سرمہ ہے میری آنکھ کا - طلحہ ادریس

"خدا حافظ پاکستان!" یہ الفاظ کہہ کر طالب ِعلم سفر پر روانہ ہوگیا۔فضا میں بلند ہوتا جہاز اسے اپنی دھرتی ماں سے دور لے جارہا تھا۔ اس کی منزل چین تھی اور اسے اگلے کم و بیش دو سال وہیں رہنا تھا۔ گو کہ وہاں قیام و طعام اور جملہ تعلیمی اخراجات کے لیے وظیفہ ملنا تھا مگر گھر سے دوری اور دوستوں سے ایک عرصہ تک ملاقات نہ ہوپانے کا خیال اسے اداس کرنے کو کافی تھا۔ ذہن میں کئی ایک سوال تھے جن کا جواب تلاش کرنے کی اپنی سی کوشش وہ کررہا تھا۔ جب انسان خیالات کی دنیا میں پہنچ جائے تو یہ سلسلہ اسے ساتھ لیے دور نکل جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی حال اس طالبِ علم کا بھی تھا۔ لاہور دور ہوتا جارہا تھا جبکہ بیجنگ کا فاصلہ سمٹ رہا تھا۔ بالآخر وہ لمحہ بھی آپہنچا جب زندگی میں پہلی بار اس نے چین کی سرزمین پر قدم رکھا۔ رہ رہ کروہ مقولہ ذہن کے دریچے پر دستک دے رہا تھا کہ چاہے چین ہی جانا پڑے علم تو حاصل کیا جانا چاہیے۔ ہاں وہ اسی چین پہنچ گیا تھا جو شاید اب اتنا دور نہ رہا جتنا ایک دور میں تھا۔

کامیاب زندگی کے اہم اسباق کسی نے پڑھائے تو نہ تھے خود ہی معلوم ہوگئے۔ یونی ورسٹی میں پہلے ہی دن ایک اہم سبق ملا جب طلبہ کو خوش آمدید کہنے کی تقریب منعقد ہوئی۔ یہ تقریب ساڑھے نو بجے شروع ہونا تھی۔ پاکستان سے آیا ہوا وہ طالبِ علم ہال کی طرف اکیلا ہی چلا جارہا تھا۔ اس کی نظر کلائی پر بندھی گھڑی پر پڑی تو چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ ابھی پورے دو منٹ باقی تھے۔ جوں ہی وہ ہال میں داخل ہوا تو حیرت سے آنکھیں پھٹی تو نہیں کھل ضرور گئیں۔ تقریباً سبھی نشستیں پر ہوچکی تھیں۔ ایک سکوت تھا جس نے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔ اگلے ہی لمحے صدارت کی کرسی پر ایک شخصیت نے تشریف رکھی۔ ساڑھے نو بجے ہی تھے کہ تقریب کا آغاز ہوگیا۔ یوں پہلے ہی دن اس راز سے پردہ اٹھا دیا گیا تھا کہ کامیابی کا پہلا زینہ کون سا ہے؟ تعلیمی سفر جاری رہا۔ اُسی دیس میں یقیناایسے کئی طلبا ہوں گے جو صرف اپنے نام کے ساتھ کچھ الفاظ کا اضافہ ہی چاہتے ہوں گے مگر پاکستانی طالبِ علم کا مطلوب صرف یہ نہ تھا۔ کچھ دن مزیدگزرے تھے کہ ایک پروفیسر صاحب سے ملاقات کے لیے جانا ہوا۔ طلبہ کمرے کے باہر کھڑے تھے اور ایک شخص اندر صفائی کر رہا تھا۔ باہر ہی سے استاد صاحب کے متعلق پوچھا گیا۔ وہ جنہیں خاکروب سمجھا گیا تھا، کمرے کا دروازہ کھول کر اگلے لمحے وہی اپنی کرسی پر بیٹھے تھے۔ یہ دوسرا اہم سبق تھا جو واقعتاً قابلِ قدر بھی تھا اور لائقِ تقلید بھی۔

نومبر کا مہینہ علامہ محمد اقبال کی پیدائش کا مہینہ ہے۔ آپ کو اچھی طرح یاد ہے کہ علامہ نے بھی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے برطانیہ میں وقت گزارا تھا۔ علم کی قدر جاننا ضروری ہے۔ بالخصوص مجموعی طور پر تعلیمی پسماندگی عروج کو زوال میں بدل دیتی ہے۔ صدیوں کی حکومت ہاتھوں سے نکل جاتی ہے۔ برصغیر کی تاریخ اسی بات کی شاہد ہے۔ مسلمانوں کے عروج کے ادوار میں علماءکی راتوں کی نیندیں گھٹ گئی تھیں۔ دنیا بھر میں شائع ہونے والی کتب عربی میں ترجمہ کی جاتیں۔ صفحے پھاڑ کر تقسیم کردیے جاتے کہ کہیں تاخیر نہ ہوجائے۔ آج ہم ہر طرح سے تہی دامن ہیں۔ امتِ مسلمہ پر چھائی سیاہ رات کو سحر کرنے کے لیے سخت محنت درکار ہے۔ایسے میں اقبال ہی کے الفاظ میں مدینہ و نجف سے اپنے تعلق کو مضبوط کرنا بھی ازحد ضروری ہے۔ وہ جو کہا ہے انہوں نے

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ

سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com