فکر اقبال کی ترویج اور ہماری ذمہ داریاں- گل محمد

جوانوں کو میری آہ سحر دے

پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے

خدایا آرزو میری یہی ہے

میرا نور بصیرت عام کر دے

حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی یہ دعا دراصل ہر مسلمان پر ذمہ داری ہے،کہ وہ اقبال کی فکر، اقبال کا فلسفہ اور نظریات آنے والی نسلوں میں منتقل کرے۔

اقبال کو اللہ تعالی نے حقیقی طور پر بصیرت کا نور عطا کیا تھا۔انھوں نے اپنی چشم بینا سے مسلمانوں کا مستقبل اور خصوصاً آئندہ آنے والی نسلوں کے بچوں اور نوجوانوں کی خستہ حالی کو ملا حظہ کر لیا تھا۔اقبال جانتے تھے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملت اسلامیہ کے بچے مغرب زدہ ہو جائیں گے،مغربی تہذیب کی چکا چوند،بدلتا وقت اور گلوبلائزیشن،نوجوانوں اور بچوں کے نظریات،عقائد اور معاملات پر براہ راست اثر انداز ہوں گے،اور اس وقت کے دانشوران اور فلسفیان کے پاس اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہو گا۔اس لیے اپنی ملت کی کشتیوں کو ہچکولوں،طوفانوں اور بھنوروں سے بچانے کے لیے اشعار کی صورت میں مضبوط اعصاب کے ملاح عطا کیے۔اقبال نے قوم کو عزت کے ساتھ جینے کے اصول دیے۔اگر آج بھی مسلمان اور بالخصوص پاکستانی قوم اقبال کے افکار پر عمل پیرا ہو جائے تو تمام مسائل سے چھٹکارا پا سکتی ہے۔آج نوجوان نسل کو اقبال کا پیغام کس نے پہنچانا ہے یہ اس مضمون کا اصل سوال ہے۔

یہ ذمہ داری ملت کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے،چاہے وہ جس شعبہ زندگی سے تعلق رکھتا ہو،وہ ڈاکٹر ہے، انجنیئر ہے، مدرس ہے، معلم ہے،مقرر ہے یا عالم دین ہے۔حکمران ہے، سیاستدان ہے، شاعر ہے، اینکر ہے یا ایکٹر ہے، الغرض جس شعبہ زندگی سے تعلق رکھتا ہے اس یر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فکر اقبال نوجوان نسل تک پہنچائے۔

9نومبر اقبال کا یوم پیدائش ہے ملت اسلامیہ خصوصاً پاکستان کے ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ اس حوالے سے پروگرام اور تقاریب منعقد کرے، ریلیاں نکالے، ٹی وی شوز کرے، گانے اور نغمے ریکارڈ کروائے، پمفلٹ چھپوا کر بانٹے، سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تقاریب کا انعقاد کرے۔

خصوصاً کم پڑھے لکھے اور مزدور طبقے تک اقبال کا پیغام پہنچانے کے لیے بازاروں، گلی محلوں میں واک اور پروگرام منعقد کرے۔مقامی زبانوں کے شعراء پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اقبال کی شاعری کا مقامی زبانوں میں ترجمہ پیش کریں تاکہ ان پڑھ اور کم خواندہ عوام اقبال کو سمجھ سکیں۔

اس بار جشن آزادی پر عام عوام نے جس طرح حصہ لیا ہے خصوصاً ہر گھر میں بچوں نے سبز ہلالی پرچم سے اپنے لباس بنائے،نوجوانوں نے بھی اپنے جسم پر پاکستانی پرچم کا لباس اوڑھا،پاکستانی جھنڈے کی ٹوپیاں، بریسلیٹ پہنے اور اس کے علاوہ بہت سی چیزیں عام آدمی کی زندگی میں نظر آئیں۔

اقبال کا یوم پیدائش بھی اسی بات کا متقاضی ہے کہ اس مرد مجاہد کو صرف تاریخ کے اوراق میں ہی نہ چھپایا جائے بلکہ نئی نسل کی عملی زندگی میں بھی جگہ دی جائے۔آج پاکستانی قوم سے وقت یہ تقاضا کرتاہے کہ یوم اقبال، یوم قائد اور دیگر قومی دنوں کو شان وشوکت کے ساتھ منایا جائے۔آج گلوبلائزیشن کے دور میں جہاں مغربی ثقافت مسلمانوں میں براہ راست پروان چڑھ رہی ہے،اس پر ماتم کرنے کے بجائے اگرہم اپنے تہوار جوش و جذبے سے منانا شروع کر دیں تو اپنی ثقافت کا بہتر انداز میں تحفظ ہو سکےگا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com