زندگی صرف ریاضی کا عدد نہیں - محمد عامر خاکوانی

سوشل میڈیا کے دوسرے فائدے نقصان اپنی جگہ ،مگر لکھنے والوں کو ایک سہولت مل جاتی ہے کہ وہاں بہت سے ایسے آرٹیکلز، کالمز اور ریسرچ رپورٹیں بھی پڑھنے کو مل جاتی ہیں، جو ممکن ہے ویسے نہ دیکھی جائیں۔ فیس بک استعمال کرنے والے عموماً اپنی پسندکی تحریریں شیئر کرتے رہتے ہیں، انگریزی اخبارکے آرٹیکل، فیچر رپورٹس وغیرہ۔ کچھ عرصہ قبل ایک ایسی ہی ایک نئی ریسرچ رپورٹ نظر سے گزری، دلچسپ لگی تو اسے کمپیوٹر میں محفوظ کر لیا۔ ریسرچ کے مطابق انسانی زندگی صرف عدد کا نام نہیں۔ مثلاً اگر تاریخ پیدائش کے لحاظ سے کچھ افراد کی عمر 30 سال ہے تو ضروری نہیں ہے کہ وہ سب حقیقتاً 30 سال ہی کے ہوں گے۔ ان میں سے کچھ لوگوں کی اصل عمر 30 سال سے کہیں کم اور کچھ کی 30 سال سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

ہمارے روزمرہ کے مشاہدے میں ایسے بے شمار کیس آتے ہیں۔ دوست احباب، رشتے داروں، جاننے والوں یا بسا اوقات کسی معروف کھلاڑی، شوبز سیلیبریٹیز میں ایسے لوگ ملتے ہیں، لگتا ہے جیسے ان کی عمر ٹھیر گئی ہو۔ وہ اپنی اصل عمرسے برسوں کم نظر آئیں گے۔ ہمارے روزنامہ نائنٹی ٹو کے میگزین میں کرکٹر رمیز راجہ پر مضمون شائع آیا ہے، ان کی تصاویر دیکھ کر واقعی ایسے لگا جیسے گزرتی عمر نے رمیز کا کچھ نہیں بگاڑا۔ میاں بیوی کی ایک تصویر بھی شائع ہوئی، جس میں ان کی اہلیہ محترمہ اپنی فطری عمر کے مطابق اور شوہر نامدار ان سے خاصے چھوٹے لگ رہے تھے، حالانکہ دونوں ایک ہی کلاس میں پڑھتے تھے اور یقینا ہم عمر ہی ہوں گے۔ ہمارے زمانے کے پی ٹی وی کے کئی فنکار آج بھی پہلے کی طرح تروتازہ نظر آتے ہیں۔ ماہ نور بلوچ جو آج سے بیس پچیس سال پہلے بھی پختہ ہیروئن تھیں، آج انہیں دیکھا جائے تو لگتا ہے جیسے پچیس کی جگہ ان میں صرف پانچ برسوں کا اضافہ ہوا ہو۔ اگلے روز اخبار میں بھارتی اداکار شیکھر سمن کی تصویر دیکھی، جس میں ان کے شاندار باڈی مسلز نظر آ رہے تھے۔ شیکھر سمن نے اپنے بارے میں خود کہا کہ لگتا ہے میں دوبارہ جوان ہو رہا ہوں۔

یہ سب کیسے ہوتا ہے؟ یقیناً کچھ فیکٹر موروثی خصوصیات کا بھی ہے۔ عام طورسے ہم کہہ دیتے ہیں کہ فلاں شخص جتنا کھائے، وہ موٹا نہیں ہوتا، اس کی ہڈی ہی ایسی ہے۔ یہ موروثی خصوصیت ہے، میٹابولزم تیز ہونا اس کا سبب ہے، جس کے باعث اس کی چربی پگھل جاتی ہے، موٹاپا نہیں چڑھتا۔ اس کے لیے مگر کچھ قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔ زندگی میں ڈسپلن رکھنے والے لوگ اپنے ہم عصروں سے مختلف ہوتے ہیں۔ کم خوراک کھانے اور پیدل چلنے کی عادت رکھنے والے بہت سی ایسی بیماریوں سے بچے رہتے ہیں، جن کا میرے جیسے خوش خوراک نشانہ بن جاتے ہیں۔ مزے دار نہاریوں، ہریسے، پائے، بھنے گوشت، دنبہ کڑھائیوں، انواع واقسام کے کباب، تلوں والے کلچے اور رس ملائی، حلوہ جات کھانے کی کچھ قیمت تو ادا کرنی چاہیے۔ یہ تو قدرت کا انصاف ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   موٹرسائیکل - ریاض علی خٹک

خیر بات ریسرچ کی ہو رہی تھی، رپورٹ کے مطابق، ”ہماری روزمرہ گفتگو میں اور شناختی دستاویزات میں عمر کا لفظ کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن، سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ عمر محض ایک ہندسہ ہے اور اس عمر کی حقیقت، جس کا تعلق ہماری تاریخ پیدائش سے ہے، فریب نظر کے سوا کچھ نہیں۔ سائنس دان کہتے ہیں انسان کی اصل عمر اس کی بائیولاجیکل ایج یعنی حیاتیاتی عمر ہوتی ہے۔ یعنی اس کے جسمانی خدوخال اور اعضائے رئیسہ کس رفتار سے وقت کا سفر طے کر رہے ہیں اور یہ سفر ان کے اندر کیا تبدیلیاں لا رہا ہے۔ آپ نے بھی محسوس کیا ہوگا کہ کچھ لوگ اپنی تاریخ پیدائش کے لحاظ سے زیادہ بڑے دکھائی دیتے ہیں اور کچھ پر یہ گمان ہوتا ہے کہ جیسے ان کی عمر کسی ایک مقام پر آکر ٹھیر گئی ہے۔ یہی اس شخص کی حیاتیاتی عمر ہوتی ہے۔“

یہ تفصیلی ریسرچ نیشنل اکیڈمی آف سائنسز، واشنگٹن کے جریدے میں شائع ہوئی اوراس میں کنگز کالج، لندن اور امریکہ کی ڈیوک یونیورسٹی کے پروفیسرز نے حصہ لیا۔ سائنسی مطالعے میں 954 رضاکاروں کو موضوع بنایا گیا۔ ان تمام افراد کا تعلق نیوزی لینڈ کے شہر ڈنیڈن (Dunedin) سے تھا اور وہ سب 1972ء اور 1973ء کے دوران پیدا ہوئے تھے۔ کیلنڈر کے لحاظ سے اس وقت ان کی عمریں 38 سال ہیں، لیکن، جب انہیں بائیولاجیکل ایج کے پیمانے پر پرکھا گیا تو ان کی عمریں 28 سال سے لےکر 61 سال تک نکلیں۔تقریباً 35 سال تک جاری رہنے والی اس تحقیق میں یہ جاننے کے لیے کہ رضاکاروں کی بائیولاجیکل ایج کس رفتار سے بڑھ رہی ہے یا دوسرے لفظوں میں وہ کتنی تیزی سے بڑھاپے کی جانب بڑھ رہا ہے، چھبیس، بتیس اور اڑتیس کی عمر میں ان پر تجربات کیے گئے۔سائنس دانوں کو پتا چلا کہ بعض افراد کی حیاتیاتی عمر ایک کیلنڈر سال میں تین سال تک بڑھی، کچھ رضاکاروں کی عمر بڑھنے کی رفتار ایک کیلنڈرسال میں بارہ مہینوں سے کم تھی جبکہ اکثریت کی عمر میں ایک کیلنڈرسال کے دوران بارہ مہینے کا اضافہ ہوا۔جن رضاکاروں کی عمر بڑھنے کی رفتار تیز تھی، وہ اپنے دوسرے ساتھیوں کے مقابلے میں عمر رسیدہ دکھائی دیے، جب کہ جن کی عمر میں اضافے کی رفتار سست تھی، وہ اپنی عمر سے چھوٹے لگے۔ماہرین کو پتا چلا کہ رضاکاروں کی حیاتیاتی گھڑی کی رفتار یعنی عمر بڑھنے کا تعلق زیادہ تر ان کے طرز زندگی اور گرد و پیش کے ماحول سے تھا۔تحقیق میں ایسی 18 چیزوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو انسان کی عمر بڑھنے کی رفتار پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ ان میں اعضائے رئیسہ کی کارکردگی، خون کا دباؤ، کولیسٹرول اور شوگر کی سطح سمیت، نیند کا دورانیہ، ورزش، ذہنی دباؤ، کام کرنے کی جگہ اور گھر کا ماحول اور تمباکو اور الکوحل کے استعمال کی مقدار شامل ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انسانی ڈی این اے کی ساخت اس کے telomere کی لمبائی بھی عمر بڑھنے کی رفتار اور زندگی کی طوالت پر اثرانداز ہوتی ہے۔ لیکن، اس عمل میں اس کا حصہ محض بیس فی صد کے لگ بھگ ہے، جبکہ دیگر اسی فی صد عوامل کا تعلق ہماری صحت، عادات اور گرد و پیش کے ماحول سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ایمبولینس کو راستہ دیں - افشاں فیصل شیوانی

یہ ریسرچ کئی اہم پہلوؤں کو سامنے لاتی ہے اور درست بات یہی ہے کہ ہمیں اپنے لائف سٹائل میں ایسی تبدیلیاں لانی چاہییں جو ایک طرف بائیولوجیکل عمر کو ٹھیرا دے اور اس کے ساتھ اچھی صحت کی وجہ سے کوالٹی آف لائف بھی مل سکے۔ ایک پہلو اور بڑا اہم ہے کہ انسان کی فکری عمر کیا ہے ،اس میں کس قدر اضافہ ہوتا ہے ، کون کون سے فیکٹرز ایسے ہیں جو اسے اپنے ہم عصروں سے زیادہ میچور اور ذہنی طور پر برتر بنا دیں۔ پچیس سال کے دو نوجوان یا چالیس سال کے پختہ عمر مرد جسمانی صحت میں یکساں ہو سکتے ہیں۔ اپنے جسم کا خیال کر کے، اچھی خوراک، ورزش کے ذریعے وہ ایک جیسے نظر آ سکتے ہیں، مگر کیا ان کی ذہنی عمر بھی یکساں ہے؟ ضروری نہیں کہ ایسا ہو۔ کئی احباب یہ بتاتے ہیں کہ برسوں بعد انہیں اپنے آبائی گاﺅں، قصبہ یا شہر جانے کا اتفاق ہوا، اپنے ہم عمر کلاس فیلوز سے ملاقات ہوئی تو حیرت ہوئی کہ وہ ابھی تک دس پندرہ سال پرانی ذہنی ، فکری عمر میں ہیں، لگتا ہے جیسے ان کے دماغ منجمد ہوگئے، گزرتے وقت نے کوئی تبدیلی نہیں پیدا کی۔

اس پر ممکن ہے سائنس دانوں نے ریسرچ کی ہو اور باقاعدہ منضبط نتائج اخذ کیے ہوں، مگر موٹی موٹی باتیں یہ سمجھ میں آتی ہیں کہ مسلسل مطالعہ، مشاہدہ، ایکسپوژر اور غوروفکر سے انسان اپنے ذہن کو بدل سکتا ہے۔ اوسط ذہنی صلاحیت سے وہ ذہین اور ذہین ترین لوگوں میں شامل ہوسکتا ہے۔ مطالعہ اس کے علم میں اضافہ کرتا اور تناظر وسیع کر دیتا ہے۔ مشاہدہ اسے بہت سی نئی باتوں اور جہتوں سے متعارف کراتا ہے، ایکسپوژر خاص کر بیرونی ممالک کے سفر اس کا ذہنی کینوس بڑا کر دیتے ہیں، نئے جہانوں سے وہ روشناس ہوتا ہے۔ سب سے بڑھ کر غور وفکر ہے۔ زندگی کی بنیادی حقیقتوں پر غور کرنا، ان کی حکمت کو جاننے ، سمجھنے کی سعی۔ اس مقصد کے لیے اہل علم سے ملاقات، استفادہ از حد ضروری ہے۔ زندگی واقعی صرف عدد کا نام نہیں۔ یہ آپ کے اپنے اوپر ہے کہ آپ اسے کیسے بسر کرتے ہیں؟ جسمانی عمر اور ذہنی عمر دونوں کے لئے الگ الگ انداز میں سہی، مگر بہرحال ایک نظم وضبط کے ساتھ کوشش کرنا پڑتی ہے۔ اب جو جتنا گڑ ڈالے گا، اسے ثمر بھی اتنا ہی میٹھا ملے گا۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں