سیاست پر ماں جی کا سایہ- نذیر ناجی

گزشتہ شب‘ایم کیو ایم کی قیادت کے طریقہ کار کا‘ ایک نیا منظر دیکھنے میں آیا۔ ایک رات پہلے‘ حاضرین کی موجودگی میں سینئر رہنما‘ فاروق ستار نے‘ مصطفی کمال سے مذاکرات شروع کئے۔ دونوں نے بڑے خوشگوار موڈ میں تبادلۂ لطائف شروع کیا۔ دونوںرہنما ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کرلطیفے سناتے رہے۔درمیان میں کہیں کہیں دونوں رہنما‘ اتحاد یا ادغام اور سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کی تجاویز کا تبادلہ کرتے رہے۔یہ عمل سہ پہر شروع ہوا اوراگلی رات کے سویرے تک جاری رہا۔پہلے تو صرف فاروق بھائی گھر کے اندر ٹہلتے رہے کیونکہ مصطفی کمال گزشتہ رات نیند سے محرومی کے سبب تھکے ہوئے تھے۔ اس لئے وہ کافی دیر کے بعد آئے۔تب تک فاروق ستار بھائی مجمع جما چکے تھے۔انہوں نے خالی کرسی کا نشانہ لگا کراپنی نظریں جمائیں اور حاضرین کو چیرتے ہوئے فاروق ستار کے قریب جا بیٹھے ۔ابتدا میں دونوں کے مابین سرگوشیاں شروع ہوئیں۔ دونوں رہنمائوں کی باہمی گفتگو کا بنیادی موضوع یہی تھا کہ دونوں‘ اپنی اپنی جماعتوں کو مدغم کر کے‘ ایم کیو ایم کے وسیع تر انتشار کو سمیٹتے ہوئے ایک ہی جماعت بنا لیں۔

باہمی سرگوشیوں کا سست رفتار تبادلہ کرتے کرتے‘ رفتار بڑھتی گئی اور آخر میں رفتار اتنی تیز ہوئی کہ دونوں‘ اپنی اپنی جماعتوں کو یکجا کرنے کے لئے‘ تیزی سے تجاویز پیش کرنے لگے ۔ دونوں ہی ایک دوسرے کی تجاویز کوسرپٹ تسلیم بلکہ تسخیر کرتے رہے اور ایک دوسرے کی تجاویز کا تبادلہ‘ پرجوش انداز میں کرتے رہے۔

ہر نئی تجویز پر دونوں ہی اپنا اپناہاتھ‘ اوپر اٹھا کے زور سے ٹکراتے رہے۔ مصطفی کمال کا قہقہہ قدرے زوردار ہوتا جبکہ فاروق ستاربھائی کے انداز میں مدبری نمایاں ہوتی گئی اور پھر اچانک ان کا گھر کے اندر آنا جانا شروع ہو گیا۔دونوں کا نہیں صرف ایک کا آنا جانا یعنی فاروق ستار بھائی کوئی بات کرتے۔ مصطفی کمال جواب دیتے اور پھر فاروق ستار بھائی جلدی سے اٹھ کر گھر کے اندر چلے جاتے۔ ماں جی باہر آئیں۔ ماں جی نے کافی دیر کے بعد آنا جانا شروع کیا۔ کبھی وہ اکیلے تشریف لاتیں۔ کبھی فاروق ستار بھائی خود جاتے۔ حاضرین کا خیال تھا کہ وہ اندر بیٹھے اپنے مشیروں سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

بعد میں راز کھلا کہ وہ ماں جی سے مشور ہ کرنے جاتے ہیں۔ اکثر بالغ انسانوں کو تجربہ ہے کہ ماں جی کے ساتھ تبادلہ خیال کیسے ہوتا ہے؟اگر تو ماں جی‘ سیدہ عابدہ حسین کی طرح ہوں تو وہاں واقعی تبادلہ خیال ہوتا ہے۔ لیکن بڑی بلکہ بہت ہی بڑی ماں جی ہوں تو ان سے صرف آلو گوشت یا دال سبزی پکانے کی ترکیبوں پر بات چیت ہو سکتی ہے۔غالباً فاروق ستار بھی والدہ محترمہ سے کھانے پکانے کے معاملات پر تبادلہ خیال کرتے ہوں گے۔اور ان کے آنے جانے کے دوران جن مسائل پر گفتگو ہو رہی ہو گی‘اس میں چاند سے بیٹے نے شفقت بھری ماں سے ‘کسی ایک دال ترکاری پر ابتدا کی ہو گی اور باہر آکے مصطفی کمال سے سیاسی مذاکرات ہوتے ہوں گے۔

گزشتہ رات کومصطفی کمال کے آنے سے پہلے یہ مشاورت‘ ماں جی اور بیٹے کے درمیان جاری رہی ہو گی۔اور جب مصطفی کمال تشریف لائے تو رنگ ہی بدلا ہوا تھا۔ گزشتہ رات کو جو کچھ طے ہوا تھا‘ وہ باہمی اتفاق اور ادغام کے موضوع پر گفتگو کرتے رہے ہوں گے۔ باہر آکر فاروق ستار بھائی پر جوش حاضرین کو ان کی خواہشات کے مطابق ‘جو کچھ وہ چاہتے‘ وہی بات انہی کے جذبات کے مطابق کہہ دیتے۔

مذاکرات کا سلسلہ بڑے سازگار حالات میں جاری تھا۔جب مصطفی کمال آئے تو مذاکرات کا موسم ہی بدل گیا۔ پہلے تو پرجوش حاضرین کو فاروق ستار بھائی یہی بتا رہے تھے کہ میں نے ماں جی سے یہ کہا اور انہوں نے مجھے کیا نصیحت کی؟ جیسے ہی مصطفی کمال آئے اور دونوں لیڈروں کے درمیان سرگوشیوں میں گفتگو ہونے لگی تو حاضرین کو شک پڑ گیا اور انہوں نے بلند آواز سے اپنے مطالبات‘ کورس کی صورت میں دہرانا شروع کر دئیے۔ حاضرین کہتے۔ نام ایم کیو ایم رہے گا۔ فاروق ستار بھائی جواب دیتے کہ نام ایم کیو ایم ہی رہے گا۔ پھر نعرہ لگتا کہ جھنڈا پرانا رہے گا۔ حاضرین اپنے لیڈروں کی طرف منہ کر کے زور دار آواز لگاتے کہ انتخابی نشان پتنگ کا رہے گا۔ یہ تینوں نعرے بڑے زور شور سے لگتے رہے۔

دوسری طرف مصطفی کمال تینوں نعروں کے جواب میں‘اپنے محد و د ساتھیوں کے ہمراہ بدل بدل کر اپنا نعرہ لگاتے لیکن فاروق ستار بھائی کا جواب منمنی سا ر ہتا ۔ فاروق ستار بھائی سمجھے کہ ان کی جیت ہو گئی ہے اور وہ مصطفی کمال کو اپنی صفوں میں شامل کر چکے تھے۔ غالباً یہی سمجھ کر انہوں نے مطالبات دہرانا شروع کر دئیے۔ زیادہ زور اس پر تھا کہ ہمیں ہمارے دفاتر کھول کر دو۔ ہمارے جلے ہوئے فرنیچر کی جگہ‘ نیا فرنیچر لا کر رکھو۔جیسے ہی فاروق ستار بھائی آگے بڑھنے لگے‘ رینجرز اور پولیس دونوں ہی ایک ایک کر کے کھسکتے گئے اور پھر کافی رات تک ''تنظیم و اتحاد‘‘ کے نعرے لگتے رہے۔مذاکرات کا سلسلہ کچھ یوں تھا کہ دونوں لیڈر مستقبل کے بارے میں تجاویز کا تبادلہ کرتے رہے۔ اگر مصطفی کمال کی کسی بات کا جواب مشکل ہو جاتا تو فاروق ستار بھائی لپک کر گھر کی طرف جاتے ہوئے کہتے ''میں‘ ماں جی سے بات کر کے واپس آتا ہوں‘‘۔

اندر جاتے ۔ ماں جی سے گھر میں پکے کھانوں کی تفصیل پوچھتے اور واپس آکر‘نئی سیاسی تجویز مصطفی کمال کے آگے رکھ دیتے۔بار بار چکر لگاکرفاروق ستار تھک چکے تھے۔ہمت جواب دے چکی تھی۔ آخری بار وہ تیزی سے اٹھے اور یہ کہتے ہوئے اندر چلے گئے کہ ''ماں جی کو لے کر آتا ہوں‘‘۔ماں جی تشریف لائیں تو ان کے سامنے مائیک رکھ دیا گیا۔ وہ اپنا منہ مائیک کے قریب لا کر کچھ بولتیں تو مصطفی کمال سمیت کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آر ہا تھا۔لیکن فاروق ستار بھائی‘ ماں جی کی بات کو ہنستے ہوئے دہراتے۔ رات گئے تک میں یہ دیکھ کر سمجھا۔ فاروق ستار نے مشتعل سیاسی ساتھیوں سے مذاکرات کرنا ہوں تو ماں جی کو باہر لا کر‘ پرجوش حاضرین کے درمیان لا بٹھا تے اور اگر چاہتے تو ماں جی کے الفاظ سے مدد لیتے ہوئے‘ مذاکرات میں سب پر حاوی ہو جاتے۔