"شادی روز روز نہیں ہوتی" - محمد طاہر مرسلین

"شادی روز روز نہیں ہوتی "، اس ایک جملے کی آڑ میں آپ جو بھی کریں سب جائز لگنے لگتا ہے۔ لڑکی دیکھنے جائیں گے تو سو طرح سے لڑکی کو دیکھیں گے، چلا کے بٹھا کے، قد ناپا جائے گا، گول روٹی بھی چاہیے ہوتی ہے اور تعلیم بھی ڈاکٹری سے کم گوارا نہیں کی جاتی۔ اب آپ اگر کہہ دیں کہ آپ ایسا مت کریں تو پھر ‘‘شادی ایک بار ہوتی ہے‘‘ کا ورد شروع ہو جاتا ہے۔

ہمارے ہاں شادی ایک تہوار بن چکا ہے جس کو دھوم دھام سے منایا جانا ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ اچھے خاصے مذہبی لوگ بھی شادی کے موقع پر اس دھوم دھڑکے میں شرکت کرتے ہیں یا محض خاموشی میں عافیت جانتے ہیں اور اگر کوئی مزاحمت کی کوشش کرے تو اس کے لبوں کو ’’شادی ایک ہی بار ہوتی ہے، روز روز نہیں’’ کی ٹیپ سے بند کر دیا جاتا ہے۔

آپ ہزار دلیلیں دے دیں لیکن سچائی یہی ہے کہ آپ اپنے بچے کے لیے ایسے دلہن نہیں چنیں گے، جو طلاق یافتہ، بیوہ، غریب یا عمر میں زیادہ ہو کیونکہ "شادی ایک بار ہوتی ہے۔ " آپ جس بات کو اپنے لیے پسند نہیں کرتے اس کی دوسروں سے توقع رکھنا ایک سنگین حماقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں کسی لڑکی کی عمر 30 سال سے بڑھتی ہے تو لڑکی کے ماں باپ ہمت ہار جاتے ہیں کہ اب کوئی اچھا رشتہ نہیں ملے گا اور لڑکی جو پہلے ہی اس معاشرے میں بہت کچھ برداشت کر رہی ہوتی ہے، مایوس ہو جاتی ہے۔ ایک کنواری لڑکی کا رشتہ کرنا مشکل ہو چکا اور خدا نہ کرے کسی کی بہن بیٹی کو طلاق ہوجائے یا وہ بیوہ ہو جائیں تو سوچیے اس کو دوبارہ کسی گھر میں بسانا کس قدر دشوار کام ہوگا؟ ہمارے معاشرے میں اکیلی عورت والے گھر کو تو بُری نظروں سے دیکھا جاتا ہے لیکن اس عورت کا سہارا بننا گوارا نہیں کیا جاتا، اور کرے بھی تو کیسے؟ کہ " شادی ایک بار ہوتی ہے روز روز نہیں "جو کسی کی مدد کے غرض سے کر لی جائے۔

اب سوال یہ ہے کہ پھر ان عورتوں کو سہارا کون دے گا؟ ان کے سر پر ہاتھ کون رکھے گا؟ ان خواتین کا کیا قصور ہے کہ ان کو ساری زندگی بنا گھر بسائے گزارنی پڑے؟ کیا یہ خواتین پر ظلم نہیں؟ کیا یہ ان کا استحصال نہیں؟ ہمارا معاشرہ پہلے ہی ہندوانہ رسوم و رواج میں ایسا جکڑا ہوا ہے کہ دوسری شادی کرنے کو بد کرداری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس پر ستم یہ کہ ریاست قانون ایسے بنا دے جس میں دو شادیوں کا امکان ہی ختم ہوجائے اور یوں وہ بھی ’’شادی کون سا روز روز ہوتی ہے’’ والی دلیل کو مزید تقویت بخشے۔

چند روزقبل ایک شخص کو 6 ماہ کی قید سنا دی گئی ہے کیونکہ اس شخص نے پہلی بیوی کی رضامندی کے خلاف دوسری شادی کی تھی۔ اس مسئلے کے مذہبی پہلوؤں کو فی الوقت نظر انداز بھی کردیا جائے تب بھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سے کس عورت کے حق کا تحفظ ہوا؟ جس نے شوہر کو سزا دلوائی یا اس عورت کے جس کے شوہر کو آپ نے مجرم بنا دیا، جس کو اب کہیں نوکری بھی نہیں ملنے کی؟ جس عورت نے سزا دلوائی کیا اس کو وہ شخص گھر میں رکھے گا؟ تھانے کچہری سے ڈرا کر رکھوا بھی لیں تو کیا تب بھی وہ ایک خاندان بن پائے گا؟ آپ نے اس قانون سے دونوں ہی عورتوں کا استحصال کیا اور ایک خاندان کو بچانے کی بھونڈی کوشش میں دو خاندان تباہ کردیے اور یہ پیغام بھی دیا کہ آپ شادی کر کے کسی گھر نہ بسائیں بلکہ شادی کے بنا جو جی میں آئے کریں، کیونکہ اس پر نہ بیوی سزا دلوا سکتی ہے اور نہ کوئی حکومت۔

شادی صرف ایک بار نہیں ہوتی یہ کئی بار ہو سکتی ہے اور اس پر صرف حد اللہ نے مقرر کی ہے اور وہ یہ ہے کہ4 سے زائد نہیں کریں گے اور سب کے ساتھ انصاف کریں گے۔ اگر انصاف نہ کرنے کا اندیشہ ہو تو ایک ہی کافی ہے۔ اس کے علاوہ اگر ریاست کوئی قانون بنائے گی تو وہ کسی مرد و زن کے لیے خیر کا باعث نہیں ہو سکتا۔

نہ جانے کیوں ہم اپنے خاندانی نظام کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں؟ تمام مسالک اس مسئلے پر متفق ہیں کہ بیوی کی رضا دوسری شادی کے لیے شرط نہیں۔ اگر قانون بنانا ہے تو یہ بنایا جائے کہ شوہر کو پابند کیا جائے کہ اگر وہ ایک یا ایک سے زیادہ شادی کرتا ہے تو اس کے نان نفقے کا بندوبست کرے یا پہلے ظاہر کرے کہ وہ ایک معاشی طور پر اتنا مضبوط ہے کہ وہ ایک سے زائد بیوی کے حقوق پورے کر سکتا ہے۔ بجائے اس کے کہ ایک جائز کام کو ہی جرم بنا دیا جائے کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ ’’شادی ایک بار سے زائد بھی ہو سکتی ہے’’۔

وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا ﴿004:003﴾

اور اگر تم کو اس بات کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان کے سوا جو عورتیں تم کو پسند ہوں دو، دو یا تین، تین یا چار، چار ان سے نکاح کر لو۔ اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ (سب عورتوں سے) یکساں سلوک نہ کر سکو گے تو ایک عورت (کافی ہے) یا لونڈی جس کے تم مالک ہو۔ اس سے تم بے انصافی سے بچ جاؤ گے۔