"عُذرِ گناہ": عرفان شہزاد اور مشرکین کی مغفرت - کاشف علی خان شیروانی

نادر عقیل انصاری صاحب نے ایک جگہ لکھا ہے کہ متجددین کااسلامی روایت سے تعلق instrumental ہوتا ہے، یعنی دینی نصوص اور اسلاف کی آراء کا حسبِ ضرورت استعمال۔ عرفان شہزاد صاحب کے دو تنقیدی شذرے اس کی بہترین مثال ہیں، اور اس مرتبہ ان کا شکار امام رازیؒ بنے ہیں، جن سے استشہاد کر کے، مسیحی مشرکین کی مغفرت، بلکہ ان کی فلاح، اور "الفوز العظیم" کے حق میں استدلال کیا گیا ہے۔ اس سے قبل طارق محمود ہاشمی صاحب نے "دلیل" میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں "ابو یحییٰ" صاحب کے موقف کا ردّ کیا تھا۔ "ابویحییٰ" جن کا اصل نام ریحان احمد یوسفی ہے، اور جو بغیر نام لیے، جاوید غامدی صاحب کی ترجمانی فرماتے ہیں، اس کے قائل ہیں کہ اسلام میں ملحد کی مغفرت کی گنجائش موجود ہے۔ ہاشمی صاحب نے قرآن مجید میں بیان ہونے والے "عہد الست" سے اپنے حق میں علمی استدلال کیا اور ثابت کیاکہ منکرِ وجودِ باری تعالیٰ کے پاس قیامت کے دن کوئی عذر نہیں ہو گا، کیونکہ قرآن مجید کی رُو سے اللہ نے تمام بنی نوع انسان سے ایمان باللہ کا عہد لے کر قطعِ اعذار کر دیا ہے۔ اُس موقع پر ڈاکٹر عرفان شہزاد صاحب اپنے ہم مکتب "ابویحییٰ" کے حق میں کوئی براہ راست دلیل، قرآن مجید سے نہ دے سکے۔ لیکن ایک خلطِ مبحث پیدا کرتے ہوئے ایک اور مسئلہ چھیڑ دیا۔ فرمایا کہ مسیحی مشرکین کی مغفرت کا بھی امکان موجود ہے۔ اس پر تعدی یہ فرمائی کہ اپنے استدلال کے لیے امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ کی تفسیر کبیر سے استشہاد کیا۔ راقم نے "دلیل" میں اپنے مضمون "ملحدین کی مغفرت:امام رازیؒ کو فریق نہ بنائیں" میں واضح کیا کہ انہوں نے امام رازیؒ سے غلط استشہاد کیا ہے، اور جو تین دعوے انہوں نے تفسیر کبیر کی بنا پر کیے تھے، ان کی غلطی واضح کی اور بتایا کہ امام رازیؒ کا موقف انہوں نے غلط سمجھا ہے۔ اپنے دو دعوں کو تو انہوں نے فراموش کر دیا ہے، غالباً ان پر اپنی غلطی واضح ہو گئی۔ لیکن تیسرے دعوے پر بدستور اصرار فرما رہے ہیں۔ نیز، فرمایا ہے کہ راقم نےامام رازیؒ کا فلاں جملہ نقل نہیں کیا، لہذا راقم "علمی بددیانتی" کا مرتکب ہوا ہے، حالانکہ وہ جملہ میرے مضمون میں موجود ہے! ان کا یہ جوابی مضمون کس قدر بے بنیاد ہے، اس کا اندازہ تو قارئین کو یہ تحریر پڑھ کر انشاءاللہ ہو جائے گا۔لیکن عرفان شہزاد صاحب کی یہ تحریریں یہ ضرور ثابت کرتی ہیں کہ متجددین کا اسلامی روایت سے اگر تعلق ہے تو فقط اس قدر کہ سلف صالحین کے متون کو بے سمجھے بوجھے اپنے متجددانہ مواقف کا چارہ بنا دیا جائے۔ ہمارے روایتی متون کی خوبی یہ ہے، کہ اگر نہیں کسی آلاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے، تو یہ اپنا مفہوم ایسے لوگوں پر نہیں کھولتے۔

عرفان شہزاد صاحب کے ارشادات

سب سے پہلے تو ہم عرفان شہزاد صاحب کے جن ارشادات پر تنقید لکھی گئی تھی، ان کا مکمل متن پیش کر رہے ہیں:

"اس معاملے میں ایک بنیادی نکتہ نظر انداز ہوا ہے۔ وہ یہ ہے کہ عقیدے میں تاویل جب بھی شامل ہو گی اپنے استدلال کی کیفیت کے لحاظ سے اتنی رعایت کی مستحق ہو جاتی ہے۔ مثال دیکھیے کہ اللہ نے شرک کو ناقابل معافی جرم قرار دیا۔ اس کے باوجود سورہ مائدہ میں مسیحی مشرکین کے لیے مسیح کی سفارش کو قبول کرتے ہوئے فرمایا کہ آج روز قیامت ان میں سے سچے لوگوں کی ان کی سچائی کا صلہ ملے گا وہ جنت کے باغوں میں داخل ہوں گے۔ یہ اس لیے کہ وہ شرک بالتاویل کا شکار تھے۔ اس پر اسلاف میں سے تفسیر کبیر میں بھی یہی موقف بیان کیا گیا ہے۔ اگر اعتماد صرف اسلاف کی تشریحات پر ہی ہے تو یہ موقف وہاں بھی موجود ہے۔ لطف کی بات یہ یہ ہے اسلام کے اندر شرکیہ یا کفریہ عقائد کے حامل فرقوں کو اسی تاویل کی بنا پر گنجائش دیتے ہوئے سنجیدہ اہل علم کفر کا فتوی لگانا درست نہیں سمجھتے، لیکن اسی تاویل کی گنجائش اسلام کے دائرے سے باہر دینے کو تیار نہیں۔ اس رویے کو کیا کہا جائے۔ شرک ہو یا دہریت، وہی لائق سزا ہے جس میں انکار بلا تاویل مکابرت یا جان بوجھ کر غفلت کی راہ سے ہو۔ یہی قرین عدل ہے۔ اسی بنا پر عقیدے کے کفر کا فیصلہ ہم کوتاہ علم اور کوتاہ نظر انسان نہیں بلکہ خدا ہی کر سکتا ہے۔ یہ اس کا ڈومین ہے۔ ہمارے کرنے کے اور بہت کام ہیں۔"

عرفان شہزاد صاحب کی اس پوسٹ پر ان کے ایک فاضل قاری نے جب انہیں توجہ دلائی کہ ان کا یہ موقف تفسیر کبیر سے ثابت نہیں ہوتا تو عرفان شہزاد صاحب نے انہیں پھر تفسیر کبیر کی طرف رجوع کرنے کو کہا:

"اس بارے میں آپ تفسیر کبیر دیکھیے۔ اس پر آیت پر میں مفصل لکھ چکا ہوں قانون اتمام حجت پر نمایاں اعتراضات کی روشنی میں والے مقالے میں"۔

انہی فاضل قاری نے یکم نومبر کو عرفان شہزاد صاحب کو پھر تنبیہ کی کہ وہ تفسیر کبیر سے غلط نتیجہ نکال رہے ہیں۔ اس پر جواب دیتے ہوئے عرفان شہزاد نے ایک مرتبہ پھر تفسیر کبیر کا حوالہ دیا:

"ان مسیحیوں کی بخشش کی سفارش کا جواز بتایا گیا ہے وہاں۔ کہا گیا ہے وہ گناہ گار تھے مگر کافر نہیں تھے۔ بخشش کی گنجائش ہے۔ اس کا مطلب اس کے سوا اور کچھ نکلتا نہیں کہ کہ مشرک ہوتے ہوئے بھی بخشش کی امید تاویل کی وجہ سے ہے"۔

موقف سے دستبرداری

۴ نومبر کو ان ارشادات پر راقم کی تنقید شائع ہوئی، جس میں واضح کیا گیا کہ تفسیر کبیر کی عبارت وہ بات نہیں کہہ رہی جو عرفان شہزاد صاحب اس میں پڑھ رہے ہیں۔ اب جواب الجواب میں معلوم ہوتا ہے کہ عرفان شہزاد صاحب اپنی غلطی کے دفاع میں فاش تر غلطی کر رہے ہیں۔ چونکہ بحث کا مدار امام رازیؒ کی عبارت پر ہے، لہذا محترم طارق محمود ہاشمی صاحب نے مذکورہ آیات پر امام رازی رحمہ اللہ کی تفسیر کا ترجمہ "دلیل" پر شائع کردیا ہے۔ اس سے واضح ہے کہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ کی جانب عرفان شہزاد صاحب نے جن تین نکات کا انتساب کیا تھا، وہ درست نہ تھا۔ تینوں دعووں پر ہماری گزاشات یہ ہیں:

۱۔ شرک اگر چہ ناقابل معافی جرم ہے، مگر امام رازی کے نزدیک "سورہ مائدہ میں مسیحی مشرکین کے لیے مسیح کی سفارش" قبول کر لی گئی۔ عرفان شہزاد صاحب نے اس بات سے یہ نتیجہ نکالا کہ مشرک کی معافی ہو سکتی ہے۔

ہم نے اپنے مضمون میں خود امام رازیؒ کے اقتباس سے ثابت کیا کہ امام رازیؒ کا اس ضمن میں موقف یہ ہے کہ قرآن مجید میں "سمعی دلیل" (یعنی قرآن مجید کی آیت) کی وجہ سے مشرکین کی معافی نہیں ہو سکتی (بل دل الدلیل السمعی فی شرعنا علیٰ انہ لا یقع)۔ عرفان شہزاد صاحب نے تو ہمارے اس موقف پر تنقید کی اور نہ اس اقتباس پر ہماری شرح پر سوال اٹھایا۔ یکسر خاموشی اختیار فرمائی ہے۔ گویا عرفان شہزاد صاحب اپنے دعوے سے دستبردار ہوگئے ہیں، جو بہت خوش آئند ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مُلحدین کی مغفرت، امام رازیؒ کو فریق نہ بنائیں - کاشف علی خان شیروانی

۲۔دوسرا دعویٰ عرفان صاحب نے یہ فرمایا تھا کہ امام رازیؒ کے نزدیک سورہ مائدہ کی آیت ۱۱۹ میں "الصادقین" سے مراد مسیحی مشرکین ہیں۔ عرفان صاحب کے خیال میں امام رازیؒ کے نزدیک "روز قیامت اِن (یعنی مسیحی مشرکین) میں سے سچے لوگوں کو اُن کی سچائی کا صلہ ملے گا، وہ جنت کے باغوں میں داخل ہوں گے"۔

عرفان شہزاد صاحب کا یہ دعویٰ بھی بالکل بے بنیاد تھا۔ راقم نے واضح کیا کہ امام صاحبؒ کے نزدیک اس آیت میں "الصادقین" کا مطلب بالعموم انبیاء علیہم السلام اور بالخصوص حضرت مسیح بن مریم علیہما السلام ہیں۔ تفسیر کبیر کی عبارت اس قدر واضح ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کسی صاحبِ علم کو کیا غلطی ہو سکتی ہے۔ عرفان شہزاد صاحب نے اپنی حالیہ تحریر میں اس پہلو پر بھی رائے دینے سے گریز کیا ہے۔ گویا، اس معاملے میں بھی وہ اپنے موقف سے دستبردار ہو گئے ہیں، اور یہ بھی خوش آئند ہے۔

"عذر گناہ"

۳۔ تیسرا دعویٰ یہ تھا کہ امام رازی نے تفسیر کبیر میں "ان مسیحیوں کی بخشش کی سفارش کا جواز بتایا گیا ہے۔ کہا گیا ہے وہ گناہ گار تھے مگر کافر نہیں تھے۔ بخشش کی گنجائش ہے۔ اس کا مطلب اس کے سوا اور کچھ نکلتا نہیں کہ کہ مشرک ہوتے ہوئے بھی بخشش کی امید تاویل کی وجہ سے ہے۔"

یہ واحد دعویٰ ہے، جس کا عرفان شہزاد صاحب نے اپنی حالیہ تنقید میں دفاع کیا ہے۔ ہمارے لیے یہ بات کچھ حیران کن ہے کہ عرفان شہزاد صاحب کے ذہن میں یہ سوال کیوں نہیں پیدا ہوا کہ اگر ایک متن میں مشرک کی بخشش کا جواز بتایا گیا ہے تو اس کے لازمی نتیجے، یعنی اس کی مغفرت کے امکان کو آخر کیوں نہیں بیان کیا گیا؟ اگر عرفان شہزاد صاحب اس بات پر غور فرما لیتے تو ہمیں یقین ہے کہ اپنے دو دعووں کی طرح وہ اس دعوے سے بھی دستبردار ہو جاتے اور شاید ان کے لیے اس متن کا صحیح فہم حاصل ہونے کے امکانات بھی روشن ہو جاتے۔بہرحال تفسیر کبیر میں مسیحی مشرکین کی بخشش کے جواز کی واحد دلیل عرفان شہزاد صاحب کے خیال میں یہ ہے :

عُلِمَ أَنَّ قَوْمًا مِنَ النَّصَارَى حَكَوْا هَذَا الْكَلَامَ عَنْهُ، وَالْحَاكِي لِهَذَا الْكُفْرِ عَنْهُ لَا يَكُونُ كَافِرًا بَلْ يَكُونُ مُذْنِبًا حَيْثُ كَذَبَ فِي هَذِهِ الْحِكَايَةِ وَغُفْرَانُ الذَّنْبِ جَائِزٌ

معلوم ہونا چاہیے کہ نصاری نے یہ بات (کہ مسیح اور اس کی ماں بھی خدا ہیں) مسیحؑ کی طرف سے نقل کی تھی۔ پھر اس کفر کو نقل کرنے والا کافر نہیں بلکہ گناہ گار ہوتا ہے کہ اس نے اس جھوٹ نقل کیا۔ اور گناہ گار کی بخشش جائز ہے۔

یہ ترجمہ عرفان شہزاد صاحب نے خود کیا ہے مگر اس میں ایک اہم حصےکا ترجمہ کرنا بھول گئے ہیں جبکہ وہ حصہ(قَوْمًا مِنَ النَّصَارَى) اس اقتباس کو سمجھنے میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ امام رازیؒ اس اقتباس میں مسیحی مشرکین کا ذکر نہیں کر رہے، بلکہ مسیحیوں کے ایک گروہ (قَوْمًا مِنَ النَّصَارَى) کا ذکر کر رہے ہیں، جس نے کذب بیانی کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کفریہ قول منسوب کیا۔ چنانچہ امام صاحبؒ کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام نصاریٰ کے ایک ایسے گروہ کی شفاعت کر رہے تھے جو اصل میں مشرک تھا ہی نہیں، بلکہ اِس نقلِ روایت کے باعث گناہ گار تھا۔ اسی لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حضور ان کی شفاعت کی کیونکہ گناہ گار کی شفاعت کی جاسکتی ہے، اور اس کی مغفرت بھی ممکن ہے۔ مختصر یہ کہ عرفان شہزاد صاحب کے دعوے کے علیٰ الرغم تفسیر کبیر کے اس جملے میں شرک کی بجائے کذب بیانی کی مغفرت کا امکان زیر بحث آیا ہے، جب کہ وہ اس سے مشرکوں کی مغفرت پر استشہاد کرنا چاہ رہے ہیں۔

تفسیر کبیر کو غور سے نہ پڑھنے کی ایک اور دلیل بھی ان کی تازہ ترین تحریر میں موجود ہے۔ عرفان شہزاد صاحب لکھتے ہیں:

" امام صاحب نے ایسا موقف بیان کیا ہے، نہ کہ یہ ان کا موقف ہے۔ یہ معلوم ہے کہ امام صاحب بہت سے مواقف بیان کرتے ہیں اور ہر موقف ان کا موقف نہیں ہوتا۔"

عرفان شہزاد صاحب کا یہ دعویٰ بھی بالکل بے بنیاد ہے، کیونکہ اپنی تازہ ترین تحریر میں انہوں نے امام رازیؒ کا جو اقتباس پیش فرمایا ہے ( علم ان قوماً من النصاریٰ۔۔۔۔ الخ)، وہ کسی اور کا موقف نہیں ہے، بلکہ وہاں امام صاحبؒ اپنی رائے ہی پیش کر رہے ہیں (المسئلہ الاولی، نکتہ اول)۔ اس عبارت میں کوئی ایسا اشارہ نہیں جس سے معلوم ہو کہ یہ رائے کسی اور کی ہے۔ اس سے موکد ہو گیا کہ عرفان شہزاد صاحب نے تفسیر کبیرکو پڑھے اور سمجھے بغیر امام رازیؒ کو اس معاملے میں فریق بنایا، اور ان کی طرف غلط موقف منسوب کیا۔

علمی بددیانتی

عرفان شہزاد صاحب نے راقم پر علمی بددیانتی کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ "تفسیر کبیر کے متعلقہ مقام میں سے پہلی عبارت چھوڑ " دی گئی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر اس عبارت سے صرفِ نظر نہ کیا جاتا تو " یہ نقد وجود پذیر ہی نہ ہو پاتا اورقارئین کا وقت ضائع نہ ہوتا"۔ عرفان شہزاد صاحب نے ہمارا مضمون غور سے پڑھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی، ورنہ وہ اس "سطر" کے اخفا کا الزام ہم پر نہ لگاتے۔اول تو یہ ایک "سطر نہ تھی، بلکہ مسئلہ اولیٰ کا پہلا نکتہ تھا۔ دوسرے اپنے مضمون میں ہم نے انبیا علیہم السلام کی فساق کے حق میں شفاعت پر بحث کرتے ہوئے اس نکتے کا پوری ترجمانی کی ہے، بلکہ اس کے ایک حصے سے استشہاد بھی کیا ہے۔ یہاں اس مضمون کا متعلقہ حصہ پیش خدمت ہے:

"انہوں نے (یعنی امام رازیؒ نے)اس کاامکان بھی ظاہر کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس آیت میں وہ لوگ زیر بحث نہ ہوں جنہوں نے شرک کیا، بلکہ وہ مراد ہو سکتے ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جانب اس قسم کے دعوے - دانستہ یا نا دانستہ – منسوب کیے (حکوا ھذا الکلام عنہ)۔ یہ وہ لوگ ہیں جو گناہ گار ہیں، کافر نہیں ہیں۔ اور گناہوں کی معافی تو ہو ہی سکتی ہے۔"

نتیجہ کلام یہ ہے کہ عرفان شہزاد صاحب نے طارق محمود ہاشمی صاحب کے مضمون پر اپنی تنقید میں امام رازیؒ کے حوالے سے تین دعوے کیے تھے۔ دلیل پر شائع ہونے والی راقم کی تنقید کے بعد وہ اپنے دو دعووں سے دستبردار ہو گئے۔ البتہ تیسرے دعوے کے حق میں بھی وہ بے بنیاد دلیل لائے ہیں۔ وہاں مسیحی مشرکین کی مغفرت کی بجائے حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف سے نصاریٰ میں سے کذب بیانی کے گناہ کا ارتکاب کرنے والوں کی شفاعت کے جواز کا ذکر ہوا ہے۔ پھر امام رازیؒ کے جس نکتے کے بارے میں انہوں نے بہت زور دے کر الزام لگایا ہے کہ ہم نے نقل نہیں کیا، وہ بھی ہمارے مضمون میں موجود تھا، بس ان کی نظر ِ التفات سے محروم رہا۔

یہ بھی پڑھیں:   "مخلص و محقق" ملحد کے عذر کی دلیل اور عہد الست - محمد زاہد صدیق مغل

گو عرفان شہزاد صاحب نے ہم پر علمی بدیانتی کا الزام لگایا ہے، لیکن خود اُن کے بارے میں راقم اپنی اولین رائے پر قائم ہے، کہ وہ علمی بدیانتی کے مرتکب نہیں ہوئے، بلکہ تساہل و غفلت کی وجہ سے یہ سب غلطیاں ان سے سرزد ہوئی ہیں۔ اور غلطیاں ہم سب سے ہو سکتی ہیں۔ جو قارئین تبصروں میں فرما رہے ہیں کہ عرفان شہزاد صاحب علمی بدیانتی کے مرتکب ہوئے ہیں، ہمارے خیال میں وہ بہت سخت حکم لگا رہے ہیں۔ پہلے مضمون میں عرفان صاحب کا قصور اصلاً یہ نہیں تھا کہ وہ علمی بددیانتی کے مرتکب ہوئے، بلکہ ان سے عبارت فہمی میں غلطی ہوئی تھی۔ اور اب ان کے جواب الجواب میں اصل غلطی یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی پر اصرار فرما رہے ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ بعض اوقات "عُذرِ گناہ بدتر از گناہ" بھی ہو سکتا ہے!

انبیائے کرام علیہم السلام کا احترام

عرفان شہزاد صاحب نے ہماری اس درخواست پر بھی توجہ نہیں دی جو ہم نے بطور تواصی بالحق ان کی خدمت میں کی تھی: یعنی انبیائے کرام علیہم السلام کے ذکرِ مبارک کے احترام کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنے کے بارے میں۔ عرفان صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر تعظیمی القابات اور صلوٰۃ و سلام کے بغیر کیا تھا۔ ہم نے عرض کیا کہ یہ معاملہ نازک ہے۔ وہ ہمیں تو بددیانت وغیرہ کہہ سکتے ہیں۔ ہم رتبہ مسلمانوں کے ساتھ یہ رویہ زیادہ سے زیادہ بدتمیزی و بدتہذیبی کے دائرے میں آتا ہے۔ لیکن انبیائے کرام علیہم السلام کا احترام دینی تقاضا ہے، اور ان کی شان میں ایسی بے احتیاطی تو رہزنِ دین و ایمان ہے۔ افسوس، کہ انہوں نے اس عرضداشت کو بھی غور سے نہیں پڑھا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ تازہ ترین مضمون میں انہوں نے ایک قدم اور آگے بڑھایا ہے۔ چنانچہ امام رازی رحمہ اللہ کے عربی اقتباس کا ترجمہ کرتے ہوئے ایک اضافی وضاحتی نوٹ ترجمے میں قوسین میں شامل کیا ہے۔ اس میں لکھتے ہیں کہ نصاریٰ کہتے ہیں کہ:

"مسیح اور اُس کی ماں بھی خدا ہیں۔ "

یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جن کا ذکرِ مبارک قرآن مجید میں رہتی دنیا تک پڑھا جاتا رہے گا، اور حضرت مریم علیہا السلام، جن پر ایک پوری سورت رب ذوالجلال نے نازل کی، اور جن کی پارسائی اور پاکیزگی پر ایمان ہمارے دین کی تعلیمات کا حصہ ہے، اُن دونوں پاک ہستیوں کا ذکر ان الفاظ میں کرنا کسی مسلمان کو کیسے زیبا ہو سکتا ہے؟ معذرت کے ساتھ، اگر یہی تراکیب عرفان شہزاد صاحب کے اکابرین کے بارے میں لکھی جائیں تو انہیں سخت ناگوار گزریں گی اور ہمیں یقین ہے کہ ایسا کرنے والا شخص ان حضرات کے نزدیک لائقِ گردن زدنی ٹھہرے گا۔ لیکن یہ اسلوب انبیائے کرام کے بارے میں قابلِ قبول ہے؟ یعنی خیر خواہی سے نصیحت کرنے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ عرفان شہزاد صاحب نے انبیائے کرام علیہم السلام کے بارے میں اپنی زبان و قلم کو مزید بے لگام کر دیا!

عرفان صاحب نے اپنے مضمون کی تمام کمزوریوں کا جواز دینے کے لیے یہ بھی فرمایا ہے کہ فیس بک پر تحریریں "casual" انداز میں لکھی جاتی ہیں، "فوری ہوتی ہیں"، اور "یادداشت کے بھروسے پر" لکھی جاتی ہیں۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ انہیں سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔ ان کی بات ہمیں سمجھ میں آ رہی ہے۔ لیکن ایک تو ان کے قارئین کے رویے سے صاف نظر آ رہا ہے کہ وہ ان تحریروں کو سنجیدگی سے لے کر اپنے دین کو نئے نئے رنگوں میں رنگ رہے ہیں۔ اور دوسرے، اگر سوشل میڈیا کی یہی خصوصیات ہیں، تو اس صورتِ حال میں اسے دینی عقائد میں بنیادی تغیرات اور تفردات، انوکھے تفسیری نکات اور فقیہانہ اجتہادات کے اظہار کا ذریعہ بنانے کی کیا مصیبت پڑی ہے؟ اس کا حل یہ ہے کہ اس میڈیا کو فقط استاد امانت علی خان کی غزلیں پیش کرنے، جانوروں کی لڑائی کی ویڈیوز دکھانے، نوخیز لڑکےکے ساتھ اجتماعی زیادتی کی خبریں پڑھانے اور لذیذلطائف سنانے تک ہی محدود رکھیں۔ اور اپنے بے پناہ جذبۂ اجتہاد کو یہاں کھلی چھُوٹ نہ دیں۔ اور ایسے غیر ذمہ دارانہ کلام کی جگہ پر، انبیائے کرام علیہم السلام کا ہرگز ذکر نہ کریں۔ سوشل میڈیا کے غیر سنجیدہ ہونے کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ دین اور اس کی مقدس ہستیوں کے ساتھ کھیل کا جواز مل گیا ہے؟ اور اگر کسی کی تجدد پسند طبیعت، آزادانہ اجتہاد و تفرد کی جانب بے تحاشہ مائل ہے، تو سنجیدگی کو شعار بنائیں، اور جلد بازی میں یادداشت کے سہارے "casual" طریقے پر تحریروں کے ذریعے، دین کی رُسوائی کا سامان نہ کریں۔ انبیائے کرام علیہم السلام کا ذکر "casual" طریقے پر کرنے ہی سے تو یہ فساد پیدا ہو رہا ہے۔ اور اس کا یہ عذر، کہ ہم تو "casual" باتیں کر رہے تھے، کیونکر قابل قبول ہوگا؟

ہم عرض کرتے ہیں کہ انبیائے کرام علیہم السلام کی شان میں اسی طرح کی بے احتیاطیاں برصغیر کے بعض علمائے کرام سے ہوئی تھیں۔ جب ان پر اعتراض ہوا، تو افسوس انہوں نے خود، اور ان کے بعد ان کے متوسلین نے ان غلطیوں کا دفاع کیا اور آج تک کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دیرپا اختلافات جڑ پکڑ گئے۔ مسلمانانِ برصغیر کی تاریخ میں فرقہ واریت، تکفیر میں شدت، اور ایک دوسرے کے خلاف نفرت پیدا کرنے میں ان افسوس ناک واقعات کا بہت دخل ہے۔ اگر یہ علماء اُسی وقت اپنی غلطی پر علانیہ معذرت کر لیتے، تو جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی تقدیر بدل جاتی، اور ان میں وہ گروہ بندیاں نہ ہوتیں جنہوں نے مسلم بھائی چارے کو برباد کر کے رکھ دیا۔ ہم عرفان شہزاد صاحب سے مایوس نہیں ہیں۔ ہمیں ان کے مخلصانہ دینی جذبے سے امید ہے کہ وہ کسی ذاتی انا سے اوپر اٹھ کر اپنی غلطی کا اعتراف فرمائیں گے، اور اپنے مضامین سے ان الفاظ کو حذف کر دیں گے، یا پھر انبیائے کرام علیہم السلام کی مقدس ہستیوں کا ذکر اسی طرح سے کریں گے جیسا ان کا حق ہے۔ ہمارے بارے میں جو رائے وہ دے رہے ہیں وہ ضرور دیتے رہیں، ہم آئندہ اس کا دفاع بھی نہیں کریں گے۔ ہم ان انبیائے کرام علیہم السلام کی خاکِ پا بھی نہیں ہیں، لیکن یہ عرض کر دیں، کہ انبیائے کرام علیہم السلام کی شان میں اس بد احتیاطی کو مسلمان فراموش نہیں کریں گے، جب تک عرفان شہزاد صاحب اس میں معذرت کر کے اپنی اصلاح نہ کرلیں، اور آئندہ ان مقدس ہستیوں کے احترام کا التزام کریں۔ اللہ ہم سب کو انبیائے کرام کی محبت اور احترام کا پابند بنائے!