مجلس عمل کا قیام اور اسٹیبلشمنٹ پر برا وقت - فیض اللہ خان

جمعیت علمائے اسلام کے صد سال مکمل ہونے پر ہم نے لکھا تھا کہ اس بوتل سے متحدہ مجلس عمل کا جن برآمد ہوگا تو مولوی صاحبان کی اکثریت سیخ پا ہوگئي تھی کہ ایسا کچھ نہیں ہونے جا رہا۔ بہرحال، اب اس ضمن میں خاصی پیش رفت ہو چکی ہے اور شنید ہے کہ رواں برس کے آخر تک باقاعدہ اعلان بھی ہو جائے گا۔ ویسے بھی ابتدائي کام تو ہو ہی چکا ہے۔

میری ذاتی خواہش ہمیشہ یہی رہی ہے کہ جماعت اسلامی اپنی شناخت کے ساتھ انتخاب میں اترے، چاہے ایک ووٹ ملے یا ایک لاکھ ، یا پھر سیاسی ونگ کو مکمل طور پر الگ کرکے نئی پالیسی کے تحت الیکشن لڑے، جیسا کہ اسلامک فرنٹ تھا۔ جماعت اسلامی کا المیہ یہ رہا ہے کہ اس نے 1970ء کے بعد 2013ء میں اپنے نشان پر الیکشن لڑا اور عین الیکشن والے دن کراچی میں بائیکاٹ کا احمقانہ فیصلہ کیا۔

یہ سید منور حسن کا کمال تھا کہ کاٹھ کباڑ میں رکھے 'ترازو' کو نہلا دھلا کر جماعتیوں کے سامنے لائے اور یاد دلایا کہ یہ رہا تمھارا نشان۔ بلاشبہ 2013ء کی ناکامی کے باوجود حالیہ ضمنی انتخابات تک جماعت اسلامی نے ترازو کو بھرپور انداز سے متعارف کرایا لیکن اب لگتا ہے کہ معاملہ دوبارہ کتاب کی طرف چلا جائے گا۔ کتاب بنیادی طور پر جمعیت علمائے اسلام کا نشان ہے اور اسے ہمارے دیہاتی و پہاڑی علاقوں میں قرآن کے طور پر متعارف کرایا جاتا رہا ہے۔ 2002ء کے انتخابات میں ہم اپنے علاقے میں جے یو آئی کے مفتی کفایت اللہ کی الیکشن مہم چلا رہے تھے، تن من دھن کے ساتھ۔ انہی دنوں مساجد و عام اجتماعات میں بتایا جاتا کہ مجلس عمل کامیابی کے بعد افغان طالبان کا طرز حکمرانی یہاں متعارف کرائے گی اور ہم امریکہ سے افغانستان پر حملے کا انتقام لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   مجھے کہنا ہے - موسیٰ مجاہد

بہرکیف، کس نے کیا کیا؟ اب دہرانے کا کیا فائدہ کہ نیٹو سپلائیز گزرتی رہیں، پرویز مشرف کو منتخب کیا جاتا رہا، آغا خان بورڈ کی اجازت ملی، حدود آرڈینس کا بل منظور ہوا اور ہمیں بہلانے کے لیے حسبہ بل کے چرچے ہوتے رہے۔

بات اگر حال کی ہو تو یہ طے ہے کہ چھوٹی جماعتوں کے پاس اتحاد کے سوا دوسرا آپشن نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی و مسلم لیگ کے اپنے حلقے بڑی حد تک محفوظ ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن، نواز شریف، اسفندیار ولی اور آصف زرداری کا اصل مسئلہ عمران خان ہی ہے۔ تحریک انصاف کا اعتماد بھی بلند ترین سطح پر ہے، البتہ ملّی و لبیک کی آمد کے بعد مذہبی ووٹ مزید تقسیم ہوچکا ہے۔

صد سالے میں سراج الحق نے مذہبی اتحاد کا اختیار مولانا فضل الرحمٰن کو سونپا۔ بلاشبہ، خیبرپختونخوا میں متعدد ایسی نشستیں تھیں جو جماعت اسلامی اور جے یو آئی ایک دوسرے کے مخالفت کی وجہ سے ہار گئیں اور وہاں تحریک انصاف کے نووارد سیاسی کارکن کامیاب ہوئے۔

جماعت اسلامی پر تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے کڑی تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ مجلس عمل کا حصہ بننے پر کیوں راضی ہیں؟ اس شکوے سے کہیں بہتر ہوگا کہ وہ اس بابت اپنے رویے کا جائزہ لیں کہ کیا انہوں نے جماعت اسلامی کو اگلے انتخابات میں اپنا اتحادی بنانے کی سنجیدہ کوشش کی؟ کبھی کوئی ملاقات؟ کوئی بیان دیا؟ یہ سوال بہت اہمیت رکھتا ہے۔

جماعت اسلامی اپنے فیصلوں میں آزاد ہے۔ بہت اچھا یہی تھا کہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف مل کر کر الیکشن لڑتے، کیونکہ دونوں جماعتیں ملک کے لیے بہترین چوائس ہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ فریقین کی انا نے یہ موقع گنوا دیا ہے۔

مجلس عمل کی ساری اہمیت پشتونوں تک محدود ہے۔ بلوچستان میں جے یو آئی کو کسی اتحادی کی ضرورت نہیں، البتہ سارا کھیل خیبر پختونخوا کے واسطے ہے، اور وہاں یہ اتحاد مؤثر ثابت ہوگا ، کسی قدر کراچی میں بھی۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانا! یہ کہانی چل چکی ہے - عامر ہزاروی

مولانا فضل الرحمٰن بڑے کھلاڑی ہیں، اس لیے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ پنجاب میں مجلس عمل کا وزن مسلم لیگ نواز کے پلڑے میں ڈال کر ممکنہ طور پر کچھ قومی یا صوبائی نشستیں حاصل کرسکیں گے۔ سیاست بہرحال اسی کا نام ہے کہ کیک میں کتنا حصہ آپ لے سکتے ہیں۔

دوسری طرف پرویز مشرف کی سربراہی میں 23 رکنی اتحاد کا اعلان کیا گیا ہے جس میں مجلس وحدت المسلمین، سنی اتحاد کونسل، سنی تحریک اور ملت پارٹی کے سوا بقیہ نام شاید ہی کسی نے سنا ہو۔

ہماری اسٹیبلشمنٹ پر اتنا برا وقت؟ یہ واقعی کسی کے سان گمان میں نہ تھا۔

Comments

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان 11 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ طالبان سے متعلق اسٹوری کے دوران افغانستان میں قید رہے، رہائی کے بعد ڈیورنڈ لائن کا قیدی نامی کتاب لکھی جسے کافی پذیرائی ملی۔ اے آر وائی نیوز کے لیے سیاسی، سماجی، عدالتی اور دہشت گردی سے متعلق امور پر کام کرتے ہیں۔ دلیل کے ساتھ پہلے دن سے وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.