ن لیگ کی اصل مشکل - محمد عامر خاکوانی

مسلم لیگ ن کی مشکل صرف یہ نہیں کہ اس کے قائد میاں نواز شریف کو عدالت عظمیٰ نے نا اہل کر دیا ہے اور ان کی سیاست میں واپسی اب مشکل نظر آ رہی ہے۔ اصل پریشانی اس سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔ انہیں پہلی بار وہ کھیل کھیلنا پڑ رہا ہے، جس سے آشنا نہیں رہے۔ ہوم گراﺅنڈ میں، اپنے ایمپائروں کے ساتھ جس انداز کی فرینڈلی کرکٹ وہ کھیلتے رہے، اب ویسا کھیل نہیں ہو رہا۔ایمپائر نیوٹرل ہیں، پچ ناسازگار اور ٹیم کے کھلاڑی بھی متحد نہیں رہے۔

ایک معروف سابق کرکٹرکے بارے میں مشہور ہے کہ ڈومیسٹک ٹورنامنٹ کے میچ میں مقامی باؤلر نے اچھی گیند کرائی اور وہ ایل بی ڈبلیو ہوگئے، ایمپائر نے آؤٹ دینے کاارادہ کیا تو وہ ترنت چلا کر بولے، یاد رکھو کہ یہ کراؤڈ میری بیٹنگ دیکھنے آیا ہے، تمھاری انگلی دیکھنے نہیں۔ امپائر نے کھیسانا ہو کر ناٹ آﺅٹ قرار دیا۔ ایک زمانے تک اسی انداز کی کرکٹ ہر جگہ ہوتی تھی، حتیٰ کہ نیوٹرل ایمپائرز کا دور آیا۔ ایمپائروں سے غلط آؤٹ کرا کر وکٹیں لینے والے کئی اوسط درجے کے باؤلرز اور بعض ٹیمیں بری طرح ایکسپوز ہوگئیں۔رفتہ رفتہ پھر انہیں نئی ٹیمیں بنانی اور اپنے کھلاڑیوں کو جان مارنے کا عادی کرنا پڑا۔

میاں نواز شریف اور ان کی جماعت کے ساتھ بھی یہی ستم ظریفی ہوئی۔ ایک طویل عرصے تک وہ اسٹیبلشمنٹ کے زور پر سیاست کرتے رہے، مشکل وقت انہوں نے دیکھے ہی نہیں۔ پچاسی سے ترانوے تک وہ اسٹیبلشمنٹ کا سہارا لے کر جیتتے رہے۔ ستانوے میں بھی انہیں صدر فاروق لغاری کی حمایت حاصل تھی۔ میاں نواز شریف کے حامی ایک نکتہ اٹھاتے ہیں کہ میاں صاحب پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے ہر آرمی چیف کے ساتھ جھگڑے کیے، حالانکہ یہ اسٹیبلشمنٹ ہی ہے جو کسی طاقتور سویلین وزیراعظم کو قبول نہیں کرتی۔ ایک لمحے کے لیے یہ دلیل تسلیم کرلیتے ہیں مگر پھر اس کا جواب ملنا چاہیے کہ چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ تصادم کیوں شروع کیا گیا؟ شاہ صاحب میں لاکھ خامیاں ہوں گی، اس لڑائی کے آخر میں وہ انتہا پر چلے گئے تھے، جس کا انہیں شدید نقصان ہوا، مگر شروع میں تو وہ صرف سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد پوری کرنا چاہ رہے تھے اور میاں برادران اس وقت کے چیف جسٹس ہائی کورٹ کو سپریم کورٹ بھیجنے سے گریزاں تھے ۔ وجہ صرف یہ کہ مذکورہ چیف جسٹس ہائی کورٹ شریف خاندان کے ساتھ ذاتی تعلقات رکھتے تھے۔ اس بات پر قصہ اس قدر طول کھنچا کہ ایک موڑ پر مسلم لیگی حکومت کو سپریم کورٹ پر حملہ کرانا پڑا تاکہ اس روز کی کارروائی معطل ہوجائے، انہیں خدشہ تھا کہ عدالت عظمیٰ حکومت کے خلاف کارروائی نہ کر دے۔ سپریم کورٹ پر حملہ کا واقعہ میاں نواز شریف اور مسلم لیگ کی تاریخ پر ایسا خوفناک سیاہ دھبہ ہے ،جو ہزار بارشوں سے نہیں دھل سکتا۔ مشرف دورمیں مسلم لیگ ن پر حقیقی معنوں میں بحران آیا تو ”جرات مند “شریف خاندان دس سالہ معاہدہ کر کے باہر چلا گیا۔ پیچھے مسلم لیگ ن تتر بتر ہوگئی۔ 2002ء میں انہیں درجن بھر نشستیں مل پائیں۔ 2008ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد سیاسی منظرنامہ بدل گیا۔ اگلے پانچ برسوں تک انہوں نے فرینڈلی اپوزیشن اور جواباً حکومت کی جانب سے فری ہینڈ لے کر حکومت کی۔ پاکستانی سیاسی تاریخ کا یہ واحد اور انوکھا واقعہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی جماعت آپس میں مک مکا کر کے ایک دوسرے کو کھل کھیلنے کا موقع فراہم کرے۔ ایسی فرینڈلی سیاست کی مثال دنیا بھر میں شاید ہی کہیں نظر آئے۔

یہ بھی پڑھیں:   شہباز گل مستعفی، عون چوہدری برطرف

آج صورتحال یکسر مختلف ہے۔ مسلم لیگ ن کو پہلے جیسے فوائد اور سہولت کار میسر نہیں۔ اسٹیبلشمنٹ پیچھے ہٹ چکی ہے اور ن لیگ کی تمام تر کوششوں، حملوں اور تمناؤں کے باوجود آگے آنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ ن لیگ کو ایک لمبے عرصے تک عدلیہ سے ریلیف ملتا رہا۔ محترمہ ایک زمانے میں یہ شکوہ کرتی تھیں کہ عدلیہ کا رویہ پنجاب کی سیاسی اشرافیہ کے لیے مختلف ہوتا ہے۔ میاں نواز شریف کی بدقسمتی کہ عدلیہ کی بحالی کی جدوجہد نے عدالتوں کا پورا مزاج بدل دیا۔ جسٹس افتخار چودھری سے بہت غلطیاں ہوئیں، انہوں نے عوام کو بری طرح مایوس کیا، مگر فعال اور طاقتور عدلیہ کی بنیاد وہ رکھ گئے، جسے توڑنا، مروڑنااور مینیج کرنا اب کسی کے لیے ممکن نہیں رہا۔ جسٹس آصف کھوسہ اور ان جیسے کئی شاندار جج جہاں پورے وقار اور علمی شان کے ساتھ سربلند کھڑے ہیں۔

میاں نواز شریف اور ان کے ساتھیوں نے پاکستان کے پورے سیاسی نظام کو ہائی جیک کر لیا تھا۔ ایسی عمدگی، مہارت اور صفائی کے ساتھ انہوں نے ایک ایک کر کے ہر اہم قومی ادارے کو مینیج (Manage) کیا۔ یہ انگریزی کا لفظ زیادہ واضح انداز میں ابلاغ کرتا ہے۔ پولیس، انتظامیہ، الیکشن کمیشن، سٹیٹ بینک، ایف آئی اے، آئی بی، نیب، ای ایس سی پی اور سب سے بڑھ کر میڈیا.... ہر جگہ ن لیگ نے اپنے مخصوص کاری گری سے کام کیا۔ سیاسی جماعتوں کی اکثریت کو ساتھ ملا لیا۔ اے این پی، جے یوآئی فضل الرحمن، محمود اچکزئی کی میپ، نیشنل پارٹی کے بلوچ قوم پرست، فنکشنل لیگ، ایم کیو ایم اور سب سے بڑھ کر پیپلزپارٹی .... ان سب کو یوں ساتھ ملا لیا کہ تحریک انصاف کے پاس سولو فلائٹ کے علاوہ آپشن ہی نہیں بچی تھی۔ میاں صاحب سمجھتے تھے کہ سب کچھ ہینڈل کرنے میں وہ کامیاب رہے ہیں، انہوں نے تحریک انصاف کو خیبر پختون خوا میں حکومت بنانے کا دانستہ موقع دیا تھا تاکہ یہ لوگ ایک کونے میں دہی کھاتے رہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے بڑی کوشش کی کہ ن لیگ کے ساتھ مل کر صوبائی حکومت بنائی جائے اور حقیقت یہ ہے کہ مولوی صاحب اپنی شاطرانہ چالوں، جوڑ توڑ، خرید وفروخت کے ذریعے کامیاب ہو سکتے تھے۔ اصول و ضوابط اور اخلاقیات کے ساتھ مولانا فضل الرحمن کا رشتہ بڑا کمزور اور بہت دور کا رہا ہے۔ اپنے مقصد کی خاطر وہ مخالف پر یہودی ایجنٹ اور امریکی ایجنٹ ہونے کا نہایت سنگین الزام چسپاں کرنے سے گریز نہیں کرتے۔

میاں صاحب سمجھتے تھے کہ اب نچنت ہو کر وہ حکومت کریں گے۔ ان کی بدقسمتی کہ عمران خان جیسے نہایت ضدی اور ڈھیٹ پن کی حد تک مستقل مزاج شخص سے واسطہ پڑا، جس نے اپنی تمام سیاست داؤ پر لگا دی، مگر میاں نواز شریف کے خلاف مہم چلانے سے باز نہ رہا۔ پانامہ سکینڈل آیا تو عمران خان کسی سخت جان ارنا بھینسے کی طرح حملہ آور ہوا اور لگاتار حکومت کی بظاہر مضبوط نظر آتی دیوار کو ٹکریں مارنے لگا۔ ن لیگ نے پیپلزپارٹی کی مدد سے تحریک انصاف کو پارلیمنٹ میں ٹی اوآرز کے معاملے پر زچ کرنے کی کوشش کی، مگر تحریک انصاف نے سولو فلائیٹ اختیار کر کے اپنی احتجاج تحریک جاری رکھی۔ اس میں صرف اسے جماعت اسلامی کی تائید حاصل تھی۔ جماعت تو ویسے تحریک انصاف سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گئی اور وہ واحد جماعت تھی جس نے پانامہ میں ملوث تمام پاکستانیوں کے احتساب کا مطالبہ کیا۔ اگر ہماری سول سوسائٹی میں جان ہوتی تو لوگ کھڑے ہو کر جماعت کے اس ایجنڈے میں ہاتھ بٹاتے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر، مصالحت نہیں عمران خان دھماکہ کریں - محمد عبداللہ گل

میاں صاحب کے لیے پانامہ حقیقت میں قدرت کی لاٹھی ثابت ہوا۔ اس سکینڈل سے پہلے معاملات ان کے کنٹرول میں آ گئے تھے اور ن لیگی اخبارنویس اپنے کالموں، ٹاک شوز میں 2018ء کے بجائے 2023ء کے انتخابات کرنے لگے تھے، انہیں لگ رہا تھا کہ اگلا انتخاب تو وہ حلوے کی طرح ہڑپ کر جائیں گے۔ پانامہ نے سب کچھ بدل دیا۔ عمران کی جارحانہ مہم، آزا د میڈیا کی سپورٹ اور سوشل میڈیا کی فعالیت نے پانامہ ایشو مرنے نہیں دیا، ورنہ خواجہ آصف جیسے اعلانیہ یہ کہہ رہے تھے کہ چند ماہ میں لوگ بھول بھال جائیں گے۔ ایسا نہیں ہوسکا اور پانامہ کیس اپنے فطری اختتام تک پہنچ گیا۔

میاں نواز شریف کو عدالت سے وہ ملا، جس کے وہ مستحق تھے۔ انہوں نے پانامہ کے معاملے میں لگاتار جھوٹ بولے، سفید جھوٹ۔ اگر میاں صاحب کسی ایسے ملک کے لیڈر ہوتے جہاں جمہوریت مستحکم ہوچکی ہوتی، تو وہاں پر ان کے خلاف اتنا طویل کیس چلانے، جے آئی ٹی کی تحقیقات وغیرہ کی نوبت ہی نہ آتی۔ قوم سے خطاب، پارلیمنٹ میں تقریر اور پھر سپریم کورٹ میں پیش کردہ قطری خط جیسے بھیانک مذاق کے بعد میاں نواز شریف کی سیاست ازخود ختم ہوجاتی۔ اتنے بڑے جھوٹ اور تضادات دنیا بھر میں صرف ن لیگ کے حامی ہی برداشت کر سکتے ہیں۔

شریف خاندان اپنے زوال کی طرف گامزن ہے، بلندیوں سے پھسلنے کا عمل چل رہا اور ایک بار نیچے لڑھکنے کے بعد کہیں راستے میں رکنا ممکن نہیں ہوتا۔ شہباز شریف کے اگلے وزیراعظم اور مریم نواز کو اگلا وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کی بات پڑھ کر ہنسی آتی ہے۔ کیا کوئی آزاد تجزیہ کارایسا سوچ سکتا ہے؟ مسلم لیگ ن کے لئے پریشانی یہی ہے کہ انہیں اپنی سیاسی زندگی میں پہلی بار نہایت مختلف انداز میں کھیلنا پڑ رہا ہے۔ ان کی پوری کوشش ہے کہ عدلیہ اور فوج پر ایسے حملے کریں کہ سیاسی شہادت نصیب ہوجائے۔ ان کی بدقسمتی کہ یہ دونوں ادارے غیر معمولی تحمل سے کام لے رہے ہیں۔ عمران خان عوامی دباﺅ برقرار رکھے ہیں۔ ن لیگ کے الیکٹ ایبلز صورتحال سے ناخوش ہو کر تتر بتر ہونے کی تیاری میں ہیں۔ کوئی دن جاتا ہے کہ ایک بڑا جتھا پارٹی سے الگ ہوجائے۔ مسلم لیگ ن کی قیادت کسی نسخہ کیمیا کی تلاش میں ہے، افسوس کہ زوال کے سفر میں کسی حاذق حکیم کا مطب بھی موجود نہیں۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.