سعودی عرب کی پالیسی میں تبدیلیوں کے مضمرات (2) - محمد طیب سکھیرا

سعودی عرب کے حالات کے حوالے سے یہ ہفتہ خاصا گرم رہا کہ 50 سے زائد شہزادے اور سابق وزراء انسداد کرپشن کمیٹی کے الزامات کا سامنا کررہے ہیں۔ ریاض کے رٹز کارلٹن ہوٹل کو عملاً جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ قیدی شہزادوں کے طیارے گراؤنڈ اور بینک اکاؤنٹس منجمد کردیے گئے ہیں لگتا یوں ہے کہ نوجوان ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بہت جلدی میں ہیں اور جلد سے جلد راستے کی رکاوٹوں کو پس زنداں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس سال مئی میں نوجوان ولی عہد نے یہ اعلان کیا تھا کہ کرپشن کے خلاف جنگ میں کسی منصب کا خیال نہ رکھا جائے گا، بلاتفریق کارروائی ہوگی۔ پھر 5 ماہ کی معنی خیز خاموشی کے بعد اچانک اس ہفتے ایک ہی دن میں انسداد کرپشن کمیٹی بنائی گئی اور اسی شام 11 سعودی شہزادوں سمیت 50 سے زائد اہم شخصیات کو گرفتار کرلیا گیا اور شفافیت کا عالم یہ ہے کہ نوجوان ولی عہد ہی انسداد کرپشن کمیٹی کے سربراہ ہیں اور گرفتار ہونے والوں کی اکثریت نوجوان ولی عہد کے مخالف کیمپ سے بتائی جاتی ہے۔

پچھلے کالم میں جن وجوہات کی طرف توجہ دلائی گئی انہی خطوط پر یہ گرفتاریاں دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ پلاننگ بہت پہلے سے کرلی گئی تھی اور حامیوں اور مخالفین کی فہرستیں بھی مرتب کی جاچکی تھیں، اب اچانک اس پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔ آئیے ان گرفتاریوں اور ان کے پس پردہ حقائق کا جائزہ لیتے ہیں

1۔ ان میں سرفہرست سابق شاہ عبداللہ کے بیٹے اور شاہی گارڈز کے مقبول کمانڈر شہزادہ متعب بن عبداللہ ہیں۔ " شاہی گارڈ ز" ایک لاکھ وفادار قبائلی نوجوانوں پر مشتمل وہ فورس ہے جو بادشاہت کے لیے بنیادی ڈھال سمجھی جاتی ہے۔ شاہ عبداللہ بادشاہ بننے سے قبل نوجوانی ہی سے " شاہی گارڈ ز" کے کمانڈر رہے۔ جب وہ بادشاہ بنے تو انہوں نے اس کی کمان اپنے بیٹے متعب بن عبداللہ کو دے دی۔ شہزادہ متعب بن عبداللہ امریکہ و یورپ کی اعلیٰ ملٹری اکیڈمیوں کے فارغ التحصیل اور عرصہ 20 سال سے شاہی گارڈز کے مقبول کمانڈر تھے۔ شاہی گارڈز میں ایک اہم عنصر یہ ہے کہ چونکہ شاہ عبداللہ کی والدہ " شمر " قبیلے سے تھیں، جو خاصا بڑا اور طاقتور قبیلہ ہے، اس لیے شاہ عبداللہ اور شہزادہ متعب بن عبداللہ شاہی خاندان کی " شمر " شاخ سے ہیں۔ شاہ عبداللہ اور ان کے بیٹے شہزادہ متعب بن عبداللہ نے اپنے اپنے ادوار میں بطور خاص اپنے ننھیالی قبیلے " شمر " سے شاہی گارڈز میں بھرتیاں کیں۔ شمر قبیلے کا شاہی گارڈز میں یہ اثر ایک بہت بڑا فیکٹر ہے۔ دوسری طرف شاہ سلمان شاہی خاندان کی " سدیری " شاخ سے ہیں کہ شاہ عبدالعزیز کے سب سے زیادہ 7 بیٹے حصة بنت احمد سے تھے جو سدیری قبیلے کے سردار کی بیٹی تھیں۔ اس لیے ان سات کو سگے بھائی ہونے کی وجہ سے " سدیری 7 " کہا جاتا تھا اور ان کا مضبوط اتحاد مانا جاتا تھا۔ ان میں سے سابق ولی عہد شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز، سابق ولی عہد شہزادہ نائف بن عبدالعزیز اور سابق ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف ( جنہیں حال ہی میں معزول کیا گیا ) یہ یکے بعد دیگرے آنے والے سب سدیری تھے اور وزارت دفاع اور داخلہ پر ان کی خاص توجہ رہی بلکہ سابق ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف تو طویل عرصہ وزارت داخلہ سے وابستہ رہے اور القاعدہ کے عروج کے دور میں ان کے اثر و رسوخ کو سعودی عرب سے ختم کرنے کا سہرا بھی انہی کے سر باندھا جاتا ہے۔ شہزادہ محمد بن نائف تو پہلے ہی سے نظر بند ہیں، شہزادہ متعب بن عبداللہ کو بھی " کرپشن کے خلاف جنگ " کی لپیٹ میں لینا ضروری تھا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ شہزادہ محمد بن نائف کی معزولی کے بعد سدیری اتحاد عملاً ٹوٹ گیا ہے اور شہزادہ متعب بن عبداللہ کی گرفتاری کے بعد محل میں شاہ عبداللہ کے وفادار اور شاہی گارڈ میں شمری بھی ضرور ناراض ہوں گے۔ یاد رہے نوجوان ولی عہد کے مقابل یہ دونوں شہزادے خاصے تجربہ کار اور پچاس کے پیٹے میں ہیں اور فورسز میں ان دونوں شہزادوں کی جڑیں بھی بہت گہری ہیں۔ اب اگر ان دونوں شہزادوں یعنی شاہی گارڈز کے متعب بن عبداللہ اور سدیریوں میں سے محمد بن نائف کے حامیوں نے ہاتھ ملالیا تو یہ شہزادہ محمد بن سلمان جیسے نوآموز، جذباتی اور ناتجربہ کار ولی عہد کے لیے خاصا مشکل امتحان ثابت ہوسکتے ہیں۔

2۔ اس سارے منظر نامے میں سعودی عرب کے تیل سے مالا مال خطے میں خاصی تعداد میں آباد شیعہ آبادی کو قطعی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ سعودی بادشاہت دہائیوں سے انہیں بزور طاقت دبائے ہوئے ہیں۔ یاد رہے سعودی شیعہ عالم نمر بن نمر کی پھانسی کے بعد وہ متعدد مواقع پر شورش برپا کرچکے ہیں اور اب بھی سعودی شیعہ کسی بھی افراتفری کے موقع کے بے چینی سے منتظر ہیں۔ حال ہی میں عوامیہ شہر میں شیعہ آبادی کے خلاف آپریشن ان کی شورش کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا تھا اور آپریشن کے دوران خاصی تعداد میں ایرانی اسلحہ بھی ہاتھ لگا تھا جو لمحہ فکریہ ہے اس لیے شیعہ آبادی کی بغاوت اور شورش کےامکان کو قطعاً نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان نے کمرشل فلائٹ پر جانے کا کہا تو محمد بن سلمان کیا بولا

3۔ اس سے بھی بڑا خطرہ ولی عہد کی جانب سے سعودیہ کو ماڈریٹ اسلامی مملکت بنانے کا اعلان ہے اس کی ابتداء بحیرہ احمر کنارے تفریحی جزیروں سے ہوگی، جہاں سعودی شرعی قوانین کا اطلاق نہ ہوگا اور عالمی معیار کی تفریحات فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ 500 ارب ڈالر سے شروع کردہ " نیوم شہر کا منصوبہ " سونے پر سہاگہ ہے جو اپنے ساتھ " ماڈریٹ جراثیم " لارہا ہے جو سعودی عرب جیسے قدامت پسند معاشرے کے لیے کسی طور قابل قبول نہ ہوں گے لیکن شہزادہ سلمان شاید ان منصوبوں سے بھی آگے کی سوچ رکھتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے خبطی کا اندھا اعتماد حاصل کرلینا اپنے اندر بہت سے اسرار لیے ہوئے ہے اور خاصا معنی خیز بھی کہ کیا کچھ داؤ پر لگایا جاچکا ہے ۔

4۔ شہزادہ ولید بن طلال کی گرفتاری بھی خاصی معنی خیز ہے۔ شہزادہ ولید بن طلال شاہی خاندان بارے اپنی " کھلی تنقید و بیانات " کے لیے مشہور تھے۔ بادشاہت پر ایسی تنقید سعودی معاشرے میں ممنوع سمجھی جاتی ہے۔ ولید بن طلال نوجوان ولی عہد کے معاشی منصوبوں کے بھی بڑے ناقد تھے خصوصاً وہ نوجوان ولی عہد کے " وژن 2030ء" اور سعودی آئل کمپنی " آرامکو " کے شیئرز نیویارک کی حصص مارکیٹ میں فروخت کے منصوبے کے سخت ناقد تھے۔ دوسری وجہ شاید یہ بھی ہے کہ شہزادہ ولید بن طلال صدارت سے پہلے ٹرمپ سے تنازعات میں الجھتے رہے ہیں۔ شہزادہ ولید بن طلال نے ٹرمپ کی ری پبلکن صدارتی نامزدگی کی کھل کر مخالفت کی تھی اور ایک ٹویٹ میں ٹرمپ کو امریکہ کے لیے باعث شرمندگی قرار دے کر کہا تھا کہ بیوقوف تم کبھی صدر نہیں بن سکتے! ٹرمپ نے جواباً ٹویٹ کیا تھا کہ نوجوان شہزادہ اپنے باپ کی دولت کے ذریعے امریکی انتخابات میں مداخلت کرنا چاہتا ہے اور یہ بھی ٹویٹ کیا کہ اس ( تنقید ) کا جواب صدر بن کر دوں گا۔ یہ بھی ایک ممکنہ وجہ ہوسکتی ہے۔ ویسے بھی شاہی خاندان میں ولید بن طلال کی ایسی مضبوط پوزیشن نہیں ہے کیونکہ ولید بن طلال کی والدہ لبنانی نژاد ہیں اور سعودی عرب میں عہدوں پر نامزدگی کے وقت ایسے امور کو بطور خاص دیکھا جاتا ہے۔ اس لیے طلال بن عبدالعزیز اور ولید بن طلال کو شاہی خاندان کی طرف سے کبھی اہم ذمہ داریاں تفویض نہیں کی گئیں اور شاہی خاندان کا حصہ ہوتے ہوئے بھی ایک طرح سے سوتیلے رویے کا سامنا رہا۔

5۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک پراسرار خبر اسی ہفتے میں سننے کو ملی کہ صوبہ عسیر کے نائب گورنر منصور بن مقرن ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ منصور بن مقرن سابق ولی عہد مقرن بن عبدالعزیز کے بیٹے تھے۔ یہ وہی مقرن بن عبدالعزیز ہیں جنہیں شاہ سلمان نے برسراقتدار آنے کے بعد سب سے پہلے ولی عہدی سے معزول کیا تھا اور اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد بنایا تھا۔ اتنی گرفتاریوں کے جھرمٹ میں مقرن بن عبدالعزیز کے بیٹے کا یہ پراسرار حادثہ اپنے پیچھے کئی اسرار چھوڑ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی شہزادے عملاً گھروں پر نظر بند ہیں جن سے کسی نہ کسی قسم کی مخالفت کا ہلکا سا بھی خدشہ تھا ۔

6۔۔ نوجوان شہزادے کی جذباتیت اور ناتجربہ کاری ملاحظہ فرمائیں کہ ابھی قطر کا معاملہ حل نہ ہوا تھا کہ لبنان کا قضیہ بھرپور طریقے سے کھڑا کردیا گیا ہے۔ اس نے کھلے الفاظ میں یہ کہہ دیا ہے کہ لبنان کو حزب اللہ سے جان چھڑانی ہوگی ورنہ لبنان کو " اعلان جنگ " کرنے والے ملک کے طور پر دیکھیں گے۔ یاد رہے کہ لبنان کے مقتدر حریری خاندان کی سعودی عرب سے قربت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اسی تعلق کو استعمال کرتے ہوئے لبنانی وزیر اعظم کو ریاض بلا کر استعفے پر راضی کیا گیا اور لبنانی وزیراعظم سعد حریری نے ریاض ہی سے بیروت اپنے ٹی وی خطاب میں وزارت عظمیٰ سے اپنے استعفے کا اعلان کیا اور وجہ حزب اللہ اور ایرانی اثر ورسوخ و مداخلت کو قرار دیا۔ سعودی عرب لبنانی شیعہ تنظیم حزب اللہ کے قضیے کو جلد از جلد ختم کرنے کے درپے ہے اور آج ہی اس نے لبنان سے سعودی شہریوں کو فوری واپسی کا کہہ دیا ہے جو سعودی عرب کی طرف سے کسی نئے جارحانہ قدم کا واضح اشارہ ہے۔ دراصل پچھلے ہفتے ریاض ائیرپورٹ پر حوثیوں کے میزائل داغے جانے کے بعد سے سعودی عرب شدید غصے میں ہے اور اس کے ردعمل میں جہاں اس نے یمن کی زمینی و فضائی حدود کو عملاً بند کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے لبنانی شیعہ تنظیم حزب اللہ جو خطے میں ایرانی مفادات کے لیے ایک عرصے سے کام کررہی ہے، کے خطرے کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ابھی تک سعودی عرب کی حوثیوں سے جنگ منطقی انجام تک نہیں پہنچی، اس کے ہوتے ہوئے حزب اللہ کے خلاف کارروائی ایک انتہائی قدم ہوگا جو مشرق وسطیٰ کو ایک طویل اور ہولناک جنگ کی ایک نئی آگ میں دھکیل دے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   21 ویں صدی کا سب سے بڑا اور متنازع واقعہ ہے - ایردوان

7۔ ساتھ ہی ساتھ سعودی عرب نے عراق کے ساتھ اپنے تعلقات کو غیر معمولی اہمیت دینا شروع کی ہے اور 25 سال کے طویل عرصے بعد عراق کے ساتھ اپنی زمینی سرحد کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کے دورۂ عراق اور عراق میں سعودی سفیر کے ذریعے طویل سفارت کاری کے بعد عراقی وزیراعظم کا دورہ سعودی عرب بھی ممکن کروایا گیا ہے۔ ان سب کا مقصد خطے سے ایرانی اثر ورسوخ کا خاتمہ ہے۔ خطے میں ایران نے " الحشد الشعبی " "القدس فورس "، " فاطمییون " اور " زینبییون " اور دوسری ملیشیاؤں کی صورت میں ٹھیک ٹھاک "سرمایہ کاری " کررکھی ہے۔ بحرین، یمن لبنان اور اب عراق میں ملیشیاؤں اور شیعہ آبادی کے ذریعے سعودی عرب کو چہار اطراف سے گھیر لیا گیا ہے۔ دہائیوں کی " ایرانی سرمایہ کاری " کو دنوں میں ختم کرنا ممکن نہیں، اس کے لیے موثر اور دیرپا پالیسی کی ضرورت ہے اور خطے سے ایرانی اثرات کے سدباب کے لیے سنجیدگی سے مثبت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

8۔ رہی بات کرپشن کے الزامات پر حالیہ گرفتاریوں کی تو اب ایسا بھی نہیں ہے کہ اس میں " کرپشن " کا عنصر بالکل بھی نہیں ہے بلکہ یہ بات بھی سچ ہے کہ سعودی معاشرہ میں رشوت کا ناسور جڑیں گاڑ چکا ہے اور کوئی بھی کام کروانے کے لیے " بخشش " دینا لازمی جزو بن چکا ہے۔ اسی لیے مخالفین کو رستے سے ہٹانے کی یہ کارروائی اسی " کرپشن " کی آڑ لے کر کی گئی ہے اس سارے عمل میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے کچھ حقیقی کردار بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں جدہ کے سابق میئر انجینیئر عادل فقیہ شامل ہیں جو جدہ کی میئر شپ کے دوران ناقص تعمیرات کے ذمہ دار تھے جو بالآخر جدہ کے تباہ کن سیلاب میں کثیر تعداد میں ہلاکتوں کا باعث بنیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے جدہ کی سالوں سے خشک پڑی آبی گزرگاہوں کو پلاٹ بنا کر بیچ دیا۔ اچانک سیلاب میں آبی گزرگاہیں نہ ہونے کے باعث سیلاب شہری علاقوں میں شدید تباہی کا باعث بنا۔ اسی طرح دوسرے حقیقی کردار بن لادن کمپنی کے چیئرمین بکر بن لادن ہیں جو حرم پاک میں کرین حادثہ کی تحقیقات میں مداخلت کے الزامات کا سامنا کررہے ہیں۔ یاد رہے بکر بن لادن کی زیادہ شہرت اسامہ بن لادن کا بڑا بھائی ہونے کی ہے۔ ممکن ہے سی آئی اے کی تازہ تحقیقات میں ان کے حوالے سے شیخ اسامہ بن لادن کی مدد کا کوئی الزام بھی ہو۔ بہرحال، یہ دو کردار کسی حد تک کرپشن کے الزامات کی وجہ سے زیر عتاب ہیں اور ان کی آڑ میں اپنے مخالفین کو بھی نمٹادیا گیا ہے۔ ہر کوئی دانتوں میں انگلی دبائے حالات کو کروٹ لیتے دیکھ رہا ہے کسی بھی لمحے ردعمل کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ہم ایسے ہر ردعمل اور پالیسی سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں جو ارض مقدس میں فتنہ یا اغیار کی خوشنودی کا باعث ہو کیونکہ اغیار کبھی بھی مخلص نہیں ہوا کرتے اور اغیار کی خوشنودی کے لیے اپنے ہی گھر کو برباد کرنے والوں کو کبھی عقلمند قرار نہیں دیا جاسکتا ۔