یوم اقبال اور امید اقبال - نواب فاتح

قدرت نے ایک بےقرار روح کو منطقی ذھن،قلندرانہ مزاج،صوفیانہ طبعیت، شاعرانہ تخیل عطا کر کےجس پیکر خاکی میں جلوہ گر کیا، اسےہم اقبال کے نام سے جانتے ہیں۔ شعراء کی صف میں علامہ اقبال وہ شاعر ہیں جنہوں نےمشرق و مغرب کےمیخانےدیکھے،دونوں کی خوبیوں اور خامیوں سے واقف قوموں کے عروج وزوال،اس کے اسباب اور تاریخ پر گہری نظر رکھ کر اس سے ٹھیک ٹھیک سبق حاصل کرنے والے تھے۔مسلم اور امت مسلمہ کی عظمت سابقہ کی بحالی کے لیے درمند دل کے مالک تھے۔وہ نشےمیں مست ہوکر جذبات سےنہیں بلکہ دل سے کہتے تھے۔بات دل سے نکلتی اور دل پر اثر کرتی، انہوں نے جو کہا وہ دنیا کے کتب خانوں کے بجائے لوگوں کے دلوں اور سینوں میں آج تک محفوط ہے۔ان کا ایک شعر ہے

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

جس وقت انہوں نے یہ شعر کہاتھا اس وقت پوری امت مسلمہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی۔ امید کی کوئی کرن نہ تھی۔ امت مسلمہ کی حالت زار کو دیکھ کر یہ بات دیوانے کا خواب لگتی تھی مگرآج عرب وعجم،افریقہ و ایشیاء کے 50سےزائد آزاد اسلامی ممالک دیکھ کر اس مرد قلندر کی بصیرت کوداد دیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس شعر کی روشنی میں پاکستان کی مردم خیز سرزمین پر نظر ڈالیں تو کھیل وثقافت،حرب وشجاعت ہر میدان میں بےمثال نام سامنے آتے ہیں کہ جوکھیلےہی نہیں دنیاکو کھیلنا سکھا گئے، کرکٹ،ہاکی،سکواش،سنوکروغیرہ کے میدانوں پر ورلڈ چیمپیئن کی شکل میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم جب جب لہرایا تو مجھے کہنا پڑا

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے

امت کی مظلوم بہن کی آنکھ کا آنسو اور بھائیوں کا لہو مجھےمجبور کرتاہے کہ طاؤس و رباب کی باتیں چھوڑ کر شمشیر وسناں پر آجاؤں۔میدان جنگ میں ہمیں ایک مکار اور بزدل دشمن کا سامناہے جس سے ہم کئی جنگیں لڑ چکے ہیں۔ برّ وبحر، زمین وآسمان،پہاڑ ومیدان کہیں بھی ہم نے دشمن کو "مایوس" نہیں کیا، اگر میں آیا تو ہم ایم ایم عالم بن کر ملے،پہاڑوں پر چڑھا تو ہم کرنل شیر خان بن کر ملے۔ جب بھی جہاں بھی جس شکل میں آیا ہم اسے تیار ملے، ایک دو نہیں نشان حیدر پانے والے قطار در قطار ملے۔ ہم لڑے ہی نہیں دنیا کو لڑنا سکھا گئے۔ اسلحہ سازی کی صنعت میں الخالد اور الضرار ٹینک، سعد، حمزہ، الخالد جیسی آبدوزیں ہمارا سرمایہ ہے۔ دشمن نے اگنی اور پرتھوی میزائل بناکر ہمیں مرعوب کرنا چاہا توسوہنی دھرتی کے نامور سپوتوں نے بابر، ابدالی،غوری اور غزنوی میزائل بناکر دشمن کو بتادیا کہ ابدالی اور غزنوی آج بھی زندہ ہیں۔ پانی پت کے میدان سجاکر تودیکھو کل کی طرح تمہیں آج بھی منہ کی کھانی پڑے گی۔ غوری وغزنوی کے فرزند اور ابدالی کے بیٹے بیدار ہوشیار اور جنگ کے لیے تیار ملیں گے۔ صرف بھارت نہیں پوری دنیا مقابل کیوں نہ ہو پھر بھی تیار ہیں۔ ایٹم کی دنیاپر عیسائیوں، کمیونسٹوں اور ہندؤوں کی حکمرانی سب نے دیکھی اور یہ بھی دیکھاکہ امریکہ وروس ایٹمی پاور بنے، مسلمان سوچتے ہی رہ گئے، فرانس وبرطانیہ ایٹمی قوت بنے، مسلمان دیکھتے ہی رہ گئے، چین و بھارت ایٹمی طاقت بنے، مسلمان ہاتھ ملتے ہی رہ گئےمگر کب تک؟آخر کب تک؟ ارے وہ ہم ہی تو تھے جو نہ دھمکی سے ڈرے، نہ دباؤ سے دبے،نہ لالچ پر بکے، نہ جھکے بلکہ سینہ تان کر تمام تر رکاوٹوں کے باوجود ان کفریہ طاقتوں کی حکمرانی کو چیلنج کرکے پہلی اسلامی ایٹمی طاقت کا تاج امت مسلمہ کے سر پر سجا دیا اور دنیا سوچتی،جلتی اوردیکھتی کی دیکھتی رہ گئی۔ جب یہ شاعری نہیں حقیقت ہے تو اقبال کیوں نہ کہے

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرانم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

اقبال کی نظر وفکر کو پاکستان تک محدود کرنا چاہوں بھی، تو نہیں کر سکتا۔ ان کی نظر میں نیل کے ساحل سے تابخاک کاشغر پوری امتِ مسلمہ ایک قوم ہے۔چین وعرب اور ہندوستان ہی کیا؟ سارا جہاں ہمارا وطن ہے۔ گزشتہ 16 سالہ عالمی حالات پر اس شعر کی روشنی میں نظر ڈالیے۔ میں جب عراق کے صحراؤں اور افغانستان کے کہستانوں میں امریکہ اور صلیبی لشکروں کو ذلت وشکست کے زخم چاٹتا دیکھتا ہوں تو مجھے پھر یاد آتا ہے

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے

اگر آج بھی ہم اقبال کی نظرسے الحاد، مغرب، مغربی تہذیب اور علوم کو دیکھیں اور فلسفۂ اقبال کی روشنی میں اپنی مذہبی، معاشی،دفاعی، تعلیمی اور خارجہ پالیسی بنائیں تو ہم حقیقت میں آزاداور دنیا کی امامت کے قابل ہو جائیں گے اور اقبال ڈے کےساتھ وہ دن بھی آئے گا جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا

شب گریزاں ہوگی آخر جلوۂ خورشید سے

یہ چمن معمور ہو گا نغمۂ توحید سے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com