دین اور سائنس کا دائرہ کار - اعجاز احمد

سائنس کیا ہے؟

اللہ تعالیٰ اپنے اس کائنات کے نظام کو چند مخصوص طبعی اصولوں پر چلا رہا ہے، ان طبعی اصولوں کے جاننے کے علم کو سائنس کہتے ہیں۔ ان طبعی اصولوں کو بنانے اور اسے چلانے والی کوئی بالادست قوت یعنی خدا ہے کہ نہیں ہے، یہ بتانا سائنس کے دائرہ کار میں نہیں آتا ہے۔

یعنی جب کوئی سائنسدان خدا کا اقرار یا انکار کرتا ہے تو یہ اس کا ذاتی فعل ہوتا ہے جو وہ اپنی معلومات، اپنی عقل کے استعمال اور الہٰی تعلیمات پر غور و فکر کے ذریعے کرتا ہے مگر اس کا تعلق علمِ سائنس سے نہیں ہے، خدا کے اقرار یا انکار کی بنیاد سائنس کو قرار دینا سائنس کے دائرہ کار سے باہر ہے۔

چونکہ سائنس کی ترقی کا ظہور انسان کی اجتماعی عقل و فراست کے نتیجے میں ہوتا ہے اس لیے کسی خاص زمانے کے سائنسی نظریات و قوانین کو حرفِ آخر نہیں کہا جاسکتا ہے۔ سائنسی علم اور نظریات کے پیہم بدلتے رہنے ہی سے سائنسی علوم میں وہ پختگی اور مضبوطی آتی ہے جو اسے حقیقت سے قریب تر کرتی ہے۔

چونکہ سائنسی علوم کائنات میں موجود الہٰی قوانین کو اسی خدا کی بخشی ہوئی ذہانت اور فراست کے ذریعے ہی جاننے کا نام ہے لہٰذا سائنسی علوم کا جاننا کسی طور پر بھی اسلام سے متصادم نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس یہ تسخیرِ کائنات کا وہ اہم ترین کام ہے جس کی اسلام حوصلہ افزائی کرتا ہے اور اگر انسان اپنے حاصل کیے گئے سائنسی علوم کو الہٰی اخلاقیات کے تابع کرکے اسے انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال کرے گا تو یہ کام ایک عظیم عبادت کے درجے تک پہنچ جائے گا۔

دین کیا ہے ؟

انسان کو اس دنیا میں بہترین و خوشگوار زندگی گزارنے کے اصول و قوانین بتانے کا نام دینِ اسلام ہے جس کی پیروی کرنے یا نہ کرنے پر مرنے کے بعد ہمیشہ کی جنت یا جہنم میں جانے کا دارومدار ہے۔

اسلام کا موضوع انسان کی خوشحالی اور نجات کے لیے انسانی زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق اسے اخلاقی اصول و قوانین بتانا ہے۔ چونکہ اخلاقی اصول و قوانین وقت اور زمانے کے ساتھ ساتھ بدلنے والی شئے نہیں ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اسلام کے اصول و قوانین رہتی دنیا تک کے لیے اٹل اور ناقابلِ تغیر ہیں۔

سائنس کے بارے میں معلومات دینا قرآن کا موضوع نہیں ہے

دنیا کا نظام کن طبعی اصولوں پر چل رہا ہے یہ بتانا اسلام کا موضوع نہیں ہے۔ دین نے یہ معاملہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی عقل و فراست پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ کائنات کے طبعی قوانین کو جانے اور اسے سمجھنے کی کوشش کرے تاکہ ان معلومات کو اپنے دور کے انسانوں کے دنیاوی فوائد اور اس کی ضروریات کی تکمیل کے لیے استعمال کرسکے۔

لیکن دین کے اصول و قوانین کا ماخذ چونکہ کائنات کے بنانے والے کا کلام ہے جس میں اس نے اوپر بیان کردہ اپنے بنیادی موضوع کو سمجھانے کے لیے اگر کہیں کہیں ایسے الفاظ اور جملے استعمال کیے ہیں جس سے کائنات کی طبعی ساخت اور اس کی بناوٹ پر روشنی پڑتی ہے تو ان جملوں سے اس مخصوص دور کی سائنسی معلومات کی روشنی میں معنی اخذ کرنا اس دور کے مفسرین کی اہم ذمہ داری ہے۔

کائنات کی طبعی ساخت اور اس کی بناوٹ کے بارے میں اشارہ کرنے والی قرآن کی یہ آیات قرآن کے بنیادی مضمون یعنی توحید، رسالت، آخرت، عبادات، اعمالِ صالحہ اور اچھائیاں عام کرنے اور برائیوں کو روکنے کی جدوجہد کا حصہ نہیں ہیں جن کے ٹھیک ٹھیک اور متعین معنیٰ کا شعور ہر دور کے انسانوں میں واضح طور پر رہا ہے اور رہتی دنیا تک کے انسانوں میں رہے گا۔ اس کے برعکس کائنات کی طبعی ساخت اور بناوٹ کی طرف اشارہ کرنے والی ان قرآنی آیات کے معنی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ انکے لغوی معنی کے اندر رہتے ہوئے اس کے مفہوم کو اس مخصوص دور کے سائنسی علوم کی روشنی میں دیکھا جائے۔

یہ قرآن کا معجزہ اور عربی زبان کی وسعت ہے کہ کائنات کی طبعی ساخت اور اس کی بناوٹ کی طرف اشارہ کرنے والی آیات بھی اپنے اندر اتنی جامعیت رکھتی ہیں کہ ہر دور کی ثابت شدہ سائنسی علوم ان آیات کے لغوی معنی سے مکمل طور پر ہم آہنگ نظر آتی ہے۔ مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے کائنات کی تخلیق چھ یوم میں کی ہے۔

سینکڑوں سال پہلے، جب سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی تھی، اس وقت کا کوئی شخص اگر چھ یوم کو 144 گھنٹے کے برابر کا کوئی وقت سمجھنے میں حق بجانب تھا تو آج کا انسان چھ یوم کو اربوں سالوں پر محیط چھ مراحل سمجھنے میں بھی حق بجانب ہوگا۔

Comments

اعجاز احمد

اعجاز احمد

اعجاز احمد نے کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی سے مکینیکل انجینیئرنگ کرنے کے بعد جاپان سے ٹیکسٹائل کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہ پچھلے 26 برس سے ٹیکسٹائل کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ آجکل اسی شعبے میں اپنا ذاتی کاروبار کر رہے ہیں۔ آپ قرآن کا وسیع مطالعہ رکھتے ہیں اور جدید معاشی نظاموں اور نظریات سے بھی اچھی طرح واقف ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.