اولادِ آدم کے اکرام کی مثالیں

ترجمہ: محمد عاطف الیاس

نظر ثانی: مفتی عبد الولی خان

فضیلۃ الشیخ فیصل بن جمیل غزاوی نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس کا عنوان تھا: ’’اولادِ آدم کی تکریم کی مثالیں‘‘ جس میں آپ نے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کی تکریم فرمائی ہے اور دوسری مخلوقات اسے فوقیت دی ہے۔ آپ نے اس تکریم کی چند مثالیں ذکر فرمائیں اور اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ اس عظیم نعمت پر ہر مسلمان کے لیے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا لازمی ہے۔

پہلا خطبہ

ہر طرح کی حمد وثنا، اللہ ذو الجلال ہی کے لیے ہے۔ وہی کرم نوازی کرنے والا، نعمتیں دینے والا اور بڑا مہربان ہے۔ میں اللہ پاک کی حمد وثنا بیان کرتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ برحق نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہی بادشاہ ہے، ہر طرح کے عیب سے پاک اور وہی سلامتی دینے والا ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور رہنما سیدنا محمد ﷺ اللہ کی بہترین مخلوق، لوگوں میں افضل ترین اور عبادت میں کامل ترین ہیں۔ اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ کی آل پر، آپ ﷺ کی آل پر اور تمام صحابہ کرام پر۔

بعدازاں!

اے بندگان خدا! اللہ سے ڈرو اور اس کی نعمتوں اور کرم نوازیوں کو ہمیشہ یاد رکھو۔ اس کے بے پناہ احسانات اور انعامات اس کے شکر گزار بنو اور روز قیامت کے لیے تیاری کرو تاکہ تم کامیاب ہو سکو۔

اے مسلمانو!

رب ذو الجلال اپنی محکم کتاب میں فرماتا ہے: ’’یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی اور انہیں خشکی و تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی‘‘ [الاسراء:70]۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ اولادِ آدم کی تکریم کا عمومی ذکر فرمایا ہے۔ یعنی یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام اولاد آدم کی ہر لحاظ سے تکریم فرمائی ہے اور اس تکریم کے کئی پہلو ہیں۔

تکریم کا معنیٰ یہ ہے: کہ ہم نےانہیں بڑے مرتبے اور بہترین خصوصیات سے نوازا ہے۔ یہ رب ذو الجلال کی خاص کرم نوازی اور احسان ہے کہ اس نے ساری اولادِ آدم کو ہر طرح سے مکرم بنایا ہے۔

آیت کے آخر میں اس تکریم پر زور دیتے ہوئے فرمایا: ’’اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی‘‘ اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تکریم کوئی عام تکریم نہیں، بلکہ یہ بڑے مرتبے والی تکریم ہے جس سے انسان کو بہت بڑا رتبہ نصیب ہو گیا ہے۔

اے مسلمانو!

اس آیت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اولادِ آدم ہی کی تکریم فرمائی ہے اور تکریم کی مختلف شکلوں سے انہیں خاص کیا ہے۔ تکریم کے پہلووں میں سے ایک پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس صورت میں پیدا کیا ہے۔ یعنی سیدھی قامت والا اور خوبصورت شکل والا۔ فرمانِ الٰہی ہے: ’’اور تمہاری صورت بنائی اور بڑی عمدہ بنائی ہے‘‘ [غافر: 64] اسی طرح فرمایا: ’’ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا‘‘ [التین: 4]، اسی طرح فرمایا: ’’جس نے تجھے پیدا کیا، تجھے درست کیا، تجھے متناسب بنایا۔ اور جس صورت میں چاہا تجھ کو جوڑ کر تیار کیا‘‘ [الانفطار :7،8]۔

تکریم کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اولادِ آدم کو بولنے، سوچنے، سمجھنے اور چیزوں کو پہچاننے کی صلاحیت عطا فرمائی ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ’’پس قسم ہے آسمان اور زمین کے مالک کی، یہ بات حق ہے، ایسی ہی یقینی جیسے تم بول رہے ہو‘‘ [الذاریات: 23]، اسی طرح فرمایا: ’’ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا ‘‘ [الإنسان: 2]۔ اسی طرح فرمایا: ’’کیا ہم نے اُسے دو آنکھیں اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟ اور دونوں نمایاں راستے اُسے (نہیں) دکھا دیے؟‘‘ [البلد: 8- 10]۔ اسی طرح رب العالمین نے فرمایا: ’’اِن سے کہو اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، تم کو سننے اور دیکھنے کی طاقتیں دیں اور سوچنے سمجھنے والے دل دیے، مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو‘‘ [الملك: 23].

اولادِ آدم کی تکریم کا ایک اور پہلو وہ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ اس آیت میں کیا ہے کہ: ’’اور انہیں خشکی و تری میں سواریاں عطا کیں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ انہیں خشکی اور تری میں سفر میں دوسری مخلوقات کی سواری فراہم کی ہے۔ خشکی میں اولادِ آدم اونٹ، خچر، گدھوں اور دیگر سوریوں پر، جبکہ سمندر میں کشتیوں اور جہازوں میں سفر کرتے ہیں۔

اولاد آدم کی تکریم کا ایک اور پہلو وہ ہے جسے اس آیت سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ’’اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو کھانے، مشروبات، لباس اور شادی بیاہ کے حواسے بھی خاص فرمایا ہے۔ ان کی ضرورت کی ہر چیز اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مہیا فرمائی اور اس کا حصول آسان بنایا۔ ضرورت کی چیز سے روکا نہیں بلکہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو اپنے لیے حرام کرنے والوں پر حیرت کا اظہار کیا۔ فرمایا:’’اے محمدؐ، ان سے کہو کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کر دیں؟‘‘ [الأعراف: 32]۔

یعنی: اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو حرام کرنے کی جسارت کون کرتا ہے اور کون اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ کشادی کو تنگی میں بدلتا ہے؟

اولادِ آدم کی تکریم کا ایک اور پہلو وہ ہے جس کا ذکر اس آیت میں آیا ہے کہ: ’’اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی‘‘ یعنی اولادِ آدم کو ایسی خصوصیات اور فضائل سے نوازا ہے جس سے دوسری مخلوقات محروم ہیں۔

اے اللہ کے بندو:

جس تکریم سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں نوازا ہے، یہ قابل شکر ہے اور لازم ہے کہ ان کا شکر ادا کیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ نعمتوں میں مصروف ہو کر ہم نعمتیں دینے والے سے ہی غافل ہو جائیں اور اللہ کی عبادت سے دور ہو جائیں، بلکہ نعمتوں کے مقابلے میں شکر ہونا چاہیے، ناقدری سے بچنا چاہیے اور نعمتوں کو گناہ میں استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

جب انسان کسی نعمت کا عادی ہو جاتا ہے تو اس کے دل احساس نعمت جاتا رہتا ہے۔ اسے بہت سی نعمتوں کا احساس ہی نہیں رہتا۔ مگر جب نعمت چھنتی ہے تو پھر احساس نعمت بھی جاگ اٹھتا ہے اور انسان ان نعمتوں کی قیمت بھی جان لیتا ہے جن سے وہ عرصہ دراز تک لطف اندوز ہوتا رہا ہے۔

اے مسلمان معاشرے کے لوگو!

اولادِ آدم کی عام تکریم کے ساتھ اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کو ایک اور خاص تکریم سے نوازا ہے۔

بَہْز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے والد معاویہ بن حَیدہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ: «سنو! تم ستر امتوں کی تکمیل کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم افضل ترین اور معزز ترین امت ہو۔»؛ اسے امام احمد ﷫ نے روایت کیا ہے۔

یعنی: اے امت محمد اور امت اسلام! تم سترویں امت ہو۔ تم سے پہلے 79 امتیں گزر چکی ہیں کہ جن کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔

اس حدیث میں آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں کو مخاطب فرمایا۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ کی مراد ساری امت ہو۔ اس طرح امت محمدیہ افضل ترین، سب سے زیادہ مکرم اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک معزز ترین امت ہے۔ اولادِ آدم کی تکریم ان کےاعمال، اخلاق اور توحید میں نظر آتی ہے اور قیامت کے ان کی شکل وصورت میں بھی نظر آئے گی اور پھر جنت ان کے گھروں سے بھی معلوم ہو گی۔ تو اے مسلمانوں! اللہ کی حمد وثنا بیان کرو کہ اس نے آپ کو امت محمدیہﷺ میں پیدا کیا ہے جو کہ بہترین امت ہے اور جو اللہ کے نزدیک مکرم ترین امت ہے۔

میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے اللہ سے معافی مانگتا ہوں۔

دوسرا خطبہ

تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے عزت عطا فرما دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے، رسوا کر دیتا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ جسے وہ عزت عطا فرما دے اسے کوئی رسوا نہیں کر سکتا اور جسے وہ رسوا کر دے اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے: «میں احکام کی خلاف ورزی کرنے والے پر ذلت اور رسوائی لکھ دی گئی ہے»، اے اللہ! رحمتیں اور سلامتی نازل فرما اپنے بندے اور رسول، ہمارے نبی محمد ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر اور صحابہ کرام پر۔

بعدازاں!

اللہ رب العزت یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ لوگوں میں افضلیت کا معیار تقویٰ اور پرہیز گاری ہے۔ فرمان الٰہی ہے: ’’در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے‘‘ [الحجرات: 13]۔

جو پرہیزگاری کی پوشاک پہن لیتا ہے، اسے غیر متقی سے افضل، بہتر اور زیادہ مکرم ہونے کا حق ہے۔

ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: «لوگو! اللہ تعالیٰ نے آپ کو جاہلیت کا تکبر اور حسب ونسب کے غرور سے پاک کر دیا ہے۔ اب لوگ دو طرح کے ہیں: نیک پرہیزگار، جو اللہ پر بڑا عزیز ہے۔ اور دوسرا گناہ گار بدبخت جو اللہ کے یہاں بے حیثیت ہے۔ تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنایا گیا تھا۔ فرمانِ الٰہی ہے: ’’لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے‘‘؛»؛ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

امام ترمذی نے سیدنا سَمُرہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لوگوں میں نام مال سے اور اللہ کے یہاں مقام تقویٰ سے» یعنی: انسانوں میں نام اور شہرت پیدا کرنے والی چیز مال ہے اور اللہ کے نزدیک مقام پیدا کرنے والی چیز تقویٰ اور پرہیز گاری ہے۔

تو مسلمان کو چاہیے کہ انسان ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ تکریم کی حفاظت کرے اور تقویٰ اور پرہیز گاری اختیار کر کے مزید تکریم اور مقام حاصل کر لے۔

سنو! تقویٰ ہی میں عزت اور تکریم ہے۔

اور دنیا کی محبت میں ذلت اور بیماری ہے۔

پرہیز گار بندے میں کوئی کمی نہیں رہتی

اگر وہ تقویٰ کو صحیح طرح اپنا لے تو چاہے وہ درزی ہو یا حجام، کوئی چیز اس کا رتبہ کم نہیں کرتی۔

اگر ہم کرامت مرتبوں میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور عزت اور بلندی کا مقام پانا چاہتے ہیں تو ہمیں پرہیز گاری اختیار کرنی چاہیے، اللہ کے احکام پر عمل کرنا چاہیے اور نافرمانی سے بچنا چاہیے، تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ تکریم کی حفاظت کر سکیں اور اور اسے ضائع کر کے ذلت اور رسوائی کا شکار نہ ہو جائیں۔ فرمانِ الٰہی ہے:’’اور جسے اللہ ذلیل و خوار کر دے اُسے پھر کوئی عزّت دینے والا نہیں ہے‘‘ [الحج:18]۔

اپنے نفس کا اکرام کیجیے کیونکہ اگر آپ نے

بے قیمت کر دیا تو کبھی اس کا اکرم کرنے والا نہ مل پائے گا۔

اللہ کے بندو! گناہوں میں پڑ جانا، خواہشات کی پیروی کرنا، غفلت کا شکار ہونا اور صراط مستقیم سے ہٹ جانا مسلمان کو زیب نہیں دیتا اور خاص طور پر اس مؤمن کو کہ جسے اللہ تعالیٰ نے خاص تکریم سے نوازا ہو اور منفرد عزت اور مقام دیا ہو۔

اے اللہ کے بندو:

اپنے اندر تقویٰ اور پرہیزگاری پیدا کرنے کے لیے ہمیں اپنے دل کی اصلاح کرنا چاہیے، کیونکہ دل ہی تقویٰ کا ٹھکانا ہے اور انسان کے جسم میں سب سے زیادہ قابل توجہ چیز ہے۔

بخاری اور مسلم کی حدیث میں آتا ہے: کہ نعمان بن بشیر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «سنو! جسم میں ایک ٹکڑا ایسا ہے جو اگر سدھر جائے تو سارا جسم سدھر جاتا ہے اور گر بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ یہ ٹکڑا دل ہے۔»

دل کی اصلاح کے کئی اسباب ہیں۔ ان میں قرآن کریم کی تلاوت، دعا کی کثرت، صدقہ، نیکیاں، احسان، استغفار، نیک لوگوں کی صحبت اور اللہ تعالیٰ خشوع والے اور رجوع کرنے والے دل کا سوال شامل ہیں۔

بشکریہ،  پیغام ٹی وی

Comments

محمد عاطف الیاس

محمد عاطف الیاس

عاطف الیاس مغل نے ام القریٰ یونیورسٹی، سعودی عرب سے گریجویشن جبکہ لیڈز یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کیا۔ اسلامی فکر وتہذیب میں ایم فل یو ایم ٹی، لاہور سے جبکہ لیڈز یونیورسٹی سے لسانیات میں بھی ایم فل کیا۔ سعودی عرب میں پڑھنے اور بیس برس گزارنے کے باعث عربی زبان وادب اہل زبان کی طرح بولتے اور سمجھتے ہیں۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ سے بطور ریسرچ سکالر اور مترجم وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.