پلاسٹک، شاپنگ بیگ اور ماحول - ریاض علی خٹک

ہم آج عہد پلاسٹک میں جی رہے ہیں. ہماری زندگی کے آس پاس کسی نہ کسی شکل میں پلاسٹک موجود ہے. آج ہم اس پلاسٹک سے فرار حاصل ہی نہیں کر سکتے. آپ صبح سے شام تک پلاسٹک کے ساتھ اپنے اس تعلق کو دیکھ لیں، یہ جتنے روپ میں آپ سے ملتا ہے، اس کا شمار ممکن ہی نہیں. اسی عہد پلاسٹک میں 1970ء میں شاپنگ بیگ آیا. شاپنگ بیگ کی کہانی بہت عجیب ہے.

بطور مارکیٹ آئٹم شاپنگ بیگ کو دیکھا جائے تو اس نے مارکیٹ کی ہر چیز کو ہرا دیا ہے. پچھلی صدی کے آخری عشرے میں مائیکروسافٹ آیا. بےنظیر کامیابی ملی. ڈیجیٹل الیکٹرانکس کا دور شروع ہوا. کیبل ڈش کا دور شروع ہوا. اس صدی کی شروعات بھی اسی ٹرینڈ پر تھیں. سیل فونز کی مارکیٹ نے سارا نقشہ بدل دیا. یہ آئی فون سام سنگ کی کامیابیوں کا دور رہا، لیکن مارکیٹ میں شاپنگ بیگ کا مقابلہ ممکن ہی نہیں، کیونکہ شاپنگ بیگ فری ملتا ہے.

مرغی والے کے پاس جاتے ہیں. برائلر مرغی ایک شاپنگ بیگ میں ڈال کر وہ اس پر دوسرا چڑھا دیتا ہے. دودھ والا ایک پلاسٹک کے تھیلے میں دودھ ڈال کر دوسرے شاپنگ بیگ میں ڈال دیتا ہے. دکاندار جو کسی چیز میں ایک پیسہ معاف نہیں کرتا، وہ مانگنے پر بغیرگنے شاپنگ بیگ دے دیتا ہے. یہ سب کیونکر ہوا؟ یہ شاپنگ بیگ کی وہ مارکیٹ ویلیو ہے، جو ہوتے بھی اتنی کم ہے کہ کوئی اسے گنتا ہی نہیں.

دنیا میں پچھلے دس سال میں اتنا پلاسٹک بنا، جتنا پچھلی پوری صدی میں نہیں بنا. ہر سال اتنا پلاسٹک ہم پھینک دیتے ہیں جو پوری دنیا سے چار دفعہ لپیٹا جاسکتا ہے. پچاس فیصد پلاسٹک ہم دوبارہ استعمال نہیں کرتے. سالانہ 500 بلین پلاسٹک شاپنگ بیگ دنیا میں استعمال ہوتے ہیں، یعنی ایک ملین شاپنگ بیگ سے زیادہ ہم فی منٹ استعمال کرتے ہیں. یہ شاپنگ اور ہم ایک ہی دنیا میں رہتے ہیں. ہم استعمال کر کے پھینک دیتے ہیں، لیکن کیا یہ ہماری زندگی سے بھی نکل جاتے ہیں.؟؟

قدرت نے اپنے کارخانہ قدرت میں صفائی کا ایک نظام رکھا ہے. یہ کیمیائی بھی ہے اور جاندار ملازمین کی فوج بھی. مٹی سے بنی ہر چیز مٹی ہوجاتی ہے. یہ ڈی کمپوزیشن اور ری سائیکلنگ کا نظام ہے. قسم قسم کے کیڑے، پرندے، مچھلیاں ہمہ وقت اس کام میں مصروف ہوتی ہیں، لیکن یہ سب قدرتی اشیاء یا وہ چیزیں جن کی بنیاد مکمل قدرتی اجزا پر ہو. ان پر ہی مکمل کام کرتے ہیں. حضرت انسان اپنی بنائی اشیاء کے لیے خود ذمہ دار ہے. ان کو قدرت پر چھوڑے گا تو قدرت اپنے انداز میں کام کرے گی. پلاسٹک کے یہ شاپنگ بیگ 500 سے لے کر 1000 سال تک لیتے ہیں، واپس مٹی کا حصہ بننے میں. کیا اپنی اس ہوش ربا پروڈکشن کے ساتھ ہم اتنا انتظار کرسکتے ہیں؟

آج پلاسٹک کے یہ شاپنگ بیگ ہمارے گٹر بند کر رہے ہیں. نالیاں بند کررہے ہیں. شہروں کی کچرہ کنڈیاں ان سے بھری ہیں. ویرانوں میں یہ اڑتے پھر رہے ہیں. ساحل سمندر ان سے آٹے پڑے ہیں. پارکس اور پہاڑی مقامات ان سے بھرے ہیں. ٹوٹ پھوٹ کے شکار بیگز کے ٹکڑوں کے چارے میں شامل ہونے سے آئے دن مویشی مرتے ہیں. لیکن آنے والا کل اس سے بھی ہولناک ہے. دنیا کا 46 فیصد کچرا بہہ کر سمندر میں گرتا ہے. سمندر کی مکمل گندگی میں 80 فیصد خشکی سے جاتا ہے، یعنی کچھ عرصہ بعد سمندر کا کونا کونا ہم شاپنگ بیگز سے بھر دیں گے.؟

آج اس عفریت کا مکمل حل شاید کسی کے پاس نہیں. اس کا ایک حل ری سائیکلنگ ہے. دوسرا اس کی پروڈکشن کم کرنا ہے. تیسرا اسے کاغذ کے متبادل سے بدلنا ہے. یہ سب حل پوری دنیا میں مقصد سمجھ لیا جائے تب ہی ممکن ہے. مہذب دنیا میں آج بھی نشہ آور اشیاء بن رہی ہیں، لیکن معاشرے نے اس کی برائی تسلیم کر لی ہے، تو اس کی کھپت کم ہو چکی. مہذب دنیا ہتھیاروں میں کمی کے لیے بھی کوشاں ہے. یہ مہذب دنیا پوری دنیا کو شاپنگ بیگ سے کچرا کنڈی کیوں بنا رہی ہے. اسے بھی نشے کی طرح گالی بنا دیا جائے. اسے بھی ہتھیار کی طرح تباہی سمجھ لیا جائے. یہ تو نسلوں تک جاری تباہی ہے.

Comments

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک خیبر پختونخوا کے کوہساروں سے روزی روٹی کی مشقت پر سندھ کے میدانوں میں سرگرداں, تعلیم کیمسٹ کی ہے. تحریر دعوت ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.