بانگ درا اور نوجوانان اسلام - طلحہ زبیر بن ضیا

اقبال نے لفظ بانگ درا کیوں استعمال کیا؟ یہ لفظ اس دور میں استعمال ہوتا جب قافلوں میں سفر ہوتے تھے سب سے پہلے اونٹ کے گلے میں ایک گھنٹی بندھی ہوتی تھی۔ جب تک قافلہ رواں دواں رہتا تب تک گھنٹی بجتی رہتی اور جب کہیں قیام کرنا ہوتا ہوتا تو سب سے پہلے اونٹ کو روک دیا جاتا۔ قافلہ دوبارہ روانہ کرنے کے لیے سب سے پہلے اونٹ کو دوبارہ چلایا جاتا اور بکھرے ہوئے لوگ اس گھنٹی کی آواز سن کر جوق در جوق واپس قافلے میں شامل ہوتے اور قافلہ رواں دواں ہو جاتا۔ اقبال بھی اپنے مشہور 'ترانہ ملّی' میں پہلے ہمارے آقا حضرت محمدﷺ کو سالار بیان کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ

سالارِ کارواں ہے میرِ حجازؐ اپنا

اس نام سے ہے باقی آرامِ جاں ہمارا

اور پھر فرماتے ہیں

اقبال کا ترانہ بانگِ درا ہے گویا

ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا

اقبال نے ان دو اشعار میں قرآن کی آیت کا مفہوم بیان کیا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں مت پڑو ۔

اقبال نے امّت کے نوجوانوں کو دوبارہ یہی 'بانگ درا' سنا کر اکٹھا کرنے کی کوشش کی کہ آؤ دوبارہ ایک ہو جائیں اور صفت سیل رواں چلیں اور ایک بار پھر اسی عروج پر واپس چلیں، جہاں خدا ہم سے خود پوچھے

بتا تیری رضا کیا ہے

اور اس خودی کے مقام پر پہنچنے کے لیے اقبال نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا

کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے

وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں

کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سر دارا

اقبال نوجوانوں کے سامنے اسلاف کی مثال رکھتے ہیں، تدبر اور کھوج کے لیے ان پر زور دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ تم ایسی قوم کے فرد ہو جس نے پوری دنیا کو بہترین نظام دیا۔ آج بھی اس نظام کی جڑیں باقی ہیں، تمہیں فقط ایک بار اس زرخیز مٹی کو نرم کرنا ہے۔ اس کام کے لیے اقبال نے نوجوانوں کو شاہین بننے کا درس دیا۔

علامہ اقبال کے پورے فکری نظام اور اس میں ہونے والی اردو و فارسی شاعری میں شاہین ایک بنیادی اور مرکزی کردار کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی وجہ شاہین کی درویشانہ خصوصیات ہیں۔ اقبال ہی کے الفاظ میں

کیا میں نے اس خاکداں سے کنارا

جہاں رزق کا نام ہے آب و دانہ

بیاباں کی خلوت سے خوش آتی ہے مجھ کو

ازل سے ہے فطرت میری راہبانہ

اقبال کے مرد کہستانی اور بندۂ صحرائی میں بھی شاہین کی ہی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ اسی نظم کے آخر میں 'کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ' بھی اسی درویشی کو ظاہر کرتا ہے کہ زندگی فقط زندہ رہنے کا نام نہیں۔ اقبال نے بارہا اس بات کو دہرایا ہے کہ نوجوان دنیا کی بھول بھلیوں میں گم ہونے کے بجائے یکجا ہوکر اس قافلے کو دوبارہ رواں دواں کریں اور بانگ درا کو سنیں۔ امت کے اس بکھرے ہوئے قافلے کو دوبارہ یکجا کرنا مشکل کام ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔

پھر نوجوانوں کو تن آسانی کے بجائے مشکل کوشی کی ترغیب اور صاف صاف الفاظ میں فضائے بدر پیدا کرنے کی ترغیب دی کہ خدا معجزات سے بھی اس وقت نوازتا ہے جب انسان کوشش کرتا
ہے۔ اس لیے نوجوانوں کا کام فقط جدوجہد کرنا ہے، جہد مسلسل کرنا ہے۔ طوفانوں سے ٹکرائیں اور عزم و استقلال کو قائم رکھیں تو وہ آپ کو مزید بلندیوں پر لے جائے گا

شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا

پر دم ہے اگر تُو تو نہیں خطرۂ افتاد

پھر یہ پیغام کہ

ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارا

اس دشت سے بہتر ہے نہ دِلّی نہ بخارا

جس سمت بھی چل صفت سیل رواں چل

وادی یہ ہماری ہے، وہ صحرا بھی ہمارا

غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دَو میں

پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا

حاصل کسی کامل سے یہ پوشیدہ ہُنَر کر

کہتے ہیں کہ شیشے کو بنا سکتے ہیں خارا

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارا

محروم رہا دولتِ دریا سے وہ غوّاص

کرتا نہیں جو صُحبتِ ساحل سے کنارا

دِیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملّت

ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا

دنیا کو ہے پھر معرکۂ رُوح و بدن پیش

تہذیب نے پھر اپنے درِندوں کو اُبھارا

اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسا

اِبلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

تقدیرِ اُمَم کیا ہے، کوئی کہہ نہیں سکتا

مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارا

اخلاصِ عمل مانگ نیا گانِ کُہن سے

’شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را!‘