امریکہ بھی اپنا مائنڈ سیٹ بدلے - عمر فاروق خان

افغانستان میں پاکستانی سفارتکار کی شہادت اور نجی چینل’ شمشاد‘ پر حملہ کیے جانے پر افغان امن کے لیے کوشش کروالے ممالک کو مزید تشویش میں مبتلا کردیا ہے کہ امریکی فورسز اور افغان حکومت سفارتکاروں اور میڈیا کو بھی تحفظ دینے میں کیونکر ناکام ہو رہی ہیں؟ کیا اس قسم کی دہشت گردیوں سے افغانستان میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں پر سوالیہ نشان نہیں اٹھے گا؟

افغانستان میں اب تک قیام امن کے لیے کئی مذاکراتی عمل ہوچکے ہیں تاہم گزشتہ مہینے اہم مذاکراتی دور کو مستقبل کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا تھا۔ پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کے ایک بیان کے مطابق امریکہ پاکستان سے کثیر الجہتی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہے۔ بین السطور اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ کیا امریکہ کو بھی اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے یا صرف پاکستان کو ہی احکامات دیے جانے سے افغانستان کا امن واپس آسکتا ہے؟

16اکتوبر2017ء کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں شروع والا امن مذاکرات دور کو اہمیت کا حامل قرار دیا گیا تھا۔مسقط میں ہونے والے چھٹے چار فریقی مذاکرات میں امریکہ، چین،افغانستان اور پاکستان شامل تھے جس میں پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کی۔پاکستان اور چین کی کوششوں سے امریکا اس مذاکراتی میں عمل دوبارہ شامل ہوا۔ ملا اختر منصور کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد پہلی مرتبہ امریکا اس کانفرنس میں شریک ہوا گو کہ اس سے قبل کئی دور منعقد کیے جا چکے ہیں لیکن کسی بھی مذاکرات کے عملی دور کے دور رس نتائج سامنے نہیں آ سکے اور ہر مذاکراتی دور جمود یاکابل-امریکہ ہٹ دھرمی کا شکار ہواہے۔ اس کی بنیادی وجوہات کئی ہیں لیکن اس میں امارات اسلامیہ افغانستان(افغان طالبان) کو امن مذاکرات کے عمل سے باہر رکھنا بھی اہم وجہ رہی ہے۔ افغان طالبان افغانستان کے اہم اسٹیک ہولڈر ہیں۔ اہم ترین مذاکراتی عمل سے انہیں باہر رکھ کر افغانستان میں امن بھلا کس طرح لایا جا سکتا ہے؟ مسقط میں منعقد ہونے مذاکراتی عمل کی اہمیت دوچند اس حوالے سے بھی ہے کہ پاک-امریکہ تعلقات کشیدگی کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ ان حالات میں کابل حکومت اہم افغان طالبان کمانڈرکی گرفتاری کا دعویٰ کرتی ہے تو سابق افغان صدر امریکہ پر داعش کی سرپرستی کا الزام بھی لگاتے نظر آتے ہیں۔ روس نے بھی امریکہ پر داعش کی سرپرستی کرنے کا الزام عائد کیا جسے امریکہ نے رد کرتے ہوئے مغربی میڈیا میں افغان تنازع کے اہم فریق روس پر الزام عائد کیا کہ روس افغان طالبان کو اسلحہ فراہم کررہا ہے، جسے روس کے ساتھ ساتھ افغان طالبان نے بھی سختی سے مسترد کردیاہے۔ امارات اسلامیہ افغانستان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مسقط کانفرنس کے حوالے سے واضح طور پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ "نہ ہی ہمیں ان مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے اور نہ ہی ہم سے مشورہ کیا گیا ہے۔ہمارا ان مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں۔ہم اپنی سرزمین کی آزادی کے لیے لڑتے رہیں گے اور امریکہ کی نئی جنگی پالیسی کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔"

مسقط کانفرنس کے حوالے سے یہ اہم نکتہ ہے کہ افغانستان کے اہم ترین فریق کی موجودگی کے بغیر کسی بھی مذاکرات کا منعقد کیے جانا بذات خود ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ گو کہ افغان طالبان اپنی شرائط اور امن مذاکرات کے حوالے سے تجاویز سے آگاہ کرتے رہتے ہیں اور بذریعہ ذرائع ابلاغ اپنے مطالبات بھی دہراتے ہیں لیکن امن مذاکرات کے عمل سے انہیں دُور رکھ کر افغانستان میں امن کے کسی فارمولے کو کامیاب بنانا انتہائی دشوار گزار اور ناممکن عمل ہے۔ یہ تو ظاہر کرتا ہے کہ بزور طاقت کسی فریق کو دبَانے کی کوشش ہے۔ افغانستان سے جڑے متاثرہ ملک اپنی مملکت کے حوالے سے کوئی فیصلہ تو کرسکتا ہے لیکن افغان طالبان پر دباؤ‎ نہیں ڈال سکتا۔ افغان عوام نے 38برسوں کی جنگ میں ہزاروں افراد کی قربا نیاں دی ہیں۔ سوویت یونین سے لیکر موجودہ حالات تک دنیا کی بڑی استعماری طاقتیں افغان عوام کو سرنگوں نہیں کرسکیں، افغان طالبان کی جنگ آزادی کسی ملک کی خواہش نہیں بلکہ ان کا حق ہے جس کے لیے افغان عوام مزاحمت کررہے ہیں اور امریکہ تسلیم کرچکا ہے کہ وہ افغان طالبان کو شکست دینے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

امریکی کانگریس ٹرمپ انتظامیہ کی نئی افغان پالیسی کے تحت طویل المدتی جنگ کی اسٹریٹجی سے بھی مطمئن نہیں ہے۔ امریکی وزیر دفاع بھی امریکی کانگریس کو مطمئن کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ امریکہ اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر گرا کر خود کو بری الذمہ کرنا چاہتا ہے لیکن پاکستان کے ساتھ چین، سوویت یونین نے پاکستانی موقف کی کھلی حمایت کرکے امریکی صدر کی اشتعال انگیزی کو لگام دی۔ امریکا سمجھتا ہے کہ پاکستان کے پاس امارات اسلامیہ سے شرائط منوانے کی جادوئی چھڑی ہے۔ اس غلط فہمی کو پاکستان کئی بار دور کرنے کی کوشش کرچکا ہے کہ امارات اسلامیہ یا کسی دوسری افغان مزاحمتی گروپ پر پاکستان کا ماضی کے مقابلے میں اثر و نفوذ کم ہوچکا ہے۔ پاکستان کوشش کرتا رہا ہے اور کوشش کرتا رہے گا، لیکن اہم مسئلہ یہ ہے کہ جب بھی پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے کام کیا، امریکہ نے اس عمل کو ناکام بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

عالمی ذرائع ابلاغ افغان طالبان کے اس دعوے کی تصدیق کرتے ہیں کہ افغانستان کے پچاس سے ساٹھ فیصد حصے پر افغان طالبان کی عملداری ہے۔بقایا چالیس پچاس فیصد حصہ بھی کابل حکومت کے مکمل زیر اثر نہیں ہے۔ افغان سیکورٹی فورسز کو آزادنہ نقل و حرکت میں مسلح مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کابل حکومت افغانستان کے کسی حصے سے متعلق دعوی ثابت نہیں کرسکتی کہ وہاں مکمل طور پر حکومتی رٹ قائم ہے۔ یہاں تک کہ کابل کا صدراتی محل بھی غیر محفوظ ہے۔ اس صورتحال میں کسی امن مذاکراتی عمل میں امارات اسلامیہ کو باہر رکھ کر کیونکر یہ نتیجہ اخذ کرلیا جاتا ہے کہ ان سے من پسند شرائط پر کامیابی حاصل کرلی جائے گی؟

افغانستان میں امریکی جارحیت کے خلاف مختلف گروپ مسلح مزاحمت کررہے ہیں۔ امریکہ کو یہ غلط فہمی ہے کہ افغانستان میں مختلف دھڑوں کو پاکستان یکجا کرکے انہیں جنگ سے روک سکتا ہے۔ امریکا کے نزدیک حقانی نیٹ ورک کی" ڈور"پاکستانی حساس اداروں کے ہاتھوں میں ہے۔ حالاں کہ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ سوویت یونین کے دستوں کے خلاف لڑنے والے کمانڈر جلال الدین حقانی نے سن 80کی دہائی میں امریکی حمایت حاصل کی تھی۔سن95میں اسی نیٹ ورک نے افغان طالبا ن کے ساتھ اتحاد کیا جس کے بعد افغان طالبان نے سن96میں حقانی نیٹ ورک کی مدد سے کابل پر قبضہ کرلیا تھا۔ افغان طالبان حکومت نے جلال الدین حقانی کو قبائلی امور کا وزیر بنا دیا، سن 2001تک اس منصب پر فائز رہے۔ جلال الدین حقانی افغان طالبان کے معتبر ترین رہنما تصور کیے جاتے رہے ہیں۔اس وقت امارات اسلامیہ کے نائب امیر جلال الدین حقانی کے صاحب زادے سراج الدین حقانی ہیں۔امن مذاکرات کے حوالے سے سراج الدین حقانی اپنے ایک صوتی پیغام میں واضح کہہ چکے تھے کہ" امن کے حوالے سے امارات اسلامیہ نے کبھی انکار نہیں کیا"۔ اب جا کرجب امریکہ کے مفادات افغانستان میں تبدیل ہوئے تو امریکہ سن 2012میں حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہوئے پاکستان کے خلاف بھی کمر بستہ ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   افغانستان میں بھارتی عزائم - آصف خورشید رانا

اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ حقانی نیٹ ورک نے جتنا نقصان امریکی مفادات کو پہنچایا ’کسی دوسرے گروپ نے نہیں دیا۔جلال الدین حقانی افغانستان کے صوبے پکیتیا میں1939کو پیدا ہوئے اور انھوں نے اپنی تعلیم اِس وقت کے پاکستان میں موجود اکوڑہ خٹک کے اُس حقانیہ مدرسے سے حاصل کی، جہاں سے امارات اسلامیہ کے کئی رہنما مذہبی تعلیم حاصل کرچکے ہیں اور ان کی ہمدردیاں امارات اسلامیہ کے ساتھ ڈھکی چھپی بھی نہیں ہیں۔جلال الدین حقانی نے افغانستان میں سوویت یونین کی جارحیت کے خلاف مزاحمت کی۔ جس کا اعتراف و توصیف امریکہ کئی بار کرچکا ہے لیکن اب جبکہ خود امریکہ، افغانستان میں جارح ہے تو یہی نیٹ ورک امریکہ کی ڈکشنری میں دہشت گرد قرار پا چکا ہے۔حقانی نیٹ ورک افغانستان میں رہ کر ہی امریکی جارحیت کے خلاف سرز مین افغانستان کی آزادی کے لیے مصروف عمل ہے۔ امارات اسلامیہ کے استعاری ترجمان کا نام جلال الدین حقانی کے بیٹے نصیر الدین حقانی نے" ذبیح اللہ" کے نام سے آج بھی استعمال کیا جاتا ہے، جو نصیر الدین حقانی کے انتقال کے بعد بھی اُن سے منسوب چلا آرہا ہے۔

جلال الدین حقانی، نصیر الدین حقانی کی وفات کے باوجود موجودہ نائب امیر امارات اسلامیہ سراج الدین حقانی ہیں۔ سراج الدین حقانی کو جلال الدین حقانی نے اپنی زندگی میں ہی اپنی علالت کے سبب حقانی نیٹ ورک کا سربراہ بھی مقرر کردیا تھا۔ سراج الدین حقانی نے پشاور میں تعلیم حاصل کی اور اپنا بچپن میران شاہ میں گزارا۔ شیخ الحدیث ملا ہیبت اللہ اخند زادہ کے ہاتھوں بیعت کرکے انھوں نے ان افواہوں کو ختم کردیا تھا کہ سراج الدین حقانی، ملا عمر مجاہد کے صاحب زادے ملا یعقوب کے ساتھ ملکر الگ گروپ بنا رہے ہیں۔ لیکن دونوں شخصیات نے ملا ہیبت اللہ اخند زادہ کے ہاتھوں بیعت کرکے تمام پروپیگنڈوں کو رد کردیا۔جلال الدین کے متعدد بیٹوں میں ایک بیٹا انس حقانی اس وقت افغانستان کی جیل میں سزائے موت کی سزا میں اسیر ہیں۔ پاکستان نے آپریشن ضرب عضب میں تمام گروپوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی اور میران شاہ میں حقانی نیٹ ورک کے اُن مبینہ پوائنٹس کو بھی پاکستان سے ختم کردیا جن پر انگلیاں اٹھائی جاتی رہی تھی۔ آپریشن رد الفساد کے تحت ملک گیر سطح پر کومبنگ کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔گزشتہ دنوں انس حقانی کی رہائی کے لیے اغوا کیے جانے والے کینیڈین شہریوں کو پاکستانی فورسز نے پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے رہائی دلائی، جس سے ثابت ہوا کہ پاکستان نے حقانی نیٹ ورک کو اپنی سرز مین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اگر مغویوں کی رہائی بحفاظت نہیں ہوتی تو پاکستان کے خلاف امریکہ کا رویہ مزید تلخ ہوجاتا اور اِسے اپنے جارحانہ منصوبے کی سازشوں میں استعمال کرسکتا تھا۔ اپنی خفت مٹانے کے لیے صدر ٹرمپ نے ڈومور مطالبہ پورا کرنے کی غیر ذمہ دارانہ ٹویٹ کی۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ پاکستان نے اپنی سرزمین کے خلاف ہونے والی ایک ایسی سازش کو ناکام بنایا ہے۔ جس کی گرہیں وقت کے ساتھ ساتھ کھلتی چلی جائیں گی۔مغویوں کی رہائی میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ مہارت اور کیپٹن حسنین اور تین اہلکاروں کی تین مختلف بم دھماکوں میں شہادتوں نے ثابت کیا کہ پاکستانی فورسز اپنی سرز مین کی حفاظت کے لیے قیمتی جانوں کی قربانی دے رہا ہے، جس کا اعتراف اقوام عالم کرتی ہے۔ تاہم افغانستان کے ان گروپوں کے خلاف پاکستان کا اثر نفوذ ماضی کے مقابلے میں کافی کم ہوچکا ہے۔ اگر عالمی رائے عامہ کو مد نظر رکھا جائے تو متحدہ امارات کا نفوذ حقانی نیٹ ورک پر موجود ہے۔

مسقط کانفرنس کا مقصد افغانستان میں امن کے قیام کے حوالے سے نئے لائحہ عمل کو ترتیب دینا بتایا جا رہا تھا۔ قیام امن کے اس نئے روٹ میں افغانستان کے اہم اسٹیک ہولڈر امارات اسلامیہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے امریکا کو لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔جس کا بادی النظر میں اب بھی کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے انہدام کے بعد امریکہ نے ـ" آپریشن اینڈیورنگ فریڈم"کے نام سے 7اکتوبر2001سے افغانستان میں بمباریوں کا سلسلہ شروع کیا اور افغان طالبان جو کہ جدید جنگی ساز وسامان سے محروم تھے اور سوویت یونین کے جانے کے بعد ملک میں خانہ جنگی کے خاتمے اور ریاست کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی کوشش کررہے تھے، عالمی تاریخ کی شدید ترین کارپیٹنگ بمباری میں عوا م کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے حکمت عملی کے تحت پسپا ہوگئے اور امریکی، نیٹو فورسز کے خلاف افغانستان کی زمین پر دوبدو گوریلا جنگ لڑنے کی تیاریاں شروع کردیں۔افغانستان میں امریکی جارحیت کے بعد 5دسمبرسن2001ء کو پیٹرزبرگ کانفرنس میں افغانستان کے چار بڑے نسلی گروپوں کی حمایت حاصل کرکے حامد کرزئی کو افغانستان کا ’کٹھ پتلی صدر ‘بنانے پر اتفاق کرلیا گیا۔22دسمبر2001ء کو جرمن پارلیمان نے اقوام متحدہ کے بینر تلے امریکہ منصوبے"مشن فریڈم"میں شمولیت کرتے ہوئے انٹرنیشنل سیکورٹی اسٹس فورس( ایساف) میں اپنی فوجیں بھی بھیج دیں۔جرمن فوج کو افغان طالبان کے جوابی ردعمل کا زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور 6مارچ2002سن کو جرمن فوجی ہلاک کردیا گیا۔ 7جون سن2003ء کے فدائی حملے میں جرمن فوج پر پہلا حملہ کیا گیا جس میں چار فوجی ہلاک اور 29زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:   ڈرون حملوں میں تیزی کیوں؟ ارشدعلی خان

افغان طالبان، زمینی جنگ میں مصروف ہوگئے اور دوسری جانب امریکی کی بنائی گئی کٹھ پتلی حکومت نے جنوری2004میں نیا آئین بنا کر صدارتی نظام کے تحت انتخابات کی راہ ہموار کی جس پر اکتوبرسن2004میں حامد کرزئی نے"فتح"کا جشن منایا۔سن2004کے مہینے مارچ میں برلن کانفرنس کا انعقاد کرکے کابل حکومت کی تعمیر نو کے نام پر امداد کے لیے8. 2ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا گیا، جس میں جرمنی کی طرف سے 80 ملین یورو کی بھاری رقم دینے کا اعلان بھی تھا جو ایساف دستوں کو مضبوط بنانے کے عزم سے جڑا ہوا تھا۔افغانستان کے لیے 21جنوری سن 2006ء کو لندن کانفرنس میں دوبارہ پانچ سالہ منصوبے کے تحت10.5ارب ڈالر دینے کا علان ہوا۔ جس کے بعد سیکورٹی کے نام متعدد کانفرنسوں کا انعقاد ہوتا رہا۔ افغانستان میں سیکورٹی کے نام امریکی کٹھ پتلی حکومت پر اربوں ڈالرز کی بارشیں برستی رہی اور افغانستان میں عام شہری ایساف کارروائیوں کا نشانہ بنتے رہے جس میں ایک بڑا واقعہ 4ستمبر سن2009میں ایک بمباری کے نتیجے میں تقریباً 100سے زائد بے گناہ نہتے افغانی شہریوں کی ہلاکت تھی جس کے بعد جرمن کی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور وزیر دفاع نے دباؤ‎ و احتجاج کے سبب استعفیٰ دے دیا تھا۔ افغانستان میں امن کے بجائے استعماری قوتیں اپنی مفادات کی پالیسیاں بناتی ہیں۔ انہی پالیسیوں کے منکشف ہونے پر21مئی سن2010کو جرمن صدر ہورسٹ کوہلر کو استعفیٰ دینا پڑا جب انھوں نے اعتراف کیا کہ" افغانستان میں جنگ جرمن اقتصادی مفادات کی وجہ سے لڑی جا رہی ہے"۔

افغانستان کی جنگ عالمی استعماری قوتوں کے لیے اقتصادی طاقت کے حصول کی جنگ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب جرمن صدر افغانستان میں اپنی فوجیوں کو اقتصادی مفادات کی جنگ کا بیانہ دے رہے تھے تو اقوام عالم سمجھ چکی تھی کہ استعماری قوتوں کو افغانستان میں امن سے نہیں بلکہ اپنے مفادات سے دلچسپی ہے۔19جولائی سن2010ء کو کابل شہر میں نیٹو ممالک کے وزرائے خارجہ نے افغانستان میں اپنی مسلسل شکست کو دیکھ کر فیصلہ کرلیا کہ سن2014 کے بعد افغانستان سے غیر ملکی افواج واپس چلی جائیں گی۔18ستمبر سن 2010 کو افغانستان کے پارلیمانی انتخابات میں شدید دھاندلیوں اور واضح اکثریت سے فیصلہ نہ ہونے کے باوجود صدر کرزئی کو کابل کا صدر قرار دے دیا گیا۔اسی دوران 2مئی سن 2011 کو اسامہ بن لادن کو امریکی فوجی آپریشن کے نتیجے میں مبینہ طور پر ایبٹ آباد میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کردیا گیا۔ امریکی صدر اس خفیہ آپریشن کی ساتھیوں سمیت براہ راست نگرانی کرتے رہے۔تاہم اسامہ بن لادن کی ہلاکت آج بھی ایک افسانوی کردار کی طرح افوہوں کی زد میں ہے اور قیاس آرائیوں کو تقویت پہنچانے میں امریکی کردار موضوع بحث ہے کہ اسامہ کو زندہ کیوں گرفتار نہیں کیا گیا؟ حالاں کہ وہ نحیف و بیمار بھی بتائے گئے نیز اس کے جسم کو ان کے لواحقین کے حوالے کیوں نہیں کیا گیا؟۔ امریکہ، پاکستان تعلقات میں ایبٹ آباد آپریشن کے بعد مزید تلخیوں اور عدم اعتماد میں اضافہ ہوا۔ ہنوز جسٹس (ر)جاوید اقبال کی ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ مخفی رکھی ہوئی ہے اور واقعے کے اصل محرکات کی وجوہات اور ذمے داران کے تعین سے پاکستانی قوم بھی اندھیرے میں ہے۔

افغانستان میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد بھی لاحاصل جنگ کے دس برس مکمل ہونے پر 5دسمبر سن2011کو دوسری عالمی بون کانفرنس منعقد کی گئی۔ جس میں افغانستان کے لیے سن2024تک مالی امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ حامد کرزئی نے اصلاحات، کرپشن کے خامت اور جمہوریت کے قیام کو مستحکم کرنے کے کھوکھلے وعدے کیے۔18جون سن 2013 کے دن کابل حکومت کے صدر حامد کرزئی نے ملک بھر کے تحفظ کے لیے افغان فورسز کے ہاتھوں ذمہ داریاں دینے کے اعلان کیا گیا، لیکن افغانستان میں امن کے یہ کھوکھلے دعوے اُسی دن ایک کابل میں بڑے فدائی حملے میں ہوا ہوگئے اور حامد کرزئی ملک میں امن قائم کرنے کے دعوے کو ثابت نہیں کرسکے۔

اس وقت افغانستان میں بظاہر نیٹو کے جنگی مشن کا خاتمہ ہوچکا ہے، اربوں ڈالرز کی مالی امداد اافغان عوام کے فائدے کے بجائے کرپشن کی نظر ہو رہے ہیں لیکن بہتر مستقبل کے لیے افغانستان میں امن ڈالرز کی بارشیں اقتدار پر متمکن افراد پر برسانے سے نہیں آسکتا۔ افغانستان کو حقیقی آزادی اور خود مختاری کی ضرورت ہے۔ قیام امن کے حوالے سے تمام کانفرنس صرف اسی وجہ سے ناکام ہو رہی ہیں کیونکہ افغانستان کی معدنی دولت و ذخائر پر استعماری طاقتوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔افغانستان میں امن فارمولے میں اہم اسٹیک ہولڈر کی اہمیت کو تسلیم نہ کرنا اور بزور طاقت دبانے کی امریکی 17برسوں کی کوشش ناکام ہوچکی ہے۔امریکہ 40ممالک کی لاکھوں فوجیوں کی مدد سے بھی امن قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اب پاک-چین کے اہم اقتصادی انقلابی منصوبے سی پیک کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان کو اپنی مرضی و منشا کے تحت استعمال کرنے کی ناکام خواہش نے امریکا کو جھنجلاہٹ میں مبتلا کردیا ہے۔اقوام عالم اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ افغانستان میں مستقل قیام امن کے لیے کابل حکومت کے علاوہ افغانستان کی اصل قوت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کچھ لو، کچھ دو کی پالیسی کے تحت ہی ہوسکتے ہیں۔ لیکن امریکہ صرف لوٹنے اور ڈومور کا عادی رہا ہے۔ جانتے بوجھتے افغانستان کی جنگی دلدل میں اپنے زمینی حقائق سے عاری فیصلوں سے پورے خطے کی سلامتی کے لیے مشکلات پیدا کررہا ہے۔ افغانستان میں امن کے پائیدار و مستقل قیام کے لیے دراصل امریکہ کواپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ جس کے بعد ہی خطہ پُر امن ہو سکے گا۔