئٹر شوئٹر جیکٹ شیکٹ ساتھ لانی تھی جس کا جواب نے سیلانی نے بغلوں میں ہاتھ دے کر ہی دینا تھے۔ استنبول کی خنک فضا شوخ موڈ میں تھی لیکن مفتی صاحب نے اسے زیادہ شوخیاں دکھانے نہیں دیں اور ایک ٹیکسی کو اشارہ کرکے بلا لیا۔

’’جامع فاتح‘‘مفتی صاحب نے ٹیکسی ڈرائیور کو منزل بتائی اورساتھیوں سے کہا ’’چلو نوجوانوں سامان رکھو!‘‘

ترکی میں بھی ٹیکسیوں کا رنگ پیلا ہی ہوتا ہے۔ ہر ٹیکسی کی چھت پر ٹیکسی کا بورڈ آویزں ہونا ضروری ہے اور ساتھ ہی ٹیکسی میں میٹر بھی۔ یہاں ٹیکسی ڈرائیور صرف ایک ہی صورت میں ہیرا پھیری کر سکتے ہیں کہ وہ پانچ کلومیٹر کی جگہ پر گھما پھرا دس کلومیٹر کا پھیرالگا کر پہنچادیں۔ یہاں زیادہ تریورپی کمپنیوں کی بڑی بڑ ی گاڑیاں دکھائی دیتی ہیں۔ جاپانی کاریں بھی کم ہی ہیں جس ٹیکسی میں وہ اس وقت جامع فاتح کے علاقے کی طرف جا رہے تھے وہ بھی FIATکمپنی کی اسٹیٹ کار تھی جس کے پیچھے سارا سامان آگیاتھا۔ کار کے شیشے چڑھے ہوئے تھے جس کے آرپار جگمگاتا استنبول دکھائی دے رہا تھا(جاری ہے)

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.