ہونہہ نا سمجھ! - اختر عباس

احسن کے ابا اپنے خیالات میں یوں ڈوبے رہتے ہیں جیسے رس ملائی دودھ میں ڈوبی رہتی ہے۔ ان کا ہمیشہ سے یہی خیال تھا کہ ان کی زندگی کے اصول فوارے سے نکلنے والی تازہ پھوار جیسے ہیں۔ سبھی کو انہی میں بھیگنا چاہیے۔ مگر جب جب احسن اور اس کی بہن ثریا اس پھوار سے ڈر کر پرے ہٹتے تو وہ افسوس سے سر ہلاتے۔’’ ہونہہ!ناسمجھ !سمجھتے نہیں۔ ‘‘

سلمی ابھی چھوٹی تھی، اس پر پھوار مارنے کا بھی فائدہ نہیں تھا۔ اس لیے وہ ’’ناسمجھ‘‘ کے ہنکاروں سے بچی رہتی۔ احسن کے ابا کا اپنے بچوں سے عجیب طرح کا بندھن تھا۔ وہ دل سے سمجھتے کہ یہ ناسمجھ سمجھتے نہیں اور احسن و ثریا دونوں کی مسکراہٹیں یہ بتاتی تھیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ابا نہیں سمجھتے۔ پتا نہیں ایسا کیوں ہوتا ہے کہ عمر کے ساتھ ساتھ جب لوگ بڑے ہوتے جاتے ہیں تو دل بڑا کیوں نہیں ہوتا اور اس میں یہ خیال کیوں نہیں آتا کہ ان کے دل میں آنے والے خیال اور زبان سے نکلنے والے الفاظ ضروری تو نہیں تازہ پانی سے دھلے ہوئے ہوں؟ وہ پرانے فواروں کے استعمال شدہ اورکائی زدہ پانی کی طرح بھی تو ہو سکتے ہیں کہ جس کو قریب سے دیکھ کر پہلا خیال ہی اپنا دامن گیلا ہونے سے بچانے کا آتاہے۔

اس روز بہت دھند تھی۔ شاید خیالات پر چھائی دھند سے بھی زیادہ …… احسن کے ابا صبح صبح سر پر اونی ٹوپی چڑھائے، گرم لوئی کی بکل مارے، ہاتھوں میں تسبیح کے دانے گھماتے محلے کی مسجد میں جا رہے تھے۔ مسجد کے گیٹ کے دائیں جانب دو ٹوائلٹس بنے ہوئے تھے۔ جن میں سے ایک کئی روز سے خراب تھا۔ جن کو علم تھا وہ سڑک پر کھڑے گندے پانی کو دور سے دیکھ کر ہی پرے ہوجاتے۔ ناک منہ چڑھاتے اور مسجد میں چپ چاپ داخل ہو جاتے۔ احسن کے ابا اس وقت تسبیح کے آخری دانوں میں سے کسی ایک پر تھے۔ ’’سبحان اللہ، سبحان اللہ ‘‘ان کے قلب اور زبان سے جاری تھا اور تسبیح مکمل ہونے کی خوشی میں لفظ اس تیزی سے نکل رہے تھے جیسے چھٹی کے قریب پہنچ کر بچوں کے قدم کلاس روم سے نکلتے ہیں۔

خدا ہی بہتر جانتا ہے وہ کون تھا اور کہاں جارہا تھا؟ اپنی دھن میں وہ زیادہ مست آرہا تھایا احسن کے ابا زیادہ مگن تھے۔ وہ مسجد کے دروازے میں داخل ہونے کو تھے جب ان کی نگاہ دائیں طرف اٹھی۔ اس آدمی کے قدم تیزی سے گندے پانی کی طرف اٹھ رہے تھے۔ بس لمحے بھر کی بات تھی۔

احسن کے ابا نے وہ لمحہ مسجد کے اندر قدم دھر کے گزر جانے دیا۔ ان کا دل تسبیح کے دانوں کی گنتی روک کر ایک اجنبی اور بے خبر آدمی کو روکنے اور احتیاط کرنے کا ایک جملہ کہنے پر آمادہ نہ ہوا۔ اس لیے جب گندے پانی سے پھسلنے اور ایک وجود کے گرنے کی آواز ان کے کانوں میں آئی تو انہیں محسوس بھی نہیں ہوا۔ تب تسبیح مکمل ہونے کی راحت ان پر چھا رہی تھی۔ اپنے نامکمل تصورِ نیکی کو ہی مکمل نیکی سمجھنے کی کیفیت میں جینے والے ایسے ہی بے نیازی سے جیتے ہیں۔ احسن کے ابا ایک مذہبی آدمی ہونے کے ساتھ ساتھ بنک میں اپنی نوکری کے احساس گناہ، اخباروں میں لکھے جانے والے دینی مضامین، مساجد میں سنی جانے والی نامکمل تقاریر، آتے جاتے محلے والوں سے ٹی وی پر سنے تبصروں، اپنی اولاد سے ناخوشی اور مستقبل کے خوف کا ملغوبہ تھے۔

دو چار ملاقاتوں کے بعد ہی ملنے والے کو اندازہ ہو جاتا کہ ان کے نظریات کسی ذاتی مطالعے، ذہنی فکر اور سوچ کا نتیجہ نہیں تھے۔ بلکہ دوسروں کے لکھے اور بولے لفظوں سے گھڑی گھڑائی باتوں سے اخذ کردہ چند ظاہری شکل و صورت اور مسائل پر بے یقینی اور مایوسی پھیلانے والے نامکمل اور ادھورے خیالات پر مبنی تھے۔ احسن اور ثریا کے لیے ان کے ابا شروع میں بڑے جاذب اور قابل توجہ تھے۔ مگر جب ان باتوں کی سمجھ آنے لگی اور وہ ان سے کوئی دلیل مانگتے تو جواب ملتا۔ ’’بس کہہ دیا ناں!‘‘ ہولے ہولے احسن اور ثریا کے لیے ان کے خیالات یوں ہوگئے جیسے روغنی ہانڈی اترے ہو ئے روغن کے ساتھ…… انہوں نے اپنے ذہن کی الماری میں اس روغن اتری ہانڈی کو کہیں آخری قطار میں رکھ چھوڑا تھا۔ چھوٹی عمر کی لڑکیاں ہوں یا کچی عمر کے لڑکے، اپنے بڑوں کا محاسبہ ہمیشہ بڑا کڑا کرتے ہیں۔ خود کو سیکڑوں ہزاروں کی چھوٹ دینے والے بڑوں کے محاسبے پر آئیں تو روپے دو روپے کی معافی بھی نہیں دیتے۔

’’ہمارے ابا ایک نیک آدمی تو ہیں مگر‘‘ احسن بات کرتے کرتے رک گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   باپ کی قاتل، بیٹی کی سفاک بے اعتنائی - حافظ یوسف سراج

’’مگر کیا؟‘‘ ثریا نے پوری توجہ سے بات سنی تھی۔

’’یہی کہ نیکی کا پورا تصور نہیں ہے ان کے پاس‘‘ وہ بولا۔ ’’نیکی کی دو شاخیں ہوتی ہیں۔ ایک خدا سے عاجزی اور محبت کا رشتہ بنانے کی طرف لے جاتی ہے۔ اس کی مخلوق کی خیر خواہی پر ابھارتی ہے اور دوسری دل میں اپنی نیکی کا گھمنڈ پیدا کرتی ہے۔ انسانوں سے دور کرتی ہے۔ صرف اپنی بڑائی کا احساس دلاتی ہے۔ ‘‘

’’واہ بھئی واہ۔۔۔۔‘‘ ثریا نے تالی بجا کر داد دی۔ ’’بھائی! اتنی کمال بات۔۔۔۔کس نے کہی۔ ‘‘ وہ شرارت سے مسکرائی۔

’’کہی کسی نے ہے، اخذ میں نے خود کی ہے سوچ کر، فکر کر کے۔۔۔ سچ بتاؤ‎ں تو مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ ابا کی نیکی کو پھل پھول کیوں نہیں لگتے؟ یہ اتنی بے فیض اور تکبر والی کیوں ہے؟ پتا ہے آج لائبریری میں ایک رسالہ پڑھ رہا تھا۔ وہ اپنی لتا منگیشکر ہے ناں؟ اس کا ایک انٹرویو تھا ٹائمز آف انڈیا کے کسی نمائندے نے نیویارک میں لیا تھا۔‘‘

’’ہوں! اپنی!‘‘ ثریا نے اسے چڑانے کی کوشش کی۔ احسن نے چڑے بغیر کہا۔

’’انٹرویو کرنے والے نے پوچھا۔ خاتون سنا ہے آپ کو اتنی مقبولیت نے مغرور بنا دیا ہے۔ اس کا جواب تھا یقینی طور پر میں مغرور نہیں ہوں۔ میں بد طینت اور مغرور ہونے کی متحمل بھی نہیں ہو سکتی۔ جس روز ایسا لگا اور میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا، اس دن میرے گانے میں کوئی مٹھاس نہیں ہوگی۔‘‘

’’او مائی گاڈ!‘‘

ثریا کے منہ سے نکلا۔ ’’بھائی یہ ہوتی ہے Clarity of thought بندے کو پتہ ہو کہ گلے سے سُر اور زبان سے مٹھاس بھرے بول کب نکلتے ہیں تو سوچ میں کس قدر گہرائی آجاتی ہے۔ یہ عجز ہی تو ہے جو انسان کو اپنے رب سے قریب کرتا ہے۔ اس کی مخلوق کے دل میں جگہ دیتا ہے۔ دنیا میں عزت اور کامیابی سے نوازتاہے۔ ‘‘

دونوں بہن بھائی کی باتیں کسی آٹا پیسنے والی چکی کے پاٹوں جیسی تھیں جو ایک ہی وقت میں گھوم کر ایک سا آٹا بناتے ہیں۔

احسن کے ابا کی آنکھوں تلے جھریاں بڑھنے لگی تھیں جب وہ ایک روز اپنے ایک جاننے والے ڈاکٹر کے پاس جا بیٹھے۔

’’ڈاکٹر صاحب ایک دکھ سے گھلا جاتا ہوں۔ میری اولاد مجھ سے دلیلیں مانگتی ہے، مجھ سے دور بھاگتی ہے۔ میں نے اپنے کئی دوستوں سے مشورہ کیا۔ محلے کے مولوی صاحب کو اپنا دکھ سنایا۔ میرا دکھ کوئی نہیں سنتا۔ وہ میرے جیسے کیوں نہیں بن جاتے؟ وہ میری عینک سے کیوں نہیں دیکھتے؟‘‘

ڈاکٹر صاحب نے پوری داستان سنی تو بولے ’’تم باپ ہو کر خود نہیں سمجھے کوئی دوسرا کیسے سمجھ سکتا ہے؟ اپنے پیاروں کا عیب کوئی عیب تھوڑی ہوتا ہے۔ کوئی اپنی کمزوری کو بھی بھلا اچھالتا ہے؟ عجیب باپ ہو اپنی اولاد کے عیب جو اللہ جانے ہیں بھی کہ نہیں، تم جگہ جگہ یوں بیان کرتے پھرتے ہو جیسے کوئی اپنے لیے ہمدردی کے دو بول ڈھونڈتا ہو؟‘‘ ڈاکٹر صاحب لمحہ بھر کو رکے تو احسن کے ابا حیرت کا مجسمہ بنے ان کی باتیں سنے جا رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب ان کی محویت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بولے ’’دیکھو بابا! تم الگ کرسی پر بیٹھ کر ان پر اپنے فیصلے مت لاگو کرو۔ ذرا ان کے ساتھ بیٹھو، کرسی کو کرسی سے جوڑو پھر دل کو دل سے جڑنے دو۔ دل جڑے گا تو محبت آئے گی، محبت آئے گی تو اطاعت اور خیر خواہی ساتھ لائے گی۔ کبھی بچوں کے سروں پر کوئی لوہے کے خول بھی چڑھا پایا ہے؟ تم نے ان کی سوچوں پر اپنے پہرے لگارکھے ہیں۔۔۔۔ ذرا پہرے اٹھاؤ‎۔۔۔۔ انہیں خود سے سانس لینے دو۔ خود سے سوچنے اور اچھے برے کا فیصلہ کرنے دو۔۔۔۔ ان کی اپنی زندگی ہے خوشی سے جی لیں گے تو تمہاری عزت بھی کریں گے اور بات مانیں گے بھی ورنہ یہ چلتا پانی ہے، سوبار روک لگاؤ‎، راستہ تو بنا ہی لیتاہے۔‘‘

احسن کے ابا وہاں سے سیدھے گھر نہیں آئے۔ وہ ایسی باتوں کے عادی نہ تھے۔ ان کی نیکی جھکنا نہیں جانتی تھی۔ دینا نہیں جانتی تھی وہ صرف اطاعت کے طالب تھے۔ ہر لمحے تنقید کی تلوار لیے کسی ماہر مالی کی طرح ہر بیل بوٹے پر چلاتے رہنے کا اپنا مزہ ہوتا ہے۔ انہیں لگتاتھا دفتر میں کیا افسر اور کیا ملازم؟ کوئی مخلص ہی نہیں، کام میں دلچسپی ہی نہیں۔ وہ خود صبح سے شام تک فائلوں سے سر نہ اٹھاتے۔ ان سے فارغ ہوتے تو کمپیوٹر میں گھس جاتے۔ کوئی بات بتانے آجاتا یا پوچھنے بیٹھ جاتا تو یوں ڈانٹتے کہ وہ دوبارہ ادھر کا رخ نہ کرتا۔ ان کا خیال تھا یہی نیکی ہے کہ میں صرف اپنا کام اور اپنے آپ کو برحق ثابت کروں۔ کسی کو مشورہ دینا اس کی آسانی ڈھونڈنا اور مدد کرنا، یہ تو اپنے کام سے ہی بددیانتی ہے۔ اس لیے وہ ایسے بددیانت لوگوں کا صبح شام، جگہ جگہ ذکر کرتے دکھی ہوتے کہ ان کے خیالات کی پھوار سے لوگ کیوں نہیں بھیگتے؟ انہیں کون بتاتاکہ ان کے فوارے کے اکثر چھیدوں کو کب کا زنگ لگ چکاہے۔ لوگ ان سے نکلے زنگ آلود پانی سے بچتے اور ڈرتے ہیں بلکہ ان کے الٹے سیدھے نام دھرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   نوعمر بچے بات کیوں نہیں سنتے؟ حنا تحسین طالب

احسن کے ابا گھر پہنچے تو کسی باسی مولی کی طرح ٹھنڈے تھے۔ ان کا دل خوشی، خاموشی، سناٹے اور تشویش سے بھر اہواتھا۔ ان کی خوشی سے چھینٹے نہیں نکل رہے تھے۔ جانے وہ کس قدر مشکل سے اپنے آپ کو بدلنے کا فیصلہ کر کے آئے تھے۔ انہیں لگتاتھاکہ جونہی وہ یہ اعلان گھرمیں کریں گے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے تھوڑی ’’صوبائی خودمختاری‘‘ دے رہے ہیں تو خوشی کی لہر دوڑ جائے گی۔ ’’تقسیم انعامات‘‘ قسم کی ایک تقریب ہوگی جس میں ان کی دستار بندی ہوگی، دستارفضیلت سجائی جائے گی، نعرے لگیں گے، مٹھائی تقسیم ہوگی اور ان کی دور رس سوچ اور بر وقت فیصلے کی داد دی جائے گی۔ ان کی آواز سن کر دونوں بچے آئے تو ان کے دل کسی ڈری ہوئی فاختہ کے دل کی طرح تیزی سے دھڑک رہے تھے۔ خوف جب سوچ اور دل پر دھند کی طرح چھا جائے تو محبت سہمی ہوئی چڑیا کی طرح بند دروازوں کی درزوں اور دیواروں میں باقی رہ جانے والی دراڑوں سے نکل جاتی ہے۔ ایسے میں اطاعت بس وقتی اور خوف کے بوجھ سے دبی ہوئی ہوتی ہے۔ احسن کے ابا اپنے بچوں کا دل جیتنے کے لیے آتے ہوئے دو تین لوگوں سے پوچھ کر آئے تھے کہ ان دنوں بچوں کو کیا پسند ہے۔ اب جو احسن اور ثریا کو سامنے دیکھا تو وہ مسکرائے مگر اپنی یہ مسکراہٹ خود انہیں بھی اجنبی سی لگی۔

’’بچو! ہمارا ٹی وی تو کب سے بند پڑا ہے۔ کیوں ناں آج اسے جھاڑا پونچھا جائے؟ تمہیں خوشی تو ہوگی ناں، میں نے دوستوں سے مشورہ کیا ہے کہ تم لوگوں کو کیبل کا کنکشن لگوا دیا جائے۔‘‘

’’کیوں؟‘‘ دونوں بچوں کے منہ سے نکلا۔

’’بس کہہ دیا ناں۔۔۔۔‘‘ احسن کے ابا پہلی بار غصے کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے بولے، ’’بچو خود سے پروگرام پسند کرو۔ دیکھو اور سوچو کہ کون سا اچھا ہے، کون سا برا؟ میں ڈرتے ڈرتے رسک لے رہا ہوں۔ کیونکہ نہ تو تمہیں الزام دے رہا ہوں او رنہ ہی کسی الزام سے بری کر رہا ہوں۔ میں ہر وقت تو تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتا ناں۔‘‘

اس سے پہلے کہ احسن کے ابا ٹی وی سیٹ پر پڑی مٹی ڈھونڈتے، اسے صاف کرتے دونوں بچے ہرنوٹوں کی طرح چوکڑیاں بھرتے چھت پر جا پہنچے۔

’’بھائی !جلدی کرو کیبل کی تار اتار کر کہیں ادھر ادھر کرو، ابا لیٹ نکالتے نکالتے پوچھ بیٹھے کہ یہ کب سے چل رہا ہے تو کون وضاحتیں دیتا پھرے گا؟‘‘ ثریا پریشانی سے بولی ادھر احسن تار اتارتے ہوئے بڑبڑا رہا تھا۔

’’یہ ہمارے ابا بھی گلی میں لگی اسٹریٹ لائٹ کے کھمبے جیسے ہیں۔ چاہے تو اندھیری راتوں کو بھی بجھے رہیں اور جلنے پر آئیں تو کسی کے کہنے پر دن کے اجالے میں ہی جلنے لگیں۔‘‘ ثریا کیبل کی تار پرے پھینکتے ہوئے بڑبڑائی۔ ابا کے خیال اور ان کی نیکی دل سے کیوں نہیں پھوٹتی۔ اس پر دوسری کمپنیوں کی نامکمل اور ادھوری مہریں ہی لگی رہتی ہیں! وہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ان کی اپنی ایک مہربان نگاہ، ایک نرم فیصلہ ہمیں ان کے کتنا قریب کر سکتا ہے۔ ہم ان کی محبت کے لیے نجانے کب سے ترسے بیٹھے ہیں مگر یوں نہیں کہ کسی کے کہنے اور مشورے پر عارضی سی مہربانی وہ بھی شرطوں کے ساتھ ہمیں دینے پر آمادہ ہو جائیں۔

احسن کے ابا اپنی تسبیح کے دانوں کو تیزی سے گھماتے سیڑھیوں سے چھت پر جا رہے تھے۔ باتیں سن کر وہیں رک گئے۔ انہیں۔۔۔۔ ہونہہ، ناسمجھ کہنا بھی یاد نہ رہا۔ ان کے قدم نہ آگے بڑھ رہے تھے، نہ پیچھے لوٹ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں سے دو ننھے سے قطرے یوں گرے جیسے بند ہوتے فوارے سے آخری قطرے گرتے ہیں۔ وہ اب بھی اپنے خیالات میں ڈوبے ہوئے تھے جیسے رس ملائی دودھ میں ڈوبی رہتی ہے۔ مگر اب دودھ پھٹا ہوا تھا۔ انھوں نے افسوس سے سر ہلانا چاہا مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ ان کے عزیز سر نے اب کے نہ صرف ہلنے بلکہ ان کے خیالات کی پھوار سے بھیگنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ ہونہہ ناسمجھ!

Comments

اختر عباس

اختر عباس

اختر عباس مصنف، افسانہ نگار اور تربیت کار ہیں۔ پھول میگزین، قومی ڈائجسٹ اور اردو ڈائجسٹ کے ایڈیٹر رہے۔ نئی نسل کے لیے 25 کتابوں کے مصنف اور ممتاز تربیتی ادارے ہائی پوٹینشل آئیڈیاز کے سربراہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • محترم اختر عباس صاحب
    کیا بات ہے۔ زبردست!
    بہت عمدگی سے بہت گہری بات کہی ہے آپ نے۔
    جب تک آپ اردو ڈائجسٹ سے منسلک رہے آپ کا مضمون پڑھتا رہا، اب اس ویب سائٹ پر پڑھا تو ویسی ہی خوشی ہوئی اور ذہن سوچنے پہ مجبور!
    شکریہ! خوش رہیں۔