پاکستان میں باصلاحیت لوگوں کی کمی نہیں - سالار سلیمان

کوئی وقت تھا جب پاکستان میں انٹرنیٹ کا استعمال ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔ انٹرنیٹ خاصا مہنگا تصور کیا جاتا تھا۔ ڈائل اپ انٹرنیٹ کی وجہ سے اسپیڈ بھی بہت ہی کم ہوتی تھی۔ خیر، ہم آئی فون کی لانچ پر آتے ہیں جب امریکی کمپنی ایپل نے یہ انقلابی ڈیوائس پیش کی اور اِس ایک ایجاد نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ آئی فون کی مقبولیت سے دیگر کمپنیاں بھی میدان میں اپنے اپنے اسمارٹ فونز لے آئیں اور مسابقت کی اس دوڑ کی وجہ سے پوری دنیا میں انٹرنیٹ کی اسپیڈ بھی بہتر ہونا شروع ہو گئی نتیجتاً تقریباً تمام دنیا ہی اب براڈ بینڈ پر منتقل ہوچکی ہے۔

گزشتہ دہائی کے اواخر میں جب پاکستان میں انٹرنیٹ ڈائل اپ سے براڈ بینڈ پر منتقل ہوا تو عموماً لوگ سوشل میڈیا کی ویب سائٹس کو وزٹ کیا کرتے تھے۔ بہت سے لوگوں کی نظر میں یہ وقت کا ضیاع تھا، بہت سے ایسے بھی تھے جن کا خیال تھا کہ معلومات کا سمندر عوام الناس کے حوالے کرنا ایک خطرناک عمل ثابت ہوگا، جس سے معاشرتی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے اور یہ دونوں اپنی اپنی جگہ ٹھیک بھی ہیں۔ تاہم، ایک تیسری قسم کے لوگ بھی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کاصحیح معنوں میں درست استعمال کیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو آج دنیا مختلف اسٹارٹ اپ کے بانیان کے حوالے سے جانتی ہے۔ پاکستان میں بھی کئی ایک اسٹارٹ اپ شروع ہوئے۔ کچھ وقت کی دھول کی نظر ہوئے اور کچھ آج ملک بھر میں نام بنا چکے ہیں۔

اسٹارٹ اپ کیا ہوتا ہے؟ فوربس میگزین میں وار بائی پارکرکی شریک بانی اور شریک سی ای او نیل بلومنتھل کے مطابق ’’اسٹارٹ اپ ایک کمپنی ہوتی ہے جو کہ اُن مشکل کاموں کے حل کے لیے قائم کی جاتی ہے جہاں حل ملنا مشکل اور کامیابی کے امکانات کم ہوتے ہیں۔‘‘ اب اس کو آسانی کے لیے ایسے سمجھیں کہ اسٹارٹ اپ انٹرنیٹ کے ذریعے سے مشکل کاموں کے ایسے آسان حل پیش کرتی ہوئی کمپنی ہوتی ہے جو اِس سے قبل اُس مارکیٹ میں موجود نہیں ہوتی۔

پاکستان میں بھی مختلف شعبہ جات میں مختلف اسٹارٹ اپس موجود ہیں۔ آپ زمین ڈاٹ کام کی مثال لیجیے۔ رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کی مشکلات کے حل لیے یہ کمپنی 2006ء میں عمران علی خان اور ذیشان علی خان کی جانب سے قائم ہوئی اور آج پاکستان کی سب سے بڑی رئیل اسٹیٹ کی ویب سائٹ ہے۔ 2016 ء میں سیریز سی کے راؤنڈ میں اس کمپنی کو 20ملین ڈالر کی سرمایہ کاری موصول ہوئی۔ اسی طرح سے روزی ڈاٹ پی کے کی مثال لیجیے۔یہ بھی ایک اسٹارٹ اپ ہے کہ آجروں کو ملازمین فراہم کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ پاک وہیلز ڈاٹ کام بھی ایک پاکستانی اسٹارٹ اپ ہے جو گاڑیوں کے حوالے سے تمام حل لیے موجود ہے۔ اس معروف ویب سائٹ کو حنیف بھٹی نے قائم کیا جس کو 2014ء میں سیریز اے میں 3.5ملین ڈالر کی سرمایہ کاری موصول ہوئی۔ گھر کی دہلیز پر بروقت کھانا پہنچانے کے حوالے سے قائم ہونی والی ویب سائٹ 'ایٹ اوئے' کو 2013ء میں رائے عمر کی جانب سے قائم کیا گیا اور اس ویب سائٹ کو بھی 2013ء میں ہی 3لاکھ 60ہزار ڈالرز کی خطیر سرمایہ کاری موصول ہوئی۔ 2015ء میں ادائیگیوں اور مالیات کے حوالے سے قائم ہونے والی کمپنی کو فنجا کو 2016ء میں ایک ملین ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری موصول ہوئی۔یہ وہ کمپنیاں ہیں جنہوں نے کم عرصے میں پاکستان میں اپنا نام بنایا ہے اور ہزاروں لوگوں کو بہترین روزگار بھی فراہم کیا ہے۔

2016ء کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں موبائل فون صارفین کی تعداد 1,39,75,8116ہے جبکہ اسی سال میں پاکستان میں براڈ بینڈ استعمال کرنے والوں کی تعداد 44,608,065 ہے۔ 2015ء میں جن 29کمپنیوں میں 3کروڑ 50لاکھ ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی، اُن میں سے 24کمپنیاں لاہور میں قائم ہیں۔ اس کی ایک وجہ لاہور کا صوبائی دارلحکومت ہونے کے ساتھ ساتھ اسٹارٹ اپس کے حوالے سے موزوں ترین حالات کا ہونا بھی ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے اور اگر باریکی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی ہر میدان میں خود کو منوا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں سسٹم کو مزید بہتر کیا جائے اور میں یہ بات دعویٰ سے کر سکتا ہوں کہ اسٹارٹ اپ ہی نہیں بلکہ دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بھی پاکستان کا کوئی ثانی نہیں ہوگا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com