جو ہو رہا ہے ہمارے ساتھ ٹھیک ہو رہا ہے! ایاز امیر

ہم اسی کے مستحق ہیں۔ یہ کس نے دل بہلانے والی کہانی گھڑی ہے کہ ہمارے پاس سب کچھ ہے۔ کیا ہم میں اجتماعی عقل اور دانش ہے؟ 70 سال تجربات کرتے اور اپنی قسمت پہ ماتم کرتے بیت گئے‘ لیکن اب بھی نہیں سنبھلے۔ اب بھی ریاست کی کوئی صحیح راہ متعین نہیںہوئی۔ فروعی بحثوں میں پڑے ہوئے ہیں اور ایسے ایسے مسئلے قومی گفتگو میں اٹھائے جاتے ہیں کہ باہر سے کوئی آ کے سُنے تو ہماری ہوش مندی پہ شک کرنے لگے۔

نواز شریف اور اُن کا خاندان 1977ء میں کیا تھے اور اب کہاں پہنچ گئے ہیں۔ ایک فیکٹری تھی جو بھٹو صاحب نے ضبط کی۔ اب ایک پوری صنعتی ایمپائر ہے اور جائیدادیں یہاں سے بیرون ملک تک پھیلی ہوئیں۔ حساب کتاب کوئی نہیں۔ دولت کی اِدھر اُدھر ترسیل کا کوئی جواز نہیں‘ سوائے قطری اور اس قسم کے افسانوں کے۔ سپریم کورٹ کا تبصرہ سب سے صائب ہے کہ نواز شریف نے سب کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی۔ اس پہ سابق وزیر اعظم سیخ پا ہیں اور کہتے ہیں کہ جج صاحبان دل میں بغض رکھتے ہیں اور سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ ایک سیاہ باب کے طور پہ تاریخ میں یاد کیا جائے گا۔

یہ تبصرہ کون فرما رہے ہیں؟ وہی جن کی پارٹی نے 1997ء میں سپریم کورٹ پہ باقاعدہ حملے کا اہتمام کیا۔ البتہ لاہوری ناشتے کے بعد جس کا بندوبست پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں ہوا تھا۔ 35-30 سال اسی عدلیہ نے انہیں سہارا دیا۔ ایسے ایسے جج تھے جو لگتا تھا کہ ان کے ذاتی یا فیملی جج ہیں۔ ملک عبدالقیوم کا متبرک نام ذہن میں فوراً آتا ہے۔ اُن کی تو ٹیپیں موجود ہیں کہ ڈکٹیشن شہباز شریف یا تب کے احتساب چیئرمین، نواز شریف کے قریبی ساتھی سیف الرحمن، سے لے رہے ہیں۔ اصغر خان کیس جیسے توپ مقدمات پہ عدلیہ نے ابھی تک توجہ نہیں دی‘ گو جناب افتخار چوہدری کی سپریم کورٹ کا کب کا آرڈر ہے کہ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

اصغر خان کیس اُن رقومات کے بارے میں ہے جو آئی ایس آئی نے مہران بینک سے لے کر نواز شریف، شہباز شریف اور اُن کے اہم سُرخیلوں کے بیچ 1990ء کے انتخابات میں بانٹیں تھیں۔ ایف آئی اے کے پاس نواز شریف کا تحریری بیان موجود ہے کہ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ایسی رقم مجھے ملی ہو‘ لیکن اگر ایسا کچھ ہوا تو مع سود واپس کرنے کو تیار ہوں۔ ایسا بیان کسی کہانی میں درج ہو تو اُسے کامیڈی کہا جائے گا۔ ماڈل ٹاؤن کیس بھی کسی چوراہے میں پڑا ہوا ہے۔ چودہ لوگ مارے گئے‘ جن میں دو خواتین بھی تھیں۔ 80-70 اشخاص پولیس گولیوں سے زخمی ہوئے۔ لیکن مقدمے کا کسی کو پتہ نہیں کہاں گم ہے۔

یہ سارا پسِ منظر رکھتے ہوئے نواز شریف اور ان کی ہونہار بیٹی مریم صفدر عدالت عظمیٰ پہ تبرے کَس رہے ہیں۔ ہمت کی داد دینی پڑتی ہے۔ شرمندگی تو کمزوروں کی علامت ہے۔ یہاں تو ایسی دیدہ دلیری اور ڈھٹائی کا مظاہرہ ہے کہ انسان حیران ہو جاتا ہے۔ وہ کون سے معاشرے ہیں جہاں جنسی ہراساں کے دس پندرہ سالہ پرانے الزامات کی وجہ سے سیاستدان اپنے اعلیٰ منصب چھوڑ دیتے ہیں؟ یہاں تو کھلے مالی سکینڈلز ہیں اور جُوں بھی نہیں رینگتی۔ اُلٹا قوم کو آئین اور اخلاقیات کا درس دیا جاتا ہے اور پوچھا جاتا ہے ''مجھے کیوں نکالا‘‘۔

یہ تو ہمارے موجودہ یا سابق حکمران ہیں اور کیا خوب مثال قوم کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ لیکن دیکھا جائے تو سارے کا سارا معاشرہ مَکر، فریب اور جھوٹ میں جکڑا ہوا ہے ۔ جس کا جو بس چلتا ہے اتنا بڑا جھوٹ بولتا ہے۔ شریف خاندان چونکہ بڑے لوگ ہیں تو اُن کی کہانیاں بھی اُسی نوعیت کی ہیں۔ ورنہ اپنی اپنی اوقات کے مطابق انہی روشوں میں دُھلا ہوا سارا معاشرہ ہے۔ شریف خاندان اپنی بڑی بڑی جائیدادوں کے بارے میں الف لیلوی داستانیں سنا رہا ہے تو جس کا بس چلے ادرک کو تیزاب میں دھو رہا ہے، گدھے کا گوشت بھی بکتا ہے اور چپڑاسی سے لے کر اُوپر محکمے کے سیکرٹری تک جو کر سکتا ہے کرتا ہے۔

کبھی تو من میں سوال اٹھتا ہے کہ یہ ریاست ہے، ایٹمی قوت سے لیس یا کوئی مذاق۔ چھ عدد رکشے والے چاہیں تو سڑک بند کر دیتے ہیں اور پولیس کمال مہربانی کے ساتھ تماشائی بن جاتی ہے۔ اُن چھ رکشوں کی وجہ سے تمام ٹریفک گھنٹوں رُک جاتی ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ پچھلے دنوں میں نے اپنی بالکونی سے‘ جو چکوال مین روڈ پہ ہے‘ دیکھا کہ ایک مذہبی جماعت کے زیادہ سے زیادہ 35-30 لوگ نعرے لگاتے ہوئے عین بھون چوک میں آ بیٹھے اور دونوں اطراف کی ٹریفک معطل ہو گئی جبکہ پولیس وہاں تماشائی بن کے کھڑی رہی۔ یہی کچھ آج کل اسلام آباد میں ہو رہا ہے۔

مطالبات جو بھی ہوں اُن پہ بحث کرنا فضول ہے۔ پر کیا جواز بنتا ہے کہ راولپنڈی اسلام آباد کے سنگم میں چند سو افراد بیٹھ جائیں اور دونوں شہروں کی ٹریفک درہم برہم کر دیں؟ اُن چند سو مظاہرین کو مکمل آزادی ہے کہ جو چاہیں کریں۔ تو سوال اُٹھتا ہے کہ ریاست نامی چیز کہاں گم ہو گئی ہے۔ یہ کوئی دُور افتادہ گاؤں کی بات نہیں ہو رہی دارالخلافہ کا ذکر ہے۔ لندن اور نیویارک میں دس دس لاکھ کے مارچ ہوتے ہیں اور شہری زندگی مفلوج نہیں ہوتی۔ شام ڈھلے پولیس ترجمان مظاہرین کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ مظاہرین نے ڈسپلن کو ملحوظ خاطر رکھا۔ ایک طرف ہماری بے ہنگم اجتماعی زندگی اور دوسری طرف وہ نظم و ضبط۔ باتوں میں تو ہم سب سے آگے ہیں پر اصل میں ہم اُن قوموں کا کیسے مقابلہ کر سکتے ہیں؟

پچھلے ہفتے جب ٹی وی پروگراموں کے لئے لاہور آنا تھا تو شہر میں دو تین احتجاج تھے جس کی وجہ سے پورا لاہور، پاکستان کا دوسرا بڑا شہر اور ہمارے بقول مشرق کا پیرس، مکمل طور پہ مفلوج ہو کے رہ گیا۔ سگیاں انٹرچینج کے بعد گاڑی ٹریفک میں پھنس گئی۔ میں گاڑی سے نکلا اور پیدل چل پڑا۔ نہ چلنے کی جگہ نہ کوئی اور آگے جانے کا راستہ۔ بمشکل ایک موٹر سائیکل سے لفٹ لی اور ایسا ڈرا کہ جلد ہی شکریہ ادا کرتے ہوئے اُترا اور رکشے میں بیٹھا۔ پھر لکشمی چوک میں جا کے پھنس گیا۔ وہاں سے پیدل ''دنیا‘‘ کے دفتر پہنچا۔ ایک تو فائدہ ہوا کہ خادم اعلیٰ کی ترقی کا آنکھوں دیکھا حال سامنے ملا۔ لاہور اب دو حصوں میں بٹ چکا ہے، امراء کا لاہور اور عوام کا۔ عوام کے لاہور میں چلنا محال ہے۔ چلنے کی کوئی جگہ ہی نہیں۔ فٹ پاتھوں پہ تجاوزات ہیں یا موٹر سائیکلوں کی آمدورفت۔ یہ وہ ترقی ہے جس کا ڈھنڈورا ن لیگ پیٹتے نہیں تھکتی۔

نااہلوں کو ہم دیکھ چکے۔ 1985ء سے الیکشن منعقد ہو رہے ہیں۔ ہر الیکشن کے بعد ایک کھیپ نااہلوں کی قوم پر مسلط ہوئی۔ مال بنانے میں ان حکمرانوں کا کوئی ثانی نہیں۔ پی پی پی کی قیادت ہو یا ن لیگ کی‘ ڈونلڈ ٹرمپ سے زیادہ نہیں تو برابر کی دولت رکھتے ہوں گے۔ عسکری شہسواروں نے بھی قوم کی دُرگت بنائی لیکن جمہوریت کے علمبردار سب کو پیچھے چھوڑ گئے۔ ڈھنگ کی حکمرانی اس قوم کو کہاں سے ملے گی؟ ہماری جمہوریت الیکشنوں سے آگے جا کے بنیادی مسائل کے حل کی طرف کب پہنچے گی؟

جو کچھ آج کل ہو رہا ہے ایک موقع ہے اور یہ آسمان سے آیا ہے۔ ایک چھلنی ہے اور اس میں سے سیاست کے بُرج گزر رہے ہیں۔ یقین سے نہیں کہا جا سکتا لیکن شاید اسی میں قوم کی بہتری ہو۔ خاطر خواہ چھانٹی ہو اور پھر وقت پہ یا وقت سے کچھ پہلے انتخابات کا انعقاد۔ کیا پتہ اس عمل سے اس بدنصیب قوم کو وہ مل جائے جو ابھی تک ڈھونڈے سے نہیں ملی، ڈھنگ کی قیادت۔