انتخابی حلقے اور انوکھی فرمائشیں - فیاض راجہ

مردم شماری کے عبوری نتائج 31 اگست 2017 کو جاری کٰے گئے۔ اگر عبوری نتائج کی روشنی میں نئی حلقہ بندیاں کی جانی تھیں تو دو ماہ کیوں ضائع کٰے گئے۔

بچوں کے اسکول کی فیس، کالج یونیورسٹی میں داخلہ فیس اور گھر کے یوٹیلٹی بل جمع کرانے کے لیے آخری تاریخ کا انتظار کرنے والی قوم کی پارلیمنٹ، میڈیا اور" اداروں" کی آنکھ ہمیشہ کی طرح دیر سے کھلی اور نومبر شروع ہوتے ہی نئی حلقہ بندیوں کے لیے آئینی بل پاس کروانے کا خیال آیا۔

ایسے میں حکمران جماعت مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ کی "سیاسی بصیرتوں" نے اس معاملے کو مزید گھمبیر بنا دیا۔
حکمران جماعت کی کابینہ نے نئی حلقہ بندیاں کرنے مگر انتخابی حلقوں کی تعداد 272 برقرار رکھنے کا "انوکھا فیصلہ" کیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے آئندہ عام انتخابات 1998ء کی مردم شماری کے تحت کرانے کی "انوکھی تجویز " دی۔
پاکستان تحریک انصاف نے وقت سے پہلے اانتخابات کرانے کی " انوکھی فرمائش " کی۔
جبکہ
متحدہ قومی مومنٹ نے مردم شماری دوبارہ کرانے کا " انوکھا مطالبہ" کردیا۔

سقراطوں اور بقراطوں کو مشورہ ہے کہ نیا مکان بنانا، پرانے مکان کو توڑ کر نیا مکان بنانے سے نسبتا آسان ہے۔ دو انتخابی حلقوں کے تین انتخابی حلقے بنانا قابل عمل جبکہ تین انتخابی حلقوں کے دو حلقے بنانا گنجلک ہے۔ 272 حلقے برقرار رکھنے کے “انوکھے فیصلے" سے نہ صرف ایک حلقے میں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 4 لاکھ بلکہ اوسط آبادی 8 لاکھ تک جا پہنچے گی۔ یوں 7 کروڑ آبادی کے پنجاب کے جہاں ماضی میں 148 انتخابی حلقے تھے۔ اب ساڑھے 11 کروڑ آبادی کے پنجاب کے 141 حلقے بنا کر آپ کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔

2002ء کی حلقہ بندیوں کرتے وقت ایک انتخابی حلقے کے اوسط رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 2 لاکھ 62 ہزار جبکہ اوسط آبادی 5 لاکھ کے قریب تھی۔

2018ء کے عام انتخابات کے لیے نئی حلقہ بندیوں کے لیے اسی فارمولے پر عمل کرتے ہو ئے انتخابی حلقوں کی تعداد 272 کی بجائے 427 ہونی چاہیے۔ جس میں پنجاب کے آبادی میں اضافے کے کم تناسب کی روشنی میں عمومی نشستوں کی تعداد 148 سے بڑھ کر 218 ہونی چاہیے۔

صوبہ سندھ کی عمومی نشستوں کی تعداد 61 سے بڑھا کر 99، خیبر پختونخوا کی 35 سے بڑھا کر 64، بلوچستان کی 14 سے بڑھا کر 26، فاٹا کی 12 سے بڑھا کر 17 جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی قومی اسمبلی میں عمومی نشستیں 2 سے بڑھا کر 3 کر دینی چاہییں۔

الیکشن کمیشن 6 ماہ کی قلیل مدت میں جو حلقہ بندیاں کرنے جا رہا ہے، اس کے " آفٹرایفیکٹس" سے بچنے کا واحد آئینی اور قانونی راستہ یہی ہے کہ نئی مردم شماری کے بعد قومی اسمبلی کی 427 عممومی نشستوں میں پنجاب کی نشستوں کا تناسب کم جبکہ دوسرے صوبوں کا تناسب بڑھایا جائے۔

حکومت ہوش کے ناخن لے اور حلقوں کو "ہلکا" ہرگز نہ لے۔