کیا میاں نوازشریف کی واپسی ممکن ہے؟ عبیداللہ عابد

میاں نواز شریف اور ان کے عشاق کو یہ حقیقت تسلیم کرلینی چاہیے کہ وہ مائنس ہوچکے یا کردیے گئے ہیں۔ وہ درست طور پر مائنس ہوئے ہیں یا غلط طور پر، بہرحال اب ان کی واپسی ناممکن ہے۔ میں سوچ سمجھ کے 'مشکل' کا لفظ استعمال نہیں کررہا کیونکہ ان کی واپسی بہرحال ناممکن ہے۔ مسلم لیگ ن کے لوگ اگر میاں صاحب کی واپسی کے لیے جدوجہد کرکے وقت ضائع کرنا چاہیں تو یہ ان کا حق ہے، لیکن وقت ضائع کرنے کا نقصان یہ ہوگا کہ باقی سیاسی فریق آگے نکل جائیں گے اور میاں صاحب کے متوالے اس بات پراحتجاج ہی کرتے رہ جائیں گے کہ "انھیں کیوں نکالا؟"

میاں نوازشریف کے لیے بہترین راستہ یہی ہے کہ وہ اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کریں، اور اپنی باقی جماعت کو آگے بڑھنے دیں۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے طور پر سویلین بالادستی کے لیے ملک میں فضا ہموار کرنا چاہیں تو انھیں ایسا ضرور کرنا چاہیے۔

مسلم لیگ ن کے لیے بہترین راستہ یہ ہے کہ وہ اگلے سال ہونے والے عام انتخابات کے لئے تیاری کرے۔ ایک سال پہلے تک سیاسی تجزیہ نگاروں اور ماہرین کا خیال تھا کہ مسلم لیگ ن اگلے عام انتخابات جیت لے گی تاہم اب ایسا نہیں ہے۔ شریف خاندان کے صاف شفاف نہ ہونے کے سبب ن لیگ کی ساکھ پر خاصے دھبے لگ چکے ہیں، اس لیے اب اسے انتخابات 2018ء میں کامیابی حاصل کرنی ہے تو اگلے چند مہینوں میں کسی انقلابی حکومت کی طرح ڈیلیور کرے۔

اگر ن لیگ سمجھتی ہے کہ صرف لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرکے وہ الیکشن جیت جائے گی تو یہ اس کی خوش فہمی ہے۔ اسے بخوبی معلوم ہے کہ اس کے مقابل کون کون سی طاقتور قوتیں ہیں۔ ان کی قوت کا غلط اندازہ لگانے کا خمیازہ وہ گزشتہ چندماہ سے بخوبی بھگت رہی ہے، مزید غلط اندازہ لگائے گی تو مزید مار کھائے گی۔ اس لیے کئی گنا زیادہ ڈلیور کرنے کی ضرورت ہے۔ مثلآ وہ مہنگائی کی شرح تیزی سے نیچے کی طرف لائے، یہ ثابت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کہ میاں نوازشریف کو نکالنے سے مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا۔ اس وقت وزیراعظم نوازشریف نہیں ہیں تو کیا ہوا، حکومت تو ن لیگ کی ہے نا۔

یہ بھی پڑھیں:   گل وچوں کج ہور اے - محمد واحد

ن لیگ کی حکومت تاجر دوست ہونے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن یہ تاثر محض ایک غلط تاثر ہے۔ وہ کسان دوست ہونے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن اس دعوے کے ثبوت فراہم کرنا باقی ہیں۔ اگر ن لیگی حکومت ملک میں صحت مند غذا اور معیاری، سستی دوا کا اہتمام کرے تو یہ اقدامات اس کی بڑی کامیابی کی راہ ہموار کریں گے۔

اس کے ساتھ ہی ساتھ ن لیگ کی ساکھ پر جو دھبے لگ چکے ہیں، انھیں دور کرنا ازحد ضروری ہیں۔ آئین کی دفعات 62 اور 63 کو ختم کرنے کے بجائے حکمران جماعت اعلان کردے کہ اگلے عام انتخابات میں ایسے امیدوار کو ٹکٹ دیاجائے گا جس کے دفعہ 62 اور 63 پر پورا اترنے میں کوئی شک و شبہ باقی نہ ہو۔ یہ اعلان محض اعلان ہی نہ ہو بلکہ اسے یقینی بھی بنایا جائے۔

ن لیگ کے بارے میں یہ تاثرعام ہے کہ وہ نوازشریف کی قیادت میں بھارت دوست بن چکی ہے، میاں نواز شریف کی متعدد تقاریر دوقومی نظریہ کی مخالفت میں تھیں۔ ن لیگ ایسے تمام افراد کو اپنے سے دور کرے جو دوقومی نظریہ پر یقین نہیں رکھتے اور ایک صحیح "مسلم لیگ" بننے کی کوشش کرے، سیکولر اور لبرل جماعت ہونے کا تاثر دور کرے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ ن لیگ اس روش سے گریز کرے جس نے نوازشریف کو اقتدار سے نکال باہر کیا۔ اگر اس نے اسی راستے پر چلنے کی کوشش جاری رکھی تو حکومت مارچ 2018 سے پہلے ختم ہوجائے گی جیسا کہ عمران خان اور امپائر کی خواہش اور کوشش ہے۔