چراغ کا جن، الٰہ دین اور علی بابا سینیئر - ریحان خان

الٰہ دین سخت پریشان تھا. چراغ کا جن ہر دو منٹ کے بعد اس کے سر پہ کھڑا ہوجاتا تھا. الٰہ دین اسے منع کرتا کہ ابھی کوئی کام نہیں ہے تم جا کر آرام کرو. لیکن جن بگڑ کر کہتا تھا کہ آرام کر کر کے وہ نکما ہوا جارہا ہے. مجبوراً الٰہ دین اسے اس طرح کے کام دیتا تھا.
"کالا ہاری ریگستان کے اکیلے سوکھے درخت پر جس جنّی کا قبضہ ہے، اسے چھیڑ کر آؤ."
"انٹارکٹکا کی دو سہیلیوں کے درمیان جھگڑا لگا کر آؤ."
"برّصغیر میں جاؤ اور نیوز اینکر بن کر مسئلہ کشمیر حل کرنے کا شوشہ چھوڑ آؤ."
چراغ کا جن سپر فاسٹ تھا، پلک جھپکتے ہی ساری ایکٹیوٹی کر آتا اور پھر الٰہ دین سے حکم طلب کرنے لگتا تھا.

الٰہ دین کی محبت بھی ادھوری محل کے ایک کونے میں پڑی ہوئی تھی. جن کو دور دراز کے علاقے کا حکم دے کر الٰہ دین محل سرا کی جانب لپکتا تھا کہ راستے میں ہی ناہنجار جن راہ کا روڑہ بن جاتا اور مزید احکام کا متمنی ہوتا تھا.

اپنے دوستوں کو اپنے گمبھیر حالات سنا کر الہ دین مشورے کا طلب گار ہوا تو ایک دوست نے الہ دین کو کرکٹ کا مشورہ دیا. الہ دین کو مشورہ موزوں معلوم ہوا، چنانچہ الہ دین بلّا تھام کر کھڑا ہوگیا اور جن گیند بازی کرنے لگا.
جن گیند بازی کرتا الہ دین جس سمت بھی شاٹ کھیلتا، جن اس شاٹ کا ہاتھ لمبا کر کے کیچ کر لیتا تھا، اور اس کے بعد جشن کے طور پر وہ دھما چوکڑیاں مچاتا کہ الہ دین کو غصّہ آجاتا تھا.
اب الہٰ دین نے دفاعی انداز میں بلے بازی کرنی شروع کی جو عمومی طور پر مصباح الحق اسٹائل کہلاتا ہے. جن گیند پھینکتا اور الٰہ دین ماہرانہ انداز میں ہلکا سا "ٹک" کرکے کریز سے پیچھے ہو کر چیونگم چبانے لگتا.
کافی دیر کی ٹک ٹک سے عاجز آکر جن نے سلیچنگ کرنی شروع کردی. اِدھر الہٰ دین ٹک کرتا، ادھر جن کے لب اس انداز میں ہلتے گویا کہہ رہا ہو "حرامی سالا"
کبھی کہتا "آقا! شاٹ تو کھیلیے-"
الٰہ دین غصے میں آکر شاٹ کھیلتا اور پھر وہی ہوتا کہ اچھے سے اچھے شاٹ کا جن اپنے ہاتھ کئی گنا لمبے کرکے کیچ کرلیتا. پھر وہی جشن اور وہی دھما چوکڑی.

الٰہ دین غصّہ تھوک کر پھر ٹک ٹک کرنے لگا. اس پر جن نے چند ایک خطرناک باؤنسرز بھی کیے، جو الٰہ دین کے جسم سے ٹکرانے سے قبل پھول بن گئے. اور باؤلنگ سائیڈ پر کھڑے جن کے چہرے پر چڑا دینے والی مسکراہٹ ہوتی تھی.
دو تین بار ایسا بھی ہوا کہ گیند زمین پر ٹپّہ کھانے کے بعد دو حصّوں میں تقسیم ہوگئی. ایک حصّہ الٰہ دین کے بلّے سے ٹکرایا اور دوسرا حصّہ وکٹوں میں جا گھسا. اس کے بعد جن نے وہ چیخم دھاڑ مچائی کہ الٰہ دین کو اپنے گلوز اتار کر کانوں میں انگلیاں ڈالینی پڑیں.
یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن اس وقت الٰہ دین غصے سے لال بھبھوکا ہوگیا، جب جن نے اس کی خوبصورت سی گلی کی جانب کی گئی "ٹک" کو بھی کیچ کرلیا. ہوا یوں کہ گیند الٰہ دین کے بلّے پر بعد میں آئی جن کے ہاتھ اسے کیچ کرنے کیلیے گلی کی جانب پہلے پہنچ گئے.
الہ دین احتجاج کیا اور جن کو غیرت دلاتے ہوئے کہنے لگا، یہ اسپورٹس مین اسپرٹ کے خلاف ہے.
جس پر جن کا جواب تھا کہ غصّہ کیوں ہوتے ہیں؟ اسپورٹس مین اسپرٹ کا لحاظ آپ کریں، میں تو جن ہوں، اسپورٹس جن اسپرٹ کے کچھ نکات کسی کتاب میں ہوں تو مجھے بتائیے گا.
"سالے تو سدھرنے کی حدود سے بہت آگے نکل گیا ہے." الٰہ دین نے بلّا پھینکتے ہوئے کہا.
"جا میرے لیے پرتگال سے شراب لے کر آ، اور چوری کرکے نا لانا خرید کر لانا. دو روز قبل جو ہیروں کا ہار تجھ سے منگوایا تھا، وہ پیرس کے ایک میوزیم سے چوری کرکے لایا تھا اور مجھ سے اس کی قیمت بھی وصول کی تھی تو نے."
"آقا آپ صرف حکم اور پیمنٹ سے مطلب رکھیں." جن نے جواب دیا
"تعمیل کس طرح ہوتی ہے اس سے آپ کو کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے. یہ میری پالیسی کے خلاف ہے، ورنہ میں آپ کو مار کر چراغ سمیت آزاد ہوجاؤں گا."
"جا جا دفع ہو، شراب لیکر سارے یورپ کی جنّیوں کو چھیڑتے ہوئے آرام سے آنا. کسی کو دو تین دفعہ بھی چھیڑنے کی اجازت ہے." الٰہ دین جھنجھلا کر کہا، اور دل میں سوچنے لگا کہ کسی جننی کا بوائے فرینڈ اس ناہنجار کی مرمّت کردے تو اچھا ہو.

الٰہ دین نے عرقِ گلاب سے غسل کیا، جن سادے پانی کے ٹب کے چاروں طرف گلاب کی خوشبو کی نظر نہ آنے والی اگر بتّیاں سلگا دیتا تھا، اور الٰہ دین کو ساری خوشبو پانی سے آتی ہوئی محسوس ہوتی تھی.
کھانے وغیرہ سے فارغ ہوا ہی تھا کہ جن شراب لے کر آگیا، پھر الٰہ دین اور جن شطرنج کھیلنے بیٹھ گئے.
جن پہلے تو شطرنج ٹھیک ٹھاک کھیلتا لیکن اب اس میں بھی دانشوری دکھانے لگا. شہ کو سب سے طاقتور مہرہ سمجھ کر ساری بساط پر سرپٹ دوڑاتا رہتا تھا.
الٰۃ دین اعتراض کرتا تو جواب ملتا کہ بادشاہ اپنی مرضی کا مالک ہوتا ہے. وہ جہاں چاہے جب چاہے جاسکتا ہے، اور جس کا چاہے جس طرح سے چاہے انتقال کروا سکتا ہے.
الٰہ دین اسے سمجھاتا کہ شطرنج کا بادشاہ ایک گھر سے زیادہ نہیں چل سکتا.
جس پر جن کا کا جواب ہوتا کہ بادشاہ کیوں کہتے ہو؟ پھر اس مہرے کا نام شہہ سے تبدیل کرکے حمار (گدھا) کیوں نہ رکھ دیا جائے؟
قصور الٰہ دین کا ہی تھا. اس نے ہی جن کو فلاسفی کی ایک طالبہ کی جاسوسی پر لگایا تھا جس کے چکر میں جن کو فلسفہ کے کچھ لیکچرز بھی اٹینڈ کرنے پڑے تھے.
جن کی حرکتوں سے عاجز آ کر جن نے الف لیلٰی کے تمام کرداروں سے مل کر اس ناہنجار کے متعلق صلاح مشورے کا پلان بنایا.

جن کی پیٹھ پر سوار ہو کر سب سے پہلے سند باد جہازی کے ہاں پہنچا، تو معلوم ہوا کہ سند باد جہازی اب "سنودی" نام سے ایک ملک کا وزیرِ اعظم بن گیا ہے، اور اس کا زیادہ تر وقت بیرون ممالک کے دوروں پر گزرتا ہے. اس وقت بھی سندباد جہازی اپنے آٹھ سو پچھترویں سفر پہ تھا. الہٰ دین نے جن سے کہا کہ سنودی صاحب جہاں ہیں وہاں چلو. دونوں امارات کی ایک مسجد میں پہچے تو وہاں بتایا گیا کہ سنودی صاحب ابھی ابھی یہاں سے سیلفی لیکر نکلے ہیں. بھاگم بھاگ جن اور الٰہ دین یو این او پہنچے، جہاں جہاں سنودی صاحب اسپیچ دے رہے تھے. خطّے کی حالت زار کو بیان کرتے ہوئے سنودی صاحب کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے. جن نے سنودی کے کوٹ کی جیب میں رکھی گلیسرین کی بوتل تاڑ لی.

کانفرنس کے بعد سنودی اور الٰہ دین کی ملاقات ہوئی. دونوں نے معانقہ کیا اور استفسار حال احوال کے بعد سندباد نے آمد کا مقصد بیان کیا کہ اس خانہ خراب جن سے بچاؤ کی کوئی تدبیر نکالی جائے. سنودی پہلے تو کہنے لگے کہ اسے میری پارٹی سے الیکشن میں کھڑا کردیتا ہوں، لیکن الٰہ دین چراغ سے دستبردار نہیں ہونا چاہتا تھا. جس پر سنودی نے اپنے سمندری بوڑھے "تسمہ پا" سے جان چھڑانے کا تجربہ بتایا کہ کس طرح اس نے بوڑھے کو کچے انگور کی شراب پلا کر زندہ لاش میں تبدیل کردیا تھا.
الٰہ دین کی آنکھیں چمکنے لگیں. سنودی کا شکریہ ادا کرکے وہ فوراً محل پہنچا، اور جن کو کچے انگور کی شراب لانے کے لیے بھیج دیا. جن کو شراب پلائی تو وہ مست ہوگیا، اور شراب طلب کرنے لگا. آخری پیگ تک جن کو مکمل چڑھ چکی تھی. اس نے الٰہ دین کو گود میں اٹھا لیا اور ساری رات "تیرے عشق میں ناچیں گے" کی دھن پر رقص کرتا رہا. صبح تک جن کے اس طوفان انگیز رقص سے الٰہ دین کا جوڑ جوڑ درد سے معمور ہوچکا تھا. جن خمار بھی اتر گیا تھا.
چنانچہ الٰہ دین نے جن کو حکم دیا کہ وہی رقص دو دن تک کرتے رہو. میں کچھ آرام کرنا چاہتا ہوں. جن جب نشے میں نہیں ہوتا تھا، اکیلا رقص کرتا تھا لیکن جب بادہِ انگوری کا سرور ہوتا تو الٰہ دین کو اس کا ہم رقص بننا پڑتھا تھا.

دو دن کے بعد الہ دین علی بابا سے ملاقات کے لیے جن کی پیٹھ پر سوار ہوگیا. دونوں ایک خوبصورت سے بنگلے پر پہنچے. بنگلے پر "اے بی سینیئر" کی نیم پلیٹ لگی تھی. الٰہ دین کو اے بی بردھن اور امیتابھ بچن کا خیال آیا، لیکن جن نے بتایا کہ علی بابا ترقی پسند ادب کا نقاد بن گیا ہے، اس لیے علی بابا کے فرسودہ نام سے "اے بی" میں تبدیل ہوگیا ہے.
ڈور بیل بجائی تو ایک خوبصورت سے عورت نے دروازہ کھولا جسے دیکھتے ہی الٰہ دین اس پر ہزار جان سے عاشق ہوگیا. وہ مرجینا تھی.
"فرمائیے!"
"علی بابا سے ملنا ہے."
"سینیئر یا جونیئر؟؟"
"اب یہ تو پتہ نہیں، وہ چالیس چوروں والے علی بابا سے ملنا ہے."
"وہ علی بابا سینئر ہیں. آپ کی تعریف؟؟"
"اب آپ کے سامنے کیا اپنی تعریف کریں. تعریف کے لائق تو آپ ہیں." الٰہ دین شرما گیا-
"آقا ہر جگہ چھچھورا پن اچھا نہیں لگتا، وہ آپ کا نام پوچھ رہی ہے." جن نے الٰہ دین کے کان میں کہا.
"اوہ ایم سوری..... الٰہ دین.... پرنس الٰہ دین فرام بغداد...... یہ رہا میرا وزٹنگ کارڈ"

مرجینا کارڈ لے کر اندر چلی گئی، کچھ ہی لمحوں میں علی بابا اپنی بانہیں پھیلائے اپنے ہم وطن کے استقبال میں گیٹ پر چلا آیا.
"آئی ڈونٹ بلیو اٹ پرنس..... آپ میرے غریب خانے پر تشریف لائے ہیں." علی بابا نے بغلگیر ہوتے ہوئے الہ دین سے کہا.
دونوں دیر تک بیٹھے اسرار و رموز کے موتی رولتے رہے. علی بابا اپنی ادب پر تنقیدیں الہ دین کو سناتا رہا جو الہ دین کو کچھ سمجھ میں نہیں آرہی تھی. اتنے میں مرجینا نے کھانا لگا دیا اور آکر علی بابا خبر دی.
"ملازمہ تو طرحدار رکھ چھوڑی ہے آپ نے." الہ دین نے کہا.
"لینگویج پلیز پرنس! وہ میری بہو اور اے بی جونیئر کی وائف ہے." علی بابا نے برا سا منہ بنایا.
"اوہ! ایم رئیلی سوری ڈئیر..... پلیز ڈونٹ مائنڈ-" الہ دین نے فوراً معذرت کی.
"اٹس اوکے.... پلیز کم..... فالو می." علی بابا کھانے کے کمرے کی جانب چل دیا.
کھانے کے دوران الہ دین نے اپنی آمد کا مقصد ظاہر کیا. علی بابا کا خیال تھا کہ جن کو اردو ادب کے تنقیدی مطالعے کا کام سونپ دیا جائے، لیکن الٰہ دین نے اعتراض کیا کہ ہم دونوں کو ادب کی شد بد نہیں ہے. جس پر علی بابا نے وہ مشورہ دیا کہ الہ دین نہال ہوگیا، اور بار بار علی بابا کا شکریہ ادا کرتا رہا.
جن پہلے ہی دیار غیر کی جنّیوں کے چکر میں باہر بھیج دیا گیا تھا.
جب الہ دین علی بابا سے رخصت ہونے لگا تو اس نے الہ دین کو اپنی تنقیدی ریسرچ کی کتب تحفہ دیں-،جسے الہ دین نے مسکر کر قبول کیا.

دونوں واپس اپنے محل آئے. الہ دین نے جن کو اپنے گارڈن کا ایک گوشہ دکھاتے ہوئے کہا کہ یہاں ایک مینار بنانا ہے، کام شروع کردو، کنسٹرکشن کا خرچ ادا کردیا جائے گا.
جن نے ساری رات میں دوڑ چاندنی (رات کو دھوپ نہیں تھی) کر کے صبح ہونے سے قبل مینار مکمل کرلیا اور صبح شیو کرتے الہ دین کے ہاتھ پر دس لاکھ روپے کا بل رکھ دیا.
الہ دین نے جن کو پیسے دیے، مینار کا جائزہ لیا، جن کی برق رفتاری پر اس کی پیٹھ تھپتھپائی.

مینار کی تعمیر کے بعد جن جب بھی حکم کا طلبگار ہوتا تو الٰہ دین اسے کہتا کہ اس مینار پر تیزی سے چڑھو اور اتر جاؤ. پھر چڑھو پھر اتر جاؤ. پھر چڑھو پھر اتر جاؤ. یہ موبائل فون اپنے ساتھ رکھو، مجھے تمہاری ضرورت ہوگی تو رابطہ کروں گا.

مسٹر اینڈ مسز الہ دین اس کے بعد خوش و خرّم زندگی بسر کرنے لگے. جب کوئی ضرورت ہوتی تو الہ دین جن کو کال کردیتا تھا. وہ آتا احکام کی تعمیل کرتا اور دوبارہ مینار کی جانب چلا جاتا.
اطمینان کا ایک ہفتہ ہی گزرا تھا کہ ایک دن الہ دین نیوز دیکھ رہا تھا.
نیوز اینکر بتا رہی تھی کہ "ایک ہفتہ قبل انڈیا کے دارالحکومت دہلی سے جو قطب مینار حیرت انگیز طور پر غائب ہوگیا تھا، وہ پچھلے دن بغداد کے پرنس الٰہ دین کے باغ میں دکھائی دیا ہے. الہ دین کے قبضے میں ایک جن ہے، ضرور یہ مینار کی منتقلی اسی جن کی حرکت ہوگی. الہ دین کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے. اور جن کو انٹرپول کا چور قرار دیا گیا ہے. اس کے ساتھ ہی........ "
الہ دین نے مکمل خبر سنے بغیر ہی مینار کی جانب دوڑ لگائی. اسے یہ دھیان ہی نہیں رہا کہ جن سے موبائل پر بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے.