رنگیلوں کے دیس کے رنگیلے راجے - خالد ایم خان

رنگیلے کا نام جب بھی زبان پر آتا ہے تو ان کی حرکتیں یاد آ جاتی ہیں اور بے اختیار لبوں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ کمال کے فن کار تھے۔ 60ء کی دہائی میں پاکستان فلم انڈسٹری کے اداکار اپنی کرشماتی کارکردگی کے بل بوتے پر پورے برصغیر پر چھائے ہوئے تھے۔ منور ظریف، ننھا اور رنگیلا، میرے پاس وہ الفاظ نہیں جو ان تین 'کامیڈی کنگز' کی لازوال کارکردگی کا احاطہ کر سکیں۔ بلاشبہ اپنے فن کے ایسے استاد، جن کے لازوال کردار آج بھی ہمارے ذہنوں میں زندہ ہیں۔ رنگیلے کا نام آتے ہی میں رہ نہیں پایا اور دل کے ہاتھوں مجبور ہوں کہ پہلے ان رنگیلے بادشاہوں کے بارے میں بھی کچھ نہ کچھ لکھوں۔

ان میں سے پہلا ایسا رنگیلا تھا جو ایک وقت میں ہندوستان کا بادشاہ تھا۔ جی ہاں!فرمانروا ہند محمد شاہ عرف رنگیلا۔ مغلیہ سلطنت کا یہ حکمران عجب طبیعت کا مالک تھا، بھرے دربار میں ننگا چلا آتا تھا، بعض دفع توننگ دھڑنگ کنیزیں بھی اپنے ساتھ دربار میں لے آتا تھا۔ معمولی باتوں پر وزیروں کو گھوڑوں کے اصطبل میں بندھوا دینا اور گھوڑے کو خلعت فاخرہ عطا کرکے وزیروں میں شامل کردینے جیسے احکامات جاری کیا کرتا تھا۔ بھرے دربار میں درباری وزراء کے اوپر سر عام پیشاب کردیا کرتا تھا اور درباری وزراء بادشاہ سلامت کے پیشاب میں لُتھڑ جانے کے بعد دربار میں کورنش بجا لاتے اور "ظل سبحانی کی خیر ہو" کے فلک شگاف نعرے بلند کیا کرتے تھے۔ پھر رنگیلے کے خوشامدی وزیر بھی اُس کی تقلید میں اپنے کپڑے اُتار دیا کرتے تھے۔ جس کسی کا دل چاہتا نذرانے کے طور پر ایک عدد لڑکی پیش کرکے بادشاہ سلامت سے کچھ بھی لکھوا لیا کرتا تھا۔ برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس رنگیلے شاہ کو انہی حرکات کو کافی کیش کیا اور ہندوستان کے کئی بڑے اور انتہائی اہم علاقوں کی زمینیں اپنے نام کروالیں، اور کمپنی ہندوستان میں اپنے خونی پنجے گاڑنے میں کامیاب ہوئی۔ یہ رنگیلا شاہ عیاش ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی ظالم اور خود غرض بھی تھا۔ اس شخص کے بارے میں اور کیا لکھوں کہ جس کے بارے میں پڑھ کر سمجھ آئی کہ آخر عظیم مغلیہ سلطنت کے زوال کے اسباب کیا تھے۔ یہی وہ اسباب تھے، یہی وہ عیاشیاں تھیں، عوام سے دوریاں تھیں، جن کی وجہ سے وقت نے اوردنیا نے عظیم مغل حکمرانوں کی اولادوں کو دلّی کی سڑکوں پر بھیک مانگتے دیکھا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا تاج محل ہندوستانی تہذیب کا حصہ نہیں ہے؟ رام پنیانی

سلسہ یہیں نہیں تھما، ہمارے ہاں پھر رنگیلا پیدا ہوا، جس کی آنکھوں کو جنرل رانی نے خیرہ کر دیا تھا۔ افسوس کہ ایک طرف ہزاروں جوانوں کے باوجود جنرل اے کے نیازی دشمن افواج کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے تودوسری طرف ملک کا یہ حکمران صبح ایوان صدر کے سوئمنگ پول میں ننگ دھڑنگ بے ہوشی کے عالم میں پایا جاتا ہے۔ اللہ کا عذاب تو اس ملک پر آنا ہی تھا۔ بڑے دکھ اور کرب کے عالم میں یہ لکھ رہا ہوں کہ صرف پانچ سال پہلے1965ء کی جنگ میں دشمن کے اوپر دھاک بٹھانے والوں اور اپنی ہیبت طاری کرنے والوں کو کیا ہو گیا تھا؟ یہ ایک ایسی کڑوی سچائی ہے جسے میں آج تک ہضم نہیں کرپا رہا۔ بس اتنا جانتا ہوں کہ اگر ایمان ہے دل میں تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔ اس وطن کی خاطر لڑتے تو یقیناً آج حالات کچھ اور ہوتے اور تاریخ کے پنّوں میں ان کا نام سُنہرے حروف میں لکھا جاتا لیکن ، مُلک خداداد دولخت ہوئی،دل ٹوٹے، سوچا کہ شاید جو بچا ہے اب اسے بنا سنوار کر محبت اور لاڈ سے پالیں گے لیکن تقدیر کے رنگ نرالے!

کہاں ایک رنگیلا اور کہاں رنگیلوں کی فوج ظفر موج! سابقہ دونوں کہانیوں میں ایک، ایک رنگیلا تھا اب تو حالات اس ڈگر پر ہیں کہ کیا حاکم، کیا محکوم؟ سب ہی رنگیلے بنے بیٹھے ہیں۔ آج ہمارے ہاں ہر آنے والا حاکم پچھلے سے بھی بڑھ کر رنگیلا ثابت ہو رہا ہے۔ بات یہیں نہیں ختم ہوتی بلکہ اب تو حالات بہت ہی گھمبیر ہو چلے ہیں۔ اس ملک کے بزنس مین بھی رنگیلے، بیوروکریسی میں بھی ایک سے بڑھ کر ایک رنگیلا، سیاستدان بھی رنگیلے، حتیٰ کہ عوام بھی رنگیلے۔ کیا رکشے ٹانگے والاتو کیا بس اور ویگن والا؟ کیا فروٹ کی ریڑھی لگانے والا تو کیا بوٹ پالش کرنے والا؟ سب ہی رنگیلے ہیں۔ اب ہم پر اللہ کا عذاب نہ آئے تو پھر کیا آئے؟

یہ بھی پڑھیں:   کراچی کہانی - جہانزیب راضی

اپنے گریبانوں میں صرف ایک، صرف اور صرف ایک، مرتبہ ضرور جھانک کر دیکھیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور ہماراکردار کیا ہے؟ کہیں ہمارے اعمال ایسے تو نہیں کہ ہمیں معافی بھی نہ ملے اور سوچیں اگر معافی نہ ملی تو پھر کیا ہوگا؟ ہمیں اپنے کردار اور اخلاص کو پرکھنا ہوگا،ہمیں خود کو بدلنا ہوگا،ہمیں اپنی اصلاح کرنا ہی ہوگی،ہمیں اپنے اندر سچ بات سُننے کا حوصلہ پیدا کرنا پڑے گا اور یہ بات یاد رکھیں کہ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔