اقبال تیری قوم کا اقبال کھو گیا - اویس بن عارف

دو طرح کی ہوتی ہے، آزادی کی اور غلامی والی۔ انسان کی طرح جانور بھی یا تو آزاد جیون جیتے ہیں یا پنجرے کے قیدی بن کر زندگی گزارتے ہیں۔ جانور کو قید کرنا اسے جسمانی طور پر دبوچ کر پنجرے میں بند کردینا ہے، جہاں وہ اپنی طاقت قوت، وحشت اور درندگی کے باوجود اپنی مرضی سے کچھ کھا سکتا ہے، پی سکتا ہے، اور نہ ہی کچھ کر سکتا ہے۔ صرف وہی کرتا ہے جو اس کا مالک اس سے کرانا چاہتا ہے۔ مالک چاہے اسے کاٹ کر کھا جائے، اپنا پالتو جانور بنا لے یا چاہے تو اس کی قیمت لگا کربیچ دے۔ جانور کے اختیار میں کچھ نہیں۔ کسی زمانے میں انسانوں کو بھی ایسی ہی جسمانی قید کا سامنا تھا۔ ان سے جانوروں کی طرح کام لیا جاتا، مارا پیٹا جاتا اور چند کوڑیوں کے عوض بیچ دیا جاتا تھا۔ پھر ایک وقت آیا، انسانوں کی خرید و فروخت پر پابندی لگ گئی اور یوں انسان کو جسمانی آزادی مل گئی۔ لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جسمانی طور پر آزاد ہونے کے بعد بھی انسان اپنی تمام تر عقل، سمجھ، فہم و فراست کے باوجود فکری طور پر آزاد نہ ہو سکا۔ اس کی فکر، خیالات و نظریات پھر بھی غلام کے غلام ہی رہے۔ چھوٹی سوچ، فکری پستی، احمقانہ خیالات اور جاہلانہ نظریات اسے آزادی کا حقیقی مفہوم نہ سمجھا سکے۔ وہ فرسودہ رسموں کا قیدی رہا، دقیانوسی خیالات و نظریات میں بندھا رہا، جاہلانہ روایات کا اسیر رہا اور احمقانہ مسلکی و مذہبی اختلافات کا پجاری رہا۔ اس کی سوچ اور فکر خوش فہمی سے شروع ہوکرخودپرستی پر ختم ہوتی تھی۔

پھر کسی نے خود کو بلند کرنے کا پیغام دیا، آزادی کا حقیقی مفہوم سمجھایا، کنویں سے باہر کی دنیا دکھائی، سوچ کو ستاروں پر کمند ڈالنے کی ہمت دی، پلٹنے جھپٹنے اور جھپٹ کر پلٹنے کی لذت سے آشنا کیا۔ کرگس کے جہاں سے نکل کر شاہیں کے جہاں میں آنے کا راستہ دکھایا۔ قصر سلطانی پر نشیمن بنانے کے بجائے پہاڑوں کی چٹانوں کو مسخر کرنے کا سبق پڑھایا۔ ہر قسم کے مسلکی اختلافات بھلا کر حرم کی پاسبانی کے لیے ایک ہونے کا مشورہ دیا۔ کاسۂ گدائی لیے در در بھٹکنے کے بجائے اپنا رزق آپ تلاش کرنے کاپیغام دیا۔ جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی، کے ذریعے دین و سیاست میں فرق کرنے سے خبردار کیا۔ نوجوانوں کو جھنجھوڑتے ہوئے متنبہ کیا

کبھی اے نوجواں مسلم، تدبر بھی کیا تو نے

وہ کیا گردوں تھا، تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

ساری دنیا کے مجازی آقاؤں سے آزاد ہوکرآقائے عربی ﷺ کا وفادار بننے کا درس دیا، اور اس وفا کے بدلے لوح و قلم کی ملکیت کا مژدہ سنایا۔ دنیا کے جھوٹے خداؤں کے سامنے جھک کر پیشانی سیاہ دھبوں سے داغ دار کرنے کے بجائے، ایک اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوکر ماتھے پر محراب سجانے کی راہ دکھائی۔ اس کی سوچ فکر، خیالات و نظریات کو ہر طرح کی بیڑیوں سے آزاد کر ایا اور اسے احساس دلایا کہ

نہ تو زمیں کے لیے ہے، نہ آسماں کے لیے

جہاں ہے تیرے لیے، تو نہیں جہاں کے لیے

کسی کو اپنے نیلسن منڈیلا پر فخر ہوگا، اسے نیلسن منڈیلا مبارک ہو!

کسی کو لینن پر ناز ہوگا، اسے اس کا ناز مبارک ہو!

کوئی کارل مارکس پر اتراتا ہوگا، وہ سدا اتراتا رہے!

کوئی سقراط کو یاد کرتا ہوگا

کوئی بقراط کا دم بھرتا ہوگا

کوئی افلاطون کا شیدائی ہوگا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمیں ان سے کوئی اختلاف نہیں۔ لیکن ہمارا فخر، ہمارا ناز، ہماری آن، بان، شان اقبال ہے۔ جی ہاں! وہی اقبال جس کے متعلق اے جے اروی صاحب نے کہا تھا کہ اگر مشرق نے اقبال کو پڑھ لیا، تو مغرب کی شامت آجانی ہے۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے اقبال کو پڑھا نہیں، پڑھا ہے تو سمجھا نہیں، سمجھا ہے تو اس سمجھ کے مطابق عمل نہیں کیا، تب ہی ہماری اپنی شامت آئی ہوئی ہے۔

ہمیں اپنی حالت بدلنے کے لیے اقبال کوپڑھنا ہوگا، سمجھنا ہوگا، اس کی تعلیمات میں ڈھلنا ہوگا۔ اقبال بیداری کا پیغام لائے تھے، ہمیں خواب غفلت سے بیدار کرنے آئے تھے، ہمیں کرگس سے شاہیں
بنانے آئے تھے۔ لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ یوم اقبال گزر جاتا ہے اور ہمارے قلب و جگر پر دستک تک نہیں ہوتی، ہمارے جذبات و احساسات خواب غفلت سے بیدار نہیں ہوتے، ہماری خودی خود سے ہی سہمی رہتی ہے، ہمارے شاہین جھپٹنے پلٹنے کی آرزو نہیں کرتے، اقبال کی اس سے زیادہ توہین کیا ہوگی کہ ہم سارا دن سو کر گزار دیں اور خوش بھی ہوں کہ ہم نے اقبال ڈے منا لیا؟

آئیں!آج عہد کریں کہ اس یوم اقبال سے ہم اقبال کو باقاعدہ پڑھیں گے، سمجھیں گے، ان کی تعلیمات کے مطابق عمل کریں گے۔ اگر ہم نے اس عہد کو پورا کر لیاتو وہ دن دور نہیں جب وہ شکو ہ بھی ختم ہوجائے گا جو کسی نے کیاتھاکہ

اقبال تیری قوم کا اقبال کھو گیا

ماضی تو سنہرا ہے مگر حال کھو گیا

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com