جماعت اسلامی کی سیاست کے 47 سال - جہانزیب راضی

1970ء کے انتخابات کو پاکستان کی تاریخ کا شفاف ترین الیکشن کہا جاتا ہے۔ اس میں جس بھی سیاسی جماعت کی جو بھی صورتحال رہی ہو، جماعت اسلامی کے لیے یہ خاصی اہمیت کے حامل تھے۔ مولانا مودودی سمیت پوری قیادت کو یقین تھا کہ ہم ایک بہترین تعداد میں اسمبلی میں موجود ہوں گے، لیکن بد قسمتی سے نتائج نے جماعت اسلامی کو ہلا کر رکھ دیا۔ پورے ملک بشمول مشرقی پاکستان تک سے جماعت اسلامی محض چار نشستیں حاصل کر سکی تھی۔

فی الحال ہم نشستوں کو ایک طرف رکھ کر جماعت اسلامی کے ووٹ بینک پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ 70 کے انتخابات میں پورے ملک میں جماعت اسلامی کو 198461 ووٹ پڑے تھے۔ مشرقی پاکستان کی بیشتر نشستوں پر جماعت اسلامی عوامی لیگ کے بعد دوسری بڑی سیاسی جماعت تھی۔ جماعت اسلامی کو صرف مشرقی پاکستان سے 104،4137 ووٹ ڈالے گئے جبکہ اس کے مقابلے میں مغربی پاکستان سے 945،324 ووٹ پڑے۔ صوبہ سندھ سے جماعت اسلامی تیسر ی بڑی سیاسی طاقت تھی۔ آپ اس طاقت کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ جماعت اسلامی کے پروفیسر سلیم مغل صاحب کو حاکم علی زرداری کے مقابلے میں 35 ہزار ووٹ پڑے، اگرچہ وہ ہار گئے لیکن لوگوں کا جماعت اسلامی پر اعتماد دیدنی تھا۔ صوبہ سندھ میں جماعت کو پڑنے والے ووٹ 321،471 تھے، اور وہ محض 10 ہزار ووٹوں کے فرق سے تیسرے درجے پر تھی۔ صوبہ سرحد سے جماعت اسلامی کے مجموعی ووٹ 103،958تھے جو کہ 7 فیصد بنتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود جماعت اسلامی صوبہ سرحد سے خاطر خواہ نشستیں لینے میں ناکام رہی۔ جبکہ بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے تک سے جماعت کو 4،331 ووٹ ڈالے گئے۔ یہی وہ وقت تھا کہ جب جماعت کو اندازہ ہوا کہ اگر انتخابات متناسب نمائندگی سے ہوتے تو ہم اسمبلی میں خاصی نمائندگی لاسکتے تھے۔ کراچی میں جماعت اسلامی کی مہاجرین کی خدمت اور پڑھے لکھے لوگوں کا شہر ہونے کی وجہ سے 22 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ یاد رہے کہ اس وقت ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 25،730،280 تھی جبکہ اس الیکشن میں ٹرن آؤٹ 63 فیصد رہا تھا جو کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ تھا۔ لیکن

مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

1970ء کے بعد ہونے والے تمام ہی انتخابات میں جماعت اسلامی نے اپنی شناخت گم کردی اور اتحاد کی سیاست میں شامل ہوگئی۔ کبھی اسلامی جمہوری اتحاد، کبھی پاکستان اسلامک فرنٹ اور کبھی متحدہ مجلس عمل کے تجربات کے نتیجے میں جماعت اسلامی کے اپنے ہی لوگ اپنے نشان تک سے ناواقف ہوگئے۔ 2001ء میں متحدہ قومی موومنٹ کے بائیکاٹ اور پرویز مشرف صاحب کی کراچی سے وقتی محبت کے نتیجے میں جماعت اسلامی بڑی مشکلوں سے بلدیاتی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئی۔ 2002ء میں 11/9 کے واقعے، امریکا سے پاکستانیوں، بالخصوص دائیں بازو کے لوگوں، کی نفرت اور افغانستان کے مسلمانوں سے محبت اور تمام مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے نتیجے میں جماعت تقریباً 30 کے قریب نشستیں لینے میں کامیاب ہوئی۔ 2008ء میں مکمل بائیکاٹ اور اور 2013ء میں جز وقتی شرکت نے لوگوں کو جماعت اسلامی سے خاصا متنفر کر دیا۔ تقریباً 43 سال کے بعد جماعت کے لوگوں کو معلو م ہوا تھا کہ ہمارا کوئی نشان بھی ہے اور ہم اس پر تنہا انتخابات بھی لڑ سکتے ہیں۔ لیکن ابھی یہ حقیقت پوری طرح آشکار بھی نہیں ہوئی تھی کہ جماعت اسلامی نے اپنے اہم گڑھ کراچی سے بائیکاٹ کا اعلان کر کے پورے پاکستان میں بائیکاٹ کی فضا قائم کردی۔

پاکستان کی تاریخ کے 70 سال اور جماعت کی انتخابی سیاست کے 47 سالوں میں جماعت اسلامی کے کسی کونسلر تک پر ایک روپے کی کرپشن کا الزام نہیں ہے۔ اخلاقی اور جمہوری اعتبار سے جماعت اسلامی کا مقابلہ دور دور تک کوئی دوسری سیاسی تو کیا مذہبی جماعت بھی کرنے سے قاصر ہے، اور یہ بھی جماعت اسلامی کی کامیابی ہے کہ کبھی بائیکاٹ، کبھی اتحاد اور کبھی انتخابات کے نتیجے میں اسمبلیوں میں محض 3 سیٹیں رکھنے والی جماعت اسلامی گلی محلوں اور میڈیا میں بھی خاصی مضبوط ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر انتخابی سیاست میں جماعت سیٹیں نہ سہی ووٹ تو حاصل کرلے لیکن کیسے؟

2013ء کی گیلپ رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کو پورے ملک سے 949،394 ووٹ ڈالے گئے۔ مطلب پچھلے 43 سالوں میں الخدمت، سینکڑوں کنویں، بے شمار اسکولز اور خدمت خلق کے لاتعداد پروجیکٹس کے نتیجے میں جماعت محض 4070 ووٹوں کا اضافہ کر سکی، لیکن یہ بھی یاد رہے کہ 2013ء میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 7،619،4802 تھی جبکہ ٹرن آؤٹ بھی 53 فیصد سے زیادہ رہا تھا۔ پنجاب سے 25،792، سندھ سے 190،357، بلوچستان سے 704 ووٹوں کی کمی جبکہ خیبر پختون خواہ میں 300،937 ووٹوں کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔

اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، لیکن میرے نزدیک اس کی سب سے بڑی وجہ جماعت کا مایوس کارکن ہے۔ ہر عام اور ضمنی انتخاب کے بعد جماعت اسلامی کے تمام کارکنان سوشل میڈیا پر آ کر اپنے علم سے بھر پور اور سیر حاصل تجزیے اور تبصرے پیش کرتے ہیں، لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات ہی رہتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ جماعت کا کارکن ہے۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی سے کسی نے پوچھا کہ جماعت کی کمزوری کی بنیادی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ تو مولانا نے جواب دیا کہ "جب جماعت کا بدھ کا اجتماع کمزور ہو جائے گا"۔

جماعت کے کارکنان چھوڑیے، ارکان میں سے کتنے ہیں جو فجر کی نماز کا جماعت سے اہتمام کرتے ہوں، نمازیں بروقت مسجد میں ادا کرتے ہوں، نماز کے بعد رک کر لوگوں سے ہاتھ ملاتے ہوں، خیریت دریافت کرتے ہوں؟ دن میں چھوڑیں، ہفتہ بھی رہنے دیں، مہینے میں کتنے گھنٹے ہیں جو کارکنان جماعت اپنی تحریک کی دعوت کے لیے نکالتے ہیں؟ لوگ جماعت کے کارکنان کو "مرجع خلائق" سمجھتے ہیں؟ بلکہ کسی "لائق" بھی سمجھتے ہیں؟

تحریک میں آنے کے بعد سے جمعیت کی زندگی گزار نے کے بعد سے لوگوں کی "بیٹھکیں" مضبوط ہو گئیں، کاروبار ترقی کرنے لگے، جمعیت اور جماعت کے لوگوں نے مل کر کاروبار کیا اور زندگی پر آسائش ہوگئی۔ جماعت کے نام پر شروع کیے گئے اسکولز کی پانچ پانچ سو برانچز ہو گئیں لیکن جماعت کو کیا ملا؟ پانچ سو ووٹ؟ رشتے داریاں اور دوستیاں مضبوط ہوگئیں لیکن تحریک کمزور ہوگئی۔

دو بہترین تحریکی دماغ ملے، کاروبار کی ترقی کے لیے لائحہ عمل طے ہوئے اور عمل بھی شروع ہوگیا، لیکن تحریک کے لیے محض تبصرے رہ گئے۔ ارکان جماعت میں سے کتنے ہیں جو اپنا "بیلٹ" وقت پر جمع کرواتے ہیں؟ اور وقت پر تو چھوڑیں جمع ہی کروا دیتے ہوں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہوگی کہ تحریکی پالیسیاں بھی غلط ہوئی ہوں گی۔ اخوان المسلمون نے بدترین حالات میں بھی بائیکاٹ کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ امام حسن البناء نے اپنے ایک خط میں لکھا کہ مصر کی سات کروڑ کی آبادی میں ہمارے سات لاکھ ارکان اور تیس لاکھ سے زیادہ کارکنان ہیں، اور 21 کروڑ کی آبادی میں جماعت اسلامی کے محض 32 ہزار ارکان ہیں جو اپنا بیلٹ بھی وقت پر جمع نہیں کرواتے ہیں، اور پھر پوچھتے ہیں کہ "انقلاب" کیوں نہیں آتا؟

میں نے ان نفوس قدسیہ کے بارے میں پڑھا ہے کہ جو سندھ کے دور دراز علاقوں میں ایک میگا فون اور جیپ کے ساتھ چلے چلے جاتے تھے، ہر چھوٹی بڑی کٹیا میں دین کی دعوت دیتے تھے۔ ڈاکٹر نذیر شہید 15 دن اپنا کلینک بند رکھتے تھے، ہر گاؤں اور بستی میں جاتے تھے تو الیکشن بھی جیت جاتے تھے، اور نہ بھی جیتتے، ووٹ تو لے لیتے تھے۔ پہلے مسئلے انفرادی طور پر حل کیے جاتے تھے۔ غسل کے لیے، جنازے کے لیے، خوشی اور غمی میں، فیسوں کے معاملے میں گھروں میں تنگی اور ترشی میں جماعت کے لوگ خود سے جاکر خاموشی سے مسائل حل کردیا کرتے تھے اور لوگ ان کے دیوانے ہوجاتے تھے اور اب یہ کام الخدمت کو " کانٹریکٹ" پر دے دیا ہے اور چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیں ووٹ دیں۔

پانچ سالوں میں 100 نہ سہی 10 ووٹر بھی بنا لیتے تو کارکنان جماعت کا حق تھا کہ اپنی قیادت کو کہتے کہ متحدہ مجلس عمل نہ بنائیں، فلاں سے اتحاد نہ کریں، اکیلے الیکشن لڑ لیں لیکن اب تو بقاء کا مسئلہ ہے۔

کراچی میں پاک سرزمین پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ مل کر نئی بوتل میں پرانی شراب بنا رہے ہیں، خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف نے جماعت کے وزراء کے کیے ہوئے کاموں کے ثمرات بھی خود ہی سمیٹ لیے ہیں، بلوچستان میں ویسے بھی جماعت کو مولانا فضل الرحمٰن کے بغیر کچھ نہیں ملنا ہے، اور پنجاب جماعت اسلامی کو فی الحال مسلم لیگ میں ہی "اسلامی انقلاب" کی تصویر نظر آ رہی ہے۔ قطع نظر اس سے کہ صحیح یا غلط جس نے بھی کہا تھا، ایسے ہی کسی موقع کے لیے کہا تھا کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔ ایک بات اور الیکشن جیتنے کے لیے لڑا جاتا ہے، ہارنے کے لیے نہیں۔ اس وقت جماعت اسلامی کی کشتی انتخابی سیاست میں جس منجدھار میں آ کر پھنسی ہے، یہ سراج الحق کی قیادت کا امتحان ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */