میری تشنگی، میرا تصوراتی سفر - بلال آتش

میں الجھا بیٹھا ہوں گنجلک سے مسئلوں میں، متفرق مسئلوں میں۔ ایک الجھن سلجھاتا ہوں تو مزید کئی الجھنوں میں جا پڑتا ہوں۔ گھر بار کے مسئلے، دوست یاروں کے مسئلے، میری ذات کے مسئلے، کاروبار کے مسئلے۔ شاید یہی زندگی ہے اور ہم یونہی ایک کے بعد ایک الجھن سلجھاتے سلجھاتے زندگی کے افق پر غروب ہو جاتے ہیں،ڈوب جاتے ہیں، کبھی نہ طلوع ہونے کے لیے، کبھی نہ اٹھنے کے لیے۔ یہ تو ایک بات ہو گئی، پتہ ہے میں کتابی کیڑا تھا کسی وقت میں؟ ہر طرح کی کتاب،۔ ناول، دیوان۔ جو کچھ سامنے آتا تھا میں بڑے ذوق و شوق سے پڑھتا تھا۔ پھر تھوڑی سمجھ بوجھ آئی تو ساتھ ساتھ انسانوں کو پڑھنے لگا۔ وقت گزرنے لگا تو ارتقائی سفر کا حصہ بنتے ہوئے میں بھی ایک دوڑ میں شامل ہوا اور آج کل صرف فیس بک پڑھتا ہوں۔

اس سب کے بیچ میرا تصوراتی سفر ادھورا رہ گیا۔ میں جو کتابیں پڑھتا پڑھتا کبھی جلال الدین خوارزم شاہ کی بادشاہت کو گرتے دیکھتا تھا، کبھی صلاح الدین ایوبی کو موصل کا محاصرہ کرتے دیکھتا تھا، کبھی ارسطو کو ساحل کنارے کھڑا ہو کر بحری بیڑہ ہلاتے دیکھتا تھا، کبھی دجلہ کی موجوں پہ سفر کرتے بیڑوں میں برپا رقص و سرور کی محفلوں میں چپکے سے جا بیٹھتا تھا، کبھی اشوک کی یاترا کا شریک سفر بن جاتا تھا، کبھی قیس کو صحرانوردی میں مگن دیکھتا تھا، کبھی بخاری کو اپنے دیس بخارا سے جلاوطن ہوتے دیکھتا تھا۔ اتنا کچھ ہے نا جو میں مکمل نہیں دیکھ سکا؟ میری تشنگی کا عالم عجیب ہے۔ کبھی فلورنس میں برپا سازشیں، قلوپطرہ کا حسن اور اس کی شادیاں، ازابیلا کی سازشیں، طرابلس اور اندلس کے سقوط کے مناظر، بازنطین اور قیصر کی فرقہ وارانہ جنگیں، پیٹریاٹس اور پوپ کی ایک دوسرے پہ فتوے بازیاں، رچرڈ شیر دل کی مقدس جنگ میں شمولیت اور انگلستان کی غلام گردشوں میں برپا کشمکش، حیدر علی اور ٹیپو کے معرکے اور امریکہ کے اخباروں میں ان کی بہادری و حب الوطنی کے قصے، جیسے۔۔۔۔جیسے ۔۔۔ کوئی پریزنٹیشن چلتی ہے نا؟ ایک کے بعد ایک سلائیڈ اور سبھی ایک سے بڑھ کر ایک، دلچسپ اور الگ دنیا کا سفر۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا اسلامی علمی روایت مربوط و محفوظ نہیں؟ - محمد زاہد صدیق مغل

مجھے وہاں جانا تھا، وہیں رہنا تھا، وہیں جینا تھا، وہیں کہیں کسی کونے میں اپنی پسند کی جگہ پہ۔ ماسکو کے قلعے کی بیرونی دیوار کے نیچے برف میں جدھر تاتاریوں کے گھوڑوں کے سم نہ پڑیں یا پھر گنبد صخریٰ سے متصل برآمدے میں یا پھر بنو عبید کے مصر کے خاموش صحرا میں، دمشق کی جامع مسجد و یونیورسٹی کے کسی احاطے میں ایسی ہی کسی جگہ پہ دبا پڑا رہتا، اپنی تصوراتی دنیا کا بقیہ سفر پورا کرتا۔

میری زندگی میں سبھی اتنا کچھ اچانک سے ہوا کہ میں بوکھلا سا گیا، اور اب تک ہوں۔ میں مضبوط بنتا ہوں، جو میں حقیقت میں نہیں ہوں۔ میں پریکٹیکل بنتا ہوں، درحقیقت نہیں ہوں۔ میں شاید ایک مس فٹ ہوں یہاں، شاید نہیں ہوں لیکن میں جو چاہتا تھا، کم از کم وہ نہیں ہوں اور وہاں نہیں ہوں۔ میرا دل کرتا ہے کہ پھر سے کتابوں کی پناہ لے لوں۔ ایلی بن کر دوارے دوارے پھروں، تیمور کا لشکری بن کر ملک ملک جاؤ‎ں یا پھر زین العابدین رحمہ اللہ کے گھر کے پاس کہیں ڈیرا ڈال کر بیٹھ جاؤ‎ں۔ چپ چاپ ان کی خاموشی کو عقیدت سے سنتا رہوں۔ غزالی کے فلسفے کو نہ سمجھوں لیکن ان کو بولتا سنوں۔ پھر لمبا سفر کر کے اچانک سے پاک ٹی ہاؤ‎س میں چائے پینے آ جاؤ‎ں۔ ممتاز مفتی سے گپیں ہانکوں اور پھر مستنصر حسین تارڑ کے کسی اور سفرنامے کا حصہ بن جاؤ‎ں یا واپس جا کر پرتگالی ملاحوں کے ساتھ ایک نئے براعظم کو دیکھوں۔

میں نجانے کیوں ان فی زمانہ مسئلوں سے، اذیتوں، دکھوں، دردوں، پیسوں، روزگاروں اور بھرموں سے بھاگ جانا چاہتا ہوں۔ میں بس، کتابوں کی پناہ چاہتا ہوں۔ اتنا بھی برا کیا چاہتا ہوں؟ لیکن ایک بات ضرور ہے۔ ان کتابوں کے ذریعے میں سب سے بڑھ کر پرانے وقتوں کے اپنے تصوراتی سفر کی تکمیل چاہتا ہوں۔ پیاس کی تشنگی مٹا دینا چاہتا ہوں، بس!