مسلم صہیونی - ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

دور جدید میں یہودیوں کے فرقوں میں صدوقیوں، Essenes تقریبا ناپید ہیں، البتہ فریسیوں کی بڑی تعداد کا مرکز اسرائیل ہے۔ جدید تحریکوں میں Orthodox, Reformer اور Re constructionist میں سے Orthodox اسرائیل اور امریکہ میں غالب ہیں۔ یہ گروہ یہودیت بطور مذہب کے قبول کیے جانے کے عمل کو قبول نہیں کرتا اور ان کی رائے میں صرف وہی یہودی ہوگا جو کسی یہودی عورت کے بطن سے پیدا ہوا ہو۔

اسرائیل میں یہ سوال کہ "یہودی کون ہے؟" انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہودی اور غیر یہودی کا فرق ان کے حقوق و فرائض پر براہ راست اسرائیل کے تعلق سے اثرانداز ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے یہودیت کی نہیں، اسلام کی تبلیغ فرمائی ہے۔ یہودیوں میں ہر قوم، رنگ، نسل اور مذہب کے لوگ پائے جاتے ہیں کیونکہ یہودیت ایک نسل پرستی پر مبنی مذہب ہے۔ آج دنیا میں کالے،گورے یہودی، امریکی اور یورپی یہودی، عیسائی اور ہندو یہودی بھی پائے جاتے ہیں، البتہ ان کی وفاداری ان تمام تر نستبوں سے بالاتر ہو کر اسرائیل کے ساتھ ہوتی ہے۔ اسی طرح صہیونی تحریک میں مسلم صہیونی، ہندو صہیونی، عیسائی صہیونی وغیرہ بھی موجود ہیں۔ اس فتنے کا رخ مسلمانوں کی طرف عرصہ دراز سے ہے اور اب اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ تحریک دنیا میں انسانوں کو یہ سبق پڑھاتی ہے کہ ہم پرامن ہیں اور دنیا میں مظلوم یہودیوں کے حقوق کے لیے ایک الگ ریاست کے استحکام کے لیے کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ اسرائیل اور فلسطین کے قضیے میں یہودیوں کے بالمقابل مسلمان ہیں، اس لیے ان کی زیادہ محنت مسلمانوں پر ہے، اور قرآن مجید کی آیات کی غلط تعبیرات کے ذریعے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے ساتھ واقعہ اسراء و معراج میں یہ بات طے ہوگئی کہ بیت المقدس اور بیت اللہ دونوں اللہ کی عبادت کے اولین مراکز ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں بنواسماعیل علی نبینا و علیہ السلام بیت اللہ اور بنواسحاق میں بیت المقدس کی تولیت اور خدمت گزاری کا سلسلہ جاری رہا۔ خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد ان دونوں عبادت گاہوں کی تولیت حضور ﷺ کو عطا کر دی گئی۔ اسی لیے بیت المقدس کا قرآن مجید نے نام مسجد اقصیٰ رکھا۔

یہ بھی پڑھیں:   محمد بن سلمان اور جارڈ کشنر کا اتحاد کیا رنگ لائے گا؟ تزئین حسن

یہودی ارض معہود The Promised Land کے حصول کے لیے کوشاں۔ یہ سازشی قیاس آرائیاں نہیں بلکہ بائبل کے مطابق ایک بشارت ہے جس میں بنو اسماعیل کے لیے فرات سے نیل تک کی حکومت کا وعدہ کیا گیا۔

ملاحظہ فرمائیں:
In the same day the LORD made a covenant with Abram, saying, Unto thy seed have I given this land, from the river of Egypt unto the great river, the river Euphrates(Genesis 15:18 )

مسلمانوں کی ذہنی تخریب کاری کرتے ہوئے انھیں مسجد اقصیٰ کو اللہ کی عبادت کے لیے مستحکم کرنے کے جذبے سے دستبردار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مسلم صہیونی /Muslim Zionist۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دور جدید میں یہودیوں کے فرقوں میں صدوقیوں,Essenes تقریبا ناپید ہیں البتہ فریسیوں کی بڑی تعداد کا مرکز اسرائیل ہے ۔جدید تحریکوں میں Orthodox, Reformer اور Re constructionist میں سے Orthodox اسرائیل اور امریکہ میں غالب ہیں ۔ یہ گروہ یہودیت بطور مذہب کے قبول کیے جانے کے عمل کو قبول نہیں کرتا اور ان کی رائے میں صرف وہی یہودی ہو گا جو کسی یہودی عورت کے بطن سے پیدا ہوا ہو ۔اسرائیل میں یہ سوال کہ "یہودی کون ؟ "انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہودی اور غیر یہودی کا فرق ان کے حقوق و فرائض پر براہ راست اسرائیل کے تعلق سے اثر انداز ہوتا ہے۔۔۔یاد رہے کہ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے یہودیت کی نہیں اسلام کی تبلیغ فرمائی ہے ۔یہودیوں میں ہر قوم ، رنگ،نسل اور مذہب کے لوگ پائے جاتے ہیں کیونکہ یہودیت ایک نسل پرستی پر مبنی مذہب ہے ۔آج دنیا میں کالے،گورے یہودی ،امریکی اور یورپی یہودی ،عیسائی اور ہندو یہودی بھی پائے جاتے ہیں البتہ ان کی وفا داری ان تمام تر نستبوں سے بالاتر ہو کر اسرائیل کے ساتھ ہوتی ہے ۔۔۔۔اسی طرح صہیونی تحریک میں مسلم صہیونی،ہندو صہیونی،عیسائی صہیونی وغیرہ بھی موجود ہیں ۔۔۔۔اس فتنے کا رخ مسلمانوں کی طرف عرصہ دراز سے ہے اور اب اس میں اضافہ ہو رہا ہے ۔یہ تحریک دنیا میں انسانوں کو یہ سبق پڑھاتی ہے کہ ہم پر امن ہیں اور دنیا میں مظلوم یہودیوں کے حقوق کے لئے ایک الگ ریاست کے استحکام کے لئے کوشش کر رہے ہیں ۔۔کیونکہ اسرائیل اور فلسطین کے قضیے میں یہودیوں کے بالمقابل مسلمان ہیں اس لئے ان کی زیادہ محنت مسلمانوں پر ہے اور قرآن مجید کی آیات کی غلط تعبیرات کے ذریعے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے ساتھ واقعہ اسراء و معراج میں یہ بات طے ہو گئی کہ بیت المقدس اور بیت اللہ دونوں اللہ کی عبادت کے اولین مراکز ہیں ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں بنو اسماعیل علی نبیینا و علیہ السلام بیت اللہ اور بنو اسحاق میں بیت المقدس کی تولیت اور خدمت گزاری کا سلسلہ جاری رہا ۔خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد ان دونوں عبادت گاہوں کی تولیت حضور ﷺ کو عطا کر دی گئی ۔اسی لئے بیت المقدس کا قرآن مجید نے نام مسجد اقصیٰ رکھا ۔یہودی ارض معہودہ The Promised Land کے حصول کے لئے کوشاں۔ یہ سازشی قیاس آرائیاں نہیں بلکہ بائبل کے مطابق ایک بشارت ہے جس میں بنو اسماعیل کے لئے فرات سے نیل تک کی حکومت کا وعدہ کیا گیا ۔۔۔ملاحظہ فرمائیں : In the same day the LORD made a covenant with Abram, saying, Unto thy seed have I given this land, from the river of Egypt unto the great river, the river Euphrates(Genesis 15:18 ) مسلمانوں کی ذہنی تخریب کاری کرتے ہوئے انہیں مسجد اقصیٰ کو اللہ کی عبادت کے لئے مستحکم کرنے کے جذبے سے دستبردار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔یہ ویڈیو اسی بات کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔اگر مسلمانوں صہیونی قوتوں کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں تو دنیا میں امن قائم کر دیا جائے گا ورنہ Samson Complex میں مبتلا یہودی پوری دنیا کو تباہی سے ہمکنار کردیں گے ۔۔۔۔۔صہیونی قوتوں کا پاکستان کی بعض جامعات میں اسرائیلی کلچرل ڈے منانے کا اہتمام کرنا بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔۔۔۔۔۔۔انھم یکیدون کیدا و اکید کیدا ۔۔۔۔۔یہ ان کا منصوبہ ہے اور اللہ کا منصوبہ سب پر غالب ہے ۔

Posted by Umair Mahmood Siddiqui on Tuesday, November 7, 2017

یہ ویڈیو اسی بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگر مسلمانوں صہیونی قوتوں کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں تو دنیا میں امن قائم کر دیا جائے گا، ورنہ Samson Complex میں مبتلا یہودی پوری دنیا کو تباہی سے ہمکنار کر دیں گے۔ صہیونی قوتوں کا پاکستان کی بعض جامعات میں اسرائیلی کلچرل ڈے منانے کا اہتمام کرنا بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ انھم یکیدون کیدا و اکید کیدا۔ یہ ان کا منصوبہ ہے اور اللہ کا منصوبہ سب پر غالب ہے۔

Comments

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی شعبہ علوم اسلامیہ، جامعہ کراچی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز پر اسلام کے مختلف موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ علوم دینیہ کے علاوہ تقابل ادیان، نظریہ پاکستان اور حالات حاضرہ دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں