9 نومبر، ایک نئے خواب کا امین - شیخ خالد زاہد

پاکستان کے معاشی مفادات بہت حد تک کراچی کے حالات پر انحصار کرتے ہیں۔ یوں تو پورا ملک ہی دہشت گردی کی زدمیں رہا ہے مگر جو کچھ کراچی میں ہوا، وہ پاکستان کی تاریخ کاسیاہ ترین باب تھا۔ اس تاریک دور کی مرہونِ منت پاکستان مسلسل معاشی بدحالی کا شکار ہوتا چلا گیا اور کراچی جیسا روشنیوں کا شہر تاریکی میں ڈوبتا گیا، ساتھ ہی شہر کی معاشرتی زندگی بھی تباہ ہوگئی۔ بین الاقوامی سرمایہ دار جو کراچی کو تجارت کے لیے سونے کی چڑیا سمجھتے تھے ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کراچی کا نام لیتے ہوئے خوف زدہ دکھائی دینے لگے۔

اگر اجتماعی مفادات پر انفرادی مفادات کو ترجیح دی جائے تو بڑے بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں ایسا ہر دور میں ہوتا رہا ہے، ایک مثال تو سن ۷۱ء میں سقوط ڈھاکا کی ہے اورزندہ مثال آجکل اسلام آباد کی سڑکوں پر بھی دیکھی جاسکتی ہے جہاں ہماری اعلیٰ عدلیہ نے تمام باضابطہ تفتیش اور تحقیق کے بعد میاں نواز شریف صاحب اور ان کے اہل خانہ کو مجرم قرار دیا ہے مگر وہ اپنی ذات کی خاطر ملک کو مشکل سے دوچار کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی بد قسمتی ہے کہ پاکستان کے مفادات پر انفرادی مفادات کو ترجیح دی جاتی رہے اور پاکستان داخلی و خارجی سطح پر کمزور سے کمزور ہوتا چلا گیا۔

پاکستان کی معیشت میں کراچی کا کردار اہم تھا، ہے اور رہے گا،جس کی دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک اہم ترین وجہ قدرتی بندرگاہ کا اس شہر سے منسلک ہونا ہے۔ یہ بندرگاہ نا صرف پاکستان بلکہ دنیا کے لیے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ گزشتہ ادوار میں جو حالات کراچی کے رہے ہیں، بہت ساری صنعتیں کراچی سے دیگر شہروں میں منتقل ہوگئیں اور جو صنعتکار اور سرمایہ دار ملک سے باہر جاسکتے تھے، وہ کراچی چھوڑ کر اپنا پیسہ کسی اور ملک لے گئے۔ مگر بندرگاہ ایک ایسا قدرت کا تحفہ یا انعام ہے جو کوئی کہیں نہیں لے کر جا سکتا لیکن نعمتوں کی ناقدری اور نا شکرا پن نعمتوں کو روکنے کا باعث بن جاتی ہے ، جیسا کہ من و سلویٰ کا واقعہ ہے۔

۹ نومبر کی تاریخ ہر پاکستانی کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ اس دن شاعر مشرق اور مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ پیدا ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب کی شاعری نے بر صغیر کے مسلمانوں کی ذہنی نشونما میں اہم کردار ادا کیا، آپ نے ان پسے ہوئے لوگوں کی سوچوں کواڑنے کے لیے پردیے اور شاہین بننے کا ہنر سکھایا۔ ۹ نومبر کو اللہ نے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی شکل میں اس خواب کو پیدا کیا تھا جس نے تعبیر بننا تھا۔ پہلے خواب بتاکر آپ نے مسلمانوں کے لیے بر صغیر میں ایک الگ خطہ زمین کی جانب رہنمائی کی، جہاں مسلمان مکمل آزادی کے ساتھ اپنے عقائد اور ثقافت کے زندگی بسر کرسکیں۔ یہ وہ خواب تھا جو پاکستان کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ پاکستان کسی معجزے سے کم نہیں ہے، پاکستان کے لیے چلنے والی تحریک کا شروع سے احاطہ کیجیے تو معجزے کا لفظ واضح ہوتا چلا جائے گا۔ کرہ ارض پر مسلمانوں کی پہلی باقاعدہ پناہ گاہ یثرب تھی جس پر غور کیا جائے تو وہ ریاست بھی اللہ کی جانب سے بطور تحفہ تھی۔ بلکل اسی طرح تحریک پاکستان سے پہلے اور بعد کے حالات لوگوں کا مسلم لیگ پر اعتماد اور علامہ اقبال کا خواب اور خواب کی تعبیر کے لیے قائد اعظم کی انتھک لگن اور محنت سے پاکستان کا حصول۔ آج سوچنے پر لگتا ہے یہ سب طے شدہ تھا اور طے شدہ عمل سے گزر کر ہی منزل پر پہنچا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کوٹا سسٹم اور پاکستان - حبیب الرحمن

۹ نومبر جہاں پاکستان کے وجود میں آنے کے لیے اہم ہے اسی طرح ۹ نومبر ۲۰۱۷ء ایک اور خواب کا امین بنا۔ جب پاکستان کے معاشی ہب کراچی کی بقاء کے لیے تاریخی دن ثابت ہونے جا رہا ہے۔ یہ اہم ترین دن اور اہم ہونے والا ہے جب کراچی شہر میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے اہم مفاہمتی عمل دیکھنے میں آیا، پاک سرزمین پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) نے الحاق کا باقاعدہ اعلان کیااور شہر میں بڑھتی ہوئی خوف کی آب و ہوا کا خاتمہ کیا۔ اس بات سے قطع نظر کہ پہل کس نے کی? مگر جس نے بھی اس کا یہ قدم لائق تحسین ہے۔ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے اس عمل کو سیاسی حلقوں میں قابل ستائش عمل قرار دیا جانا چاہیے اورشہر کراچی کے مفاد جن کا تعلق بالواسطہ پاکستان کے مفاد سے ہے کی خاطر اس الحاق کو تشکیل دیا۔ یہ لوگ ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح سے جانتے اور سمجھتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو عرصہ دراز کراچی پر ایک ساتھ مل کر حکومت کرتے رہے، پھر شخصی اختلاف کی شدت نے انہیں جدا کردیا اب وہ اختلاف شاید یکساں ہوگئے ہیں۔دوسری طرف اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ انہیں اس بات کا خدشہ لاحق ہوگیا ہوگا کہ اگر ہم اسی طرح ٹکڑوں میں بٹتے چلے گئے تو ہم پر کوئی اور حاکم بن کر بیٹھ جائے گا یا کراچی کے سیاسی افق پر کوئی نیا ستارہ بن کر چمکنے لگے گا اور ہماری اہمیت آہستہ آہستہ معدوم ہوتی چلی جائے گی اورتاریخ میں برے لفظوں سے یاد کرنے کے لیے رہ جائیں گے۔ اسطرح سے دیکھا جائے تو کچھ سیاسی جماعتوں کو تو اس الحاق سے قطعی خوشی نہیں ہوئی ہوگی لیکن پھر وہی بات دہراؤں گا کہ ملک کے وسیع تر مفاد ات کی خاطر اس الحاق کو سراہنا چاہیے اور اس الحاق میں ان لوگوں کو بھی شامل کرلینا چاہیے جو عرصہ دراز سے اسی شخصی اختلاف کے باعث علیحدگی اختیار کیے بیٹھے ہیں۔ اب جب نئے سرے سے کام شروع کیا جارہا ہے تو گلے شکوے مٹا کر سب ایک دوسرے کو گلے لگالیں۔ اس الحاق نے پاکستان کی سیاست میں مفاہمت کی نہیں راہیں کھول دی ہیں اور سیاستدانوں کو انفرادی سیاست سے ملکی سیاست کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردہا ہے۔

اس مفاہمت سے کسی حد تک جماعت اسلامی اور زیادہ تر پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کو دھچکا لگا ہوگا کیونکہ یہ یقیناًمتحدہ قومی موومنٹ کی بکھرتے ہوئے شیرازے میں اپنا فائدہ دیکھ رہے ہوں گے بلکہ گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے رہنما تو اس بات کاعندیہ بھی دے چکے ہیں کے آنے والے انتخابات میں ان کی جماعت کراچی سے زیادہ نشستیں لینے میں کامیاب ہو جائے گی۔ لیکن اس بدلتی ہوئی صورتحال سے انہیں نئے سرے سے حکمت عملی مرتب دینی پڑے گی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس الحاق میں سابق صدر پرویز مشرف صاحب اہم ذمہ داری نبھاتے دیکھائی دے رہے ہیں اور ایسا ہی کچھ سماجی میڈیا کی بھی زینت بنا ہوا ہے، مشرف صاحب کو عملی سیاست میں قدم رکھنے کا اس سے بہتر موقع شاید پھر کبھی نا مل سکے۔ گوکہ سماجی میڈیا پر اس الحاق پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نصف ایمان بچانا ہوگا - عنایت کابلگرامی

عرصہ دراز سے پسنے والا طبقہ(اپنے کیے کی وجہ سے) سکھ کا سانس لینے کے لیے بے تاب ہے، حکومت کو چاہیے کہ وہ اب ایسی کسی غلطی کی مرتکب نہ ہو یا پھر کوئی ایسا خلاء ناپیدا ہونے دے جس کی وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں ہر اس طبقے کو جس کا ماضی میں استحصال ہوتا رہا ہے بھرپور ازالہ کرے اور خوف زدہ ماحول سے نجات دلائے جیسا کہ حکومتی اراکین اس ازالے کا تذکرہ اپنی تقریروں میں کرتے رہتے ہیں۔

اس نئے الحاق کی اولین ترجیح کراچی میں تعلیمی نظام میں سے کالی بھیڑوں کی نشاندہی کرکے باہر نکالنا ہے اور نئی نسل کو قلم اور کاغذ سے محبت کرنے کا درس دینا ہے، سیاست کو اخلاقیات کا سبق پڑھانا ہے، اسلحے کو سیاست میں کسی قسم کی گنجائش نہ دینے کا حتمی فیصلہ کرنا ہے، عوامی نمائندوں کو عوام کی خدمت کے لیے تیار کرنا ہے۔ ماضی میں ہونے والی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہے نہ کہ انہیں دہرانا ہے۔ اب ایک نئے مستقبل کی داغ بیل ڈالنی ہے۔ مفاہمت کوملکی مفادات کی خاطر مسلسل فروغ دینا ہے اور اپنے درمیان کالی بھیڑوں کے لیے جگہ نہیں چھوڑنی۔ شہرِکراچی کو اقبال کے خواب جیسا بنانا ہے اور قائد اعظم کی محنتوں کا امین بنانا ہے اور یوں ۹ نومبر کو اور یادگار بنانا ہے۔

ہم اگر گزرے ہوئے کل میں بیٹھے رہیں گے تو ہمارا آج تو آج بلکہ آنے والا کل بھی تاریک ہوتا چلا جائے گا۔ دنیا کسی کاا نتظار نہیں کرتی بلکہ یہ تو خالی جگہ دیکھ کر فائدہ اٹھانے والوں سے بھری پڑی ہے۔ اگر مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار کے عزائم نیک ہیں اور ملکی مفاد میں بہتری کے لیے ہیں تو پھر قدرت بھی ان کا ساتھ دے گی اور آنے والے دنوں میں ان کے لیے مثبت پیغامات لے کر آئے گی۔ ۹ نومبر کو اقبال ڈے کی چھٹی ختم کرنے والے اس دن کی اہمیت میں کمی کر نہیں پائے تھے کہ اس اہم ترین الحاق نے ۹ نومبر کی اہمیت کوچار چاند لگا دیے۔