دینا واڈیا اور ڈاکٹروں کے بھیس میں لوہار - حافظ یوسف سراج

کہانیاں کبھی نہیں بدلتیں۔ یہ جتنی بھی پرانی ہو جائیں، آدمی کے کام آ ہی جاتی ہیں۔ دیکھئے،ان چند لفظوں’’ کام آ ہی جاتی ہیں‘‘ نے کیا المیہ یاد دلا دیا۔ اکتوبر 2005 کے زلزلے میں بالا کوٹ کی بربادی دیکھی۔ آن کی آن میں کروڑ پتی زمیں پہ آ رہے تھے۔ کروڑوں کی سواریاں اور عالی شان محل لمحوں میں مکینوں سمیت زمیں میں دفن ہو گئے تھے۔ کہیں پھول سے بچے روتے تھے کہ والدین نہ رہے تو کہیں باغبان دکھی تھے کہ ان کا صحن ان کے پھولوں کا باغ نگل گیا۔ پورا شہر نابود ہو کے اہلِ شہر کو خانہ بدوش کر گیا تھا۔ فلاحی تنظیموں کے کیمپوں پر کچھ تو دودھ کا ڈبہ ، چند روٹیاں، ایک کمبل یا ایک خیمہ لینے آ جاتے تھے اور کچھ وہ تھے کہ اپنے محل کے کھنڈروں پہ سردی سے ٹھٹھرتے اور بھوک سے بلکتے بیٹھے رہتے تھے۔ پتا چلا کہ زندگی بھر دینے والے ہاتھوں کو، آج ایک لقمے کیلئے پھیلنے کی نسبت ٹوٹ جانا سہل لگتا ہے۔

اسی سفر سے واپسی پر اس خاکسار نے چند ٹرک قطار اندر قطار بالا کوٹ کی طرف رواں دیکھے۔ ان پر آویزاں بینروں پر وہ تحریر لکھی تھی کہ آنسو گالوں سے گزر کر دل پر گرتے رہے۔ تحریر تھا ’’ لاہور کے چھاپڑی فروشوں کی طرف سے اپنے زلزلہ متاثرین بھائیوں کیلئے امداد۔‘‘ اس ایک سادہ سطر نے دل کو شرم اور فخر سے بھر دیا۔ فخر یہ کہ کندھوں پر چھاپڑی اٹھا کے چند روپے کمانے والے مفلس بھی دل کے کیسے بادشاہ ہو سکتے ہیں کہ جنھوں نے اپنا پیٹ کاٹ کے بھی ٹرک بھر کے اہلِ درد کیلئے روانہ کر دئیے۔ شرم اس بات پر آئی کہ جتنی ہمت ان مفلسوں کو نصیب ہو گئی، اتنی توفیق تو کبھی قوم کی دولت لوٹنے والوں کو بھی میسر نہ آ سکی۔ بات دور نکل گئی۔ اسی قیام کے دوران اسی اجڑے دیارکے ایک شاعر کا شعر سنا، شاید اسی زلزلے کے تناظر میں کہا گیا ہو، شعر تھا ؎
مصرف نکل ہی آتا ہے بے کار چیز کا
لاتا ہوں بھیک باپ کی پگڑی میں ڈال کے

کس ہنرکاری اور فصاحت سے شاعر نے باپ کی عظمت سنبھال نہ سکنے کی اپنی نا اہلی کی کہانی دو مصرعوں میں کہہ ڈالی۔ باپ کی پگڑی استعارہ بھی ہو سکتی ہے۔ جسے آپ اپنا گمشدہ تہذیبی ورثہ کہہ سکتے ہیں۔ کہاوتیں اور کہانیاں بھی تہذیبی ورثہ ہی ہوتی ہیں۔ ایک پرانی داستان ہے۔ وہ گاؤں کا ایک لوہار تھا، جس کے پڑوس میں کسی حکیم کا مطب تھا۔ پسینے میں ڈوبا لوہار سارا دن بوسیدہ کپڑوں پر شرارے سہتا دھونکنی جھونکتا اور ضربیں لگا لگا کے لوہا کوٹتا مگر کماتا بہت کم ۔ حکیم اجلا سوٹ پہنے مطب میں مریض دیکھتا اور ڈھیروں کما جاتا۔ روز یہ منظر لوہار دیکھتا اور روز اپنا موازنہ حکیم سے کرتا۔ پھر ایک دن اس نے فیصلہ کر لیا۔ دکان کا سب کاٹھ کباڑ دور پرے گھر کے کسی کونے میں پھینکا۔ صفائی کی اور کہیں سے ایک میز کرسی کا اور ایک آدھ شیلف کا بھی انتظام کر لیا۔ چند شیشیوں میں رنگ برنگے محلول بھرے اور سفید لباس پہن کے کرسی پر بیٹھ گیا۔ لوہار ہی تھا، جانتا نہ تھا کہ باہر سے بدل جانے سے انسان اندر سے کب بدلتے ہیں۔ پہلا ہی مریض آیا تو یہ اٹین شین ہو گیا۔ دیر تک اس کی نبض تھامے سوچتا رہا کہ کیا کہے۔ تاخیر سے گھبرا کے مریض نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں تویہ بھی گھبرا گیا اور بے ساختہ اس کی زبان سے نکلنے لگا۔ ’’ نل سے پانی کیسے آئے ، بوکی تو پھٹی ہوئی ہے، تجھے بوکی پڑے گی جناب!‘‘ (گاؤں دیہات کے ہینڈ پمپ میں چمڑے یا ربر کی بنی ایک بوکی ہوتی تھی ، جو نل کی ہتھی چلانے سے پانی اوپر لاتی ۔)

یا خدا! دانش وروں کے بہروپ میں آج ہمارے ہاں کچھ لوگ بھی شاید ایسے ہی ہیں۔ اللہ انھیں فہمِ صحیح اور قلبِ سلیم دے، موقع کوئی بھی ہو، یہ اپنی ’بوکی‘ ڈالنے بیٹھ جاتے ہیں۔ اب مثلاً قائداعظم کی بیٹی دینا واڈیا وفات پا گئیں۔ دل درد سے بھر آیا۔ یہ پوری کہانی ہی درد ناک ہے۔ بہت پہلے جب قائد کی حیات کا یہ ورق پلٹ کے دیکھا تھا تو دل دکھ سے بھر گیا تھا۔ آدمی دراصل آدمی ہی رہتا ہے۔ وہ زندگی سے ایک حد تک لڑ سکتا ہے مگر حیات کے سرکش گھوڑے کی ہر حرکت کو مطیع نہیں کر سکتا۔ دینا جناح نے ایک پارسی لڑکے سے شادی کرلی تو مشتعل ہوئے بغیر قائد نے بیٹی سے تعلق توڑ لیا۔ محبت البتہ ایک باپ اپنی بیٹی کی کبھی دل سے نہیں نکال سکتا۔ وہ رہی۔ دینا پاکستان نہ آئیں۔ ہاں مشرف دور میں آئیں تو کراچی باپ کی قبر پر گئیں۔ زائرین کی کتاب میں اپنے باپ کو خراج ِ تحسین پیش کیا۔ دینا نے اپنی طرز کی زندگی جی۔ اب وہ مر گئی ہیں تو علاوہ اور باتوں کے دل درد سے اس لئے بھی بھر گیا کہ قائد کی شبیہ مر گئی۔ کس قدر اس کی قائد سے مماثلت تھی۔ کسی ادا کارہ کا بیان بھی نظر سے گزرا کہ ایسی مماثلت اس نے زندگی میں کہیں اور نہ دیکھی۔ دینا نے انڈین گورنمنٹ سے باپ کی وراثتی کوٹھی کا دعویٰ کیا مگر مقدمہ لڑنے کے باوجود وہ اسے نہ ملی۔ دراصل انھوں نے نقل مکانی نہ کی تھی کہ متروکہ جائیداد کی حقدار ٹھہرتیں۔ دینا کیلئے یہ کوئی سوہانِ روح چیز نہ رہی ہو گی۔ آدمی جب کچھ فیصلے کرتا ہے تو وہ اتنے سادہ نہیں ہوتے۔ ان کے اثرات بھگتنے پڑتے ہیں۔ دینا نے بھی بھگتے۔

اب مگر ہمارے کچھ دانشور چھپے لفظوں میں اور کچھ واضح لفظوں میں مسلمانوں کے پہلے خلیفہ پر زبانِ طعن دراز کرنے لگے ہیں۔ دراصل سیدہ فاطمہ ؓ نے رسولِ رحمت کی وفاتِ حسرت آیات پر صدیق ِ اکبرؓ سے باغِ فدک کی وراثت کا مطالبہ کیا تو آپ نے رسول ِ رحمتؐ کا یہ فرمان سنایا کہ انبیا کی وراثت مسلمانوں کے بیت المال کی امانت ہوتی ہے۔ وہ چلی گئیں۔ یہ اسلام کا ایک اصول تھا۔ خود سیدہ کے بابا کا فرمان۔ جو انھوں نے جانا اور مانا۔ اہلِ بیت کے شایانِ شان وظائف البتہ جاری رہے۔ ایسا پہلی بار نہ ہوا تھا۔ ایک بار پہلے بھی رسول ِرحمت کی خدمت میں سیدہ کو ان کے شوہر سیدنا علیؓ نے اس وقت بھیجا تھا،جب مالِ غنیمت تقسیم ہو رہا تھا، تاکہ سیدہ کام کاج سے سخت ہو گئے اپنے مقدس ہاتھ دکھائیں اور کوئی خادمہ لے آئیں۔ رسول ِرحمتؐ نے مگر فرمایا، جانِ پدر! کیا میں تمھیں زیادہ بہتر چیز نہ دوں؟ چنانچہ وہ وظیفہ عنایت فرمایا، جو آج مسلمانوں میں تسبیح فاطمہ ؓ کے نام سے معروف ہے۔ دنیا کو نہیں، پیغمبر ِرحمت اپنے لیے، اپنے اہلِ بیت اطہار کے لیے اور اپنی امت کے لیے آخرت کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ آج مگر وہ لبرل و سیکولر لوگ اس پر طنز فرماتے ہیں کہ جنھوں نے اسلام کے نظام ِ شریعت کو نہیں مانا۔ بھئی تمھیں بھلا اس طنز کا کیا حق ہے؟ یعنی ڈاکٹری پڑھے بغیر اور اسلام کا ڈیکورم جانے مانے بغیر طنز فرمانے کا حق۔ حضور! آپ یہ پنڈ چھوڑ دیجیے۔ ہاں بات کرنی ہے تو پھر انھی اصولوں کے اندرآ کے کیجیے، جو اسلام کے طے کردہ ہیں۔ ظاہر ہے کہ اپنی خود ساختہ شرائط اور اپنے خود طے کردہ اصولوں پر دنیا کا کوئی فن اور کوئی علم آپ کو قبول نہیں کرتا۔ ہر فن اور ہر علم کی اپنی اصطلاحات ہوتی ہیں۔ ایمانیات کی بھی اپنی اصطلاحات ہیں اور اپنا دائرۂ تفہیم۔ جو ایمان کے دروازے سے گزرنے کے بعد اپنے دامن کو ہاتھ لگانے دیتی ہیں۔ یہ طنز کا دانہ دنکا چگنے کومنڈیر پر لمحوں کے لیے آبیٹھے پرندوں کے بس کی بات نہیں۔ اس کیلئے تو یہاں دھونی رما کے بسیرا کرنا پڑتاہے۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.