ظلمتِ جہاں میں طلوع نور - نزہت وسیم

یہ بات سچ ہے کہ دنیا کی ہر چیز اپنی ضد کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے شدید گرمی میں ٹھنڈے پانی کی قدر وقیمت کا احساس ہوتا ہے اور سیاہ تاریک رات میں روشنی کی ایک کرن ہی اجالے کی قدر وقیمت کو اچھی طرح واضح کر سکتی ہے۔ نبی آخرالزماں صلی الله علیہ وسلم کے پیغام توحید اور تعلیمِ حکمت کے متعلق ہمارا عقید ہ ہے کہ آپ کی دعوت عظیم الشان روحانی، اخلاقی اور معاشرتی انقلاب کی بنیاد تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں یہ جاننے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ آخر ظہور اسلام اور بعثت نبوی صلی الله علیہ وسلم کے وقت دنیا کی حالت کیا تھی؟

نبی آخر الزماں محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم کی ولادت کے وقت دنیا کی اخلاقی، روحانی اور معاشرتی حالت تباہ ہوچکی تھی۔ سچے اور صحیح عقیدے کا کہیں وجود نہ تھا۔ دنیا کا ذرہ ذرہ توحید کی روشنی اور تعلیمات سے محروم تھا۔ کہیں سورج، چاند، ستاروں و سیاروں کو خدا مانا جاتا تھا تو کہیں انسانی ہاتھوں سے تراشے ہوئے پتھرکے بتوں اور مٹی سے بنائی مورتیوں کی عبادت کی جاتی تھی۔ سونے، چاندی سے معبود بنا کر ان کے سامنے سجدے کیے جاتے تھے۔ عبادت خانے انہی کے لیے بنائے جاتے اور انہی کے نام پر جانوروں کو قربان کیا جاتا۔ کہیں تو ان مذبح خانوں میں بے گناہ انسانی جانیں بھی بھینٹ چڑھا دی جاتیں۔

اس وقت دنیا میں اخلاق کے تین ہی معلّم تھے۔ رواتی، عیسائی اور بدھ مت کے پیروکار اور یہ تینوں ہی تجرّد، رہبانیت اور جوگی پن میں مبتلا ہوکر بے کار ہوچکے تھے۔ روئے زمین پر اہم طاقتیں دو ہی تھیں، فارس کا مذہب مجوسیت تھا جو عراق سے لے کر ہندوستان کی سرحد تک پھیلا ہوا تھا اور روم کا مذہب عیسائیت تھا جو یورپ، ایشیاء اور افریقہ تینوں براعظموں کو گھیرے میں لیے ہوئے تھا۔ اس کے علاوہ یہود اور ہنود بھی قدیم ترین ہونے کے دعویدار ہیں لیکن دنیا کی یہ تمام حکمران قومیں مذہبی اور اخلاقی طور پر مٹتے مٹتے سایہ بن چکی تھیں۔

مسلسل بغاوتوں، سفاکانہ خونریزیوں اور سیاسی بد امنیوں کی وجہ سے تباہ حال اور خستہ ہوچکی تھیں۔ حکمرانوں اور امراء کی عیاشی، خود غرضی، ظلم و ستم اور مال کی حرص نے سچائی اور خلوص سمیت ہر قسم کے اس اخلاقی جوہر کو فنا کردیا تھا جن سے قوم کی تعمیر ہوتی ہے سلاطین اور علمائے مذہب کے اخلاق کا اثر رعایا اور پیروکاروں پر پڑنا لازمی امر ہے۔ چنانچہ نتیجہ یہ نکلا کہ بد اخلاقی، خود غرضی، بے حسی، چور بازاری، اسراف اور ہوس پرستی عوام میں بھی سرایت کر گئی۔ لوگ ہر طرح کا ناجائز کام کرتے، حرام و حلال کی پروا کیے بغیر ناحق ظلم سے مال کماتے اور لہو و لعب اور عیاشیوں میں اڑا دیتے۔ کون سا جرم تھا جس کو کرنے میں یہ لوگ فخر محسوس نہ کرتے تھے۔

عربوں کی حالت یہ تھی کہ اگرچہ وہ قدیم زمانے سے ایک خدا پر یقین رکھتے تھے، الله کا لفظ ان کے لیے اجنبی نہ تھا کیونکہ ہمیشہ سے تمام انبیاء کی تعلیمات کی بنیاد توحید باری تعالیٰ رہی ہے۔ رفتہ رفتہ شرک کا اعتقاد پیدا ہوا اور ایک معبود کے ساتھ کئی اور چھوٹے چھوٹے خدا بنا لیے گئے۔ جن کے بغیر دنیا کا نظام چلنے کا تصور ہی نہیں تھا۔ فرشتوں کو الله کی بیٹیاں سمجھتے اور انہیں الله کے حضور اپنا سفارشی مانتے۔ جنوں کی الله تعالی سے رشتہ داری قائم کرتے اور اسی نسبت سے ان کو الله کے ساتھ عبادت میں شریک کرتے اور ان کی شرارتوں سے بچنے کے لیے ان کے نام کی قربانی کرتے تھے۔ پتھروں کی عبادت کے اس قدر شوقین تھے کہ جہاں کہیں خوبصورت پتھر مل جاتا اس کی پوجا شروع کردیتے اور اگر اس سے خوبصورت مل جاتا تو اسے پھینک کر نئے کو سجدے کرنے لگتے۔ قبیلہ خزاعہ کا ایک شخص عمرو بن لحی تھا۔ اس نے قبیلہ جرہم کو شکست دے کر بیت الله پر قبضہ کرلیا۔ ایک دفعہ بلقاء گیا وہاں لوگوں کو بتوں کی پوجا کرتے دیکھ کر بت پرستی پر مائل ہوگیا اور ایک بُت لا کر خانہ کعبہ میں نصب کر دیا۔ چونکہ وہ پورے عرب پر حکمران تھا اس کے اثرسے لوگوں نے بت پرستی کو قبول کرلیا اور گھر گھر بت بن گئے۔ ان میں ہبل بڑا بُت تھا پھر لات ومنات اور عزیٰ وغیرہ تھے یہاں تک کہ خانہ کعبہ اور اس کے اطراف میں تین سو ساٹھ بُت نصب کر دیے گئے۔ ان میں سے بعض کے ناموں کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے۔ بتوں کے علاوہ ستارہ پرستی، شیاطین اور بھوت پریت کی پوجا اور کہانت کی وبا بھی عام تھی۔ عجیب عجیب واہموں کی پیروی کی جاتی تھی۔ یہ تو مذہبی حالت تھی اور اخلاقی پستی کا عالم اس سے بھی بدتر تھا۔ معمولی باتوں پر لڑنا اور ایک دوسرے کا سرکاٹ لینا ان کے نزدیک کچھ حیثیت نہ رکھتا تھا۔ ہر قبیلہ دوسرے قبیلے سے ہر خاندان دوسرے خاندان سے برسر پیکار تھا۔ بچہ بچہ انتقام کا جذبہ لے کر جوان ہوتا تھا اور گھوڑا آگے بڑھانے اونٹ کو پہلے پانی پلانے جیسی معمولی باتوں پر نسل در نسل لڑائی کا سلسلہ چلتا رہتا تھا۔ شراب نوشی جو ہر قسم کے فسق و فجور اور ظلم و بدکاری کی جڑ ہے عام تھی۔ ہر گھر میں شراب خانہ تھا اور جو لوگ شراب نہیں پیتے تھےان کے نام حیرت سے لیے اور یاد رکھے جاتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ قمار بازی، سود خوری، لوٹ مار چوری اور ڈاکے جیسے خصائلِ بد عام تھے۔ رات دن کی لوٹ مار اور کشت و خون سے درندوں جیسے اوصاف پیدا ہوچکے تھے۔ زندہ جانوروں کے اعضا کاٹ کر کھا لیتے تھے۔ زنا اور فسق وفجور عام تھا اور یہ واقعات فخر سے اشعار کی صورت میں بیان کیے جاتے۔ شرم و حیا کا کوئی تصورنہ تھا۔ حج بیت الله میں ہزاروں، لاکھوں لوگ جمع ہوتے لیکن قریش کے سواباقی سب مردو عورت بالکل ننگے ہوکر طواف کرتے۔

عورتوں کی حالت انتہائی خراب تھی۔ ترکے اور جائیداد سے حصہ نہ ملتا، طلاق کے لیے نہ کوئی مدت تھی نہ عدت۔ جب مرد چاہتا نکاح کرلیتا اور جب چاہتا چھوڑ دیتا۔ دو حقیقی بہنوں سے نکاح کرلیتے اور باپ مرجاتا تو اس کی بیویاں یہاں تک کہ سوتیلی ماں بھی بیٹے کی جائز بیوی سمجھی جاتی۔ لڑکی پیدا ہوتے ہی اس کو میدان میں جا کر زندہ گاڑ دیتے۔ حرام و حلال کی کوئی تمیز نہ تھی۔ہر چیز اور جانور کھا جاتے۔ ان حالات میں رحمت کریمی جوش میں آئی۔ الله سبحانہ وتعالی نے مخلوق کی دلجوئی اور سُرخروئی کے لیے رحمت ِ عالم، راھبرِ اعظم سرور عالم صلی الله علیہ وسلم کو دنیا کی تاریکیوں میں امید کی روشنی اور نور کی کرن بنا کر بھیجا۔