سموگ اور دھند سے بچاؤ کے لیے نماز استسقا

اس وقت وطن عزیز میں تمام افراد کو سموگ اور  دھند کی وجہ سے کافی پریشانی کا سامنا ہے اس سے سب سے زیادہ معصوم بچے اور محنت مزدوری کرنے والے افراد اور بوڑھے متاثر ہو رہے ہیں، خواتین کی اکثریت چونکہ گھروں میں وقت گزارتی ہیں اور اگر باہر نکلنا بھی پڑے تو شرعی پردے کی وجہ سے منہ ، ناک انہوں نے ڈھانپ رکھا ہوتا ہے اس لیے ان کے متاثر ہونے کے امکان کم ہو جاتے ہیں۔

سموگ اور دھند کی وجہ سے سڑکوں پر آمد و رفت بہت زیادہ متاثر ہے کہ جو سفر 15 منٹ میں طے ہوتا تھا اب گھنٹوں میں طے ہو رہا ہے اور وہ بھی انتہائی چوکنے رہنے پر وگرنہ ٹریفک حادثات  کی شرح بہت زیادہ بڑھ چکی ہے، ایک گاڑی کو دوسری گاڑی پیچھے سے آ کر ٹکر  مار دے تو پھر نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جیسے کہ سوشل میڈیا پر مشہور ہونے والی درج ذیل ویڈیو میں بھی دیکھا جا سکتا ہے:

سموگ کے خلاف آگہی مہم

اس صورت حال سے بچنے کے لیے معاشرے کے ہر مفید فرد نے اپنی رائے اور تجاویز دی ہیں، اللہ تعالی ان کی تجاویز  پر انہیں جزائے خیر سے نوازے، حکومتی سطح پر بھی اس کے لیے آگہی مہم چلائی گئی اس کیلیے سوشل میڈیا  اور ملکی اخبارات اور جرائد  میں ایسی مفید سرگرمیاں بھی دیکھنے کو ملی ہیں۔

پھر سموگ کی وجہ سے ہونے والی اموات اور مالی نقصانات اس بات کی طرف مزید متوجہ ہونے کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم اس کا حل تلاش کریں اور اللہ تعالی سے اس سے نجات طلب کریں۔

سموگ کا قدرتی توڑ

یہ بات مسلمہ ہے کہ بارش دھند اور سموگ کا بہترین توڑ ہے چونکہ یہ قدرتی بھی ہے اس لیے اس کے مضر اثرات  بھی نہیں ہیں، تو کیوں نہ ایسے میں بارگاہِ الہی میں ہاتھ اٹھا کر ہم سب اجتماعی طور پر دعا کریں کہ اللہ تعالی ہماری اس مشکل اور مصیبت میں گھری حالت پر رحم فرمائے اور ہمیں بارش عطا فرمائے۔

یہ بھی پڑھیں:   کہانی بارہ مہینوں کی - ضیغم قدیر

بارش مانگنے کے لیے خطبہ جمعہ کے دوران دعائیں کرنا بھی نبی ﷺ سے ثابت ہے، تاہم بارش کے لیے اسلام نے ہمیں مستقل ایک نماز کا تحفہ بھی دیا ہے کہ جب مسلم خطوں کو بارش کی ضرورت ہو تو اس نماز کا اہتمام کھلے میدان میں کیا جاتا ہے، اس میں  امام صاحب دو رکعت  پڑھا کر مختصر خطبہ دینے کے بعد دعا کروائیں تو اسے نماز استسقا  کہتے ہیں، تاہم خطبہ نماز سے پہلے بھی دے سکتے ہیں احادیث مبارکہ میں دونوں طریقے ثابت ہیں، یہ بات واضح رہے کہ استسقا میں صرف ایک خطبہ ہوگا دو نہیں ہوں گے۔

سموگ میں نماز استسقا

نماز استسقا بارش کی ضرورت کے وقت پڑھی جاتی ہے چاہے وہ قحط سالی کی صورت میں ہو یا کسی اور  صورت میں۔

اصولی طور پر تو نماز  استسقا پڑھنے کی دعوت حاکم وقت کی جانب سے ہوتی ہے لیکن اگر کہیں ایسا نہیں ہے تو اسلامی و سیاسی افراد  اور جماعتوں کو چاہیے کہ حاکم وقت کی اس پر توجہ مبذول کروائیں اور اگر شنوائی نہ ہو تو ذاتی حیثیت سے مقامی سطح پر بھی نماز استسقا کا اہتمام ہو سکتا ہے۔

اس کے لیے وقت پہلے سے مقرر کر کے تمام لوگوں کو جمع کیا جائے اور پھر سب اکٹھے نماز استسقا پڑھیں تو سنن ابو داود میں نبی ﷺ سے یہ عمل ثابت ہے۔

نماز استسقا کی ادائیگی کے لیے نماز کے ممنوعہ اوقات سے ہٹ کر کوئی بھی وقت مقرر کیا جا سکتا ہے اس میں شریعت کی جانب سے کوئی پابندی نہیں ہے۔

نماز استسقا کھلے میدان میں دو رکعتوں کی صورت میں ادا کی جاتی ہے اس کے لیے عید کی طرح بن ٹھن کا جانا درست نہیں، نماز استسقا کی دو رکعت ادا کرنے کا طریقہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی سنن اربعہ اور مسند احمد میں روایت کے مطابق عید کی نماز جیسا ہے، جبکہ کچھ کے ہاں زائد تکبیرات کہنا صحیح نہیں، البتہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ زائد تکبیرات کہیں یا نہ کہیں نماز استسقا صحیح ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:   ’’سموگ سے مت ڈریں‘‘ - آصف محمود

نماز استسقا کا خطبہ

چونکہ نماز استسقا کے خطبے کا مضمون شریعت نے متعین نہیں فرمایا، تاہم بارش طلب کرنے کی مناسبت سے امام صاحب اس خطبے میں تمام حاضرین کو اپنے گناہوں سے بخشش، استغفار، صدقہ خیرات اور باہمی رنجشوں کو بھلانے اور آپس میں شیر و شکر ہو کر رہنے کی تلقین کرنے سمیت دیگر نیکیوں اور صلہ رحمی کا حکم دے گا؛ کیونکہ بارش کا نہ ہونا ہمارے گناہوں کی وجہ سے بھی ممکن ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ موجودہ دھند اور سموگ بھی ہماری اپنی کارستانیوں کا نتیجہ ہو؛ کیونکہ ہم ہر اعتبار سے گناہوں  اور زیادتیوں میں ملوث ہیں، ہماری زندگی کا کوئی بھی پہلو دوسروں کی حق تلفی سے پاک نہیں ہے؛ چاہے حق تلفی حقوق اللہ کی ہو یا حقوق العباد کی۔

بارش کی دعائیں

پھر امام صاحب ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالی سے بارش کی دعا کریں گے اور تمام سامعین امام صاحب کی دعا پر آمین کہیں گے، اس سلسلے میں نبی ﷺ سے ثابت شدہ دعاؤں کو ترجیح ہو گی اور اگر مسنون دعاؤں کے ساتھ اپنی زبان میں بھی دعا مانگ لی جائے تو بھی ٹھیک ہے۔

ذیل میں کچھ ثابت شدہ دعائیں ذکر کی جاتی ہیں:

(اَللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثاً مُغِيثاً مَرِيئاً مَرِيعاً، نَافِعاً غَيْرَ ضَارٍّ، عَاجِلاً غَيْرَ آجِلٍ) صحیح ، سنن ابو داود (1171)

(اَللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اَللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اَللَّهُمَّ أَغِثْنَا) صحیح بخاری (1014)، صحیح مسلم: (897)

(اَللَّهُمَّ اسْقِ عِبَادَكَ، وَبَهَائِمَكَ، وَانْشُرْ رَحْمَتَكَ، وَأَحْيِي بَلَدَكَ الْمَيِّتَ) حسن، سنن ابو داود (1171)

نوٹ:  یہ دعائیں خطبہ جمعہ، فرض نمازوں کے بعد اور عمومی صورتوں میں بھی کی جا سکتی ہیں۔

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں